Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 217 of 315

4321Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْرَبَ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ وَأَنْ نَأْكُلَ فِيهَا وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَأَنْ نَجْلِسَ عَلَيْهِ

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے سونے چاندی کے برتن میں کھانے پینے ، ریشم اور دیباج (ریشم کی ایک قسم) پہننے اور اس پر بیٹھنے سے ہمیں منع فرمایا ہے ۔ متفق علیہ ۔

4322Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم حُلّة سِيَرَاءَ فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ: «إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُراً بَين النساءِ»

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کو ریشمی جوڑے کا تحفہ پیش کیا گیا تو آپ نے اسے میری طرف بھیج دیا ، میں نے وہ پہن لیا ، لیکن (بعد میں) میں نے آپ کے چہرے پر ناراضی دیکھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے اسے تمہاری طرف اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے پہن لو ، میں نے تو اسے تمہاری طرف اس لیے بھیجا تھا کہ تم اسے پھاڑ کر خواتین کی اوڑھنیاں بنا لو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4323Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إصبعيه: الْوُسْطَى والسبابة وضمهما

عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ، مگر دو انگلیوں کی مقدار کے برابر اجازت فرمائی ، رسول اللہ ﷺ نے اپنی درمیانی اور انگشت شہادت کو ملا کر انہیں بلند کر کے اس مقدار کی وضاحت فرمائی ۔ متفق علیہ ۔

4324Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: أَنَّهُ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلَّا مَوْضِعَ إِصْبَعَيْنِ أَوْ ثَلَاث أَو أَربع

اور مسلم میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے (شام کے شہر) جابیہ کے مقام پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے دو یا تین یا چار انگلیوں کے بقدر ریشم پہننے کی اجازت دی ہے ۔ رواہ مسلم ۔

4325Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَن أسماءَ بنت أبي بكر: أَنَّهَا أَخْرَجَتْ جُبَّةَ طَيَالِسَةٍ كِسْرَوَانِيَّةٍ لَهَا لِبْنَةُ ديباجٍ وفُرجَيْها مكفوفَين بالديباجِ وَقَالَت: هَذِه جبَّةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَلَمَّا قُبِضَتْ قَبَضْتُهَا وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا للمَرضى نستشفي بهَا. رَوَاهُ مُسلم

اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے طیالسی کسروانی جبہ نکالا جس کے گریبان اور دونوں چاکوں پر دیباج (ریشم) کاٹکڑا لگا ہوا تھا ، انہوں نے فرمایا : یہ رسول اللہ ﷺ کا جبہ تھا جو کہ عائشہ ؓ کے پاس تھا ، نبی ﷺ اسے زیب تن فرمایا کرتے تھے ، ہم مریضوں کے لیے اسے دھوتے ہیں اور اس کے (پانی کے) ساتھ شفا حاصل کرتے ہیں ۔ رواہ مسلم ۔

4326Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَن أنسٍ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي لبس الْحَرِير لحكة بهما\nوَفِي رِوَايَة لمُسلم قَالَ: إنَّهُمَا شكوا من الْقمل فَرخص لَهما فِي قمص الْحَرِير\n

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے زبیر اور عبدالرحمن بن عوف ؓ کو خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی رخصت عنایت فرمائی تھی ۔\n اور مسلم کی روایت میں ہے ، انس ؓ نے کہا : انہوں نے جوؤں کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے انہیں ریشمی قمیص پہننے کی اجازت عنایت فرمائی ۔ متفق علیہ ۔\n

4327Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: رَأَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ فَقَالَ: «إِنَّ هَذِهِ من ثِيَاب الْكفَّار فَلَا تلبسها»\nوَفِي رِوَايَة: قلت: أغسلهما؟ قَالَ: «بل احرقها» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ\nوَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ عَائِشَةَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ فِي «بَابِ مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم»\n

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا :’’ یہ کفار کے کپڑوں میں سے ہیں ، تم انہیں مت پہنا کرو ۔‘‘\n ایک دوسری روایت میں ہے ، میں نے عرض کیا ، میں انہیں دھو ڈالوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ انہیں جلا ڈالو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\nاور ہم عائشہ ؓ سے مروی حدیث :’’ ایک روز نبی ﷺ باہر تشریف لائے .....‘‘ باب مناقب اھل بیت النبی ﷺ میں ذکر کریں گے ۔\n

4328Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

عَن أم سَلمَة قَالَتْ: كَانَ أَحَبُّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمِيصَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ کو لباس میں قمیص سب سے زیادہ پسند تھی ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

4329Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَن أسماءَ بنت يزِيد قَالَتْ: كَانَ كُمُّ قَمِيصِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الرُّصْغِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

