Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,333 hadiths in order · Page 207 of 317
وعن أم هانئ قالت : دخل علي النبي صلى الله عليه وسلم فقال : أعندك شيء قلت : لا إلا خبز يابس وخل فقال : هاتي ما أقفر بيت من أدم فيه خل . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب
اور حضرت ام ہانی ؓ (جو ابوطالب کی بیٹی اور حضرت علی ؓ کی ہمشیرہ تھیں) کہتی ہیں کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ میرے گھر تشریف لائے آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ (کھانے کے لئے) تمہارے پاس کیا چیز ہے؟ میں نے کہا کہ سوکھی روٹی اور سرکے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ وہی لے آؤ وہ گھر سالن سے خالی نہیں جس میں سرکہ ہو۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تشریح
آنحضرت ﷺ نے انتہائی بےتکلفی کے ساتھ جو مذکورہ کھانا طلب فرمایا اس کا سبب یہ تھا کہ ام ہانی کا دل بھی خوش ہو جائے اور ان پر یہ بھی واضح ہوجائے کہ گھر میں موجود جو بھی کم سے کم غذائی ضرورت کر دے اس پر قناعت کرنا چاہئے۔
وعن يوسف بن عبد الله بن سلام قال : رأيت النبي صلى الله عليه وسلم أخذ كسرة من خبز الشعير فوضع عليها تمرة فقال : هذه إدام هذه وأكل . رواه أبو داود
اور حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن کہ نبی کریم ﷺ نے جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا لیا اور اس پر کھجور رکھ کر فرمایا کہ یہ اس روٹی کے ٹکڑے کا سالن ہے۔ (ابوداؤد )
غیرمسلم معالج سے رجوع کرنا جائز ہے
وعن سعد قال : مرضت مرضا أتاني النبي صلى الله عليه وسلم يعودني فوضع يده بين ثديي حتى وجدت بردها على فؤادي وقال : إنك رجل مفؤود ائت الحارث بن كلدة أخا ثقيف فإنه رجل يتطبب فليأخذ سبع تمرات منم عجوة المدينة فليجأهن بنواهن ثم ليلدك بهن . رواه أبو داود
اور حضرت سعد ؓ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں بہت سخت بیمار ہوا (تو) نبی کریم ﷺ عیادت کی غرض سے میرے پاس تشریف لائے آپ ﷺ نے (اس وقت) میری دونوں چھاتیوں کے درمیان (یعنی سینہ پر) اپنا دست مبارک رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے دل پر محسوس کی پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم ایک ایسے شخص ہو جو دل کے درد میں مبتلا ہے (یعنی تم قلب کے مریض ہو) لہٰذا تم حارث بن کلدہ کے پاس جاؤ جو قبیلہ ثقیف سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ وہ شخص طب (علاج معالجہ کرنا) جانتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ مدینہ کی (سب سے اعلیٰ قسم کی کھجور) عجوہ میں سے سات کھجوریں لے۔ پھر ان کو گٹھلیوں سمیت کوٹ لے اور اس کے بعد ان کو (دوا کی صورت میں تمہارے منہ میں ڈالے۔ (ابوداؤد)
تشریح
اگر یہ سوال پیدا ہو کہ اس کا کیا سبب تھا کہ آپ نے سعد ؓ کو پہلے تو ایک معالج کے پاس جانے کا حکم دیا اور پھر خود ہی علاج بھی تجویز کیا لیکن دوا بنانے کا کام معالج کے سپرد کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے تو آپ نے سعد کو معالج کے پاس جانے کا مشورہ دیا تاکہ وہ ان کو دیکھ کر ان کا علاج کرے، پھر جب آپ ﷺ کو ان کا ایک آسان علاج یاد آگیا جو جلد فائدہ کرنے والا تھا تو آپ ﷺ نے از راہ شفقت وتعلق اس کو تجویز کیا۔ گویا ان کو معالج کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا کہ وہ مبادا ان کو دور دراز کے علاج میں ڈال دے اور چونکہ اس دوا کا بنانا اور اس کو استعمال کرانا معالج کے لئے زیادہ آسان تھا اس لئے اس کام کو اس کے سپرد فرمایا۔ علماء نے لکھا ہے یہ حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ غیر مسلم معالج سے رجوع و مشورہ کرنا جائز ہے کیوں کہ حارث بن کلدہ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں مراد ہے اس کا اسلام قبول کرنا ثابت نہیں ہے۔
وعن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يأكل البطيخ بالرطب . رواه الترمذي وزاد أبو داود : ويقول : يكسر حر هذا ببرد هذا وبرد هذا بحر هذا . وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب
اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ خرپزہ، تازہ کھجوروں کے ساتھ کھاتے تھے۔ (ترمذی) اور ابوداؤد نے اس روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ اور آپ یہ فرماتے تھے کہ اس (کھجور) کی گرمی اس (خرپزے) کی سردی سے توڑی جاتی ہے اور خرپزے کی سردی کھجور کی گرمی سے توڑی جاتی ہے۔ نیز ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تشریح
مذکورہ بالا دونوں چیزوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر کھانے میں بڑی حکمت یہ ہے کہ ایک سرد دوسری گرم ہے۔ دونوں ملا کر معتدل غذا ہوجاتی ہے! طیبی نے کہا ہے خرپزے سے مراد شاید کچا خرپزہ ہوگا کیونکہ وہ سرد تر ہوتا ہے ورنہ پکا خرپزہ گرم ہوتا ہے لیکن کھجور کی بہ نسبت وہ بھی سرد ہوتا ہے۔ اکثر علماء نے یہ لکھا ہے کہ بطیخ سے مراد خرپزہ نہیں ہے بلکہ تربوز ہے کہ وہ سرد ہوتا ہے۔
کھانے پینے کی چیز میں کیڑے پڑجانے کا مسئلہ
وعن أنس قال : أتي النبي صلى الله عليه وسلم بتمر عتيق فجعل يفتشه ويخرج السوس منه . رواه أبو داود
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پرانی کھجور لائی گئی (جس میں کیڑے پڑگئے تھے چناچہ آپ ﷺ اس کو چیرتے اور اس میں سے کیڑا نکال ( کر پھینک) دیتے۔ (ابوداؤد)
تشریح
طبرانی نے بسند حسن حضرت ابن عمر ؓ سے بطریق مرفوع یہ نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کھجور کو چیرنے سے منع فرمایا ہے! اس صورت میں چونکہ آنحضرت ﷺ کے فعل اور قول میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے اس لئے کہا جائے گا کہ حضرت ابن عمر ؓ سے جو ممانعت منقول ہے اس کا تعلق نئی کھجوروں سے ہے اور اس کا مقصد وہم و وسوسہ سے بچانا ہے۔ یا یہ کہ حضرت انس ؓ سے جو فعل منقول ہے وہ بیان جواز پر محمول ہے اور مذکورہ بالا ممانعت نہیں تنزیہی کے طور پر ہے۔ طیبی کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کھانے میں کیڑا پڑجائے تو وہ کھانا نجس نہیں ہوتا اور مطالب المؤمنین، میں یہ لکھا ہے کہ اگر کیڑا پنیر یا سیب میں پڑجائے ( اور کھاتے وقت پیٹ میں چلا جائے) تو وہ حلال ہوگا کیونکہ اس سے احتراز ممکن نہیں، ہاں اگر ان چیزوں سے نکال دیا گیا ہو تو پھر اس کا حکم مکھی، بھڑ، پسہ اور ہر اس جانور کا سا ہوگا جو دم مسفوح (جاری خون) نہیں رکھتا کہ اس کا کھانا حرام ہوگا لیکن اگر وہ پانی یا کھانے میں پڑجائے تو وہ ناپاک نہیں ہوگا۔
وعن ابن عمر قال : أتي النبي صلى الله عليه وسلم بجبنة في تبوك فدعا بالسكين فسمى وقطع . رواه أبو داود
اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے دوران (ایک موقعہ پر) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پنیر کا ایک ٹکڑا لایا گیا تو آپ ﷺ نے چھری منگوائی اور بسم اللہ کہہ کر اس کو کاٹا۔ (ابوداؤد )
تشریح
یہ بسم اللہ کہنا کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنے کی جگہ تھا نہ کہ وہ بسم اللہ جو ذبح کرتے وقت پڑھی جاتی ہے جیسا کہ بعض جاہل لوگ کدو کو کاٹتے وقت ذبح کی نیت سے بسم اللہ کہتے ہیں۔ مظہر نے کہا ہے کہ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ چستہ یعنی اونٹ یا بکری کے بچہ کا اوجھ پاک ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ ناپاک ہوتا تو پنیر کو بھی ناپاک ہونا چاہئے تھا اس لئے کہ پنیر اس کے بغیر نہیں بنتا تھا۔
جن چیزوں کو شریعت نے حلال یا حرام نہیں کہا ہے ان کا استعمال مباح ہے
وعن سلمان قال : سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن السمن والجبن والفراء فقال : الحلال ما أحل الله في كتابه والحرام ما حرم الله في كتابه وما سكت عنه فهو مما عفا عنه . رواه ابن ماجه والترمذي وقال : هذا حديث غريب وموقوف على الأصح
