Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 229 of 315
طب اور جھاڑ پھونک کا بیان
وَعَن الشَّفاءِ بنت عبد الله قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَ حَفْصَةَ فَقَالَ: «أَلَا تُعَلِّمِينَ هَذِهِ رُقْيَةَ النَّمْلَةِ كَمَا عَلَّمْتِيهَا الْكِتَابَةَ؟» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
شفاء بنت عبداللہ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں حفصہ ؓ کے پاس تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم اس (حفصہ ؓ) کو نملہ (پھنسیاں جو پسلی پر نکلتی ہیں) کا دم نہیں سکھا دیتی جس طرح تم نے اسے لکھنا سکھایا ہے ؟‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
طب اور جھاڑ پھونک کا بیان
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: رَأَى عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَغْتَسِلُ فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ قَالَ: فَلُبِطَ سَهْلٌ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ؟ وَاللَّهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَقَالَ: «هَلْ تَتَّهِمُونَ لَهُ أَحَدًا؟» فَقَالُوا: نَتَّهِمُ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِرًا فَتُغُلِّظَ عَلَيْهِ وَقَالَ: «عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ أَلَا بَرَّكْتَ؟ اغْتَسِلْ لَهُ» . فَغَسَلَ لَهُ عَامِرٌ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمِرْفَقَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ فِي قَدَحٍ ثُمَّ صُبَّ عَلَيْهِ فَرَاحَ مَعَ النَّاسِ لَيْسَ لَهُ بَأْس. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَرَوَاهُ مَالِكٌ وَفِي رِوَايَتِهِ: قَالَ: «إِن الْعين حق تَوَضَّأ لَهُ»
ابوامامہ بن سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں ، عامر بن ربیعہ نے سہل بن حنیف کو غسل کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا ، اللہ کی قسم ! میں نے جس قدر سفید و ملائم جلد آج دیکھی ہے ایسی کبھی نہیں دیکھی ، راوی بیان کرتے ہیں ، (اسی بات پر) سہل بے ہوش ہو کر گر گئے ، انہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا اور آپ ﷺ سے عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! کیا آپ کو سہل بن حنیف کے بارے میں کچھ خبر ہے ؟ اللہ کی قسم ! وہ تو اپنا سر بھی نہیں اٹھاتے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم اس کے متعلق کسی کے بارے میں گمان کرتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہم عامر بن ربیعہ کے بارے میں گمان کرتے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے عامر کو بلایا اور اس سے سخت لہجے میں بات کی اور فرمایا :’’ تم اپنے بھائی کو قتل کرتے ہو ، تم نے اس کے لیے برکت کی دعا کیوں نہ کی ، اس کے لیے غسل کرو ۔‘‘ عامر نے اس کے لیے ایک برتن میں اپنا چہرہ ، اپنے ہاتھ ، اپنی کہنیاں ، اپنے گھٹنے ، پاؤں کے اطراف اور ازار کے ساتھ کے اعضاء دھوئے ، پھر وہ پانی اس پر ڈالا گیا تو وہ (اٹھ کر) لوگوں کے ساتھ چل پڑا اور اسے کوئی تکلیف نہیں تھی ۔\nاور امام مالک نے اسے روایت کیا ہے ، اور ان کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ بے شک نظر (کی تاثیر) ثابت ہے ، اس کے لیے وضو کر ۔‘‘ اس نے اس کے لیے وضو کیا ۔ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ و مالک ۔\n
طب اور جھاڑ پھونک کا بیان
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الْجَانِّ وَعَيْنِ الْإِنْسَانِ حَتَّى نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ فَلَمَّا نزلت أَخذ بهما وَترك سِوَاهُمَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ (اذکار کے ذریعے) جنوں اور انسان کی نظر سے پناہ طلب کیا کرتے تھے حتی کہ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس نازل ہوئیں ، جب وہ نازل ہوئیں تو آپ نے انہیں لے لیا اور جو ان دونوں کے علاوہ تھا اسے ترک کر دیا ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
