Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 219 of 315
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَانِ قِطْرِيَّانِ غَلِيظَانِ وَكَانَ إِذا قعد فرق ثَقُلَا عَلَيْهِ فَقَدِمَ بَزٌّ مِنَ الشَّامِ لِفُلَانٍ الْيَهُودِيِّ. فَقُلْتُ: لَوْ بَعَثْتَ إِلَيْهِ فَاشْتَرَيْتَ مِنْهُ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُ مَا تُرِيدُ إِنَّمَا تُرِيدُ أَنْ تَذْهَبَ بِمَالِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَذَبَ قَدْ عَلِمَ أَنِّي مِنْ أَتْقَاهُمْ وآداهُم للأمانة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ پر دو یمنی موٹے کپڑے تھے ، جب آپ (دیر تک) بیٹھتے تو آپ کو پسینہ آ جاتا اور وہ کپڑے آپ پر ثقیل ہو جاتے ، فلاں یہودی کا ملک شام سے کپڑا آیا تو میں نے عرض کیا : اگر آپ اس کے پاس کسی آدمی کو بھیج کر خوشحالی کے وعدے تک اس سے دو کپڑے خرید لیں (تو بہتر ہے) ، آپ ﷺ نے اس کی طرف آدمی بھیجا تو اس نے کہا : مجھے پتہ ہے کہ تم کیا چاہتے ہو ، تم تو میرا مال ہتھیانا چاہتے ہو ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ جھوٹا ہے ، حالانکہ اسے پتہ ہے کہ میں ان سب سے زیادہ متقی اور ان سب سے زیادہ بر وقت ادائیگی کرنے والا ہوں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى ثَوْبٌ مَصْبُوغٌ بِعُصْفُرٍ مُوَرَّدًا فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَعَرَفْتُ مَا كَرِهَ فَانْطَلَقْتُ فَأَحْرَقْتُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا صَنَعْتَ بِثَوْبِكَ؟» قُلْتُ: أَحْرَقْتُهُ قَالَ: «أَفَلَا كَسَوْتَهُ بَعْضَ أَهْلِكَ؟ فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ لِلنِّسَاءِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا ، مجھ پر گلابی کُسم کا رنگا ہوا کپڑا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کیا ہے ؟‘‘ میں نے آپ کی ناگواری کو جان لیا اور میں نے جا کر اس (کپڑے) کو جلا دیا ، بعد ازاں نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے اپنے کپڑے کا کیا کیا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، میں نے اسے جلا دیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے اسے اپنے اہل خانہ میں سے کسی کو کیوں نہ پہنا دیا ؟ کیونکہ اسے عورتوں کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَن هلالِ بن عَامر عَن أَبِيه قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى يَخْطُبُ عَلَى بَغْلَةٍ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ أَحْمَرُ وَعَلِيٌّ أَمَامَهُ يُعَبِّرُ عَنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
ہلال بن عامر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو خچر پر سوار ہو کر منی میں خطاب کرتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ پر سرخ چادر تھی جبکہ علی ؓ ، آپ کے آگے تھے اور وہ آپ کی بات آگے لوگوں تک پہنچا رہے تھے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: صُنِعَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةٌ سَوْدَاءُ فَلَبِسَهَا فَلَمَّا عَرِقَ فِيهَا وَجَدَ ريح الصُّوف فقذفها. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ کے لیے کالی چادر تیار کی گئی تو آپ نے اسے پہن لیا ، جب آپ کو اس میں پسینہ آیا اور آپ نے اون کی بُو محسوس کی تو آپ نے اسے اتار دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْتَبٍ بِشَمْلَةٍ قَدْ وَقَعَ هُدْبها على قَدَمَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ایک چادر میں گوٹ مار کر بیٹھے ہوئے تھے ، اور اس کے پھندنے آپ ﷺ کے قدموں پر تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَن دِحيةَ بن خليفةَ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبَاطِيَّ فَأَعْطَانِي مِنْهَا قُبْطِيَّةً فَقَالَ: «اصْدَعْهَا صَدْعَيْنِ فَاقْطَعْ أَحَدَهُمَا قَمِيصًا وَأَعْطِ الْآخَرَ امْرَأَتَكَ تَخْتَمِرُ بِهِ» . فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ: «وَأْمُرِ امْرَأَتَكَ أَنْ تَجْعَلَ تَحْتَهُ ثَوْبًا لَا يَصِفُهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
دحیہ بن خلیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کی خدمت میں قبط (مصر) کے بنے ہوئے سفید باریک کپڑے پیش کیے گئے تو آپ نے ان میں سے ایک کپڑا مجھے عنایت کیا اور فرمایا :’’ اس کے دو ٹکڑے کر لینا ، ان میں سے ایک سے قمیص بنا لینا اور دوسرا اپنی اہلیہ کو دے دینا جس کی وہ اوڑھنی بنا لے ۔