Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 209 of 315
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور وہ اپنے داخلے کے وقت اور کھانا کھانے کے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے ، تمہارے لیے نہ تو رات گزارنے کے لیے کوئی جگہ ہے اور نہ شام کا کھانا ، اور جب آدمی داخل ہوتا ہے اور وہ اپنے داخلے کے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو شیطان (اپنے ساتھیوں سے) کہتا ہے ، تم نے رات گزارنے کی جگہ پا لی ، اور جب وہ کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو وہ کہتا ہے : تم نے رات گزارنے کی جگہ پا لی اور شام کا کھانا بھی پا لیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ» . رَوَاهُ مُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کھائے تو وہ اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ کھائے اور جب پیئے تو دائیں ہاتھ سے پیئے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ وَلَا يَشْرَبَنَّ بِهَا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بهَا» . رَوَاهُ مُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص بھی اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے اور نہ اس کے ساتھ پیئے ، کیونکہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ کھاتا پیتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ بِثَلَاثَةِ أَصَابِعَ وَيَلْعَقُ يَدَهُ قَبْلَ أَن يمسحها. رَوَاهُ مُسلم
کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ تین انگلیوں کے ساتھ کھایا کرتے تھے ، اور آپ ہاتھ صاف کرنے سے پہلے انہیں چاٹ لیا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ جَابِرٌ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالصَّفْحَةِ وَقَالَ: إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ: فِي أَيَّهِ الْبَرَكَةُ؟ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انگلیاں اور پلیٹ چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا :’’ تم نہیں جانتے کہ (کھانے کے) کس حصے میں برکت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يمسحْ يدَه حَتَّى يلعقها أَو يلعقها»
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ چاٹنے یا چٹانے سے پہلے اپنا ہاتھ صاف نہ کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَن جَابر قَالَ: النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَأْنِهِ حَتَّى يَحْضُرَهُ عِنْدَ طَعَامِهِ فَإِذَا سَقَطَتْ من أحدكُم لقْمَة فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى ثُمَّ ليأكلها وَلَا يَدعهَا للشَّيْطَان فَإِذا فرع فليلعق أصَاب فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي: فِي أَيِّ طَعَامِهِ يَكُونُ الْبركَة؟ . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ شیطان تمہارے ہر معاملے میں ، حتی کہ کھانے کے وقت بھی حاضر ہوتا ہے ، جب تم میں سے کسی سے لقمہ گر جائے تو وہ اسے صاف کر کے کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے ، اور جب فارغ ہو جائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَن أبي جُحَيْفَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لَا آكل مُتكئا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابو جحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
وَعَن قَتَادَة عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ وَلَا فِي سُكُرَّجَةٍ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ قِيلَ لِقَتَادَةَ: على مَ يَأْكُلُون؟ قَالَ: على السّفر. رَوَاهُ البُخَارِيّ
قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ انس ؓ نے فرمایا : نبی ﷺ نے نہ میز پر رکھ کر کھایا اور نہ طشتری میں کھانا کھایا اور نہ ہی چپاتی کھائی ۔ قتادہ سے پوچھا گیا : وہ کس چیز پر کھانا کھایا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : دستر خوان پر ۔ رواہ البخاری ۔
وَعَن أنس قَالَ: مَا أَعْلَمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ وَلَا رَأَى شَاةً سَمِيطًا بِعَيْنِهِ قَطُّ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نہیں جانتا کہ نبی ﷺ نے پوری زندگی میدے کی روٹی اور سالم بھنی ہوئی بکری دیکھی (یعنی کھائی) ہو ۔ رواہ البخاری ۔
وَعَن سهل بن سعد قَالَ: مَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ وَقَالَ: مَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْخُلًا مِنْ حِين ابتعثهُ الله حَتَّى قبضَهُ قِيلَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟ قَالَ: كُنَّا نَطْحَنُهُ وَنَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مَا طَارَ وَمَا بَقِي ثريناه فأكلناه. رَوَاهُ البُخَارِيّ