اور حضرت سلمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے گھی پنیر اور پوستین یا گورخر کے بارے میں پوچھا گیا (کہ یہ چیزیں حلال ہیں یا حرام ہیں؟ ) تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ (حلت و حرمت کے سلسلے میں یہ اصول مد نظر رکھو کہ) حلال وہی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے (یعنی جس کا حلال ہونا قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے) اور حرام وہی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہے اور جس چیز سے سکوت فرمایا (یعنی جس کو نہ حلال فرمایا نہ حرام) وہ اس قسم سے ہے جس کو معاف رکھا گیا ہے (یعنی اس کے استعمال کرنے کو مباح رکھا ہے) اس روایت کو ابن ماجہ اور ترمذی نے نقل کیا ہے اور (ترمذی نے) کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے لیکن زیادہ صحیح یہ بات ہے کہ یہ حدیث موقوف ہے۔
تشریح
گھی کے بارے میں تو اس لئے پوچھا گیا کہ بظاہر ابتداء اسلام میں بعض لوگوں کو اس کے حلال ہونے میں شبہ ہوا ہوگا۔ پنیر کا معاملہ بذات خود محل اشتباہ وسوال تھا کیونکہ اس زمانہ میں وہ چستہ (یعنی اونٹ یا بکری کے اوجھ) کے ذریعہ بنتا تھا تیسری چیز جس کے بارے میں سوال کیا گیا فراء تھی۔ اس لفظ فراء کے بارے میں اکثر شارحین نے کہا ہے کہ یہ فرئی کی جمع ہے جس کے معنی گورخر کے ہیں۔ اور بعضوں نے اس کو فرو کی جمع کہا ہے جس کے معنی پوستین (جانور کی کھال کے کوٹ) کے ہیں۔ اسی لئے ترمذی نے اس روایت کو باب اللباس میں نقل کیا ہے، اس صورت میں کہا جائے گا کہ فراء کے بارے میں سوال کفار کے عمل سے اجتناب کرنے کے جذبہ سے کیا گیا تھا، کیونکہ وہ (کفار) مردار کی کھال کو دباغت دئیے بغیر اس کی پوستین بنایا کرتے تھے۔ اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو وہ چیزیں حرام ہیں جن کے حرام ہونے کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے یا اس آیت کریمہ آیت (وَمَا اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا) 59۔ الحشر 57) کے ذریعہ بطریق اجمال بیان کیا ہے یہ وضاحت اس لئے ضروری ہے تاکہ ان اکثر چیزوں کے بارے میں اشکال پیدا نہ ہو جو حرام ہیں مگر ان کی حرمت کتاب اللہ میں صراحت کے ساتھ بیان نہیں ہوئی ہے بلکہ ان کا حرام ہونا احادیث نبوی کے ذریعہ ثابت ہے۔ حدیث کا آخری جملہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام چیزیں اپنی اصل کے اعتبار سے مباح ہیں لہٰذا جن چیزوں کو شریعت نے حرام قرار نہیں دیا ہے وہ مباح ہوں گی۔ یہ حدیث موقوف ہے کا مطلب یہ ہے کہ یہ حضرت سلمان کا اپنا قول ہے نہ کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے۔ چناچہ فن حدیث کی اصطلاح میں صحابہ کے قول و فعل کو موقوف کہا جاتا ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے قول و فعل کو مرفوع کہتے ہیں۔
آنحضرت ﷺ کی طرف سے عمدہ کھانے کی خواہش کا اظہار
وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : وددت أن عندي خبزة بيضاء من برة سمراء ملبقة بسمن ولبن فقام رجل من القوم فاتخذه فجاء به فقال : في أي شيء كان هذا ؟ قال في عكة ضب قال : ارفعه . رواه أبو داود وابن ماجه وقال أبو داود : هذا حديث منكر
اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے (مجلس میں) فرمایا کہ میں پسند کرتا ہوں کہ میرے سامنے سفید گجر گیہوں کی روٹی ہو جس کو گھی اور دودھ میں تر کیا گیا ہو۔ (یہ سن کر) جماعت میں سے ایک شخص اٹھ کر چلا گیا اور مذکورہ روٹی تیار کر کے لایا، آنحضرت ﷺ نے (اس کو دیکھ کر) فرمایا کہ اس روٹی کو جو گھی لگا ہوا ہے وہ کس برتن میں تھا؟ اس نے کہا کہ گوہ کی کھال کے کپے میں تھا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا (میں نہیں کھاؤں گا) اس کو میرے سامنے سے اٹھا لو (ابوداؤد، ابن ماجہ، ) اور ابوداؤد نے کہا ہے کہ یہ حدیث منکر ہے۔
تشریح
