Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,333 hadiths in order · Page 206 of 317
کھانے کے بعد اللہ کی حمد وثنا
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الله تعالى ليرضى عن العبد أن يأكل الأكلة فيحمده عليه أو يشرب الشربة فيحمده عليها . رواه مسلم وسنذكر حديثي عائشة وأبي هريرة : ما شبع آل محمد وخرج النبي صلى الله عليه وسلم من الدنيا في باب فضل الفقراء إن شاء الله تعالى
اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ بندے کی اس بات سے راضی و خوش ہوتا ہے کہ وہ ایک لقمہ کھائے اور اس پر اللہ کی حمد ثنا کرے یا ایک مرتبہ پئے اور اس پر اللہ کی حمد و ثنا کرے۔ (مسلم) اور دو روایتیں جن میں سے ایک روایت حضرت عائشہ ؓ کی ہے ما شبع ال محمد ﷺ الخ اور دوسری روایت خرج النبی ﷺ الخ حضرت ابوہریرہ ؓ کی ہے۔ ان دونوں روایتوں کو ہم انشاء باب فضل الفقراء میں نقل کریں گے۔ یعنی یہ دونوں روایتیں صاحب مصابیح نے کتاب الاطعمہ میں نقل کیں تھیں لیکن ہم نے ان کو باب فضل الفقراء میں نقل کیا ہے۔
تشریح
اکلہ الف کے زبر کے ساتھ کے معنی ہیں ایک بار سیر ہو کر کھانا۔ ویسے یہ لفظ الف کے پیش کے ساتھ بھی منقول ہے جس کے معنی لقمہ کے ہیں۔ حدیث کا ماحصل یہ ہے کہ جب کوئی شخص کھانا کھا کر فارغ ہوجاتا ہے یا کوئی چیز پیتا ہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہے اور اس کی حمد و ثنا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل سے بہت خوش ہوتا ہے۔
بسم اللہ کہہ کر کھانا شروع کرنا کھانے میں برکت کا باعث ہوتا ہے
عن أبي أيوب قال : كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقرب طعام فلم أر طعاما كان أعظم بركة منه أول ما أكلنا ولا أقل بركة في آخره قلنا : يا رسول الله كيف هذا ؟ قال : إنا ذكرنا اسم الله عليه حين أكلنا ثم قعد من أكل ولم يسم الله فأكل معه الشيطان . رواه في شرح السنة
حضرت ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس تھے کہ کھانا سامنے لایا گیا (کھانے کے دوران میں نے محسوس کیا کہ) میں نے اس کھانے میں اس وقت جو بڑی برکت دیکھی جب کہ ہم نے کھانا شروع کیا تھا ایسی برکت میں کسی اور کھانے میں نہیں دیکھی اور اس کھانے کے آخر میں میں نے جو کمتر برکت دیکھی ایسی کم برکت بھی اور کسی کھانے میں نہیں دیکھی، چناچہ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس کا کیا سبب تھا (کہ اس کھانے میں شروع میں تو اتنی زیادہ برکت دیکھی گئی اور آخر میں اس طرح بےبرکتی نظر آئی)؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا درحقیقت کھانے کے شروع میں ہم نے اللہ کا نام تھا لیکن بعد میں ایسا شخص آ کر بیٹھ گیا جس نے کھانا کھایا مگر اللہ کا نام نہیں لیا لہٰذا اس کے ساتھ شیطان نے بھی کھانا کھایا (اس سبب سے آخر میں بےبرکتی ہوئی۔ (شرح السنۃ)
تشریح
ہم نے اللہ کا نام لیا تھا اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ بسم اللہ پڑھنے کی سنت محض بسم اللہ کہہ لینے سے حاصل ہوجاتی ہے لیکن افضل یہ ہے کہ پوری بسم اللہ یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی جائے۔ کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ کہنا مستحب ہے یہاں تک کہ اگر کوئی شخص جنبی (حالت ناپاکی میں) ہو یا کوئی عورت ایام حیض یا حالت نفاس میں ہو تو یہ استحباب اس کے لئے بھی ہے بشرطیکہ بسم اللہ پڑھتے وقت تلاوت کی نیت نہ کرے بلکہ ذکر کی نیت سے پڑھے ورنہ حرام ہوگا (کیونکہ ناپاکی اور حیض و نفاس کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت حرام ہے اور بسم اللہ بھی قرآن کریم ہی کا ایک فقرہ ہے )۔ جن چیزوں کو کھانا پینا شریعت کی رو سے مکروہ یا حرام ہے ان کو کھاتے پیتے وقت بسم اللہ پڑھنا مستحب نہیں ہے بلکہ اگر کوئی شخص شراب پیتے وقت بسم اللہ پڑھے گا تو وہ کافر ہوجائے گا (بعض علماء نے مطلق کسی بھی حرام چیز کو کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنے کو کفر کہا ہے۔ شیطان کا کھانے میں شریک ہونا اکثر علماء سلف و خلف کے نزدیک حقیقت پر محمول ہے کہ وہ بسم اللہ نہ پڑھ کر، کھانے والے کے ساتھ کھانے میں حقیقۃً شریک ہوتا ہے جس کی وجہ سے کھانے میں بےبرکتی ہوجاتی ہے۔ پہلے جو یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ بعض علماء کے نزدیک اجتماعی طور پر کھانا کھانے کی صورت میں کسی ایک شخص کا بسم اللہ پڑھ لینا اس کھانے پر موجود سب لوگوں کے لئے کافی ہے اور ہر ایک شخص کا بسم اللہ پڑھنا ضروری نہیں ہے تو یہ حدیث ان علماء کے مسلک کے خلاف ایک دلیل ہے۔
کھانے کے درمیان بھی بسم اللہ پڑھی جا سکتی ہے
وعن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا أكل أحدكم فنسي أن يذكر الله على طعامه فليقل : بسم الله أوله وآخره . رواه الترمذي وأبو داود
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھانے بیٹھے اور (شروع میں) اپنے کھانے پر اللہ کا نام لینا بھول جائے (اور کھانے کے درمیان یاد آئے) تو اس کو چاہئے کہ وہ یہ کہے بسم اللہ اولہ واخرہ۔ (ترمذی، ابوداؤد)
تشریح
اللہ کا نام لینا بھول جائے الخ سے یہ معلوم ہوا کہ کھانا شروع کرتے وقت محض اللہ کے نام کا ذکر کافی ہے لیکن بسم اللہ کہنا افضل ہے۔ محیط میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص وضو کرتے وقت (بسم اللہ کے بجائے) لا الہ الا اللہ یا الحمد للہ اور یا اشہد ان لا الہ الا اللہ کہے تو وہ سنت ادا کرنے والا کہلائے گا اسی طرح کھانے کی صورت میں بھی یہ مسئلہ ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص ابتداء وضو میں بسم اللہ کہنا بھول جائے اور پھر درمیان وضو (یاد آنے پر) بسم اللہ کہہ لے تو اس کو سنت پر عمل کرنے کا درجہ حاصل نہیں ہوگا بخلاف کھانے کے (کہ کھانے کے درمیان آنے پر بسم اللہ کہہ لینا ادائیگی سنت کے لئے کافی ہوجائے گا )
کھانے کے درمیان بھی بسم اللہ پڑھی جا سکتی ہے
وعن أمية بن مخشي قال : كان رجل يأكل فلم يسم حتى لم يبق من طعامه إلا لقمة فلما رفعها إلى فيه قال : بسم الله أوله وآخره فضحك النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال : ما زال الشيطان يأكل معه فلما ذكر اسم الله استقاء ما في بطنه . رواه أبو داود
اور حضرت امیہ بن مخشی ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) ایک شخص کھانا کھانے بیٹھا تو اس نے اللہ کا نام نہیں لیا (یعنی بسم اللہ کہے بغیر کھانا کھانے لگا ) یہاں تک کہ جب اس کھانے میں سوائے ایک لقمہ کے کچھ باقی نہیں رہا (اور اس کو یاد آیا کہ میں کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ کہنا بھول گیا ہوں) تو اس نے وہ آخری لقمہ اپنے منہ میں لے جاتے وقت کہا بسم اللہ اولہ واخرہ۔ رسول کریم ﷺ (یہ دیکھ کر) ہنسے اور پھر فرمایا کہ شیطان اس شخص کے ساتھ برابر کھانا کھا رہا تھا لیکن جب اس نے اللہ کا نام لیا تو اس (شیطان) نے وہ سب کچھ اگل دیا جو اس کے پیٹ میں تھا۔ (ابوداؤد)
تشریح
شیطان کا اپنے پیٹ کا سارا کھانا اگل دینا، حقیقت پر محمول ہے۔ یا یہ مراد ہے کہ کھاتے وقت بسم اللہ نہ کہنے کی وجہ سے جو برکت جاتی رہی تھی اس نے اس کو واپس کردیا۔ گویا وہ برکت اس شیطان کے پیٹ میں امانت تھی جب اس شخص نے بسم اللہ کہی تو وہ برکت بھی کھانے میں واپس آگئی۔