طب اور جھاڑ پھونک کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ رُئِيَ فِيكُمُ الْمُغَرِّبُونَ؟» قُلْتُ: وَمَا الْمُغَرِّبُونَ؟ قَالَ: «الَّذِينَ يَشْتَرِكُ فِيهِمُ الْجِنُّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ کیا تم میں ’’مغربون‘‘ دیکھے گئے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، ’’مغربون‘‘ کیا ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ لوگ (جو اللہ کا ذکر نہیں کرتے) ان میں جن (شیطان) شریک ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
طب اور جھاڑ پھونک کا بیان
وذُكر حديثُ ابْن عباسٍ: «خيرَ مَا تداويتم» فِي «بَاب التَّرَجُّل»
ابن عباس ؓ سے مروی حدیث :’’ بہترین علاج جس کے ....‘‘ بَابُ التَّرَجُّلِ میں ذکر کی گئی ہے ۔ ضعیف تقدم ۔
طب اور جھاڑ پھونک کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَعِدَةُ حَوْضُ الْبَدَنِ وَالْعُرُوقُ إِلَيْهَا وَارِدَةٌ فَإِذَا صَحَّتِ الْمَعِدَةُ صَدَرَتِ الْعُرُوقُ بِالصِّحَّةِ وَإِذَا فَسَدَتِ الْمَعِدَةُ صَدَرَتِ الْعُرُوقُ بِالسقمِ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ معدہ بدن کا حوض ہے ، جبکہ رگیں (ہر طرف سے) اس کی طرف آتی ہیں ، جب معدہ درست ہو گا تو رگیں تندرستی لے کر واپس آتی ہیں ، اور جب معدہ بیمار ہوتا ہے ، تو رگیں بیماری لے کر واپس آتی ہیں ۔ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
طب اور جھاڑ پھونک کا بیان
وَعَن عَليّ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّي فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ فَلَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ فَنَاوَلَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَعْلِهِ فَقَتَلَهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْعَقْرَبَ مَا تَدَعُ مُصَلِّيًا وَلَا غَيْرَهُ أَوْ نَبِيًّا وَغَيْرَهُ» ثُمَّ دَعَا بملحٍ وماءٍ فَجعله فِي إِناءٍ ثمَّ جَعَلَ يَصُبُّهُ عَلَى أُصْبُعِهِ حَيْثُ لَدَغَتْهُ وَيَمْسَحُهَا وَيُعَوِّذُهَا بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک رات رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا تو بچھو نے آپ کو ڈس لیا ، رسول اللہ ﷺ نے اپنا جوتا مار کر اسے مار دیا ۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ اللہ بچھو پر لعنت فرمائے وہ کسی نمازی کو چھوڑتا ہے نہ کسی اور کو ۔‘‘ یا فرمایا :’’ کسی نبی کو چھوڑتا ہے نہ کسی اور کو ۔‘‘ پھر آپ نے نمک اور پانی منگایا اور انہیں ایک برتن میں جمع کر دیا ۔ پھر آپ اس انگلی پر جہاں اس نے ڈسا تھا ڈالنے لگے ، اسے ملنے لگے اور معوذتین کے ذریعے اس سے پناہ طلب کرنے لگے ۔ امام بیہقی نے دونوں روایتیں شعب الایمان میں ذکر کی ہیں ۔ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
طب اور جھاڑ پھونک کا بیان
وَعَن عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي أَهْلِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ وَكَانَ إِذَا أَصَابَ الْإِنْسَانَ عَيْنٌ أَوْ شَيْءٌ بَعَثَ إِلَيْهَا مِخْضَبَهُ فَأَخْرَجَتْ مِنْ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ تُمْسِكُهُ فِي جُلْجُلٍ مِنْ فِضَّةٍ فَخَضْخَضَتْهُ لَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ قَالَ: فَاطَّلَعْتُ فِي الْجُلْجُلِ فَرَأَيْت شَعرَات حَمْرَاء. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عثمان بن عبداللہ بن موہب بیان کرتے ہیں ، میرے اہل خانہ نے پانی کا پیالہ دے کر مجھے ام سلمہ ؓ کے پاس بھیجا ، اور یہ دستور تھا کہ جب کسی کو نظر لگ جاتی یا کوئی اور مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ پانی کا برتن ام سلمہ ؓ کی طرف بھیج دیا کرتے ، وہ رسول اللہ ﷺ کے بال ، جو کہ انہوں نے چاندی کی گھنٹی میں رکھے ہوئے تھے ، نکالتیں اور انہیں اس شخص کے لیے (پانی میں) ہلاتیں اور بیمار آدمی وہ پانی پی لیتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے اس ڈبیا میں جھانک کر دیکھا تو میں نے سرخ بال دیکھے ۔ رواہ البخاری ۔
