حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَالْبَيْهَقِيّ فِي\nشُعَبِ الْإِيمَانِ\nعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقاص\n
امام بیہقی نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
All 6,294 hadiths in order · Page 244 of 315
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَالْبَيْهَقِيّ فِي\nشُعَبِ الْإِيمَانِ\nعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقاص\n
امام بیہقی نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَعَنْ صَفْوَانَ\nبْنِ سَلِيمٍ أَنَّهُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ جَبَانًا؟ قَالَ: «نعم» . فَقيل: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ بَخِيلًا؟ قَالَ: «نَعَمْ» . فَقِيلَ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ كَذَّابًا؟ قَالَ: «لَا» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان» مُرْسلا\n
صفوان بن سُلیم ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا ، کیا مؤمن بزدل ہو سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ پھر عرض کیا گیا : کیا مؤمن بخیل ہو سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ پھر آپ سے عرض کیا گیا ، کیا مؤمن جھوٹا ہو سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ مالک ، بیہقی نے اسے شعب الایمان میں مرسل روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ مالک و البیھقی فی شعب الایمان ۔
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَعَن\nابْن مسعودٍ قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَتَمَثَّلُ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ فَيَأْتِي الْقَوْمَ فَيُحَدِّثُهُمْ بِالْحَدِيثِ مِنَ الْكَذِبِ فَيَتَفَرَّقُونَ فَيَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ: سَمِعْتُ رَجُلًا أَعْرِفُ وَجْهَهُ وَلَا أَدْرِي مَا اسْمُهُ يُحَدِّثُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ\n
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، شیطان انسانی روپ دھار کر لوگوں کے پاس آتا ہے ، ان سے جھوٹی باتیں کرتا ہے ، پھر جب لوگ منتشر ہو جاتے ہیں تو ان میں سے ایک آدمی کہتا ہے : میں نے ایک آدمی کو سنا ۔ میں اس کے چہرے سے شناسا ہوں لیکن میں اس کا نام نہیں جانتا ، وہ یہ بات بیان کرتا تھا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَعَنْ عِمْرَانَ\nبْنِ حِطَّانَ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ فَوَجَدْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ مُحْتَبِيًا بِكِسَاءٍ أَسْوَدَ وَحده. فَقلت: يَا أَبَا ذَر ماهذه الْوَحْدَةُ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْوَحْدَةُ خَيْرٌ مِنْ جَلِيسِ السُّوءِ وَالْجَلِيسُ الصَّالِحُ خَيْرٌ مِنَ الْوَحْدَةِ وَإِمْلَاءُ الْخَيْر خيرٌ من السكوتِ والسكوتُ خيرٌ من إِملاءِ الشَّرّ»\n
عمران بن حطان ؒ بیان کرتے ہیں ، میں ابوذر ؓ کے پاس آیا تو میں نے انہیں کالی چادر سے گوٹ مارے ہوئے مسجد میں اکیلے پایا تو میں نے کہا : ابوذر ! یہ تنہائی کیسی ؟ انہوں نے کہا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بُرے ہم نشین سے تنہائی بہتر ہے اور نیک ہم نشین تنہائی سے بہتر ہے اور اچھی بات تحریر کرنا خاموشی سے بہتر ہے جبکہ بُری بات تحریر کرنے سے خاموشی بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَعَن عِمْرَانَ\nبْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَقَامُ الرَّجُلِ بِالصَّمْتِ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّينَ سنة»\n
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ْﷺ نے فرمایا :’’ آدمی کا (بُری بات کرنے سے) خاموشی برقرار رکھنا ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَعَن أبي\nذرٍّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ إِلَى أَنْ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ: «أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فَإِنَّهُ أَزْيَنُ لِأَمْرِكَ كُلِّهِ» قُلْتُ: زِدْنِي قَالَ: «عَلَيْكَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّهُ ذِكْرٌ لَكَ فِي السَّمَاءِ وَنُورٌ لَكَ فِي الْأَرْضِ» . قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: «عَلَيْكَ بِطُولِ الصَّمْتِ فَإِنَّهُ مَطْرَدَةٌ لِلشَّيْطَانِ وَعَوْنٌ لَكَ عَلَى أَمْرِ دِينِكَ» قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: «إِيَّاكَ والضحك فَإِنَّهُ يُمِيتُ الْقَلْبَ وَيَذْهَبُ بِنُورِ الْوَجْهِ» قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: قُلِ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا . قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: «لَا تَخَفْ فِي اللَّهِ لومة لائم» . قلت: زِدْنِي. لِيَحْجُزْكَ عَنِ النَّاسِ مَا تَعْلَمُ مِنْ نَفْسِكَ\n