آنحضرت ﷺ نے اس روٹی کو اپنے سامنے سے اٹھانے کا حکم اس بنا پر دیا کہ آپ ﷺ گوہ سے طبعی نفرت رکھتے تھے کیونکہ وہ آپ ﷺ کی قوم کے علاقے میں نہیں پائی جاتی تھی جیسا کہ پچھلے صفحات میں حضرت خالد ؓ کی روایت اس کے متعلق گزر چکی ہے نہ کہ اس کے اٹھانے کا حکم اس سبب سے تھا کہ گواہ کی کھال نجس ہوتی ہے کیونکہ اگر گوہ کی کھال نجس ہوتی تو اس کھال کے کپے میں رکھے ہوئے گھی سے ترکی ہوئی روٹی کو آپ ﷺ پھینک دینے کا حکم دیتے اور دوسروں کو بھی اس کے کھانے سے منع فرما دیتے۔ آنحضرت ﷺ کا مذکورہ روٹی کو طلب کرنا اور خواہش نفس کے مطابق اس طرح کی تمنا کا اظہار کرنا ایک ایسا واقعہ ہے جو آپ ﷺ کی عادت مبارکہ اور آپ ﷺ کے مزاج کے بالکل خلاف معلوم ہوتا ہے۔ اسی لئے ابوداؤد نے اس روایت کو منکر کہا ہے اور اگر اس روایت کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو اس صورت میں یہی توجیہ ہوسکتی ہے کہ آپ ﷺ نے اس طرح کی خواہش کا اظہار محض بیان جواز کی خاطر کیا۔
وعن علي رضي الله عنه قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أكل الثوم إلا مطبوخا . رواه الترمذي وأبو داود
اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے لہسن کھانے سے منع فرمایا الاّ یہ کہ وہ پکا ہوا ہو۔ (ترمذی، ابوداؤد )
تشریح
پکے ہوئے لہسن کو کھانے سے اس لئے منع نہیں فرمایا گیا ہے کہ پکنے سے اس کی بو جاتی رہتی ہے۔ یہی حکم پیاز اور اس طرح کی دوسری چیزوں کا بھی ہے لیکن واضح رہے کہ مذکورہ ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے۔
آنحضرت ﷺ کے پیاز کھانے کا مسئلہ
وعن أبي زياد قال : سئلت عائشة عن البصل فقالت : إن آخر طعام أكله رسول الله صلى الله عليه وسلم طعام فيه بصل . رواه أبو داود
اور حضرت ابوزیاد کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ سے (پکی ہوئی) پیاز کے بارے میں پوچھا گیا ( کہ وہ حرام ہے یا حلال؟ ) تو انہوں نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ نے (اپنی زندگی میں) جو سب سے آخری کھانا کھایا تھا اس میں (پکی ہوئی) پیاز تھی۔ (ابوداؤد)
تشریح
اس مسئلہ میں تفصیل یہ ہے کہ روایتوں میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے پیاز و لہسن نہیں کھایا بلکہ بعض روایت میں یہ ہے کہ امت کو بھی اس سے منع فرمایا ہے لیکن حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے پیاز کھائی ہے لہٰذا بعض حضرات کہتے ہیں کہ پیاز و لہسن کھانے کی جو ممانعت منقول ہے اس کا تعلق کچی پیاز اور لہسن سے ہے نہ کہ اس لہسن و پیاز سے جو کھانے میں پکا ہوا ہو۔ بلکہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ کچے کے بارے میں ممانعت بھی محض نہی تنزیہی کے طور پر ہے۔ بطور تحریمی کے نہیں ہے چناچہ یہ چیزیں نہ تو آنحضرت ﷺ پر حرام تھیں اور نہ امت پر حرام ہیں بلکہ طحاوی نے شرح آثار میں ایسی احادیث نقل کی ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ پیاز و لہسن اور گندنا وغیرہ کھانا مباح ہے خواہ وہ کچے ہوں یا کھانے کے ساتھ پکے ہوئے ہوں، لیکن یہ اباحت اس شخص کے لئے ہے جو ان کو کھانے کے بعد گھر میں بیٹھا رہے اور ان کی بو آنے تک مسجد میں نہ جائے کیونکہ ان چیزوں کو کھا کر مسجد میں جانا مکروہ ہے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ، حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کا قول بھی یہی ہے۔ ابن ملک کہتے ہیں کہ جہاں تک آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کا تعلق ہے کہ آپ کا اپنی زندگی کے آخر میں ایسے کھانے کو کھانا جس میں پیاز تھی بیان جواز کی خاطر تھا اور یہ واضح کرنا تھا کہ ان چیزوں کے کھانے کی ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے نہ کہ بطور تحریمی۔
مکھن آنحضرت ﷺ کو پسند تھا
وعن ابني بسر السلميين قالا : دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقدمنا زبدا وتمرا وكان يحب الزبد والتمر . رواه أبو داود
اور بسر کے دونوں بیٹوں (یعنی حضرت عبداللہ اور حضرت عطیہ) سے جو اسلمی (اور صحابی) ہیں روایت ہے کہ ان دونوں نے کہا (ایک دن رسول کریم ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے تو ہم نے آپ ﷺ کے سامنے مسکہ (مکھن ) اور کھجوریں پیش کیں (جن کو آپ ﷺ نے کھایا) آنحضرت ﷺ مسکہ اور کھجور کو پسند فرماتے تھے۔ (ابو داؤد )
ایک برتن میں کھانے کی چیز مختلف قسموں کی ہو تو اپنے سامنے سے کھانے کی قید نہیں ہوگی
