Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 227 of 315

4521Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَخِي اسْتَطْلَقَ بَطْنُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسقيه عسَلاً» فَسَقَاهُ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ لَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ثُمَّ جَاءَ الرَّابِعَةَ فَقَالَ: «اسْقِهِ عَسَلًا» . فَقَالَ: لَقَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ» . فَسَقَاهُ فَبَرَأَ

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا ، میرے بھائی کو پیچش لگے ہوئے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے شہد پلاؤ ۔‘‘ اس نے اسے شہد پلایا ، وہ پھر آیا اور عرض کیا : میں نے اسے شہد پلایا مگر اس سے پیچش اور بھی زیادہ ہو گئے ہیں ، آپ نے تین مرتبہ اسے ایسے ہی فرمایا ، پھر وہ چوتھی مرتبہ آیا تو آپ ﷺ نے (یہی) فرمایا :’’ اسے شہد پلاؤ ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، میں اسے پلا چکا ہوں لیکن اس کے مرض اسہال میں اضافہ ہی ہوا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کا فرمان سچا ہے جبکہ تیرے بھائی کے پیٹ کی غلطی ہے ۔‘‘ اس نے پھر پلایا تو وہ صحت یاب ہو گیا ۔ متفق علیہ ۔

4522Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَمْثَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحجامَة والقُسْط البحري»

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سینگی لگوانا اور قسط بحری کا استعمال بہترین طریقہ علاج ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4523Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ مِنَ الْعُذْرَةِ عَلَيْكُمْ بِالْقُسْطِ»

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عذرہ (ایک ورم ہے جو بچہ کے حلق میں کثرت خون کی وجہ سے ہو جاتا ہے) کی وجہ سے اپنے بچوں کے گلے دبا کر انہیں تکلیف نہ پہنچاؤ ، بلکہ تم قسط استعمال کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4524Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَن أُمِّ قَيْسٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «على مَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ؟ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجنب»

ام قیس ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اس علاق (حلق کے ورم) کی وجہ سے اپنی اولاد کا حلق کیوں دباتی ہو ؟ بس تم یہ عود ہندی استعمال کرو ، کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفا ہے ، ان میں سے ایک نمونیہ ہے ، حلق کے ورم کی وجہ سے اسے ناک سے ڈالا جائے اور نمونیہ کی صورت میں منہ کے ایک طرف سے ڈالی جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4525Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْ عَائِشَةَ وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحمى من فيج جَهَنَّم فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ»

عائشہ اور رافع بن خدیج ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بخار جہنم کی بھاپ سے ہے ، تم اسے پانی کے ساتھ ٹھنڈا کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4526Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَن أنسٍ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالْحُمَّةِ وَالنَّمْلَةِ. رَوَاهُ مُسلم

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے نظر لگ جانے ، ڈنک میں اور نملہ بیماری (پسلی میں دانے نکل آتے ہیں اور زخم پڑ جاتے ہیں) کی صورت میں دم کرنے کی رخصت عنایت فرمائی ہے ۔ رواہ مسلم ۔

4527Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ نے نظر لگ جانے کی صورت میں دم کرانے کا حکم فرمایا ہے ۔ متفق علیہ ۔

4528Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَيْتِهَا جَارِيَةً فِي وجهِها سفعة يَعْنِي صُفْرَةً فَقَالَ: «اسْتَرْقُوا لَهَا فَإِنَّ بِهَا النَّظْرَةَ»

ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اس کے گھر میں ایک لڑکی دیکھی جس کے چہرے پر زردی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے دم کراؤ کیونکہ اسے نظر لگی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4529Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى فَجَاءَ آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَتْ عِنْدَنَا رُقْيَةٌ نَرْقِي بِهَا مِنَ الْعَقْرَبِ وَأَنْتَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ فَقَالَ: «مَا أَرَى بِهَا بَأْسًا مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے دم سے منع فرما دیا تو ، آل عمرو بن حزم آئے اور انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہمارے پاس دم تھا جو ہم بچھو کے ڈس لینے پر کیا کرتے تھے ، اور آپ نے اس سے منع فرما دیا ہے ، انہوں نے وہ دم آپ کو سنایا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا ، تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے تو وہ اسے فائدہ پہنچائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