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اور یہاں تک بیان کیا ، انہوں نے کہا ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے وصیت فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں تمہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں ، کیونکہ وہ تیرے تمام اُمور کے لیے زیادہ باعث زینت ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : مزید فرمائیں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ قرآن کی تلاوت اور اللہ عزوجل کا ذکر کر کیونکہ وہ آسمان میں تیرے تذکرے اور زمین میں تیرے لیے نور کا باعث ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : مجھے مزید وصیت فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہمیشہ خاموشی اختیار کرو ، کیونکہ وہ شیطان کو دور کرنے اور تیرے دین کے معاملے میں تیری مددگار ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، مزید فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ زیادہ ہنسنے سے بچو ، کیونکہ وہ دل کو مردہ کر دیتا ہے اور چہرے کے نور کو ختم کر دیتا ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : مزید وصیت فرمائیں ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ حق بیان کر خواہ وہ کڑوا ہو ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، مزید فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈر ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، مزید فرمائیں آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تجھے تیری خامیوں کا علم ، لوگوں کو بُرا بھلا کہنے سے روکے رکھے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ\nعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظَّهْرِ وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ؟» قَالَ: قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: «طُولُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَمِلَ الْخَلَائق بمثلهما»\n
انس ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوذر ! کیا میں تمہیں دو خصلتیں نہ بتاؤں جو پشت پر (انسان کے عمل کے لحاظ سے) بہت ہلکی ہیں جبکہ میزان میں بہت بھاری ہیں ؟‘‘ وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، جی ہاں ! بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ خاموش رہنا اور اچھے اخلاق اختیار کرنا ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مخلوق نے ان جیسے دو عمل نہیں کیے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَعَن عَائِشَة\nقَالَتْ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ يَلْعَنُ بَعْضَ رَقِيقِهِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَالَ: «لَعَّانِينَ وَصِدِّيقِينَ؟ كَلَّا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» فَأَعْتَقَ أَبُو بَكْرٍ يَوْمَئِذٍ بَعْضَ رَقِيقِهِ ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: لَا أَعُودُ. رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْخَمْسَةَ فِي «شعب الْإِيمَان»\n
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ ، ابوبکر ؓ کے پاس سے گزرے تو وہ اپنے کسی غلام پر لعنت کر رہے تھے آپ ﷺ نے ان کی طرف دیکھ کر فرمایا :’’ (کیا) لعنت کرنے والے اور صدیقین (اکٹھے ہو سکتے ہیں ؟) رب کعبہ کی قسم ! ہرگز نہیں ۔‘‘ چنانچہ ابوبکر ؓ نے اس دن اپنے بعض غلام (بطور کفارہ) آزاد کیے ، پھر نبی ﷺ کی خدمت میں آ کر عرض کیا : میں آئندہ ایسے نہیں کروں گا ۔ امام بیہقی نے پانچوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَعَنْ أَسْلَمَ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ دَخَلَ يَوْمًا على أبي بكر الصِّدّيق رَضِي الله عَنْهُم وَهُوَ يَجْبِذُ لِسَانَهُ. فَقَالَ عُمَرُ: مَهْ غَفَرَ الله لَك. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ هَذَا أَوْرَدَنِي الْمَوَارِدَ. رَوَاهُ مَالك
(عمر بن خطاب ؓ کے آزاد کردہ غلام) اسلم ؓ بیان کرتے ہیں ، کہ ایک روز عمر ؓ ، ابوبکر صدیق ؓ کے پاس گئے تو وہ اپنی زبان کھینچ رہے تھے ۔ (یہ منظر دیکھ کر) عمر ؓ نے فرمایا : اللہ آپ کی مغفرت فرمائے ! اسے چھوڑ دیں ، ابوبکر ؓ نے فرمایا : اس نے مجھے ہلاکت کے گڑھوں تک پہنچایا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک ۔
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اضْمَنُوا لِي سِتًّا مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنُ لَكُمُ الْجَنَّةَ: اصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُمْ وأدوا إِذا ائتمتنم واحفظوا فروجكم وغضوا أبصاركم وَكفوا أَيْدِيكُم
