Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 226 of 315

4501Mishkaat-al-Masabihصحیح

تصاویر کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: أَتَيْتُكَ الْبَارِحَةَ فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَكُونَ دَخَلْتُ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ عَلَى الْبَابِ تَمَاثِيلُ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ كَلْبٌ فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ الَّذِي عَلَى بَابِ الْبَيْتِ فَيُقْطَعْ فَيَصِيرُ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ وَمُرْ بِالسِّتْرِ فَلْيُقْطَعْ فَلْيُجْعَلْ وِسَادَتَيْنِ مَنْبُوذَتَيْنِ تُوطَآنِ وَمُرْ بِالْكَلْبِ فَلْيُخْرَجْ . فَفَعَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جبریل ؑ میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا : میں گزشتہ رات آپ کے پاس آیا تھا لیکن آپ کے دروازے پر مورتیاں تھیں جن کی وجہ سے میں اندر نہیں آیا ، اور گھر میں ایک پردہ تھا جس پر مورتیاں تھیں اور گھر میں ایک کتا بھی تھا ، گھر کے دروازے پر جو مورتیاں ہیں ان کے سر قطع کرنے کا حکم فرمائیں تو وہ درخت کی طرح ہو جائے گی ، اور پردے کے متعلق حکم فرمائیں کہ اسے کاٹ کر دو تکیے بنا لیں جو پھینکے اور روندے جائیں جبکہ کتے کے متعلق حکم فرمائیں کہ اسے باہر نکال دیا جائے ۔‘‘ پس رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

4502Mishkaat-al-Masabihضعیف

تصاویر کا بیان

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهَا عَيْنَانِ تُبْصِرَانِ وَأُذُنَانِ تَسْمَعَانِ وَلِسَانٌ يَنْطِقُ يَقُولُ: إِنِّي وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ: بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ وَكُلِّ مَنْ دَعَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخر وبالمصوِّرين . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت جہنم کی آگ سے ایک گردن نکلے گی جس کی دو آنکھیں دیکھنے والی ہوں گی ، دو کان سننے والے ہوں گے اور ایک زبان بولتی ہو گی ، وہ کہے گی : مجھے تین قسم کے لوگوں ، ہر ظالم و متکبر شخص ، اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود بنانے والے اور تصویر بنانے والوں ، پر مامور کیا گیا ہے (کہ میں انہیں آگ میں داخل کروں) ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

4503Mishkaat-al-Masabihصحیح

تصاویر کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَرَّمَ الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْكُوبَةَ وَقَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ . قِيلَ: الْكُوبَةُ الطَّبْلُ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان

ابن عباس ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب ، جوئے اور طبلے کو حرام قرار دیا ہے ۔‘‘ اور فرمایا :’’ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

4504Mishkaat-al-Masabihصحیح

تصاویر کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَالْكُوبَةِ والغبيراء. الغبيراء: شَرَابٌ يَعْمَلُهُ الْحَبَشَةُ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ: السكركة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے شراب ، جوئے ، طبل اور ’’غبیراء‘‘ سے منع فرمایا ہے ، اور ’’غبیراء‘‘ شراب ہے جسے حبشی مکئی سے بنایا کرتے تھے ، اور اسے سکرکہ بھی کہا جاتا ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

4505Mishkaat-al-Masabihضعیف

تصاویر کا بیان

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے نردشیر کھیلی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

4506Mishkaat-al-Masabihصحیح

تصاویر کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَتْبَعُ حَمَامَةً فَقَالَ: «شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبِيهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو ایک کبوتری کا پیچھا کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا :’’ شیطان ، شیطانہ کا پیچھا کر رہا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔

4507Mishkaat-al-Masabihصحیح

تصاویر کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ إِنِّي رَجُلٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللَّهَ مُعَذِّبُهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهِ الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا» . فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً وَاصْفَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ وَكُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ روح. رَوَاهُ البُخَارِيّ

سعید بن ابی الحسن بیان کرتے ہیں ، میں ابن عباس ؓ کے پاس تھا جب ایک آدمی ان کے پاس آیا ، اس نے کہا : ابن عباس ! میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ میری معیشت کا انحصار دست کاری پر ہے ، اور میں یہ تصاویر بناتا ہوں ، ابن عباس ؓ نے فرمایا : میں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی حدیث ہی سنا دیتا ہوں ، میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی تو اللہ اسے عذاب دیتا رہے گا حتی کہ وہ اس میں روح پھونکے جبکہ وہ کبھی بھی اس میں روح نہیں پھونک سکے گا ۔‘‘ اس آدمی نے بڑا سانس لیا اور اس کا چہرہ زرد پڑ گیا اس پر عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا : افسوس تجھ پر ، اگر تم نے ضرور یہی کام کرنا ہے تو پھر درخت اور ایسی چیزوں کی تصاویر بنا لیا کر جس میں روح نہ ہو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

4508Mishkaat-al-Masabihصحیح

تصاویر کا بیان

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ بَعْضُ نِسَائِهِ كَنِيسَةً يُقَالُ لَهَا: مَارِيَّةُ وَكَانَتْ أُمُّ سَلمَة وَأم حَبِيبَة أتتا أرضَ الْحَبَشَة فَذَكرنَا مِنْ حُسْنِهَا وَتَصَاوِيرَ فِيهَا فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «أُولَئِكَ إِذَا مَاتَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا ثُمَّ صَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّور أُولَئِكَ شرار خلق الله»