وعن أبي سعيد الخدري قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا فرغ من طعامه قال : الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب کھانے سے فارغ ہوتے تو فرماتے۔ ہر طرح کی تعریف اس اللہ کو سزا وار ہے جس نے ہمیں کھانے کو دیا۔ ہمیں پہننے کو دیا اور ہمیں مسلمان بنایا۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ )
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الطاعم الشاكر كالصائم الصابر . رواه الترمذي
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کھانا کھا کر (اللہ تعالیٰ کا) شکر ادا کرنے والا صابر روزہ دار کی طرح ہے۔ (ترمذی) ابن ماجہ اور دارمی نے اس روایت کو سنان بن سنہ سے اور انہوں نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے۔
تشریح
ادائیگی شکر کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ کہے اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرے اور صابر روزہ دار ہونے کا ادنیٰ درجہ یہ کہ اپنے آپ کو مفسدات صوم سے باز رکھے۔ صابر روز دار کی طرح ہے۔ یہ تشبیہ اصل ثواب میں ہے کہ دونوں ثواب میں شریک ہیں نہ یہ کہ مقدار میں تشبیہ دینا مراد ہے اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھا جائے کہ کہا جاتا ہے، زید کعمر و یعنی زید، عمرو کی طرح ہے اس کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ زید بعض خصائل و عادات میں عمرو کے مشابہ ہے نہ کہ وہ تمام خصائل و عادات میں عمرو کے ہم مثل ہے اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ صابر فقیر، شاکر مالدار سے افضل ہے کیونکہ مشبہ بہ، مشبہ سے اقوی ہوتا ہے۔
وعن أبي أيوب قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أكل أو شرب قال : الحمد لله الذي أطعم وسقى وسوغه وجعل له مخرجا رواه أبو داود
اور حضرت ابوایوب ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب کھاتے اور پیتے تو فرماتے ہر طرح کی تعریف اللہ کو سزاوار ہے جس نے کھلایا پلایا اور اس کھانے پینے کی چیز کو آسانی کے ساتھ حلق سے اتارا اور اس کے نکلنے کی راہ پیدا فرمائی۔ (ابوداؤد )
کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ منہ دھونا کھانے میں برکت کا ذریعہ ہے۔
وعن سلمان قال : قرأت في التوراة أن بركة الطعام الوضوء بعده فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : بركة الطعام الوضوء قبله والوضوء بعده . رواه الترمذي وأبو داود
اور حضرت سلمان کہتے ہیں کہ میں نے (اسلام قبول کرنے سے پہلے) تورات میں پڑھا تھا کہ کھانے میں برکت کا ذریعہ کھانے کے بعد وضو کرنا چناچہ (قبولیت اسلام) کے بعد (ایک دن) میں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے (تورات کے اس مضمون کا) ذکر کیا تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کھانے میں برکت کا ذریعہ کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے اور کھانے کے بعد وضو کرنا ہے۔ (ترمذی ابوداؤد)
تشریح
وضو سے مراد کھانے سے پہلے ہاتھوں کو اور کھانے کے بعد دونوں ہاتھوں اور منہ کو دھونا ہے کھانے سے پہلے وضو یعنی ہاتھ دھونا اس کھانے میں برکت کا ذریعہ اس طور پر ہوتا ہے کہ اس (ہاتھ دھونے) کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کھانے میں زیادتی عطا فرماتا ہے اور کھانے کے بعد وضو کا اس کھانے میں برکت کا ذریعہ ہوتا یہ ہے کہ اس کی وجہ سے طبیعت کو سکون حاصل ہوتا ہے اور یہ (یعنی کھانے کے بعد ہاتھ منہ کا دھونا یا ہاتھ منہ دھونے سے طبیعت کو سکون حاصل ہونا) عبادات، اخلاق حسنہ اور اعمال صالحہ میں تقویت و دل جمعی کا سبب ہوتا ہے۔
کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ منہ دھونا کھانے میں برکت کا ذریعہ ہے۔
وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج من الخلاء فقدم إليه طعام فقالوا : ألا نأتيك بوضوء ؟ قال : إنما أمرت بالوضوء إذا قمت إلى الصلاة . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ بیت الخلاء سے واپس آئے تو آپ ﷺ کے سامنے کھانا لایا گیا۔ بعض صحابہ نے عرض کیا کہ کیا ہم آپ کے سامنے وضو کا پانی لائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ مجھے (حدث کے بعد) وضو کرنے کا حکم (بطریق وجوب) اس صورت میں دیا گیا ہے جب کہ میں نماز کے لئے کھڑا ہونے کا ارادہ کروں (ترمذی، ابوداؤد، نسائی) اور ابن ماجہ نے اس روایت کو حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے۔
تشریح
یہ آپ ﷺ نے اغلب و اکثر کے اعتبار سے فرمایا کہ بطریق وجوب وضو کرنے کا حکم صرف نماز کے لئے ہے ورنہ سجدہ تلاوت کرنے، قرآن مجید کو چھونے اور طواف کرنے کے لئے بھی وضو کرنا واجب ہے۔ اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے گویا یہ سمجھا کہ صحابہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ کھانے سے پہلے وضو شرعی کرنا واجب ہے چناچہ آپ ﷺ نے ان کے اس اعتقاد کی نفی کو اچھی طرح واضح کرنے کے لئے اپنے ارشاد میں حصر کا اسلوب اختیار فرمایا اور یہ اس بات کے منفی نہیں ہے کہ کھانے سے پہلے وضو کرنا جائز بلکہ مستحب ہے۔ لہٰذا یہاں وضو سے مراد وہی وضو ہے جو نماز کے لئے کیا جاتا ہے نہ کہ کھانے کا وضو یعنی ہاتھ اور منہ دھونا حدیث کا سیاق بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔ تاہم اگر اس جملہ الا ناتیک بوضو (کیا ہم آپ کے لئے وضو کا پانی لائیں؟ ) میں وضو سے مراد لیا جائے تو یہ بھی ہوسکتا ہے اور چونکہ کھانے سے پہلے ہاتھوں کا دھونا سنن اور آداب میں سے ہے نہ کہ واجب، اس لئے آپ ﷺ نے اس موقع پر تعلیم جواز کے پیش نظر اس کو ترک کیا اور اس صورت میں حدیث کا حاصل یہ ہوگا کہ یہ وضو یعنی کھانے سے پہلے ہاتھوں کو دھونا کہ جس کے لئے تم مجھ سے درخواست کرتے ہو کوئی واجب اور مامور نہیں ہے اگر میں اس کو ترک کروں یعنی کھانے سے پہلے اپنے ہاتھ نہ دھوؤں تو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا ہاں یہاں ایک اور وضو ہے اور وہ نماز کا وضو ہے جو واجب ہے۔
وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم : أنه أتي بقصعة من ثريد فقال : كلوا من جوانبها ولا تأكلوا من وسطها فإن البركة تنزل في وسطها . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح
اور حضرت ابن عباس ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ (ایک دن) آپ ﷺ کی خدمت میں ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا۔ آپ ﷺ نے (مجلس میں موجود صحابہ سے) فرمایا کہ اس پیالے کے کناروں سے کھاؤ۔ اس کے درمیان میں سے نہیں کھاؤ کیونکہ برکت اس کے درمیان میں نازل ہوتی ہے (ترمذی، ابن ماجہ، دارمی ) ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھانے بیٹھے تو اس کو چاہئے کہ وہ پیالہ کے اوپر سے نہ کھائے البتہ پیالے کے نیچے سے کھائے کیونکہ برکت اوپر کے حصے میں نازل ہوتی ہے۔
تشریح