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ، جب سے اللہ نے انہیں مبعوث فرمایا زندگی بھر نہ میدہ کی روٹی دیکھی اور نہ چھلنی ، ان سے دریافت کیا گیا ، تم پھر بِن چھنے جَو کیسے کھاتے تھے ؟ انہوں نے کہا : ہم اس کا آٹا بناتے اور پھونک مارتے جو چیز اڑنی ہوتی وہ اڑ جاتی ، اور جو باقی رہ جاتا ہم اسے گھوندھ کر روٹی بناتے اور اسے کھا لیتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: مَا عَابَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِنْ كرهه تَركه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا ، اگر آپ نے اسے پسند کیا تو کھا لیا اور اگر ناپسند کیا تو اسے چھوڑ دیا ۔ متفق علیہ ۔
وَعَنْهُ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْكُلُ أَكْلًا كَثِيرًا فَأَسْلَمَ فَكَانَ يَأْكُلُ قَلِيلًا فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سبعةِ أمعاء» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی بہت زیادہ کھایا کرتا تھا ، جب وہ مسلمان ہو گیا تو کم کھانے لگا ، نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
امام مسلم نے ابوموسی ؓ سے روایت کیا ہے اور ابن عمر ؓ سے صرف مسند روایت ہے ۔ رواہ مسلم ، رواہ مسلم ۔
وَرَوَى مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي مُوسَى وَابْنِ عُمَرَ الْمسند مِنْهُ فَقَط
امام مسلم نے ابوموسی ؓ سے روایت کیا ہے اور ابن عمر ؓ سے صرف مسند روایت ہے ۔ رواہ مسلم ، رواہ مسلم ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَافَهُ ضَيْفٌ وَهُوَ كَافِرٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ حَتَّى شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ ثُمَّ إِنَّهُ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أَمَرَ بِأُخْرَى فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يشربُ فِي سَبْعَة أمعاء»
اور صحیح مسلم کی دوسری روایت جو کہ ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے ، اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں ایک کافر شخص مہمان ٹھہرا ۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک بکری کے متعلق فرمایا تو اس کا دودھ دھویا گیا ، اس نے اس کا سارا دودھ پی لیا ، پھر دوسری کا دودھ دھویا گیا تو اس نے وہ بھی پی لیا ، پھر ایک اور کا دودھ دھویا گیا ، اس نے اسے بھی پی لیا ، حتی کہ اس نے سات بکریوں کا دودھ پی لیا ، پھر اگلے روز اس نے اسلام قبول کر لیا ، رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے ایک بکری کے متعلق حکم فرمایا ، اس کا دودھ دھویا گیا اس نے اس کا دودھ پی لیا ، پھر دوسری کے متعلق حکم دیا گیا تو وہ دوسری کا سارا دودھ نہ پی سکا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن ایک آنت میں پیتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں میں پیتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَعَامُ الِاثْنَيْنِ كَافِي الثلاثةِ وطعامِ الثلاثةِ كَافِي الْأَرْبَعَة»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دو (آدمیوں) کا کھانا تین کے لیے کافی ہوتا ہے جبکہ تین کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثمانيَة» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے ، دو کا کھانا چار کے لیے اور چار کا کھانا آٹھ کے لیے کافی ہوتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تَذْهَبُ بِبَعْض الْحزن»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تلبینہ (جو کا دلیہ) دل کے مریض کے لیے راحت بخش اور غم کو ہلکا کرنے والا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ خَيَّاطًا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ فَذَهَبْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَّبَ خُبْزَ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءُ وَقَدِيدٌ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدباءَ بعد يومِئذٍ
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک درزی نے نبی ﷺ کو کھانے پر مدعو کیا جو کہ اس نے (خصوصی طور پر) تیار کیا تھا ، میں بھی نبی ﷺ کے ساتھ گیا ، اس نے جو کی روٹی اور شوربا پیشِ خدمت کیا جس میں کدو اور خشک کیے ہوئے گوشت کے ٹکڑے تھے ، میں نے نبی ﷺ کو پلیٹ کے کناروں میں کدو تلاش کرتے ہوئے دیکھا ، چنانچہ میں اس روز سے کدو پسند کرتا ہوں ۔ متفق علیہ ۔