طب اور جھاڑ پھونک کا بیان
وَعَن أبي هريرةَ إِنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لرسولِ الله: الْكَمْأَةُ جُدَرِيُّ الْأَرْضِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ» . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَخَذْتُ ثَلَاثَةَ أَكْمُؤٍ أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا فَعَصَرْتُهُنَّ وَجَعَلْتُ مَاءَهُنَّ فِي قَارُورَةٍ وَكَحَّلْتُ بِهِ جَارِيَةً لِي عَمْشَاءَ فَبَرَأَتْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حسن
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ، کھنبی زمین کی چیچک ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کھنبی ، من (من و سلوی) کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لیے باعث شفا ہے ، اور عجوہ (کھجور) جنت سے ہے اور وہ زہر کا تریاق ہے ۔‘‘ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے تین یا پانچ یا سات کھنبیاں لیں ، انہیں نچوڑ کر ان کے پانی کو ایک شیشی میں رکھ لیا ، اور میں نے اپنی اس لونڈی کی آنکھوں میں وہ پانی ڈالا جس کی آنکھوں سے پانی بہتا رہتا تھا ، تو وہ اس سے صحت یاب ہو گئی ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
طب اور جھاڑ پھونک کا بیان
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَعِقَ الْعَسَلَ ثَلَاثَ غَدَوَاتٍ فِي كلِّ شهر لم يصبهُ عَظِيم الْبلَاء»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ہر ماہ تین روز شہد چاٹتا ہے تو اسے کوئی بڑی بیماری لاحق نہیں ہوتی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
طب اور جھاڑ پھونک کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكُمْ بِالشِّفَاءَيْنِ: الْعَسَلِ وَالْقُرْآنِ . رَوَاهُمَا ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَقَالَ: وَالصَّحِيحُ أَنَّ الْأَخِيرَ مَوْقُوفٌ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شفا دینے والی دو چیزوں کو لازم پکڑو (یعنی) شہد اور قرآن ۔‘‘ امام ابن ماجہ نے دونوں رواتیں نقل کی ہیں ، اور امام بیہقی نے انہیں شعب الایمان میں نقل کیا اور فرمایا : صحیح بات یہ ہے کہ آخری (دوسری) حدیث ابن مسعود ؓ پر موقوف ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
طب اور جھاڑ پھونک کا بیان
وَعَن أبي كَبْشَة الْأَنْمَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ عَلَى هَامَتِهِ مِنَ الشَّاةِ الْمَسْمُومَةِ قَالَ مَعْمَرٌ: فَاحْتَجَمْتُ أَنَا مِنْ غَيْرِ سُمٍّ كَذَلِكَ فِي يَافُوخِي فَذَهَبَ حُسْنُ الْحِفْظِ عَنِّي حَتَّى كُنْتُ أُلَقَّنُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ. رَوَاهُ رزين
ابو کبشہ انماری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زہر والی بکری (کھانے) کی وجہ سے اپنے سر کے وسط میں پچھنے لگوائے ۔\n معمر بیان کرتے ہیں ، میں نے بھی زہر کے اثر کے بغیر ہی اپنے سر کے وسط میں پچھنے لگوائے تو میرا حافظہ جاتا رہا حتی کہ دورانِ نماز مجھے سورۂ فاتحہ کا لقمہ دیا جاتا تھا ۔ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔\n
طب اور جھاڑ پھونک کا بیان
وَعَن نافعٍ قَالَ: قَالَ ابنُ عمر: يَا نَافِع يَنْبغ بِي الدَّمُ فَأْتِنِي بِحَجَّامٍ وَاجْعَلْهُ شَابًّا وَلَا تَجْعَلهُ شَيخا وَلَا صَبيا. وَقَالَ ابْنِ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ وَهِيَ تُزِيدُ فِي الْعَقْلِ وَتُزِيدُ فِي الْحِفْظِ وَتُزِيدُ الْحَافِظَ حِفْظًا فَمَنْ كَانَ مُحْتَجِمًا فَيَوْمَ الْخَمِيسِ عَلَى اسْمِ اللَّهِ تَعَالَى وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الْأَحَدِ فَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي أُصِيبَ بِهِ أَيُّوبُ فِي الْبَلَاءِ. وَمَا يَبْدُو جُذَامٌ وَلَا بَرَصٌ إِلَّا فِي يَوْمِ الْأَرْبِعَاءِ أَوْ لَيْلَةِ الأربعاءِ» . رَوَاهُ ابنُ مَاجَه
