Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 225 of 315
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمُخَنَّثٍ قَدْ خَضَبَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ بِالْحِنَّاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ هَذَا؟» قَالُوا: يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ فَأَمَرَ بِهِ فَنُفِيَ إِلَى النَّقِيعِ. فَقيل: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَقْتُلُهُ؟ فَقَالَ: «إِنِّي نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مخنث (ہجڑا) لایا گیا جس نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں پر مہندی لگا رکھی تھی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کا کیا معاملہ ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، وہ عورتوں سے مشابہت کرتا ہے ، آپ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے نقیع کی طرف جلا وطن کر دیا گیا ، آپ سے عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَن الوليدِ بن عقبةَ قَالَ: لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَهُ بصبيانهم فيدعو لَهُم بِالْبركَةِ وَيمْسَح رؤوسهم فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ وَأَنَا مُخَلَّقٌ فَلَمْ يَمَسَّنِي من أجل الخَلوق. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ولید بن عقبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کر لیا تو اہل مکہ اپنے بچے آپ کے پاس لانے لگے ، آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے ، مجھے بھی آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا جبکہ میں نے خلوق (زعفران کے ساتھ مخلوط خوشبو) لگائی ہوئی تھی ، لہذا آپ ﷺ نے خلوق کی وجہ سے مجھے ہاتھ نہ لگایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي جُمَّةً أَفَأُرَجِّلُهَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ وَأَكْرِمْهَا» قَالَ: فَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ رُبَّمَا دَهَنَهَا فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ مِنْ أَجْلِ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ وَأَكْرمهَا» . رَوَاهُ مَالك
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ، میرے بال لمبے (کندھوں تک) ہیں ، کیا میں ان میں کنگھی کر لیا کروں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، اور انہیں سنوار کر رکھ ۔‘‘ راوی نے کہا ، اور ابوقتادہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے اس قول کی وجہ سے کہ ’’ بالوں کو سنوار کر رکھو ۔‘‘ دن میں دو مرتبہ بالوں کو تیل لگایا کرتے تھے ۔ ضعیف ، رواہ مالک ۔
وَعَن الحجاح بْنِ حَسَّانَ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالك فَحَدَّثَتْنِي أُخْتِي الْمُغِيرَةُ قَالَتْ: وَأَنْتَ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ وَلَكَ قَرْنَانِ أَوْ قُصَّتَانِ فَمَسَحَ رَأْسَكَ وَبَرَّكَ عَلَيْكَ وَقَالَ: «احْلِقُوا هَذَيْنِ أَوْ قُصُّوهُمَا فَإِنَّ هَذَا زِيُّ الْيَهُود» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
حجاج بن حسان ؒ بیان کرتے ہیں ، ہم انس بن مالک ؓ کے پاس گئے ، میری بہن مغیرہ نے مجھے بتایا کہ تم ان دنوں چھوٹے بچے تھے اور تمہاری دو مینڈھیاں تھیں ، انہوں نے تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا ، برکت کی دعا کی اور فرمایا : ان دونوں کو مونڈ دو یا انہیں کتر دو کیونکہ یہ یہود کی زینت و عادت ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے خواتین کو اپنے سر کے بال مونڈنے سے منع فرمایا ۔ حسن ، رواہ النسائی ۔
وَعَن عطاءِ بن يسارٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ ثَائِرُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَأْمُرُهُ بِإِصْلَاحِ شَعْرِهِ وَلِحْيَتِهِ فَفَعَلَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ ثَائِرُ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ شَيْطَان» . رَوَاهُ مَالك
عطا بن یسار ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا جس کے سر اور داڑھی کے بال پراگندہ تھے ، رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے اس کی طرف اشارہ فرمایا ، گویا آپ اسے اپنے بال اور داڑھی سنوارنے کا حکم فرما رہے ہیں ، اس نے ویسے ہی کر لیا اور پھر وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم میں سے کوئی اس حال میں آئے کہ اس کے سر کے بال پراگندہ ہوں گویا وہ شیطان ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ املک ۔
وَعَن ابنِ الْمسيب سُمِعَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ يُحِبُّ الطِّيبَ نَظِيفٌ يُحِبُّ النَّظَافَةَ كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكَرَمَ جَوَادٌ يُحِبُّ الْجُودَ فَنَظِّفُوا أُرَاهُ قَالَ: أَفْنِيَتَكُمْ وَلَا تشبَّهوا باليهود\nقَالَ: فذكرتُ ذَلِك لمهاجرين مِسْمَارٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِيهِ عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «نَظِّفُوا أَفْنِيتَكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n