اسماء بنت یزید ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی قمیص کے آستین کلائی اور ہاتھ کے درمیانے جوڑ تک تھے ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

4330Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَبِسَ قَمِيصًا بَدَأَ بميامنه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ قمیص زیب تن فرماتے تو آپ ﷺ آغاز دائیں طرف سے فرماتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

4331Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي النَّارِ» قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ «وَلَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا :’’ مومن کا ازار اس کی نصف پنڈلی تک ہونا چاہیے ، اور اگر وہ نصف پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہو تو بھی اس پر کوئی گناہ نہیں ، اور جو اس سے نیچے ہو تو وہ آگ میں (لے جاتا) ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے یہ تین بار فرمایا ۔’’ اللہ روزِ قیامت اس شخص کی طرف (نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا جو تکبر کے طور پر اپنا ازار گھسیٹتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

4332Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَن سَالم عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْإِسْبَالُ فِي الْإِزَارِ وَالْقَمِيصِ وَالْعِمَامَةِ مِنْ جَرَّ مِنْهَا شَيْئًا خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه

سالم اپنے والد سے ، وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کپڑے کا لٹکانا تہبند ، قمیص اور عمامے میں ہے ۔ جو شخص ان میں سے کچھ بھی ازراہِ تکبر لٹکاتا ہے تو اللہ روزِ قیامت اس کی طرف (نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔

4333Mishkaat-al-Masabihضعیف

لباس کا بیان

وَعَن أبي كبشةَ قَالَ: كَانَ كِمَامُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُطْحًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حديثٌ مُنكر

ابو کبشہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی ٹوپیاں سروں کے ساتھ لگی ہوئیں تھیں (یعنی اوپر اٹھی ہوئی نہیں تھیں) ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث منکر ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

4334Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَن أم سَلمَة قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ذَكَرَ الْإِزَارَ: فَالْمَرْأَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «تُرْخِي شِبْرًا» فَقَالَتْ: إِذًا تَنْكَشِفُ عَنْهَا قَالَ: «فَذِرَاعًا لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه

ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ نے ازار کا تذکرہ فرمایا تو انہوں نے اس وقت رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! عورت کے لیے تہبند میں کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ ایک بالشت نیچے لٹکائے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : تب تو اس کے پاؤں ننگے ہونے کا امکان ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک ہاتھ ، اور اس سے زیادہ نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ املک و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔

4335Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ وَالنَّسَائِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَتْ: إِذًا تَنْكَشِفُ أَقْدَامُهُنَّ قَالَ: «فَيُرْخِينَ ذِرَاعًا لَا يزدن عَلَيْهِ»

ترمذی اور نسائی کی ابن عمر ؓ سے مروی روایت میں ہے ۔ ام سلمہ ؓ نے عرض کیا : تب تو ان کے پاؤں نظر آئیں گے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ ایک ہاتھ (ازار) لٹکا لیں اور اس سے زیادہ نہیں ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔

4336Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَبَايَعُوهُ وَإِنَّهُ لَمُطْلَقُ الْأَزْرَارِ فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِي جَيْبِ قَمِيصِهِ فَمَسِسْتُ الْخَاتم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں مزینہ قبیلہ کے ایک قافلے کے ساتھ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے آپ کی بیعت کی ، درآنحالیکہ آپ ﷺ کے بٹن کھلے ہوئے تھے ، میں نے آپ کی قمیص کے گریبان میں اپنا ہاتھ داخل کیا تو میں نے مہر نبوت کو چھوا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

4337Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَن سَمُرَة أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبِيضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ سفید لباس پہنا کرو کیونکہ وہ زیادہ پاکیزہ اور زیادہ طیب ہے اور اپنے مُردوں کو اسی میں کفناؤ ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔

4338Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَمَّ سَدَلَ عِمَامَتَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ عمامہ باندھتے تو اپنے عمامے کا شملہ اپنے کندھوں کے درمیان لٹکا لیتے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

4339Mishkaat-al-Masabihضعیف

لباس کا بیان

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: عَمَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَدَلَهَا بَيْنَ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

عبدالرحمن بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے میرے سر پر دستار باندھی ۔ آپ ﷺ نے اس کے ایک کنارے کو آگے کی طرف اور دوسرے کنارے کو پیچھے کی طرف لٹکا دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4340Mishkaat-al-Masabihضعیف

لباس کا بیان

وَعَن ركَانَة عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَرْقُ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلَانِسِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَاده لَيْسَ بالقائم

رکانہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہمارے اور مشرکین کے درمیان جو فرق ہے وہ ٹوپیوں پر عمامے باندھنا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد درست نہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