Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 208 of 315

4141Mishkaat-al-Masabihضعیف

ان چیزوں کا بیان جن کا کھانا حلال اور جن کا کھانا حرام ہے

وَعَن العبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَكْنُسَ زَمْزَمَ وَإِنَّ فِيهَا مِنْ هَذِهِ الْجِنَّانِ يَعْنِي الْحَيَّاتِ الصِّغَارِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِنَّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عباس ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم چاہ زم زم کی صفائی کرنا چاہتے ہیں اور اس میں چھوٹے چھوٹے سانپ ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے انہیں مار ڈالنے کا حکم فرمایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4142Mishkaat-al-Masabihضعیف

ان چیزوں کا بیان جن کا کھانا حلال اور جن کا کھانا حرام ہے

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهَا إِلَّا الْجَانَّ الْأَبْيَضَ الَّذِي كَأَنَّهُ قضيب فضَّة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ چاندی کی سلاخ کی مثل سفید سانپوں کے علاوہ تمام سانپوں کو مار ڈالو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4143Mishkaat-al-Masabihصحیح

ان چیزوں کا بیان جن کا کھانا حلال اور جن کا کھانا حرام ہے

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَامْقُلُوهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً فَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اسے ڈبو دے ، کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے ، جبکہ دوسرے میں شفا ہے ، وہ اپنے اس پر کے ذریعے (گرنے سے) بچتی ہے جس میں بیماری ہے ، اس لئے اسے مکمل طور پر ڈبو دو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

4144Mishkaat-al-Masabihصحیح

ان چیزوں کا بیان جن کا کھانا حلال اور جن کا کھانا حرام ہے

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي الطَّعَامِ فَامْقُلُوهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ سُمًّا وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً وَإِنَّهُ يُقَدِّمُ السَّمَّ وَيُؤَخِّرُ الشِّفَاءَ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة

ابوسعید خدری ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب مکھی کھانے میں گر جائے تو اسے ڈبو دیں ، کیونکہ اس کے ایک پر میں زہر ہے جبکہ دوسرے میں شفا ہے ، اور وہ زہر والے پر کو مقدم رکھتی ہے اور شفا والے پر کو مؤخر ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔

4145Mishkaat-al-Masabihضعیف

ان چیزوں کا بیان جن کا کھانا حلال اور جن کا کھانا حرام ہے

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ: النَّمْلَةِ وَالنَّحْلَةِ وَالْهُدْهُدُ وَالصُّرَدُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے چار جانوروں : چیونٹی ، شہد کی مکھی ، ہد ہد اور لٹورے کو مارنے سے منع فرمایا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔

4146Mishkaat-al-Masabihصحیح

ان چیزوں کا بیان جن کا کھانا حلال اور جن کا کھانا حرام ہے

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا فَبَعَثَ اللَّهُ نَبِيَّهُ وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ وَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلَالٌ وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فهوَ عفْوٌ وتَلا (قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَو دَمًا)\nرَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، اہل جاہلیت کچھ چیزیں کھایا کرتے تھے اور کچھ چیزیں بطور کراہت چھوڑ دیا کرتے تھے ، اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا ، اپنی کتاب نازل فرمائی ، اس نے حلال کردہ چیزوں کو حلال اور اپنی حرام کردہ چیزوں کو حرام قرار دیا ، اس نے جن چیزوں کو حلال کیا وہ حلال ہے اور جن کو حرام کیا وہ حرام ہے ، اور جس سے خاموشی اختیار کی تو وہ قابل مؤاخذہ نہیں ، پھر ابن عباس ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ فرما دیجیے ! میری طرف جو وحی کی گئی ہے ، میں اس میں کھانے والے کے لیے جو وہ کھاتا ہے ، مردار ، بہتا ہوا خون ، خنزیر کے گوشت کے سوا کوئی اور چیز حرام نہیں پاتا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

4147Mishkaat-al-Masabihصحیح

ان چیزوں کا بیان جن کا کھانا حلال اور جن کا کھانا حرام ہے

وَعَن زاهرٍ الأسلميِّ قَالَ: إِنِّي لَأُوقِدُ تَحْتَ الْقُدُورِ بِلُحُومِ الْحُمُرِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

زاہر اسلمی ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ کے منادی کرنے والے نے یہ اعلان کیا کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع فرماتے ہیں ، میں اس وقت ہنڈیوں کے نیچے آگ جلا رہا تھا ، جن میں گدھوں کا گوشت تھا ۔ رواہ البخاری ۔