ابن مسیّب سے روایت ہے ، انہیں کہتے ہوئے سنا گیا کہ ’’ اللہ پاک ہے وہ (اپنے بندوں سے) صفائی و خوشبو پسند کرتا ہے ، وہ نظیف ہے نظافت کو پسند کرتا ہے ، وہ کریم ہے کرم کو پسند کرتا ہے ، وہ سخی داتا ہے سخاوت کرنے کو پسند کرتا ہے ، میرا خیال ہے آپ نے فرمایا : تم اپنے صحنوں کو صاف ستھرا رکھو ، اور یہود کی نقل مت اتارو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے مہاجرین مسمار سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا : عامر بن سعد نے اسے اپنے والد کے واسطے سے نبی ﷺ سے اسی طرح بیان کیا مگر انہوں نے کہا :’’ اپنے صحن صاف رکھو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ أوَّلَ النَّاس ضيَّف الضَّيْف وَأَوَّلَ النَّاسِ اخْتَتَنَ وَأَوَّلَ النَّاسِ قَصَّ شَارِبَهُ وَأَوَّلَ النَّاسِ رَأَى الشَّيْبَ فَقَالَ: يَا رَبِّ: مَا هَذَا؟ قَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَقَارٌ يَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: رَبِّ زِدْنِي وَقَارًا. رَوَاهُ مَالك
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سعید بن مسیّب کو بیان کرتے ہوئے سنا ، ابراہیم خلیل الرحمن سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے مہمان نوازی کی ، انہوں نے سب سے پہلے ختنہ کیا ، سب سے پہلے اپنی مونچھیں کتریں ، سب سے پہلے بڑھاپا دیکھا تو عرض کیا ، اے میرے رب ! یہ کیا ہے ؟ رب تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ابراہیم ! وقار ہے ۔ عرض کیا ، اے میرے رب ! میرے وقار میں اضافہ فرما ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
عَن أبي طَلْحَة قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تصاوير»
ابو طلحہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس گھر میں کتے اور تصاویر ہوں اس میں (رحمت کے) فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَن ابنِ عبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أصبحَ يَوْمًا واجماً وَقَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِيَ اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَ وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي» . ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَهُ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بيدِه مَاء فنضحَ مَكَانَهُ فَلَمَّا أَمْسَى لقِيه جِبْرِيلَ فَقَالَ: «لَقَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ» . قَالَ: أَجَلْ وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ فَأَصْبَحَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكلاب حَتَّى إِنه يَأْمر بقتل الْكَلْب الْحَائِطِ الصَّغِيرِ وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ. رَوَاهُ مُسلم
ابن عباس ؓ ، میمونہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ غمگین ہو گئے اور فرمایا :’’ جبریل ؑ نے رات کے وقت مجھ سے ملاقات کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ نہیں آئے ، آگاہ رہو کہ اللہ کی قسم ! اس نے مجھ سے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی ۔‘‘ پھر آپ کے دل میں خیال آیا کہ آپ کی چارپائی کے نیچے کتے کا چھوٹا سا بچہ ہے ۔ آپ نے اس کے متعلق حکم فرمایا : اسے نکال دیا جائے ، چنانچہ اسے نکال دیا گیا ، پھر آپ نے ہاتھ میں پانی لے کر اس جگہ چھڑک دیا ، پھر جب شام ہوئی تو جبریل ؑ آپ سے ملے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے کل مجھ سے ملاقات کرنے کا وعدہ کیا تھا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ٹھیک ہے ، لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو ، اگلے روز صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے کتے مارنے کا حکم فرما دیا حتی کہ چھوٹے باغوں کے کتے بھی مار دیے جائیں البتہ بڑے باغوں کے کتے چھوڑ دینے (یعنی نہ مارنے) کا حکم فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصَالِيبُ إِلَّا نَقَضَهُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنے گھر میں ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑتے تھے جس پر تصویر ہوتی تھی ۔ رواہ البخاری ۔
وَعَنْهَا أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أتوبُ إِلى الله وإِلى رَسُوله مَا أذنبتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ؟» قُلْتُ: اشْتَرَيْتُهَا لَكَ لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ . وَقَالَ: «إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّورَةُ لَا تدخله الْمَلَائِكَة»