4530Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَن عوفِ بن مَالك الْأَشْجَعِيّ قَالَ: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ: «اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لم يكن فِيهِ شرك» . رَوَاهُ مُسلم

عوف بن مالک اشجعی ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم دورِ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ، ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے دم مجھے سناؤ ، ایسا دم جس میں شرک نہ ہو ، اس میں کوئی حرج نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

4531Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْعَيْنُ حَقٌّ فَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرِ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فاغسِلوا» . رَوَاهُ مُسلم

ابن عباس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نظر (کی تاثیر) ثابت ہے ، اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جانے والی ہوتی تو نظر اس پر سبقت لے جاتی اور جب تم سے غسل کا مطالبہ کیا جائے تو غسل کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

4532Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُول الله أفنتداوى؟ قَالَ: «نعم يَا عبد اللَّهِ تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ الْهَرم» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

اسامہ بن شریک ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم علاج معالجہ کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، اللہ کے بندو ! علاج معالجہ کرو کیونکہ اللہ نے بڑھاپے کے سوا ایسی کوئی بیماری پیدا نہیں کی جس کے لیے شفا پیدا نہ کی ہو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔

4533Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُمْ وَيَسْقِيهِمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب

عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے بیماروں کو کھانے پر مجبور نہ کیا کرو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا پلاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

4534Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَوَى أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ مِنَ الشَّوْكَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اسعد بن زرارہ ؓ کو شوکہ (یہ سرخ بادہ ہے جو غلبہ خون سے پیدا ہوتا ہے) کی بیماری میں داغ دیا ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔\n

4535Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَن زيد بن أَرقم قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَدَاوَى مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ بِالْقُسْطِ البحريِّ وَالزَّيْت. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم قسط بحری اور زیتون سے نمونیہ کا علاج کریں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

4536Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْعَتُ الزَّيْتَ وَالْوَرْسَ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نمونیہ کے علاج کے لیے زیتون اور ورس (بوٹی) کی تعریف کیا کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

4537Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَن أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهَا: «بمَ تستَمشِينَ؟» قَالَت: بالشُّبْرمِ قَالَ: «حارٌّ حارٌّ» . قَالَتْ: ثُمَّ اسْتَمْشَيْتُ بِالسَّنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ شَيْئًا كَانَ فِيهِ الشِّفَاءُ مِنَ الْمَوْتِ لَكَانَ فِي السَّنَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب

اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا ، تم جلاب کے لیے کونسی دوا استعمال کرتی ہو ؟ میں نے عرض کیا : شبرم (چنے کی طرح ایک دانہ ہے جو کہ بہت گرم ہے ، اس کا پانی دوا کے طور پر پیتے ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ تو انتہائی گرم ہے ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں ، پھر میں سنا کے ساتھ جلاب لیتی ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اگر کسی چیز میں موت کی شفا ہوتی تو وہ سنا میں ہوتی ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

4538Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وشطره الأول (صَحِيحٌ)\nوَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الدَّاءَ وَالدَّوَاءَ وَجَعَلَ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءً فَتَدَاوُوا وَلَا تداوَوْا بحرامٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے بیماری اتاری ہے تو اس نے دوائی بھی اتاری ہے اور اس نے ہر بیماری کے لیے دوائی بنائی ہے ، تم علاج معالجہ کرو اور حرام چیز کے ساتھ علاج معالجہ مت کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4539Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے حرام چیز کو بطور دوا استعمال کرنے سے بھی منع فرمایا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ ۔\n

4540Mishkaat-al-Masabihضعیف

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْ سَلْمَى خَادِمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: مَا كَانَ أَحَدٌ يَشْتَكِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا فِي رَأْسِهِ إِلَّا قَالَ: «احْتَجِمْ» وَلَا وَجَعًا فِي رِجْلَيْهِ إِلَّا قَالَ: «اخْتَضِبْهُمَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

نبی ﷺ کی خادمہ سلمی ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : جس شخص نے بھی رسول اللہ ﷺ سے درد سر کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے یہی فرمایا کہ ’’ پچھنے لگاؤ ۔‘‘ اور جس نے اپنے پاؤں میں تکلیف کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ مہندی لگاؤ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