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تم مجھے اپنی طرف سے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو تو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں : جب تم بات کرو تو سچ بولو ، جب وعدہ کرو تو پورا کرو ، جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اسے ادا کرو ، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو ، اپنی نظریں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھوں کو (ظلم سے) روکو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خِيَارُ عِبَادِ اللَّهِ الَّذِينَ إِذَا رُؤُوا ذُكِرَ اللَّهُ. وَشِرَارُ عِبَادِ اللَّهِ الْمَشَّاؤُونَ بِالنَّمِيمَةِ وَالْمُفَرِّقُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ الْبَاغُونَ الْبُرَآءَ الْعَنَتَ» . رَوَاهُمَا أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان»
عبد الرحمن بن غنم اور اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں کہ جب انہیں دیکھا جائے تو اللہ یاد آ جائے ، جبکہ اللہ کے بندوں میں سے بدترین لوگ چغل خور ، پیاروں کے درمیان جدائی ڈالنے والے اور (گناہوں سے) لاتعلق لوگوں پر برائی کا الزام لگانے والے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خِيَارُ عِبَادِ اللَّهِ الَّذِينَ إِذَا رُؤُوا ذُكِرَ اللَّهُ. وَشِرَارُ عِبَادِ اللَّهِ الْمَشَّاؤُونَ بِالنَّمِيمَةِ وَالْمُفَرِّقُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ الْبَاغُونَ الْبُرَآءَ الْعَنَتَ» . رَوَاهُمَا أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان»
عبد الرحمن بن غنم اور اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں کہ جب انہیں دیکھا جائے تو اللہ یاد آ جائے ، جبکہ اللہ کے بندوں میں سے بدترین لوگ چغل خور ، پیاروں کے درمیان جدائی ڈالنے والے اور (گناہوں سے) لاتعلق لوگوں پر برائی کا الزام لگانے والے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَعَن ابنِ\nعبَّاسٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ صَلَّيَا صَلَاةَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ وَكَانَا صَائِمَيْنِ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: «أَعِيدَا وُضُوءَكُمَا وَصَلَاتَكُمَا وامْضِيا فِي صومكما واقضيا يَوْمًا آخَرَ» . قَالَا: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «اغتبتم فلَانا»\n
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھی جبکہ وہ روزے سے تھے ، جب نبی ﷺ نماز پڑھ چکے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم دونوں اپنا وضو دوبارہ کرو ، نماز دہراؤ اور روزہ پورا کرو ، اور کسی دوسرے روز اس کی قضا دو ۔‘‘ ان دونوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے فلاں شخص کی غیبت کی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَعَن أبي سعيدٍ وجابرٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغِيبَةُ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ الْغِيبَةُ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا؟ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَزْنِي فَيَتُوبُ فَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِ» - وَفِي رِوَايَةٍ: «فَيَتُوبُ فَيَغْفِرُ اللَّهُ لَهُ وَإِنَّ صَاحِبَ الْغِيبَةِ لَا يُغْفَرُ لَهُ حَتَّى يغفِرَها لَهُ صَاحبه»
ابوسعید اور جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ غیبت زنا سے بھی زیادہ سنگین ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! غیبت زنا سے کیسے زیادہ سنگین ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک آدمی زنا کرتا ہے تو وہ توبہ کرتا ہے اور اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ اسے بخش دیتا ہے ۔ جبکہ غیبت کرنے والے کو معاف نہیں کیا جاتا حتی کہ وہ شخص جس کی غیبت کی گئی ہے ، وہ اسے معاف کر دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ، ایضاً ۔
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَعَن أبي سعيدٍ وجابرٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغِيبَةُ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ الْغِيبَةُ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا؟ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَزْنِي فَيَتُوبُ فَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِ» - وَفِي رِوَايَةٍ: «فَيَتُوبُ فَيَغْفِرُ اللَّهُ لَهُ وَإِنَّ صَاحِبَ الْغِيبَةِ لَا يُغْفَرُ لَهُ حَتَّى يغفِرَها لَهُ صَاحبه»
ابوسعید اور جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ غیبت زنا سے بھی زیادہ سنگین ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! غیبت زنا سے کیسے زیادہ سنگین ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک آدمی زنا کرتا ہے تو وہ توبہ کرتا ہے اور اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ اسے بخش دیتا ہے ۔ جبکہ غیبت کرنے والے کو معاف نہیں کیا جاتا حتی کہ وہ شخص جس کی غیبت کی گئی ہے ، وہ اسے معاف کر دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ، ایضاً ۔