ثرید اس کھانے کو کہتے ہیں جو روٹی کو شوربے میں تیار کیا گیا ہو۔ جمع کا لفظ جمع کے صیغے کے مقابلے میں لایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اپنے سامنے کے کنارے سے کھائے۔ درمیان کے حصے میں برکت کا نازل ہونا اس سبب سے ہے کہ کسی بھی چیز کا درمیانی حصہ اس کے اور حصوں کی بہ نسبت افضل ہوتا ہے لہٰذا کھانے کے برتن کا درمیانی حصہ ہی اس کا مستحق ہے کہ خیر و برکت کا نزول اس پر ہو اور جب کھانے کا درمیانی حصہ خیر و برکت کے اترنے کی جگہ قرار پایا تو اس سے بہتر بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ حصہ آخر کھانے تک باقی رہے تاکہ کھانے کی برکت بھی آخر تک برقرار رہے لہٰذا اپنے سامنے کے کناروں کو چھوڑ کر پہلے درمیانی حصہ پر ہاتھ ڈالنا اور اس کو ختم کردینا مناسب نہیں ہے۔ پیالہ کے اوپر سے مراد اس کا درمیانی حصہ ہے اور اس کے نیچے سے مراد اس کے کنارے ہیں اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اپنے سامنے سے کھانا چاہئے۔
آنحضرت ﷺ نے کبھی ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھایا
وعن عبد الله بن عمرو قال : ما رئي رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل متكئا قط ولا يطأ عقبه رجلان . رواه أبو داود
اور حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کبھی ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہوئے نہیں دیکھے گئے اور آنحضرت ﷺ کے پیچھے دو آدمی بھی نہیں چلتے تھے۔ (ابو داؤد)
تشریح
ٹیک لگا کر کھانا کھانے کے سلسلے میں تفصیلی بات پچھلے صفحات میں گزر چکی ہے۔ پیچھے چلنے کا مطلب یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کہیں جاتے آتے تو آپ ﷺ کے پیچھے زیادہ آدمیوں کا تو ذکر ہی نہیں دو آدمی بھی نہیں چلتے تھے، بلکہ آپ ﷺ انتہائی تواضع اور انکسار کے تحت اپنے صحابہ کے ساتھ اس طرح چلتے کہ یا تو آپ ﷺ سب کے درمیان میں رہتے یا سب سے پیچھے رہتے جیسا کہ ایک اور حدیث میں الفاظ منقول ہیں کہ ویسوق اصحابہ (آپ ﷺ اپنے صحابہ ؓ سے پیچھے چلتے تھے) آپ ﷺ اپنے ہمراہیوں اور صحابہ کے آگے ہو کر نہیں چلے تھے جیسے امراء و سلاطین متکبر و جاہ پرست لوگوں اور دنیا دار پیروں کا طریقہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنے ہمراہیوں کے آگے آگے چلنے ہی میں اپنی بڑائی سمجھتے ہیں بلکہ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کا ہجوم ان کے پیچھے پیچھے چلے۔ دو کی قید سے معلوم ہوا کہ کبھی کبھار ایک آدھ آدمی جیسے حضرت انس ؓ وغیرہ آنحضرت ﷺ کے پیچھے رہا کرتے تھے اور یہ بھی ضرورت کے تحت اور یہ تواضع و انکسار کے منافی بھی نہیں۔
مسجد میں کھانے پینے کا مسئلہ
وعن عبد الله بن الحارث بن جزء قال : أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بخبز ولحم وهو في المسجد فأكل وأكلنا معه ثم قام فصلى وصلينا معه ولم نزد على أن مسحنا أيدينا بالحصباء . رواه ابن ماجه
اور حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ کی خدمت میں روٹی اور گوشت (پر مشتمل کھانا) لایا گیا جب کہ آپ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے چناچہ (اس کھانے کو) آنحضرت ﷺ نے بھی کھایا اور آنحضرت ﷺ کے ہمراہ ہم نے بھی کھایا، پھر کھڑے ہوئے اور آنحضرت ﷺ نے نماز پڑھی، آپ ﷺ کے ساتھ ہم نے بھی نماز ادا کی اور اس سے زیادہ ہم نے کچھ نہیں کیا کہ (کھانے سے فارغ ہونے کے بعد اپنے ہاتھوں کو ان کنکریوں سے پونچھ ڈالا تھا جو مسجد میں تھیں ابن ماجہ۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ کھانا کھانے کے بعد ہم نے اپنے ہاتھوں کو پانی سے دھویا نہیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کھانے میں چکنائی نہیں تھی یا یہ کہ نماز کے لئے ہمیں جلدی تھی اور یا اس کا سبب یہ تھا کہ ہم نے تکلف کو ترک کر کے رخصت (آسانی) پر عمل کرنا چاہا تھا کیوں کہ غیر واجب امور میں کبھی کبھی رخصت پر عمل کرلینا بھی حق تعالیٰ کے نزدیک اسی طرح پسندیدہ ہے جس طرح وہ اکثر اوقات میں عزیمت پر عمل کرنے کو محبوب رکھتا ہے۔ احیاء العلوم میں بعض صحابہ سے یہ نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا۔ کھانے کے بعد ہمارے پاؤں کی پاشنی (ایڑی) ہمارے لئے رومال کا کام دیا کرتی تھی یعنی ہم کھانا کھا کر اپنے ہاتھوں کو اپنے پاؤں کی ایڑیوں سے پونچھ لیا کرتے تھے جیسا کہ رومال سے پونچھا جاتا ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے الفاظ لم نزد اور مسحنا میں متکلم مع الغیر کا صیغہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ سب کو شامل ہے یعنی آنحضرت ﷺ اور وہاں موجود سارے صحابہ نے اپنے ہاتھ کنکریوں سے پونچھے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد میں کھانا پینا جائز ہے اور یہ بات اکثر احادیث میں منقول ہے خاص طور پر کھجوروں اور اس طرح کی دوسری چیزوں کے بارے میں زیادہ منقولات ہیں لیکن علماء نے لکھا ہے کہ یہ جواز اس امر کے ساتھ مقید ہے کہ اس کی وجہ سے مسجد میں گندگی وغیرہ پیدا نہ ہو ورنہ (گندگی پیدا ہونے کی صورت میں) مسجد میں کھانا پینا حرام یا مکروہ ہوگا اور فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے جو شخص اعتکاف کی حالت میں نہ ہو وہ مسجد میں نہ تو کھائے پئے نہ سوئے اور نہ خریدو فروخت کرے کہ یہ مکروہ ہے، ہاں اس مسافر کے لئے اجازت ہے جس کا مسجد کے علاوہ اور کوئی ٹھکانا نہ ہو۔ علماء نے لکھا ہے کہ آدمی کو چاہئے کو وہ جب مسجد میں داخل ہو تو اعتکاف کی نیت کرلیا کرے تاکہ یہ چیزیں (مسجد میں کھانا پینا وغیرہ) اس کے لئے مباح بھی ہوجائیں اور اس کو (اعتکاف کا) ثواب بھی مل جائے۔
آنحضرت ﷺ کو دست کا گوشت بہت پسند تھا
وعن أبي هريرة قال : أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بلحم فرفع إليه الذراع وكانت تعجبه فنهس منها . رواه الترمذي وابن ماجه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ کی خدمت میں (پکا یا بھنا ہوا) گوشت لایا گیا، اس میں سے آپ ﷺ کو دست کا حصہ دیا گیا کیونکہ دست کا گوشت آپ ﷺ کو بہت پسند تھا چناچہ آپ ﷺ نے اس کو دانتوں سے نوچ نوچ کے کھایا۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
تشریح
آپ ﷺ نے بےتکلفی و سادگی اور تواضع کے سبب دست کی ہڈیوں سے گوشت کو دانتوں کے ذریعہ نوچ نوچ کر کھایا، چناچہ اس طرح گوشت کھانا مستحب ہے۔ طیبی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا دست کے گوشت کو پسند کرنا اس وجہ سے تھا کہ وہ اچھی طرح گل جاتا ہے جلد ہضم ہوتا ہے اور زیادہ لذیذ ہوتا ہے یا اس پسندیدگی کی وجہ یہ تھی کہ دست کا گوشت نجاست کی جگہوں (جیسے آنت وغیرہ) سے دور ہوتا ہے۔ شمائل ترمذی میں حضرت عائشہ ؓ کی یہ روایت منقول ہے کہ دست کا گوشت آنحضرت ﷺ کو زیادہ پسند نہیں تھا لیکن چونکہ آپ کو گوشت مدت کے بعد (کبھی کبھی) میسر آتا تھا اور دست کا گوشت جلدی گل جاتا ہے اس لئے آپ دست کے گوشت کو پسند فرماتے تھے۔ ایک اور روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مزیدار اور زیادہ پسند آنے والا گوشت، پشت کا گوشت ہے۔
چھری سے کاٹ کر گوشت کھانا غیر پسندیدہ طریقہ ہے
وعن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تقطعوا اللحم بالسكين فإنه من صنع الأعاجم وانهسوه فإنه أهنأ وأمرأ . رواه أبو داود والبيهقي في شعب الإيمان وقالا : ليس هو بالقوي
