Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 218 of 315

4341Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُحِلَّ الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ لِلْإِنَاثِ مِنْ أُمَّتِي وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا صَحِيح

ابوموسی اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ سونا اور ریشم میری امت کی خواتین کے لیے حلال کیا گیا ہے اور اس کے مردوں پر حرام کیا گیا ہے ۔‘‘ ترمذی ، نسائی ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔

4342Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ عِمَامَةً أَوْ قَمِيصًا أَوْ رِدَاءً ثُمَّ يَقُولُ «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا كسوتَنيه أَسأَلك خَيره وخيرَ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ نیا کپڑا زیب تن فرماتے تو اس کا نام لیتے مثلاً عمامہ ، یا قمیص یا چادر ، پھر فرماتے :’’ اے اللہ ! تیرے لیے حمد ہے جیسا کہ تو نے مجھے یہ پہنایا ، میں تجھ سے اس کی اچھائی کا اور جس خیر و برکت کے لیے اسے بنایا گیا ہے ، اس کا سوال کرتا ہوں ۔ اور میں اس کے شر سے اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے ، اس سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

4343Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَن معاذِ بن أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَكَلَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ: وَمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ

معاذ بن انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کھانا کھا کر یہ دعا پڑھتا ہے :’’ ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور میرے تصرف و قوت کے بغیر اسے مجھے عطا فرمایا ۔‘‘ اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘\nاور ابوداؤد نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ جو شخص لباس پہن کر یہ دعا پڑھتا ہے :’’ ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے یہ پہنایا اور میرے تصرف و قوت کے بغیر اسے مجھے عطا فرمایا ۔‘‘ تو اس شخص کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔\n

4344Mishkaat-al-Masabihضعیف

لباس کا بیان

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشَةُ إِذَا أَرَدْتِ اللُّحُوقَ بِي فَلْيَكْفِكِ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الْأَغْنِيَاءِ وَلَا تَسْتَخْلِقِي ثَوْبًا حَتَّى تُرَقِّعِيهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ: صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ مُنكر الحَدِيث

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ عائشہ ! اگر تم میرا ساتھ چاہتی ہو تو پھر تمہیں سوار کے زادِ راہ جتنی دنیا کافی ہونی چاہیے ۔ تم مال داروں کی ہم نشینی سے بچو ، اور کسی کپڑے کو پرانا و بوسیدہ مت خیال کرو حتی کہ تم اسے پیوند نہ لگا لو ۔‘‘ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ہم اسے صالح بن حسان کی حدیث کے حوالے سے جانتے ہیں ۔ اور محمد بن اسماعیل (امام بخاری ؒ) نے فرمایا : صالح بن حسان منکر الحدیث ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔

4345Mishkaat-al-Masabihضعیف

لباس کا بیان

عَن أبي أُمَامَة\nإِياس بن ثعلبةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَسْمَعُونَ؟ أَلَا تَسْمَعُونَ أَنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ أَنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ؟» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

ابوامامہ ایاس بن ثعلبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سنو ! سنو ! سادہ لباس ایمان کا حصہ ہے ، سادہ لباس ایمان کا حصہ ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4346Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شهرةٍ منَ الدُّنْيَا أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص دنیا میں لباسِ شہرت پہنتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے روزِ قیامت لباسِ مذلت پہنائے گا ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

4347Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی قوم سے مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

4348Mishkaat-al-Masabihضعیف

لباس کا بیان

وَعَنْ سُوَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَرَكَ لُبْسَ ثوبِ جمالٍ وَهُوَ يقدرُ عَلَيْهِ وَفِي رَاوِيه: تَوَاضُعًا كَسَاهُ اللَّهُ حُلَّةَ الْكَرَامَةِ وَمَنْ تَزَوَّجَ لِلَّهِ تَوَجَّهُ اللَّهُ تَاجَ الْمُلْكِ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

سوید بن وہب ، نبی ﷺ کے اصحاب کی اولاد میں سے کسی آدمی سے روایت کرتے ہیں ، وہ آدمی اپنے والد سے ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے طاقت کے باوجود اور ایک روایت کے مطابق تواضع کے طور پر خوبصورت لباس پہننا ترک کر دیا ، اللہ اسے عزت و کرامت کا جوڑا پہنائے گا ، اور جس شخص نے اللہ کی رضا کی خاطر (اپنے مرتبہ و معیار سے کم مرتبہ عورت سے) شادی کی تو اللہ اسے بادشاہت کا تاج پہنائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4349Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ حَدِيث اللبَاس

امام ترمذی نے ان سے معاذ بن انس ؓ کی سند سے حدیث لباس روایت کی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

4350Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يُرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ على عَبده» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بے شک اللہ پسند فرماتا ہے کہ اس بندے پر اس کی نعمت کا اثر دکھائی دے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

4351Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرًا فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا قد تفرق شعرُه فَقَالَ: «مَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ رَأْسَهُ؟» وَرَأى رجلا عَلَيْهِ ثيابٌ وسِخةٌ فَقَالَ: «مَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يَغْسِلُ بِهِ ثَوْبَهُ؟» . رَوَاهُ أَحْمد وَالنَّسَائِيّ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں ملاقات کے لیے تشریف لائے تو آپ نے ایک پراگندہ بالوں والا شخص دیکھا اور فرمایا :’’ کیا یہ شخص ایسی کوئی چیز نہیں پاتا جس کے ساتھ وہ اپنے سر کے بال درست کر لیتا ؟‘‘ اور آپ نے ایک شخص کو میلے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا :’’ کیا یہ شخص ایسی کوئی چیز نہیں پاتا جس کے ذریعے وہ اپنا لباس دھو لیتا ؟‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و النسائی ۔