‘‘ جب وہ واپس مڑے تو فرمایا :’’ اپنی اہلیہ کو کہنا کہ اس کے نیچے ایک اور کپڑا لگا لے تا کہ اس کے جسم کا پتہ نہ چلے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ فَقَالَ: «ليَّةً لَا ليَّتينِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو وہ اوڑھنی اوڑھ رہی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک پھیر دو ، دو کی ضرورت نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عَن ابنِ عمَرِ قَالَ: مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِزَارِي اسْتِرْخَاءٌ فَقَالَ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ ارْفَعْ إِزَارَكَ» فَرَفَعْتُهُ ثُمَّ قَالَ: «زِدْ» فَزِدْتُ فَمَا زِلْتُ أَتَحَرَّاهَا بَعْدُ فَقَالَ: بَعْضُ الْقَوْمِ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَ: «إِلَى أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ» . رَوَاهُ مُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اس حال میں کہ میرا تہبند لٹک رہا تھا ، آپ ﷺ نے (دیکھ کر) فرمایا :’’ عبداللہ ! اپنا تہبند اونچا کرو ۔‘‘ میں نے اونچا کر لیا ۔ پھر فرمایا :’’ مزید اونچا کرو ۔‘‘ میں نے مزید اونچا کر لیا ، میں اس کے بعد اس کا بہت خیال رکھتا رہا ، لوگوں میں سے کسی نے پوچھا : (تہبند) کہاں تک ؟ انہوں نے فرمایا : نصف پنڈلیوں تک ۔ رواہ مسلم ۔
وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِزَارِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَهُ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ يَفْعَلُهُ خُيَلَاءَ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص تکبر کے طور پر اپنا کپڑا گھسیٹتا ہے تو روزِ قیامت اللہ اس کی طرف (نظرِ رحمت سے) نہیں دیکھے گا ۔‘‘ (یہ سن کر) ابوبکر ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے خیال رکھنے کے باوجود میرا تہبند لٹک جاتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ آپ ان میں سے نہیں جو تکبر کے طور پر ایسا کرتے ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
وَعَن عِكْرِمَة قَالَ: رأيتُ ابنَ عَبَّاس يَأْتَزِرُ فَيَضَعُ حَاشِيَةَ إِزَارِهِ مِنْ مُقَدَّمِهِ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ وَيَرْفَعُ مِنْ مُؤَخَّرِهِ قُلْتُ لِمَ تَأْتَزِرُ هَذِهِ الْإِزْرَةَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يأتزرها. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عکرمہ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابن عباس ؓ کو دیکھا کہ وہ تہبند باندھتے تو اگلی جانب سے تہبند کا کنارہ اپنے پاؤں کی پشت پر رکھتے اور پچھلی جانب سے اسے اٹھا کر رکھتے تھے ، میں نے کہا : آپ اس طرح کیوں تہبند باندھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح تہبند باندھتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَنْ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بالعمائم فَإِنَّهَا سيماء الْمَلَائِكَة وأخوها خلف ظهوركم» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ
عبادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پگڑیاں باندھا کرو ، کیونکہ وہ فرشتوں کی علامت ہیں ، اور ان کا شملہ اپنی پشت کے پیچھے چھوڑا کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهَا ثِيَاب رقاق فَأَعْرض عَنهُ وَقَالَ: «يَا أَسْمَاءُ إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَنْ يَصْلُحَ أَنْ يُرَى مِنْهَا إِلَّا هَذَا وَهَذَا» . وَأَشَارَ إِلَى وَجْهِهِ وَكَفَّيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اسماء بنت ابی بکر ؓ باریک کپڑے پہنے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ نے ان سے رخ موڑ لیا اور فرمایا :’’ اسماء ! جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے جسم کا کوئی حصہ سوائے اس ، اس کے دیکھنا درست نہیں ۔‘‘ آپ ﷺ نے اپنے چہرے اور ہاتھوں کی طرف اشارہ کیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَنْ أَبِي مَطَرٍ قَالَ: إِنْ عَلِيًّا اشْتَرَى ثَوْبًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ فَلَمَّا لَبِسَهُ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي الناسِ وأُواري بِهِ عورتي» ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول. رَوَاهُ أَحْمد
ابومطر ؒ بیان کرتے ہیں کہ علی ؓ نے تین درہم میں ایک کپڑا خریدا ، جب انہوں نے اسے پہنا تو یوں کہا : ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے لباس عطا کیا جس کے ذریعے میں لوگوں میں خوبصورتی حاصل کرتا ہوں ، اور اس کے ذریعے اپنا ستر ڈھانپتا ہوں ، پھر انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد ۔
وَعَن أبي أُمامةَ قَالَ: لَبِسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَوْبًا جَدِيدًا فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ فَتَصَدَّقَ بِهِ كَانَ فِي كَنَفِ اللَّهِ وَفِي حِفْظِ اللَّهِ وَفِي سِتْرِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ نے نیا کپڑا پہنا تو یہ دعا کی : ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے لباس پہنایا جس کے ذریعے میں اپنا ستر ڈھانپتا ہوں اور اس کے ذریعے میں اپنی زندگی میں خوبصورتی حاصل کرتا ہوں ، پھر انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص نیا کپڑا پہن کر یہ دعا پڑھتا ہے :’’ ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے لباس پہنایا ، جس کے ذریعے میں اپنا ستر ڈھانپتا ہوں اور اس کے ذریعے میں اپنی زندگی میں خوبصورتی حاصل کرتا ہوں ۔‘‘ پھر وہ شخص اس کپڑے کا قصد کرے جو اس نے پرانا کر دیا اور وہ اسے صدقہ کر دے تو وہ شخص دنیا اور آخرت میں اللہ کی حفظ و امان اور اس کی پناہ میں ہوتا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ترمذی و ابن ماجہ ۔
