Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 243 of 315

4841Mishkaat-al-Masabihضعیف

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَالتِّرْمِذِيّ\nوَالْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان» عَنْهُمَا\n

امام ترمذی اور بیہقی نے شعب الایمان میں اسے ان دونوں (علی بن حسین ؓ اور ابوہریرہ ؓ) سے روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔

4842Mishkaat-al-Masabihضعیف

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَعَن أنسٍ\nقَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ. فَقَالَ رَجُلٌ: أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أوَ لَا تَدْرِي فَلَعَلَّهُ تَكَلَّمَ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ أَوْ بخل بِمَا لَا ينقصهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ ؓ میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا تو ایک آدمی نے کہا : جنت کی بشارت ہو ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نہیں جانتے کہ شاید اس نے کسی غیر متعلقہ چیز کے بارے میں بات کی ہو یا کسی ایسی چیز میں بخل کیا ہو جو اس میں کمی نہیں کر سکتی تھی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

4843Mishkaat-al-Masabihصحیح

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَعَن\nسُفْيَان بن عبد الله الثَّقَفِيّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ وَقَالَ: «هَذَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَصَححهُ\n

سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کو میرے بارے میں سب سے زیادہ کس چیز کا اندیشہ ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا :’’ اس کا ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

4844Mishkaat-al-Masabihضعیف

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَعَنِ ابْنِ\nعُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَذَبَ الْعَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْهُ الْمَلَكُ مِيلًا مِنْ نَتْنِ مَا جاءَ بِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ اس (بندے) سے ایک میل دور چلا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔

4845Mishkaat-al-Masabihضعیف

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَعَن سُفيان\nبن أسدٍ الحضرميِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كَبُرَتْ خِيَانَةً أَنْ تُحَدِّثَ أَخَاكَ حَدِيثًا هُوَ لَكَ بِهِ مُصَدِّقٌ وَأَنْتَ بِهِ كاذبٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

سفیان بن اسد حضرمی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بڑی خیانت یہ ہے کہ تو اپنے (مسلمان) بھائی سے کوئی بات کرے ، وہ اس میں تمہیں سچا جانتا ہو جبکہ تو اس سے جھوٹ بول رہا ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4846Mishkaat-al-Masabihصحیح

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَعَن عمار\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ ذَا وَجْهَيْنِ فِي الدُّنْيَا كَانَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِسَانَانِ مِنْ نَارٍ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ\n

عمار ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص دنیا میں دوغلہ ہو گا تو روزِ قیامت اس کی زبان آگ کی ہو گی ۔‘‘ حسن ، رواہ الدارمی ۔

4847Mishkaat-al-Masabihصحیح

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا بِاللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» . وَفِي أُخْرَى لَهُ «وَلَا الْفَاحِشِ الْبَذِيءِ» . وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن نہ تو طعن کرنے والا ہوتا ہے اور نہ لعنت کرنے والا ، نہ وہ فحش گو ہوتا ہے اور نہ زبان دراز ۔‘‘ ترمذی ، بیہقی فی شعب الایمان ۔\nاور بیہقی کی دوسری روایت میں ہے ’’ نہ وہ فحش گوئی کرنے والا ہوتا ہے اور نہ زبان درازی کرنے والا ۔‘‘ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔\n

4848Mishkaat-al-Masabihصحیح

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَكُونُ الْمُؤْمِنُ لعانا» . وَفِي رِوَايَة: «لاينبغي لِلْمُؤمنِ أَن يكون لعانا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن لعنت کرنے والا نہیں ہوتا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ مومن کے لیے مناسب نہیں کہ وہ لعنت کرنے والا ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

4849Mishkaat-al-Masabihضعیف

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَعَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلَاعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ وَلَا بِغَضَبِ اللَّهِ وَلَا بِجَهَنَّمَ» . وَفِي رِوَايَةٍ «وَلَا بِالنَّارِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک دوسرے کو ایسے نہ کہو : تم پر اللہ کی لعنت ہو ، تم پر اللہ کا غضب ہو اور تم جہنم میں جاؤ ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ ایسے بھی نہ کہو : تم (جہنم کی) آگ میں جاؤ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

4850Mishkaat-al-Masabihضعیف

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا لَعَنَ شَيْئًا صَعِدَتِ اللَّعْنَةُ إِلَى السَّمَاءِ فَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ دُونَهَا ثُمَّ تَهْبِطُ إِلَى الْأَرْضِ فَتُغْلَقُ أَبْوَابُهَا دُونَهَا ثُمَّ تَأْخُذُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَإِذَا لَمْ تَجِدْ مَسَاغًا رَجَعَتْ إِلَى الَّذِي لُعِنَ فَإِنْ كَانَت لِذَلِكَ أَهْلًا وَإِلَّا رَجَعَتْ إِلَى قَائِلِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب بندہ کسی چیز پر لعنت بھیجتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے ، تو اس کے پہنچنے سے پہلے آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ، پھر وہ زمین کی طرف اترتی ہے ، اس کے دروازے بھی بند کر دیے جاتے ہیں ، پھر وہ دائیں بائیں جاتی ہے ، جب وہ کوئی راستہ نہیں پاتی تو وہ اس شخص کی طرف جاتی ہے جس پر لعنت کی گئی تھی ، بشرطیکہ وہ اس کا مستحق ہو ورنہ وہ کہنے والے کی طرف لوٹ آتی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4851Mishkaat-al-Masabihضعیف