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَفِي رِوَايَةِ\nأَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «صَاحِبُ الزِّنَا يَتُوبُ وَصَاحِبُ الْغِيبَةِ لَيْسَ لَهُ تَوْبَةٌ» . رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»\n
اور انس ؓ کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ زنا کرنے والا توبہ کر لیتا ہے جبکہ غیبت کرنے والے کے لیے توبہ نہیں ۔‘‘ (کیونکہ وہ اسے اہمیت نہیں دیتا کہ یہ بھی گناہ ہے اور وہ توبہ نہیں کر پاتا) ۔ امام بیہقی نے تینوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ كَفَّارَةِ الْغِيبَةِ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لِمَنِ اغْتَبْتَهُ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ «. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي» الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ وَقَالَ: فِي هَذَا الْإِسْنَاد ضعف\n
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تم نے جس کی غیبت کی ہے اس کے لیے دعائے مغفرت کرو ، کہو : اے اللہ ! ہماری اور اس کی مغفرت فرما ۔‘‘ بیہقی فی الدعوات الکبیر ۔ اور فرمایا : اس کی سند میں ضعف ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر ۔
وعدے کا بیان
عَن جابرٍ قَالَ: لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاء أَبُو بَكْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ. فَقَالَ أَبُو بكر: من كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ كَانَتْ لَهُ قِبَلَهُ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنَا. قَالَ جَابِرٌ: فَقُلْتُ: وَعَدَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْطِيَنِي هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا. فَبَسَطَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ جَابِرٌ: فَحَثَا لِي حَثْيَةً فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِائَةٍ وَقَالَ: خُذْ مثلَيها. مُتَّفق عَلَيْهِ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی اور علاء بن حضرمی ؓ کی طرف سے ابوبکر ؓ کے پاس مال آیا تو ابوبکر ؓ نے فرمایا : جس شخص کا نبی ﷺ پر کوئی قرض تھا یا آپ نے کسی کو کچھ دینے کا وعدہ فرمایا تھا تو وہ ہمارے پاس آئے (ہم وہ قرض ادا کریں گے اور آپ کا وعدہ وفا کریں گے) جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ آپ مجھے اس قدر اس قدر اور اس قدر عطا فرمائیں گے ، اور جابر ؓ نے تین مرتبہ ہاتھ پھیلائے ، جابر ؓ نے فرمایا کہ انہوں نے لپ بھر کر مجھے عطا فرمایا ، میں نے انہیں گنا تو وہ پانچ سو تھے ، ابوبکر ؓ نے فرمایا : اتنے دو بار اور لو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وعدے کا بیان
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ قَدْ شَابَ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ وَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ قَلُوصًا فَذَهَبْنَا نَقْبِضُهَا فَأَتَانَا مَوْتُهُ فَلَمْ يُعْطُونَا شَيْئًا. فَلَمَّا قَامَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ فَلْيَجِئْ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَمَرَ لَنَا بِهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابو جحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ کو (سرخی مائل) سفید رنگت میں دیکھا اور آپ کے کچھ بال سفید ہو چکے تھے ، اور حسن بن علی ؓ آپ ﷺ سے مشابہت رکھتے تھے ، آپ نے ہمارے لیے تیرہ اونٹنیوں کا حکم فرمایا ، جب ہم انہیں لینے گئے تو آپ کی وفات کی خبر ہمیں پہنچی چنانچہ ہمیں کچھ نہ مل سکا ۔ البتہ جب ابوبکر نے خلافت کی ذمہ داری سنبھالی تو انہوں نے فرمایا : اگر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کسی کے پاس کوئی عہد ہو تو وہ تشریف لائے ، میں ان کے پاس گیا اور انہیں بتایا تو انہوں نے ہمیں اونٹ عطا کرنے کا حکم دیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
وعدے کا بیان
وَعَن عبدِ الله بن أبي الحَسْماءِ قَالَ: بَايَعْتُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ وَبَقِيَتْ لَهُ بَقِيَّةٌ فَوَعَدْتُهُ أَنْ آتِيَهُ بِهَا فِي مَكَانِهِ فَنَسِيتُ فَذَكَرْتُ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَإِذَا هُوَ فِي مَكَانِهِ فَقَالَ: «لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَيَّ أَنَا هَهُنَا مُنْذُ ثَلَاثٍ أنتظرك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبداللہ بن ابی حسماء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ سے ، آپ کے اعلان نبوت سے پہلے کوئی چیز خریدی اور آپ کا کچھ بقایا میرے ذمے باقی رہ گیا تو میں نے آپ سے ، وہ بقایا اسی جگہ لانے کا وعدہ کیا اور پھر میں بھول گیا ، تین دن بعد مجھے یاد آیا (اور میں گیا) تو آپ اسی جگہ پر تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے مجھے مشقت میں مبتلا کر دیا ، میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