4352Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَن أبي الأحوصِ عَن أبيهِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى ثَوْبٌ دُونٌ فَقَالَ لِي: «أَلَكَ مَالٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «مِنْ أَيِّ الْمَالِ؟» قُلْتُ: مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ منَ الإِبلِ وَالْبَقر وَالْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ. قَالَ: «فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكَ وَكَرَامَتِهِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ بِلَفْظِ الْمَصَابِيحِ

ابو الاحوص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے غیر معیاری کپڑے پہنے ہوئے تھے ، آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا :’’ کیا تمہارے پاس مال ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مال کی کون سی نوع تمہارے پاس ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : اونٹ ، گائے ، بکری ، گھوڑے اور غلام ہر قسم کا مال اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب اللہ نے تمہیں مال دے رکھا ہے تو پھر اللہ کی نعمت اور اس کی عزت و کرامت کا اثر تم پر ظاہر ہونا چاہیے ۔‘‘ اسے احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور شرح السنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں ۔ صحیح ، رواہ احمد و النسائی و فی شرح السنہ ۔

4353Mishkaat-al-Masabihضعیف

لباس کا بیان

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی گزرا اس نے سرخ جوڑا پہنا ہوا تھا ، اس نے نبی ﷺ کو سلام کیا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

4354Mishkaat-al-Masabihضعیف

لباس کا بیان

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا أَرْكَبُ الْأُرْجُوَانَ وَلَا أَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ وَلَا أَلْبَسُ الْقَمِيصَ الْمُكَفَّفَ بِالْحَرِيرِ» وَقَالَ: «أَلَا وَطِيبُ الرِّجَالِ رِيحٌ لَا لَوْنَ لَهُ وَطِيبُ النِّسَاءِ لَوْنٌ لَا ريح لَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ میں سرخ زین پوش پر سوار ہوتا ہوں نہ کسم میں رنگا ہوا کپڑا پہنتا ہوں اور نہ ہی میں ایسی قمیص پہنتا ہوں جس پر ریشم لگا ہوا ہو ۔‘‘ اور فرمایا :’’ سن لو ! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس میں مہک ہو مگر رنگ نمایاں نہ ہو ۔ جبکہ خواتین کی خوشبو وہ ہے جس میں مہک نہ ہو اور رنگ ہو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4355Mishkaat-al-Masabihضعیف

لباس کا بیان

وَعَن أبي ريحانةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَشْرٍ: عَنِ الْوَشْرِ وَالْوَشْمِ وَالنَّتْفِ وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ وَمُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ فِي أَسْفَلِ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ أَوْ يجعلَ على مَنْكِبَيْه حَرِير مِثْلَ الْأَعَاجِمِ وَعَنِ النُّهْبَى وَعَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ وَلُبُوسِ الْخَاتَمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

ابوریحانہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے دس (خصلتوں) سے منع فرمایا ۔ آپ ﷺ نے دانت باریک کرنے ، سوئی کے ساتھ جسم گودنے ، (چہرے یا پلکوں وغیرہ سے) بال اکھاڑنے ، مرد کا مرد کے ساتھ اور عورت کا عورت کے ساتھ ایک ہی چادر (اوڑھنی) میں ہم خواب ہونے سے ، یہ کہ آدمی عجمیوں کی طرح اپنے کپڑوں کے نیچے ریشم لگائے ، یا وہ اپنے کندھوں پر عجمیوں کی طرح ریشم لگائے ، لوٹ مار کرنے سے ، چیتے کی کھال (کی زین) پر سواری کرنے سے اور صاحبِ اقتدار شخص کے سوا انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

4356Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَن عَليّ قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمَيَاثِرِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَة لأبي دَاوُد قَالَ: نهى عَن مياثر الأرجوان

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے اور قس کا ریشم پہننے اور زین پوش سے منع فرمایا ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ۔\n اور ابوداؤد کی روایت میں ہے : علی ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے سرخ زین پوش سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔\n

4357Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَرْكَبُوا الْخَزَّ وَلَا النِّمَارَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم ریشمی زین پوش پر سوار ہو نہ چیتے کی کھال پر ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

4358Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ. رَوَاهُ فِي شرح السّنة

براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے ۔ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔

4359Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَن أبي رِمْثةَ التيميِّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ وَلَهُ شَعَرٌ قَدْ عَلَاهُ الشَّيْبُ وَشَيْبُهُ أَحْمَرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ: وَهُوَ ذُو وَفْرَةٍ وَبِهَا رَدْعٌ من حناء

ابورمثہ تیمی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے سبز جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا ، اور آپ کے چند بالوں پر بڑھاپا نمایاں تھا اور آپ کے سفید بال مہندی لگانے کی وجہ سے سرخ تھے ۔ ترمذی ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے : آپ ﷺ کی زلفیں کانوں کی لو تک تھیں اور ان پر مہندی کا اثر تھا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

4360Mishkaat-al-Masabihصحیح

لباس کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ شَاكِيًا فَخَرَجَ يَتَوَكَّأُ عَلَى أُسَامَةَ وَعَلَيْهِ ثَوْبُ قِطْرٍ قَدْ تَوَشَّحَ بِهِ فَصَلَّى بهم. رَوَاهُ فِي شرح السّنة

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مریض تھے ، آپ اسامہ ؓ کا سہارا لیے باہر تشریف لائے ، آپ پر قطر کی (یمنی) چادر تھی جس کو آپ نے جسم پر لپیٹا ہوا تھا ، پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