4148Mishkaat-al-Masabihصحیح

ان چیزوں کا بیان جن کا کھانا حلال اور جن کا کھانا حرام ہے

وَعَن أبي ثعلبةَ الخُشَنيَّ يَرْفَعُهُ: «الْجِنُّ ثَلَاثَةُ أَصْنَافٍ صِنْفٌ لَهُمْ أَجْنِحَةٌ يَطِيرُونَ فِي الْهَوَاءِ وَصِنْفٌ حَيَّاتٌ وَكِلَابٌ وَصِنْفٌ يُحلُّونَ ويظعنونَ» . رَوَاهُ فِي شرح السنَّة

ابو ثعلبہ خشنی ؓ مرفوع روایت بیان کرتے ہیں :’’ جنوں کی تین قسمیں ہیں : ایک قسم یہ ہے کہ اس کے پر ہیں اور وہ ہوا میں اڑتے ہیں ، ایک قسم سانپوں اور کتوں کی ہے اور ایک قسم یہ ہے کہ وہ پڑاؤ ڈالتے ہیں ، اور کوچ کرتے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔

4149Mishkaat-al-Masabihصحیح

عقیقہ کا بیان

عَن سلمانَ بن عامرٍ الضَّبي قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وأمِيطوا عَنهُ الْأَذَى» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

سلمان بن عامر ضبی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ لڑکے کے پیدا ہونے پر عقیقہ ہے ، اس کی طرف سے خون بہاؤ (جانور ذبح کرو) اور اس سے تکلیف دور کرو (اس کا سر منڈاؤ اور اسے نہلاؤ) ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

4150Mishkaat-al-Masabihصحیح

عقیقہ کا بیان

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ وَيُحَنِّكُهُمْ. رَوَاهُ مُسلم

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بچے لائے جاتے تو آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے ، اور انہیں گھٹی دیتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔

4151Mishkaat-al-Masabihصحیح

عقیقہ کا بیان

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ قَالَتْ: فَوَلَدْتُ بِقُبَاءَ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ ثُمَّ حَنَّكَهُ ثُمَّ دَعَا لَهُ وبرك عَلَيْهِ فَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ

اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر مکہ میں میرے پیٹ میں تھے ، انہوں نے کہا ، میں نے اسے قبا میں جنم دیا ، پھر میں اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائی تو میں نے اسے آپ کی گود میں رکھ دیا ، پھر آپ نے کھجور منگائی اسے چبایا اور اپنا لعاب دہن لگا کر اسے اس کے منہ میں ڈالا اور گھٹی دی ، پھر اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی ۔ اور یہ (عبداللہ بن زبیر ؓ) اسلام (ہجرت کے بعد مدینہ) میں پیدا ہونے والے پہلے بچے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4152Mishkaat-al-Masabihصحیح

عقیقہ کا بیان

عَن أُمِّ كُرْزٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا» . قَالَتْ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ وَلَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وللترمذي وَالنَّسَائِيّ من قَوْله: يَقُول: «عَن الْغُلَام» إِلَّا آخِره وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا صَحِيح

ام کرز ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ پرندوں کو ان کی جگہوں پر رہنے دو ۔‘‘ (فال لینے کے لیے انہیں نہ اڑاؤ) انہوں نے بیان کیا ، اور میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ۔ اور ان کا نر یا مادہ ہونا تمہارے لیے مضر نہیں ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ۔ اور نسائی کی روایت :’’ لڑکے کی طرف سے ....‘‘ آخر تک ہے ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی ۔

4153Mishkaat-al-Masabihصحیح

عقیقہ کا بیان

وَعَن الحسنِ عَن سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ لَكِنْ فِي رِوَايَتِهِمَا «رَهِينَةٌ» بدل «مرتهنٌ» وَفِي رِوَايَة لِأَحْمَد وَأبي دَاوُد: «وَيُدْمَى» مَكَانَ: «وَيُسَمَّى» وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَيُسَمَّى» أصحُّ

حسن ؒ ، سمرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لڑکا اپنے عقیقے کے بدلے میں گروی ہے ، ساتویں روز اس کی طرف سے ذبح کیا جائے اس کا نام رکھا جائے ، اور اس کا سر مونڈایا جائے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ۔ لیکن ان دونوں (ابوداؤد اور نسائی) کی روایت میں ((مرتھن)) کی جگہ ((رھینۃ)) کے الفاظ ہیں ۔ اور مسند احمد اور ابوداؤد کی روایت میں ((ویسمّی)) کی بجائے ((ویدمّی)) کے الفاظ ہیں ۔ اور امام ابوداؤد نے فرمایا : لفظ ((ویسمّی)) زیادہ صحیح ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