وعن عكراش بن ذؤيب قال : أتينا بجفنة كثيرة من الثريد والوذر فخبطت بيدي في نواحيها وأكل رسول الله صلى الله عليه وسلم من بين يديه فقبض بيده اليسرى على يدي اليمنى ثم قال : يا عكراش كل من موضع واحد فإنه طعام واحد . ثم أتينا بطبق فيه ألوان التمر فجعلت آكل من بين يدي وجالت يد رسول الله صلى الله عليه وسلم في الطبق فقال : يا عكراش كل من حيث شئت فإنه غير لون واحد ثم أتينا بماء فغسل رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه ومسح بلل كفيه وجهه وذراعيه ورأسه وقال : يا عكراش هذا الوضوء مما غيرت النار . رواه الترمذي
اور حضرت عکراش بن ذویب ؓ کہتے ہیں کہ (ایک موقع پر) ہمارے سامنے ایک بڑا پیالہ لایا گیا جس میں بہت سا ثرید (شوربے میں بھیگے ہوئے روٹی کے ٹکڑے) اور (گوشت کی) بوٹیاں تھیں، (کھانے کے دوران) میں اپنا ہاتھ پیالے کے ہر طرف دوڑانے لگا۔ (یعنی اپنے) سامنے سے لقمہ اٹھانے کے بجائے ہر طرف ہاتھ ڈالنے لگا) جب کہ رسول کریم ﷺ اپنے آگے سے کھا رہے تھے، چناچہ آپ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا کہ عکراش۔ ایک جگہ سے (یعنی اپنے آگے سے) کھاؤ کیونکہ یہ ایک ( ہی طرح کا کھانا ہے۔ پھر ہمارے آگے ایک طباق لایا گیا جس میں قسم قسم کی کھجوریں تھیں، میں نے (آنحضرت ﷺ کی ہدایت کے مطابق) اپنے سامنے سے (کھجوریں اٹھا اٹھا کر) کھانا شروع کیا لیکن (اب) رسول کریم ﷺ کا ہاتھ طباق میں ( ہر طرف) گردش کرنے لگا (یعنی آپ ﷺ اپنی طبعی پسند کے مطابق طباق کے ہر کنارے سے کھجوریں اٹھا اٹھا کر کھانے لگے اور اس کا مقصد لوگوں پر یہ ظاہر کرنا تھا کہ اگر وہ چاہیں تو کھجوریں ہر طرف سے اٹھا کر کھا سکتے ہیں اور پھر آپ ﷺ نے محض اپنے اس فعل کے ذریعہ ہی بیان نہیں کیا بلکہ قول کے ذریعہ بھی تعلیم دی کہ) پھر فرمایا عکراش،! جس طرف سے چاہو کھاؤ کیونکہ یہ کھجوریں ایک (ہی) قسم کی نہیں ہیں۔ اس کے بعد ہمارے پاس پانی لایا گیا چناچہ رسول کریم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور اپنے ہاتھوں کی تری اپنے منہ اور کہنیوں تک ہاتھوں پر اور سر پر مل لی اور فرمایا عکراش! یہ اس کھانے کے بعد کا وضو ہے جس کو آگ نے متغیر کیا ہے (یعنی یہ ہاتھ اور منہ دھونا کہ جس کو وضو طعام کہا جاتا ہے اس کھانے کی وجہ سے ہے جس کو آگ پر پکایا گیا ہے۔ (ترمذی)
تشریح
ایک طرح کا کھانا ہے کا مطلب یہ ہے کہ جب پورے پیالے میں یکساں قسم کا کھانا ہے اور اس کی ہر طرف ایک ہی طرح کی چیز ہے تو پھر پیالے کی ساری اطراف میں ہاتھ پکانا طمع و حرص کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے یعنی اگر کھانا کئی طرح کا ہوتا یا ایک ہی ہوتا لیکن پیالے کے ہر حصے میں الگ الگ رنگ ہوتا تو اپنی طبیعت کے میلان کی بناء پر ہر طرف سے کھانا مناسب معلوم ہوتا مگر جب کہ کھانا ایک ہی طرح کا ہے اور یکساں رنگ کا ہے تو پھر ہر طرف ہاتھ دوڑانا معیوب و مکروہ ہے! جس طرف سے چاہو کھاؤ میں بظاہر درمیان کی جگہ مستثنیٰ ہے کیونکہ برکت نازل ہونے کی وہی جگہ ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ درمیان کی جگہ سے نہ کھایا جانا اس کھانے کے ساتھ مخصوص ہو جو ایک رنگ کا ہو اور چونکہ یہاں (کھجور کھانے کی صورت میں) ایک رنگت نہیں تھی اس لئے درمیان میں سے بھی کھجور اٹھا کر کھانے میں کوئی مضائقہ نہ سمجھا گیا ہو! ابن ملک کہتے ہیں کہ اس ارشاد سے یہ مفہوم بھی لیا گیا ہے کہ اگر کھانے کی چیز از قسم میوہ و پھل ہو اور وہ ایک ہی طرح اور ایک ہی رنگ کی ہو تو اس صورت میں برتن کے ہر طرف ہاتھ نہ لپکانا چاہئے۔ جیسا کہ طعام کا حکم ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر ایک برتن میں کھانا مختلف رنگت کا ہو تو صرف اپنے سامنے سے کھانے کی قید نہیں ہوگی بلکہ جس طرف سے جی چاہے کھایا جاسکتا ہے۔
وعن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أخذ أهله الوعك أمر بالحساء فصنع ثم أمر فحسوا منه وكان يقول : إنه ليرتو فؤاد الحزين ويسرو عن فؤاد السقيم كما تسروا إحداكن الوسخ بالماء عن وجهها . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن صحيح