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: دَخَلَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى عَائِشَةَ وَعَلَيْهَا خِمَارٌ رَقِيقٌ فَشَقَّتْهُ عَائِشَةُ وَكَسَتْهَا خمارا كثيفا. رَوَاهُ مَالك
علقمہ بن ابی علقمہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : حفصہ بنت عبد الرحمن ، عائشہ کے پاس آئیں تو ان پر باریک چادر تھی ، عائشہ ؓ نے اسے پھاڑ دیا ، اور انہیں موٹی چادر پہنا دی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک ۔
وَعَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ وَعَلَيْهَا دِرْعٌ قِطْرِيٌّ ثَمَنُ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ فَقَالَتْ: ارْفَعْ بَصَرَكَ إِلَى جَارِيَتِي انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهَا تُزْهَى أَنْ تَلْبَسَهُ فِي البيتِ وَقد كَانَ لِي مِنْهَا دِرْعٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ تُقَيَّنُ بِالْمَدِينَةِ إِلَّا أَرْسَلَتْ إِلَيَّ تَسْتَعِيرُهُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عبد الواحد بن ایمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں عائشہ ؓ کے پاس گیا تو انہوں نے پانچ درہم کی قطری قمیص زیب تن کر رکھی تھی ، انہوں نے فرمایا : میری لونڈی کی طرف نظر اٹھاؤ اور اسے دیکھو ، کیونکہ وہ گھر میں بھی ایسا کپڑا پہننا پسند نہیں کرتی ، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں بھی میرے پاس اسی طرح کی ایک قمیص تھی ، مدینہ میں جس بھی عورت کا (شادی کے موقع پر) بناؤ سنگار کیا جاتا تو وہ اسے مستعار لینے کے لیے میری طرف پیغام بھیجتی تھی ۔ رواہ البخاری ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَبِسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَبَاءَ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ نَزَعَهُ فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ فَقِيلَ: قَدْ أَوْشَكَ مَا انْتَزَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «نهاني عَنهُ جبريلُ» فَجَاءَ عُمَرُ يَبْكِي فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كرهتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ فَمَا لِي؟ فَقَالَ: «إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهُ تَلْبَسُهُ إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهُ تَبِيعُهُ» . فَبَاعَهُ بِأَلْفَيْ دِرْهَم. رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ایک روز ریشمی قبا پہنی جو کہ آپ کو ہدیہ کی گئی تھی ، پھر آپ نے جلدی سے اتارا اور اسے عمر ؓ کے پاس بھیج دیا ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! آپ نے اسے اتارنے میں بہت جلدی کی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جبریل ؑ نے مجھے اس سے روک دیا ۔‘‘ عمر ؓ روتے ہوئے آئے اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ایک چیز کو آپ نے ناپسند فرمایا اور وہ چیز مجھے دے دی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے تمہیں اس لیے نہیں دی کہ تم اسے پہن لو ، بلکہ میں نے تو وہ تمہیں اس لیے دی کہ تم اسے بیچ دو ۔‘‘ انہوں نے وہ دو ہزار درہم میں بیچ دی ۔ رواہ مسلم ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَوْبِ الْمُصْمَتِ مِنَ الْحَرِيرِ فَأَمَّا الْعَلَمُ وَسَدَى الثَّوْبِ فَلَا بَأْسَ بِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے صرف اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو خالص ریشمی ہو ، رہا ریشمی کنارہ یا وہ کپڑا جس کا تانا ریشمی ہو تو اس کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَنْ أَبِي رَجَاءٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَعَلَيْهِ مِطْرَفٌ مِنْ خَزٍّ وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ نِعْمَةً فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبده» . رَوَاهُ أَحْمد
ابورجاء بیان کرتے ہیں ، عمران بن حصین ؓ ہمارے پاس تشریف لائے ، ان پر چادر تھی جس کا کنارہ خز (ریشم اور اُون سے بنا ہوا) تھا اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ جس شخص کو کوئی نعمت سے نوازے تو اللہ پسند کرتا ہے کہ اس کی نعمت اس کے بندے پر ظاہر ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُلْ مَا شِئْتَ وَالْبَسْ مَا شِئْتَ مَا أَخْطَأَتْكَ اثْنَتَانِ: سَرَفٌ وَمَخِيلَةٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَة بَاب
ابن عباس ؓ نے فرمایا : اسراف اور بڑائی سے اجتناب کرتے ہوئے جو چاہو سو کھاؤ اور جو چاہو سو پہنو ۔ امام بخاری ؒ نے اسے ترجمۃ الباب میں روایت کیا ہے ۔ رواہ البخاری ۔