4154Mishkaat-al-Masabihضعیف

عقیقہ کا بیان

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَليّ بن أبي طَالب قَالَ: عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَسَنِ بِشَاةٍ وَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ احْلِقِي رَأْسَهُ وَتَصَدَّقِي بِزِنَةِ شَعْرِهِ فِضَّةً» فَوَزَنَّاهُ فَكَانَ وَزْنُهُ دِرْهَمًا أَوْ بَعْضَ دِرْهَمٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ

محمد بن علی بن حسین ؒ ، علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے حسن ؓ کی طرف سے ایک بکری ذبح کی ، اور فرمایا :’’ فاطمہ ! اس کا سر مونڈ اور اس کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کر ۔‘‘ چنانچہ ہم نے ان بالوں کا وزن لیا تو ان کا وزن ایک درہم یا درہم سے کم تھا ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اس کی سند متصل نہیں ، کیونکہ محمد بن علی بن حسین کی علی بن ابی طالب سے ملاقات ثابت نہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

4155Mishkaat-al-Masabihصحیح

عقیقہ کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ كَبْشًا كَبْشًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَعِنْدَ النَّسَائِيِّ: كبشين كبشين

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن اور حسین ؓ کی طرف سے ایک ایک مینڈھے سے عقیقہ کیا ۔ ابوداؤد ۔ اور نسائی کی روایت میں دو دو مینڈھوں کا ذکر ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

4156Mishkaat-al-Masabihصحیح

عقیقہ کا بیان

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ: «لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْعُقُوقَ» كَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ وَقَالَ: «مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسِكَ عَنْهُ فَلْيَنْسِكْ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةً» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ ’’عقوق‘‘ کو پسند نہیں کرتا ۔‘‘ گویا آپ نے یہ نام ناپسند فرمایا ، اور فرمایا :’’ جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے ذبح کرنا پسند کرے تو وہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کرے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

4157Mishkaat-al-Masabihضعیف

عقیقہ کا بیان

وَعَن أبي رافعٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أذَّنَ فِي أُذُنِ الحسنِ ابنِ عليٍّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَيْثُ حسن صَحِيح

ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب فاطمہ ؓ نے حسن بن علی ؓ کو جنم دیا تو آپ ﷺ نے ان کے کان میں نماز والی اذان دی ۔ ترمذی ، ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

4158Mishkaat-al-Masabihصحیح

عقیقہ کا بیان

عَن بُريدةَ قَالَ: كُنَّا فِي الْجَاهِلَيَّةِ إِذَا وُلِدَ لِأَحَدِنَا غلامٌ ذَبَحَ شاةٌ ولطَّخَ رأسَه بدمه فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ كُنَّا نَذْبَحُ الشَّاةَ يَوْمَ السَّابِعِ وَنَحْلِقُ رَأْسَهُ وَنُلَطِّخُهُ بِزَعْفَرَانٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَزَاد رزين: ونُسمِّيه

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، دور جاہلیت میں جب ہم میں سے کسی کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا تو وہ بکری ذبح کرتا اور اس کے سر پر اس کا خون لگاتا ، اور جب اسلام کا ظہور ہوا تو ہم ساتویں روز بکری ذبح کرتے اور اس کا سر مونڈتے اور زعفران لگاتے تھے ۔ ابوداؤد ۔ اور رزین نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : اور ہم اس کا نام رکھتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و رزین ۔

4159Mishkaat-al-Masabihصحیح

عقیقہ کا بیان

عَن عمر بن أبي سَلمَة قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصفحة. فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «سم الله وكل يَمِينك وكل مِمَّا يليك»

عمر بن ابی سلمہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ ﷺ کے زیر پرورش لڑکا تھا اور (کھانے کے دوران) میرا ہاتھ پلیٹ میں ہر طرف گھومتا تھا ، (یہ حرکت دیکھ کر) رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ اللہ کا نام لے کر اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ اپنے سامنے سے کھاؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4160Mishkaat-al-Masabihصحیح

عقیقہ کا بیان

وَعَن حُذَيْفَة قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لَا يُذْكَرَ اسْم الله عَلَيْهِ» . رَوَاهُ مُسلم

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک شیطان اس کھانے کو ، جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے ، کھانا حلال سمجھتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