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ کے گھر والوں کو بخار آجاتا تو آپ حساء تیار کرنے کا حکم دیتے چناچہ وہ تیار کیا جاتا اور پھر آپ ﷺ مریضوں کو اس حساء کے پینے کا حکم دیتے جس کو وہ (مریض) پیتے، آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ درحقیقت حساء غمزدہ دل کو طاقت پہنچاتا ہے اور بیمار کے دل سے رنج و کلفت کو اس طرح دور کردیتا ہے جس طرح (عورتوں) میں سے کوئی اپنے منہ کے میل کو پانی سے صاف کر ڈالتی ہے۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تشریح
حساء کھانے کی قسم سے ایک رقیق چیز ہوتی ہے جو آٹا، پانی اور گھی کو ملا کر پکائی جاتی ہے کبھی اس میں شکر بھی ملا دی جاتی ہے مکہ کے لوگ اس کو حریرہ بھی کہتے تھے اور تبینہ بھی، جس کا ذکر فصل اول کی ایک حدیث میں گزر چکا ہے، آنحضرت ﷺ سے اس ارشاد میں حریرے کے فائدے کو ظاہر کرنے کے لئے اپنا روئے سخن عورتوں کی طرف اس لئے منعطف کیا کہ اصل میں عورتیں اپنے جسم کا میل دھونے اور اپنے چہرے کو صاف رکھنے کی زیادہ سے زیادہ سعی کرتی ہیں یا یہ کہ جس وقت آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا اس وقت عورتیں موجود تھیں اس لئے انہی کو خطاب کیا۔
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : العجوة من الجنة وفيها شفاء من السم والكمأة من المن وماؤها شفاء للعين . رواه الترمذي
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ عجوہ (جو کھجور کی سب سے اچھی قسم ہے) جنت کی (کھجور) ہے اور اس میں زہر کی شفاء ہے اور کھنبی من (کی قسم) سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاء ہے۔ (ترمذی )
تشریح
عجوہ جنت کی کھجور ہے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ عجوہ کی اصل جنت سے آتی ہے یا یہ کہ جنت میں جو کھجور ہوگی وہ عجوہ ہے اور یا یہ کہ عجوہ ایسی سود مند اور راحت بخش کھجور ہے گویا وہ جنت کا میوہ ہے، زیادہ صحیح مطلب پہلا ہی ہے حدیث کے باقی حصے کی وضاحت پہلی فصل میں گزر چکی ہے۔
چھری سے گوشت کاٹ کر کھانا جائز ہے
عن المغيرة بن شعبة قال : ضفت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فأمر بجنب فشوي ثم أخذ الشفرة فجعل يحز لي بها منه فجاء بلال يؤذنه بالصلاة فألقى الشفرة فقال : ما له تربت يداه ؟ قال : وكان شاربه وفاء فقال لي : أقصه على سواك ؟ أو قصه على سواك . رواه الترمذي
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک رات میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ کسی شخص کے ہاں مہمان ہوا۔ اس شخص نے (ہمارے لئے) ایک بکری ذبح کی اور رسول کریم ﷺ نے اس (بکری) کا ایک پہلو بھوننے کا حکم دیا، جب وہ پہلو بھون دیا گیا آنحضرت ﷺ نے ایک چھری لی۔ پھر اس کے ذریعہ اس پہلو میں سے میرے لئے (بوٹیاں کاٹنے لگے، اتنے میں حضرت بلال ؓ آنحضرت ﷺ کو نماز کی اطلاع دینے کے لئے آگئے، آپ ﷺ نے چھری کو ڈال دیا اور (بطریق تعجب) فرمایا کہ بلال کو کیا ہوا؟ (کہ ایسے وقت بلانے آگیا) اس کے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں۔ حضرت مغیرہ ؓ کہتے ہیں کہ (اس وقت) اس کی لبیں (یعنی مونچھیں) بڑھی ہوئی تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ۔ میں تمہارے لئے (تمہاری) لبیں مسواک پر کتر دوں، یا یہ فرمایا کہ۔ لبیں مسواک پر) کتر ڈالو۔ (ترمذی)
تشریح
اس کے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں۔ یہ اصل میں ذلت و خواری اور فقر و افلاس سے کنایہ ہے اور ایک طرح بد دعا کے مرادف ہے اس جملہ کا استعمال عام طور پر اہل عرب کے ہاں اس شخص کے لئے کیا جاتا ہے جس کو ملامت کرنا مقصود ہوتا ہے اور حقیقت میں اس بددعا کے واقع ہوجانے کی طلب و خواہش نہیں ہوتی بلکہ روز مرہ کے محاورے کے طور پر اس جملہ کو بولتے ہیں اس سے مراد محض شرزنش و ملامت ہوتی ہے چناچہ اس موقعہ پر بھی گویا آنحضرت ﷺ کو یہ ناگوار گزرا کہ جب نماز کا ابھی کافی وقت باقی ہے تو بلال نے کھانے کی مشغولیت کے دوران نماز کے لئے کیوں اٹھانا چاہا اور یہ بھی احتمال ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس جملہ کا استعمال میزبان کی کیفیات و حالات کو دیکھتے ہوئے فرمایا ہو کہ اس وقت یقینا میزبان کو بڑی ذہنی اذیت و کوفت ہوئی ہوگی اس لئے آپ ﷺ نے ان کی طرف سے یا ان کی دلجوئی کے لئے حضرت بلال ؓ پر اس جملہ کے ذریعہ اظہار ناگواری فرمایا۔ اس کی لبیں بڑھی ہوئی تھیں شارحین نے اس جملہ کی وضاحت کئی طرح کی ہے، ایک یہ کہ شاربہ کی ضمیر حدیث کے راوی حضرت مغیرہ ؓ کی طرف راجع ہے۔ اس صورت میں اگرچہ ظاہری اسلوب کا تقاضا یہ تھا کہ یوں کہا جاتا وکان شاربی (اور میری لبیں بڑھی ہوئی تھیں) یعنی ضمیر متکلم کا استعمال ہوتا لیکن اس کے بجائے و شاربہ کہہ کر غائب کی ضمیر استعمال کی اس کی وجہ محض تفنن کلام ہے جس کو اہل معانی کی اصطلاح میں تجرید و التفات کہا جاتا ہے، لہٰذا اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ میری لبیں بڑھی ہوئی تھیں، نیز مسواک پر کترنے کا مطلب یہ تھا کہ لبوں کے نیچے مسواک رکھ کر لبوں کو چھری سے کاٹ ڈالوں۔ اور یا یہ فرمایا۔ یہ اصل میں راوی کا اپنے شک کو ظاہر کرنا ہے کہ یا تو آپ ﷺ نے پہلا جملہ ارشاد فرمایا کہ لبیں مسواک پر رکھ کاٹ ڈالو یعنی آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں تمہاری لبیں کاٹوں بلکہ انہیں (حضرت مغیرہ) کو حکم فرمایا کہ خود اپنی لبیں کاٹ ڈالیں۔ شارحین نے دوسری وضاحت یہ بیان کی ہے کہ شاربہ کی ضمیر آنحضرت ﷺ کی طرف راجع کی جائے یعنی حضرت مغیرہ ؓ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی لبیں بڑھی ہوئی تھیں چناچہ آنحضرت ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ میں اپنی لبوں کو تمہارے لئے کتروں گا کہ وہ بال مجھ سے جدا ہو کر تمہارے پاس رہیں اور تم ان سے برکت حاصل کرو، یا یہ کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت مغیرہ ؓ کو حکم دیا کہ تم میری لبوں کے بال کتر دو۔
بسم اللہ پڑھ کر کھانا نہ کھانا شیطانی اثر ہے
وعن حذيفة قال : كنا إذا حضرنا مع النبي صلى الله عليه وسلم لم نضع أيدينا حتى يبدأ رسول الله صلى الله عليه وسلم فيضع يده وإنا حضرنا معه مرة طعاما فجاءت جارية كأنها تدفع فذهبت لتضع يدها في الطعام فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدها ثم جاء أعرابي كأنما يدفع فأخذه بيده فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الشيطان يستحل الطعام أن لا يذكر اسم الله عليه وإنه جاء بهذه الجارية ليستحل بها فأخذت بيدها فجاء بهذا الأعرابي ليستحل به فأخذت بيده والذي نفسي بيده إن يده في يدي مع يدها . زاد في رواية : ثم ذكر اسم الله وأكل . رواه مسلم
اور حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول کریم ﷺ کے ساتھ کسی کھانے پر ہوتے تو ہم اس وقت تک کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھاتے جب تک رسول کریم ﷺ شر وع نہ فرماتے، آپ ﷺ کھانے کی طرف ہاتھ بڑھاتے (تو اس کے بعد ہم اپنا ہاتھ بڑھاتے) چناچہ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ہم رسول کریم ﷺ کے ساتھ کھانے پر بیٹھے، اتنے میں ایک لڑکی (کھانے پر) اس طرح آئی گویا وہ ڈھکیل دی گئی ہے (یعنی وہ بھوک کی شدت سے بےاختیار ہو کر کھانے پر اس طرح ٹوٹی جیسے اس کو کسی نے پیچھے سے دستر خوان پر ڈھکیل دیا ہو) پھر اس نے (جوں ہی) یہ چاہا کہ (بسم اللہ کہے بغیر) کھانے پر ہاتھ ڈالے، تو رسول کریم ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک دیہاتی (بھی اسی) طرح بیتابی کے ساتھ) آیا کہ گویا اس کو (کھانے پر) ڈھکیل دیا گیا ہے (اور اس نے بھی بسم اللہ کہے بغیر کھانے پر ہاتھ ڈالنا چاہا کہ) آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ (بھی) پکڑ لیا۔ اور پھر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ شیطان اس کھانے کو اپنے لئے حلال کرتا ہے (اور اس کے کھانے پر قادر ہوتا ہے) جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا جاتا چناچہ شیطان اس لڑکی کو لے کر آیا تاکہ اس (کے بسم اللہ نہ پڑھنے کے) سبب اس کھانے کو اپنے لئے حلال کرے لیکن میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ پھر شیطان اس دیہاتی کو لایا تاکہ اس کے ذریعہ کھانے کو اپنے لئے حلال کرے مگر میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، بلاشبہ (اس وقت) شیطان کا ہاتھ اس لڑکی کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔ ایک روایت میں (حذیفہ یا مسلم نے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے اللہ کا نام لیا (یعنی بسم اللہ پڑھی) کھانا کھایا۔ (مسلم )