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَعَن ابنِ عبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا نَازَعَتْهُ الرِّيحُ رِدَاءَهُ فَلَعَنَهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلْعَنْهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَأَنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہوا نے ایک آدمی کی چادر اڑا دی تو اس نے اس پر لعنت کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس پر لعنت نہ بھیجو کیونکہ وہ تو حکم کی پابند ہے ، اور جو شخص کسی چیز پر لعنت بھیجتا ہے ، جبکہ وہ اس کی مستحق نہیں ہوتی تو پھر وہ لعنت اسی شخص پر لوٹ آتی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

4852Mishkaat-al-Masabihضعیف

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَعَنِ ابْنِ\nمَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي عَنْ أَحَدٍ شَيْئًا فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرا کوئی صحابی کسی دوسرے صحابی کے بارے میں مجھے کوئی (ناپسندیدہ) بات نہ پہنچائے ، کیونکہ میں پسند کرتا ہوں کہ جب میں تمہارے پاس آؤں تو میرا سینہ صاف ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4853Mishkaat-al-Masabihصحیح

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَعَن عَائِشَة\nقَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَسبك صَفِيَّةَ كَذَا وَكَذَا - تَعْنِي قَصِيرَةً - فَقَالَ: «لَقَدْ قُلْتِ كَلِمَةً لَوْ مُزِجَ بِهَا الْبَحْرُ لَمَزَجَتْهُ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد\n

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا : آپ کو صفیہ ﷺ سے بس یہ یہ کافی ہے یعنی ان کا قد چھوٹا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے ایک ایسی بات کی ہے اگر اسے سمندر میں ملا دیا جائے تو اس پر غالب آ جائے (یعنی اس کی کیفیت بدل ڈالے) ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔

4854Mishkaat-al-Masabihصحیح

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ وَمَا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شيءٍ إِلا زانَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ فحش گوئی جس چیز میں ہو ، وہ اسے معیوب بنا دیتی ہے اور حیا جس چیز میں ہو وہ اسے مزین کر دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

4855Mishkaat-al-Masabihضعیف

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَعَن خالدِ\nبن معدانَ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَيَّرَ أَخَاهُ بِذَنْبٍ لَمْ يَمُتْ حَتَّى يَعْمَلَهُ» يَعْنِي مِنْ ذَنْبٍ قَدْ تَابَ مِنْهُ -. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ خَالِدًا لَمْ يُدْرِكْ معَاذ بن جبل\n

خالد بن معدان ، معاذ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اپنے (مسلمان) بھائی کو (اس کے سابقہ کسی) گناہ پر ملامت کرتا ہے تو یہ شخص مرنے سے پہلے اس (گناہ) کا ارتکاب کر لیتا ہے ۔‘‘ اس سے وہ گناہ مراد ہے جس سے وہ توبہ کر چکا ہو ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اس کی سند متصل نہیں کیونکہ خالد کی معاذ بن جبل ؓ سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

4856Mishkaat-al-Masabihضعیف

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَعَن وَاثِلَة\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لَا تظهر الشماتة لأخيك فِي وَيَبْتَلِيَكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ\n

واثلہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے (مسلمان) بھائی (کے مصیبت میں مبتلا ہونے) پر خوشی کا اظہار نہ کر ، ممکن ہے اللہ اس پر رحم فرما دے اور تمہیں (اس مصیبت میں) مبتلا کر دے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

4857Mishkaat-al-Masabihصحیح

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَعَن\nعَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ أَحَدًا وَأَنَّ لي كَذَا وَكَذَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَصَححهُ\n

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ میں کسی کی نقل اتارنا پسند نہیں کرتا خواہ مجھے اتنا اتنا مال دیا جائے ۔‘‘ ترمذی نے اسے روایت کیا اور اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

4858Mishkaat-al-Masabihضعیف

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَعَن جُنْدُبٍ\nقَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ عَقَلَهَا ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ أَتَى رَاحِلَتَهُ فَأَطْلَقَهَا ثُمَّ رَكِبَ ثُمَّ نَادَى: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ؟ أَلَمْ تَسْمَعُوا إِلَى مَا قَالَ؟» قَالُوا: بَلَى؟ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\nوَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا» فِي «بَاب الِاعْتِصَام» فِي الْفَصْل الأول\n

جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک اعرابی آیا ، اس نے اپنا اونٹ بٹھایا پھر اسے باندھا اور مسجد میں آیا ، اس نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی ، جب آپ نے سلام پھیرا تو وہ اپنی سواری کے پاس آیا ، اسے کھولا اور اس پر سوار ہو کر بلند آواز سے کہا : اے اللہ ! مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم فرما اور ہماری رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کرنا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم گمان کرتے ہو وہ زیادہ نادان ہے یا اس کا اونٹ ؟ کیا تم نے اس کی بات نہیں سنی ؟‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، سنی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔\n اور ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث :’’ بندے کے جھوٹا ہونے کے لیے کافی ہے ۔‘‘ باب الاعتصام کی فصل اول میں بیان ہو چکی ہے ۔\n

4859Mishkaat-al-Masabihضعیف

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

عَنْ\nأَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا مُدِحَ الْفَاسِقُ غَضِبَ الرَّبُّ تَعَالَى وَاهْتَزَّ لَهُ الْعَرْشُ» رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان»\n

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب فاسق کی مدح سرائی کی جاتی ہے تو رب تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور اس کی (تعریف کی) وجہ سے اس کا عرش لرز جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

4860Mishkaat-al-Masabihضعیف

حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان

وَعَنْ أَبِي\nأُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى الْخِلَالِ كلِّها إِلا الخيانةَ وَالْكذب» . رَوَاهُ أَحْمد\n

ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مؤمن میں خیانت اور جھوٹ کی عادت نہیں ہو سکتی البتہ ان کے علاوہ سب کچھ ہو سکتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