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی ﷺ بیمار ہوئے تو آپ کی ایک بیوی نے کنیسہ کا ذکر کیا جسے ماریہ کہا جاتا ہے ، ام سلمہ اور ام حبیبہ ؓ سرزمینِ حبشہ گئی تھیں ، انہوں نے اس کے حسن اور اس میں رکھی ہوئی تصاویر کا ذکر کیا ۔ آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا :’’ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں صالح آدمی فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے ، پھر اس (مسجد) میں یہ تصویریں بنا دیتے ، یہ اللہ کی بدترین مخلوق ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4509Mishkaat-al-Masabihضعیف

تصاویر کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَتَلَ نَبِيًّا أَوْ قَتَلَهُ نَبِيٌّ أَوْ قَتَلَ أَحَدَ وَالِدَيْهِ وَالْمُصَوِّرُونَ وعالم لم ينْتَفع بِعِلْمِهِ»

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت ایسے شخص کو سب سے سخت عذاب ہو گا جس نے کسی نبی کو قتل کیا یا کسی نبی نے اسے قتل کیا ، یا کسی نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو قتل کیا ، نیز مصور اور ایسا عالم جس نے اپنے علم سے (عمل کے ذریعے) فائدہ حاصل نہ کیا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

4510Mishkaat-al-Masabihضعیف

تصاویر کا بیان

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُول: الشطرنج هُوَ ميسر الْأَعَاجِم

علی ؓ سے روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے : شطرنج عجمیوں کا جوا ہے ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

4511Mishkaat-al-Masabihضعیف

تصاویر کا بیان

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ قَالَ: لَا يلْعَب بالشطرنج إِلَّا خاطئ

ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری ؓ نے فرمایا : خطاکار شخص ہی شطرنج کھیلتا ہے ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

4512Mishkaat-al-Masabihضعیف

تصاویر کا بیان

وَعنهُ أَن سُئِلَ عَنْ لَعِبِ الشَّطْرَنْجِ فَقَالَ: هِيَ مِنَ الْبَاطِلِ وَلَا يُحِبُّ اللَّهُ الْبَاطِلَ. رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

ابن شہاب سے روایت ہے کہ ان سے شطرنج کھیلنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا : وہ باطل کھیلوں میں سے ہے جبکہ اللہ تعالیٰ باطل کو پسند نہیں کرتا ۔ یہ چاروں احادیث امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

4513Mishkaat-al-Masabihضعیف

تصاویر کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي دَارَ قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْتِي دَارَ فُلَانٍ وَلَا تَأْتِي دَارَنَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِأَنَّ فِي دَارِكُمْ كَلْبًا» . قَالُوا: إِنَّ فِي دَارِهِمْ سِنَّوْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السِّنَّوْرُ سَبْعٌ» . رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ انصار کے ایک گھر میں تشریف لایا کرتے تھے ، جبکہ ان کے قریب ایک گھر تھا (آپ ان کے ہاں نہیں جایا کرتے تھے) ان پر یہ شاق گزرا تو انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ فلاں کے گھر تشریف لاتے ہیں اور ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کیونکہ تمہارے گھر میں کتا ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اور ان کے گھر میں بلا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بلا درندہ ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدار قطنی ۔

4514Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاء إِلا أنزل لَهُ دَوَاء» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے جو بیماری اتاری ہے تو اس کی شفا بھی اتاری ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

4515Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءٌ الدَّاءَ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ» . رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر بیماری کے لیے دوائی ہے ، جب دوائی بیماری کے موافق ہو جاتی ہے تو مریض اللہ کے حکم سے صحت یاب ہو جاتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

4516Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثٍ: فِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ أَوْ كَيَّةٍ بِنَارٍ وَأَنَا أَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَيِّ . رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شفا تین چیزوں میں ہے : پچھنے لگوانے میں یا شہد پینے میں یا آگ سے داغنے سے ، اور میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

4517Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَن جابرٍ قَالَ: رُمِيَ أَبِي يَوْمَ الْأَحْزَابِ عَلَى أَكْحَلِهِ فَكَوَاهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوۂ احزاب (خندق) کے موقع پر ابی بن کعب ؓ کو رگ ہفت اندام میں تیر لگا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں داغ دیا ۔ رواہ مسلم ۔

4518Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْهُ قَالَ: رُمِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي أكحله فحمسه النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بِمِشْقَصٍ ثمَّ ورمت فحمسه الثَّانِيَة. رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، سعد بن معاذ ؓ کو رگ ہفت اندام میں تیر لگا تو نبی ﷺ نے اپنے دست مبارک سے تیر کے پیکان کے ساتھ اسے داغ دیا ، پھر اس پر ورم آ گیا تو آپ ﷺ نے دوسری مرتبہ اسے داغ دیا ۔ رواہ مسلم ۔

4519Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَنْهُ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبيِّ بن كَعْب طَبِيبا فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ. رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ابی بن کعب ؓ کے پاس ایک طبیب بھیجا تو اس نے ان کی ایک رگ کاٹ دی پھر اس کو داغ دیا ۔ رواہ مسلم ۔

4520Mishkaat-al-Masabihصحیح

طب اور جھاڑ پھونک کا بیان

وَعَن أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ» . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: السَّامُ: الْمَوْتُ وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ: الشُّونِيزُ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کلونجی میں موت کے سوا ہر بیماری سے شفا ہے ۔‘‘ ابن شہاب نے فرمایا : ((السام)) سے مراد موت اور ((الحبۃ السوداء)) سے کلونجی مراد ہے ۔ متفق علیہ ۔