تشریح
ایک روایت میں مع یدھا (اس لڑکی کے ہاتھ کے ساتھ) بجائے مع یدیھما (اس لڑکی اور اس اعرابی کے ہاتھ کے ساتھ) کے الفاظ نقل کئے گئے ہیں اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے تاہم جس روایت میں لفظ یدھا ہے وہ گویا اس لڑکی کے ساتھ مخصوص ہے اور یہ اس بات کے منافی نہیں ہے کہ اس اعرابی کا ہاتھ بھی آپ کے ہاتھ میں ہو کیوں کہ پہلے آپ نے یہ فرمایا تھا کہ میں نے اس اعرابی کا ہاتھ بھی پکڑ لیا البتہ چونکہ پہلے لڑکی ہی کا ہاتھ پکڑا تھا اس لئے خاص طور پر محض اس کا ذکر کیا۔
زیادہ کھانا بے برکتی کی علامت ہے
عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أراد أن يشتري غلاما فألقى بين يديه تمرا فأكل الغلام فأكثر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن كثرة الأكل شؤم . وأمر برده . رواه البيهقي في شعب الإيمان
اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ نے ایک غلام کو خریدنے کا ارادہ فرمایا تو (آزمائش کے طور پر) اس کے آگے کھجوریں رکھ دیں، چناچہ وہ غلام (خوراک سے) بہت زیادہ کھجوریں کھا گیا، رسول کریم ﷺ نے (یہ دیکھ کر فرمایا کہ زیادہ کھانا بےبرکتی کا سبب اور بےبرکتی کی علامت ہے۔ (پھر آپ ﷺ نے اس غلام کو واپس کردینے کا حکم دیا۔ (بیہقی )
وعن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : سيد إدامكم الملح . رواه ابن ماجه
اور حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ تمہارے سالنوں میں بہترین سالن نمک ہے۔ (ابن ماجہ)
تشریح
نمک کو بہترین سالن اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ وہ کم سے کم محنت اور بڑی آسانی کے ساتھ دستیاب ہوجاتا ہے اور قناعت کا سب سے قریبی ذریعہ ہے۔ اسی وجہ سے اکثر عارفین اور اہل اللہ نمک ہی پر قناعت کرتے تھے، اس اعتبار سے یہ ارشاد آنحضرت ﷺ کے اس قول کے منافی نہیں ہے کہ سید الادم فی الدنیا والاخرۃ اللحم (یعنی دنیا و آخرت میں سالنوں کا سردار گوشت ہے )۔
: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا وضع الطعام فاخلعوا نعالكم فإنه أروح لأقدامكم
اور حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب (تمہارے سامنے کھانا رکھا جائے (اور تم کھانے بیٹھو) تو اپنے جوتے اتار دو کیونکہ جوتے اتار دینا پیروں کے لئے بہت راحت بخش ہے۔
کھانا ٹھنڈا کر کے کھانا چاہئے
وعن أسماء بنت أبي بكر : أنها كانت إذا أتيت بثريد أمرت به فغطي حتى تذهب فورة دخانه وتقول : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : هو أعظم للبركة . رواهما الدارمي
اور حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ کے بارے میں روایت ہے کہ جب ان کے سامنے ثرید لایا جاتا تو وہ اس کو ڈھانک دینے کا حکم دیتیں، چناچہ اس کو ڈھانک کر رکھ دیا جاتا تھا، یہاں تک کہ اس کے دھویں اور بھاپ کا جوش نکل جاتا ہے تھا (یعنی اس کی گرمی کی شدت ختم ہوجاتی تھی اس کے بعد وہ اس کو کھاتی تھیں) نیز وہ فرماتی تھیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کھانے میں سے گرمی کا نکل جانا برکت میں زیادتی کا موجب ہے۔ (ان دونوں روایتوں کو دارمی نے نقل کیا ہے۔
تشریح
ثرید کا ذکر محض اتفاقی ہے کہ اس وقت کا عام کھانا ثرید ہی ہوتا تھا اس لئے اس کا ذکر کیا ورنہ دوسرے کھانوں کا بھی یہی حکم ہے، چناچہ جامع الصغیر میں یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ ابردوا بالطعام فان الحار لابرکۃ فیہ (کھانے کو ٹھنڈا کر کے کھاؤ کیوں کہ گرم میں برکت نہیں ہوتی) اسی طرح بیہقی نے بطریق ارسال یہ روایت نقل کی ہے کہ نہی عن الطعام الحار حتی یبرد (آنحضرت ﷺ نے گرم کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہوجائے )۔