Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 228 of 315

4541Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وعنها قَالَت: مَا كَانَ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرْحَةٌ وَلَا نَكْبَةٌ إِلَّا أَمَرَنِي أَنْ أَضَعَ عَلَيْهَا الْحِنَّاء. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

نبی ﷺ کی خادمہ سلمی ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ کو تلوار وغیرہ یا کسی اور طرح کوئی بھی زخم آ جاتا تو آپ ﷺ مجھے اس پر مہندی لگانے کا حکم فرماتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

4542Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَن أبي كَبْشَة الْأَنْمَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يحتجم على هامته وَبَين كفيه وَهُوَ يَقُولُ: «مَنْ أَهْرَاقَ مِنْ هَذِهِ الدِّمَاءِ فَلَا يَضُرُّهُ أَنْ لَا يَتَدَاوَى بِشَيْءٍ لِشَيْءٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

ابو کبشہ انماری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سر اور اپنے کندھوں کے درمیان پچھنے لگوایا کرتے تھے اور آپ ﷺ فرماتے تھے :’’ جو شخص اس خون میں سے کچھ خون نکلواتا ہے تو اگر وہ کسی مرض کا کسی دوائی کے ذریعے علاج نہ بھی کرے تو اس کے لیے کچھ مضر نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

4543Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْ جَابِرٌ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ عَلَى وَرِكِهِ مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے موچ کے درد کی وجہ سے اپنی ران کے اوپر پچھنے لگوائے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4544Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَن ابنِ مَسْعُود قَالَ: حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علن لَيْلَةَ أُسَرِيَ بِهِ: أَنَّهُ لَمْ يَمُرَّ عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا أَمَرُوهُ: «مُرْ أُمَّتَكَ بِالْحِجَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب

ابن مسعود ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے شب معراج کے متعلق حدیث بیان فرمائی کہ وہ فرشتوں کی جس بھی جماعت کے پاس سے گزرے تو وہ یہی کہتے کہ ’’ اپنی امت کو پچھنے لگوانے کا حکم فرمائیں ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

4545Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ: إِنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضِفْدَعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عبد الرحمن بن عثمان ؓ سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے نبی ﷺ سے مینڈک کو دوائی میں ڈالنے کے متعلق دریافت کیا تو نبی ﷺ نے اسے اس کے قتل کرنے سے منع فرما دیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

4546Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ: وَكَانَ يحتجمُ سبعَ عشرَة وتسع عشرَة وَإِحْدَى وَعشْرين

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ گردن کی دونوں رگوں اور کندھوں کے درمیان پچھنے لگوایا کرتے تھے ۔ ابوداؤد ، امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : آپ ﷺ (چاند کی) سترہ ، انیس اور اکیس تاریخ کو پچھنے لگوایا کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ ۔

4547Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَحِبُّ الْحِجَامَةَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ وَتِسْعَ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ. رَوَاهُ فِي شرح السّنة

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ (چاند کی) سترہ ، انیس اور اکیس تاریخ کو پچھنے لگانا پسند فرماتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔

4548Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ احْتَجَمَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ وَتِسْعَ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ كَانَ شِفَاءً لَهُ مِنْ كُلِّ دَاء» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوہریرہ ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص (چاند کی) سترہ ، انیس اور اکیس تاریخ کو پچھنے لگوائے وہ ہر بیماری سے محفوظ رہے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

4549Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَن كبشةَ بنت أبي بكرةَ: أَنَّ أَبَاهَا كَانَ يُنْهِي أَهْلَهُ عَنِ الْحِجَامَةِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَيَزْعُمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ يَوْمُ الدَّمِ وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَرْقَأُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

کبشہ بنت ابی بکرہ سے روایت ہے کہ اس کے والد منگل کے روز پچھنے لگوانے سے اپنے اہل خانہ کو منع کیا کرتے تھے ، اور وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ’’ منگل کا دن (غلبہ) خون کا دن ہے اور اس میں ایک گھڑی ہے کہ اس میں خون تھمتا نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4550Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ مُرْسَلًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ احْتَجَمَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ أَوْ يَوْمَ السَّبْتِ فَأَصَابَهُ وَضَحٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: وَقَدْ أسْند وَلَا يَصح

زہری ؒ ، رسول اللہ ﷺ سے مرسل روایت کرتے ہیں ،’’ جو شخص بدھ یا ہفتہ کے روز پچھنے لگوائے اور وہ برص کا شکار ہو جائے تو وہ اس صورت میں خود کو ہی ملامت کرے ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ، اور ابوداؤد ؒ نے کہا : یہ مشہور ہے کہ یہ روایت مسند ہے ، لیکن یہ صحیح نہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

4551Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْهُ مُرْسَلًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ احْتَجَمَ أَوِ اطَّلَى يَوْمَ السَّبْتِ أَوِ الْأَرْبِعَاءِ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ فِي الوَضَحِ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة

امام زہری ؒ سے مرسل روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ہفتے یا بدھ کے روز پچھنے لگوائے یا کوئی دوائی لیپ کرے تو وہ برص کا شکار ہونے کی صورت میں صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔

4552Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَأَى فِي عُنُقِي خَيْطًا فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقُلْتُ: خَيْطٌ رُقِيَ لِي فِيهِ قَالَتْ: فَأَخَذَهُ فَقَطَعَهُ ثُمَّ قَالَ: أَنْتُمْ آلَ عَبْدَ اللَّهِ لَأَغْنِيَاءٌ عَنِ الشِّرْكِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ» فَقُلْتُ: لِمَ تَقُولُ هَكَذَا؟ لَقَدْ كَانَتْ عَيْنِي تُقْذَفُ وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ فَإِذَا رَقَاهَا سَكَنَتْ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّمَا ذَلِكِ عَمَلُ الشَّيْطَانِ كَانَ يَنْخَسُهَا بِيَدِهِ فَإِذَا رُقِيَ كُفَّ عَنْهَا إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكِ أَنْ تَقُولِي كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءٌ لَا يُغَادِرُ سقما» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عبداللہ بن مسعود ؓ کی اہلیہ زینب ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ نے میری گردن میں ایک دھاگہ دیکھا تو پوچھا : یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا : میرے لیے دم کیا ہوا دھاگہ ہے ، انہوں نے اسے پکڑ کر کاٹ دیا ، پھر فرمایا : تم آل عبداللہ شرک سے بے نیاز ہو ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک دم ، تعویذ اور جادو شرک ہے ۔‘‘ میں نے کہا : آپ اس طرح کیوں کہتے ہیں ؟ میری آنکھ میں شدید درد تھا میں فلاں یہودی کے پاس جاتی تھی ، جب وہ دم کرتا تو درد رک جاتا تھا ، (یہ سن کر) عبداللہ نے فرمایا : یہ محض شیطان کا عمل ہے ، وہ اپنا ہاتھ آنکھ پر مارتا ہے ۔ جب دم کیا جاتا ہے تو وہ ہاتھ مارنا چھوڑ دیتا ہے ، تمہارے لیے اتنا کہنا ہی کافی تھا جیسے رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے :’’ لوگوں کے رب ! بیماری لے جا ، اور شفا عطا فرما ، تو ہی شفا عطا کرنے والا ہے ، شفا صرف تیری ہی ہے ، ایسی شفا عطا کر کہ وہ کوئی بیماری نہ چھوڑے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4553Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَن جَابر قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النُّشْرَةِ فَقَالَ: «هُوَ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے جادو ، منتر (سفلی عمل کو سفلی علم سے دور کرنے) کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ شیطانی عمل ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

4554Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ إِنْ أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا أَوْ تَعَلَّقْتُ تَمِيمَةً أَوْ قُلْتُ الشِّعْرَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میں کچھ فرق نہیں سمجھتا کہ میں تریاق پیوں یا تعویذ لٹکاؤں یا اپنی طرف سے شعر کہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4555Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے داغ لگوایا یا دم کرایا تو وہ توکل سے لاتعلق ہو گیا ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔

4556Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْ عِيسَى بْنِ حَمْزَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عبدِ الله بن عُكيم وَبِهِ حُمْرَةٌ فَقُلْتُ: أَلَا تُعَلِّقُ تَمِيمَةً؟ فَقَالَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِلَ إِليهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عیسیٰ بن حمزہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں عبداللہ بن عکیم ؓ کے پاس گیا تو انہیں سرخ بادہ کا مرض تھا ، میں نے کہا : آپ تعویذ کیوں نہیں لیتے ؟ انہوں نے کہا : ہم اس سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کوئی چیز لٹکاتا ہے تو اسے اسی کے سپرد کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4557Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَن عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نظر لگ جانے یا کسی کے ڈسنے سے دم کرنا جائز ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔

4558Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَرَوَاهُ ابْن مَاجَه عَن بُرَيْدَة

امام ابن ماجہ نے اسے بریدہ ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔

4559Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ أَوْ دَمٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نظر لگ جانے یا کسی چیز کے ڈس لینے یا نکسیر جاری ہونے پر دم کرنا درست ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4560Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَن أَسمَاء بنت عُميس قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ وَلَدَ جَعْفَرٍ تُسْرِعُ إِلَيْهِمُ الْعَيْنُ أَفَأَسْتَرْقِي لَهُمْ؟ قَالَ: «نَعَمْ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابِقُ الْقَدَرِ لَسَبَقَتْهُ العينُ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

اسماء بن عمیس ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جعفر ؓ کی اولاد کو بہت جلد نظر لگ جاتی ہے ، کیا میں انہیں دم کراؤں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، کیونکہ اگر تقدیر پر کوئی چیز غالب ہوتی تو اس پر نظر غالب آتی ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