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک چھوٹا سا تکیہ خریدا جس پر تصویریں تھیں ، جب رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر تشریف نہ لائے ، میں نے آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے ، وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں (اپنی غلطی سے) اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرتی ہوں ، میں نے غلطی کیا کی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تکیہ کیسا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، میں نے اسے آپ کے لیے خریدا ہے تا کہ آپ اس پر تشریف فرما ہوں اور اس پر ٹیک لگائیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ان تصویروں والوں کو روزِ قیامت عذاب دیا جائے گا ، انہیں کہا جائے گا ، تم نے جو تخلیق کیا اسے زندہ کرو ۔‘‘ اور فرمایا :’’ بے شک وہ گھر جس میں تصویر ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وعنها أَنَّهَا كَانَت عَلَى سَهْوَةٍ لَهَا سِتْرًا فِيهِ تَمَاثِيلُ فَهَتَكَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ نُمرُقتين فكانتا فِي الْبَيْت يجلسُ عَلَيْهِم
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے گھر کے دریچے پر پردہ لٹکا رکھا تھا جس پر تصویریں تھیں ، نبی ﷺ نے اسے پھاڑ ڈالا ، اور میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے جو کہ گھر میں تھے ، آپ ﷺ ان پر بیٹھا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
وَعَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي غَزَاةٍ فَأَخَذَتْ نَمَطًا فَسَتَرَتْهُ عَلَى الْبَابِ فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَى النَّمَطَ فَجَذَبَهُ حَتَّى هَتَكَهُ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَالطِّينَ»
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کسی غزوہ پر تشریف لے گئے تو میں نے ایک کپڑا لیا اور اسے دروازے پر لٹکا دیا ، جب آپ واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے وہ کپڑا دیکھا تو اسے کھینچ کر پھاڑ دیا ، پھر فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا کہ ہم پتھر اور مٹی کو کپڑا پہنائیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخلق الله»
عائشہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت ان لوگوں کو سب سے زیادہ سخت عذاب دیا جائے گا جو اللہ کی تخلیق میں اللہ سے مشابہت کرتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ بِخلق كخلقي فلْيخلقوا ذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ شَعِيرَةً
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اس سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جو میری طرح کی تخلیق کرنے لگتا ہے ، انہیں چاہیے کہ وہ ایک ذرہ یا ایک دانہ یا ایک جو تو پیدا کریں ! ‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ المصوِّرون»
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ کے ہاں مصوروں کو سب سے زیادہ سخت عذاب دیا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يُجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسًا فَيُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ» . قَالَ ابْن عَبَّاس: فَإِن كنت لابد فَاعِلًا فَاصْنَعِ الشَّجَرَ وَمَا لَا رُوحَ فِيهِ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ہر مصور آگ میں (جانے والا) ہے ، اس نے جو بھی تصویر بنائی ہو گی اسے صورت عطا کی جائے گی اور وہ اس (مصور) کو جہنم میں عذاب دے گی ۔‘‘ ابن عباس ؓ نے فرمایا : اگر تم نے ضرور ہی تصویر بنانی ہے تو پھر درخت اور ایسی چیز کی بنا جس میں روح نہ ہو ۔ متفق علیہ ۔
وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ تَحَلَّمَ بِحُلْمٍ لَمْ يَرَهُ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَنْ يَفْعَلَ وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ أَوْ يَفِرُّونَ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ وَكُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص کسی ایسے خواب دیکھنے کا دعوی کرے جو اس نے دیکھا نہیں تو اسے مکلّف بنایا جائے گا کہ وہ دو جو کے درمیان گرہ لگائے اور وہ ہرگز ایسا نہیں کر سکے گا ، جو شخص کان لگا کر لوگوں کی باتیں سنتا ہے جبکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں یا وہ اس سے دور بھاگتے ہوں تو روزِ قیامت اس کے کانوں میں سیسہ ڈالا جائے گا اور جس نے کوئی تصویر بنائی اسے عذاب دیا جائے گا اور اسے مکلّف بنایا جائے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے اور وہ ایسا نہیں کر سکے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَكَأَنَّمَا صَبَغَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص نرد کھیلتا ہے تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے خنزیر کے گوشت اور اس کے خون سے اپنا ہاتھ رنگین کیا ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