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ گوشت کو چھری سے نہ کاٹو یعنی چھری سے کاٹ کاٹ کر نہ کھاؤ کیونکہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے بلکہ گوشت کو دانتوں سے نوچ نوچ کر کھاؤ کیوں کہ دانتوں سے نوچ کر کھانا زیادہ لذت بخش اور زیادہ خوش گوار ہے۔ اس روایت کو ابوداؤد نے اور بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے اور دونوں نے کہا ہے کہ یہ حدیث (باعتبار سند کے) قوی نہیں ہے۔ (بلکہ ضعیف ہے۔ )
تشریح
عرب کے لوگ اپنے علاوہ دنیا کے اور سارے ہی لوگوں کو عجمی (گونگا) کہا کرتے تھے لیکن یہاں اہل فارس (ایرانی) مراد ہیں کہ وہ از راہ تکبر و غرور گوشت وغیرہ چھریوں سے کاٹ کر کھاتے تھے، مگر بعض مواقع پر آنحضرت ﷺ سے بھی یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے چھری سے کاٹ کر کھایا ہے لہٰذا ان دونوں روایتوں میں یوں مطابقت پیدا کی جائے گی کہ اگر گوشت نرم اور گلا ہوا ہو تو اس کو چھری کے بجائے دانتوں سے کاٹ کر کھانا چاہئے اور اگر سخت ہو تو پھر چھری سے کاٹ کر کھانا جائز ہوگا واضح رہے کہ مذکورہ بالا ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے۔
بیمار کے لئے پرہیز ضروری ہے
وعن أم المنذر قالت : دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه علي ولنا دوال معلقة فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل وعلي معه يأكل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي : مه يا علي فإنك ناقه قالت : فجعلت لهم سلقا وشعيرا فقال النبي صلى الله عليه وسلم : يا علي من هذا فأصب فإنه أوفق لك . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه
اور حضرت ام منذر انصاریہ ؓ کہتی ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ میرے یہاں تشریف لائے، آپ کے ہمراہ حضرت علی ؓ بھی تھے (اس وقت) ہمارے گھر میں کھجوروں کے خوشے لٹکے ہوئے تھے چناچہ رسول کریم ﷺ نے ان خوشوں میں سے کھانا شروع کیا اور آپ ﷺ کے ساتھ حضرت علی ؓ بھی کھانے لگے۔ رسول کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ علی! ان کھجوروں کو کھانے سے اجتناب کرو کیونکہ تمہیں کمزوری لاحق ہے یعنی تم ابھی بیماری سے اٹھے ہو اور تم پر ضعف کا اثر غالب ہے اس لئے تمہارے لئے پرہیز ضروری ہے۔ حضرت ام منذر ؓ کہتی ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ اور آنحضرت ﷺ کے رفقاء کے لئے چقندر اور جو تیار کئے تھے۔ چناچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ علی! تم اس میں سے کھاؤ اس لئے کہ یہ تمہارے لئے بہت مفید اور موافق ہے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیمار اور بیماری سے اٹھے ہوئے شخص کے لئے پرہیز بہت ضروری ہے بلکہ بعض اطباء نے کہا ہے کہ جو شخص بیماری سے اٹھا ہو اور اس پر ضعف و کمزوری کا غلبہ ہو اس کے لئے پرہیز بہت ہی فائدہ مند ہوتا ہے، جب کہ تندرست کے لئے پرہیز کرنا مضر ہوتا ہے۔
آنحضرت ﷺ کو کھرچن پسند تھی
قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعجبه الثفل . رواه الترمذي والبيهقي في شعب الإيمان
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو کھرچن یعنی تہ دیگی اچھی لگتی تھی۔ (ترمذی بہیقی)
تشریح
آنحضرت ﷺ کی عادت یہ تھی کہ آپ ﷺ دوسروں کی ضروریات کو اپنی ضرورت پر مقدم رکھتے تھے چناچہ پہلے تو آپ ﷺ اوپر کا کھانا اپنے اہل و عیال، مہمانوں اور محتاج و فقراء کو بانٹ دیتے تھے اور نیچے کا جو کھانا بچتا اس کو اپنے لئے رکھتے، یہ آپ ﷺ کے جذبہ ایثار و سخاوت کا غماز بھی تھا اور آپ ﷺ کے وصف تواضع و انکسار اور صبر و قناعت کا مظہر بھی! نیز یہ بات ان مالداروں کے لئے ایک واضح دلیل بھی ہے جو عام طور پر از راہ تکبر و نخوت نیچے کے کھانے کو عار سمجھتے ہیں اور اس کو ضائع کردیتے ہیں۔