نافع بیان کرتے ہیں ، ابن عمر ؓ نے فرمایا : نافع ! میرا فشارِ خون بڑھ رہا ہے کسی پچھنے لگانے والے نوجوان کو میرے پاس لاؤ ، دیکھنا وہ بوڑھا یا بچہ نہ ہو ، راوی بیان کرتے ہیں ، ابن عمر ؓ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ خالی پیٹ پچھنے لگوانا زیادہ بہتر ہے ، وہ عقل و فہم اور حافظہ میں اضافہ کرتا ہے ، جس شخص نے پچھنے لگوانے ہوں تو وہ جمعرات کے روز اللہ تعالیٰ کا نام لے کر پچھنے لگوائے ، جمعہ ہفتہ اور اتوار کو پچھنے لگوانے سے اجتناب کرو ۔ پیر اور منگل کو پچھنے لگواؤ اور بدھ کے روز پچھنے لگوانے سے اجتناب کرو ، کیونکہ یہ وہ دن ہے جس روز ایوب ؑ آزمائش کا شکار ہوئے ، جذام اور برص بدھ کے روز یا بدھ کی رات ہی ظاہر ہوتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
طب اور جھاڑ پھونک کا بیان
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحِجَامَةُ يَوْمُ الثُّلَاثَاءِ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مِنَ الشَّهْرِ دَوَاءٌ لِدَاءِ السَّنَةِ» . رَوَاهُ حَرْبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْكِرْمَانِيُّ صَاحِبُ أَحْمَدَ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ هَكَذَا فِي الْمُنْتَقى
معقل بن یسار ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قمری مہینے کی سترہ تاریخ کو منگل کے دن پچھنے لگوانا سال بھر کی بیماریوں کے لیے دوائی ہے ۔‘‘ امام احمد کے شاگرد حرب بن اسماعیل کرمانی نے اسے روایت کیا ہے ، اور اس کی سند قوی نہیں ، اور مثقیٰ میں اسی طرح ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
طب اور جھاڑ پھونک کا بیان
وروى رزين نَحوه عَن أبي هُرَيْرَة
رزین نے اس کی مثل ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے ۔ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ» قَالُوا: وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ: «الْكَلِمَةُ الصَّالِحَة يسْمعهَا أحدكُم»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بدشگونی کچھ بھی نہیں ، اور اس کی بہتر صورت فال ہے ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا ، فال کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اچھی بات جو تم میں سے کوئی ایک سنتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامة وَلَا صقر وفر الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نہ کوئی بیماری متعدی ہے اور نہ کوئی بدشگونی ہے ۔ اور الّو منحوس ہے اور نہ ماہ صفر ، اور مجذوم سے ایسے بھاگو جیسے تو شیر سے بھاگتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا صفر» . فَقَالَ أَعْرَابِي: يَا رَسُول فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ لَكَأَنَّهَا الظباء فيخالها الْبَعِير الأجرب فيجر بِهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمن أعدى الأول» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نہ کوئی بیماری متعدی ہے اور نہ الّو منحوس ہے اور نہ ہی ماہ صفر ۔‘‘ (یہ سن کر) ایک دیہاتی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ان اونٹوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو ریگستان میں رہتے ہیں اور وہ ہرن معلوم ہوتے ہیں ، اس میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو جاتا ہے تو وہ انہیں بھی خارش لگا دیتا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تو پھر پہلے (اونٹ) کو کس نے خارش زدہ کیا ؟‘‘ رواہ البخاری ۔
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا نَوْءَ وَلَا صفر» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نہ کوئی بیماری متعدی ہے اور نہ الّو منحوس ہے اور نہ کوئی ستارہ منحوس ہے اور نہ صفر منحوس ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا غُولَ» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کوئی بیماری متعدی ہے نہ ماہ صفر منحوس ہے نہ کوئی بھوت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