کھانے کے بعد پیالہ وتشتری کو صاف کرنا مغفرت وبخشش کا ذریعہ ہے
عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من أكل في قصعة فلحسها استغفرت له القصعة . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث غريب
اور حضرت نبیشہ ؓ رسول کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخض کسی پیالے (یا تشتری) میں کھائے اور پھر اس کو انگلیوں سے) چاٹ لے تو وہ پیالہ اس کے لئے استغفار کرتا ہے ( احمد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی) ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
ظاہر بات یہ ہے کہ پیالہ حقیقت میں استغفار کرتا ہے! علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ تشتری پیالے کو چاٹنا اصل میں تواضع کو اختیار کرنا اور تکبر سے بری ہونا ہے اور یہ چیز گناہوں سے مغفرت و بخشش کا سبب ہے اور پیالہ کی طرف استغفار کی نسبت اس اعتبار سے ہے کہ بظاہر اس مغفرت و بخشش کا سبب پیالہ ہی ہوتا ہے۔
کھانے کے بعد ہاتھ دھوئے بغیر نہ سوؤ
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من بات وفي يده غمر لم يغسله فأصابه شيء فلا يلومن إلا نفسه . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص اس حالت میں رات گزارے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی لگی ہوئی ہو کہ (کھانے کے بعد) اس نے اس کو دھویا نہ ہو اور پھر اس کو کوئی ضرر پہنچ جائے (یعنی ایذاء پہنچانے والے جو جانور کھانے کی بو یا چکنائی پر آتے ہیں وہ اس کو ضرر پہنچائیں) تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے (کیونکہ چکنے ہاتھوں کے ساتھ سو کر وہ اس ضرر کا خود سبب بنا ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ )
ثرید آنحضرت ﷺ کا پسندیدہ کھانا تھا
وعن ابن عباس قال : كان أحب الطعام إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الثريد من الخبز والثريد من الحيس . رواه أبو داود
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے نزدیک روٹی کا ثرید اور حیس کا ثرید سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا تھا۔ (ابوداؤد)
تشریح
روٹی کا ثرید یعنی روٹی کے ٹکرے شوربے میں بھیگے ہوئے۔ اور حیس کا ثرید اس کھانے کو کہتے ہیں۔ جو چھوہارے گھی اور قردت (یعنی دہی کے بنے ہوئے پنیر) کو ملا کر مالیدہ کی طرح بنایا جائے۔
وعن أبي أسيد الأنصاري قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كلوا الزيت وادهنوا به فإنه من شجرة مباركة . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي
اور حضرت ابواسید انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا زیت یعنی روغن زیتون کو کھایا اور بدن پر اس کی مالش کیا کرو کیونکہ وہ ایک بابرکت درخت (زیتون) کا تیل ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ، دارمی، )
تشریح
زیتون بابرکت درخت اس اعتبار سے ہے کہ اس میں بہت زیادہ خیر و برکت اور منافع ہیں چناچہ قرآن کریم کی اس آیت (اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) 24۔ النور 35) میں جس درخت کو شجرہ مبارک کہا گیا ہے اس سے زیتون ہی کا درخت مراد ہے جس کی سب سے عمدہ قسم ملک شام میں پیدا ہوتی ہے نیز سورت والتین والزیتون میں اللہ تعالیٰ نے اس درخت کی قسم کھائی ہے۔ عرب کے لوگ خصوصا اہل شام اس درخت کے میٹھے تیل کو کھانے کے مصرف میں لاتے ہیں اور اس کے کڑوے تیل کو چراغ وغیرہ میں جلانے کے کام میں لاتے ہیں۔ طبی طور پر یہ ثابت ہے کہ جسم پر زیتون کے تیل کی مالش کرنے سے جسم کو بہت زیادہ فائدے حاصل ہوتے ہیں۔