Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 210 of 315
وَعَن عَمْرو بنِ أُميَّةَ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يحتزمن كتف الشَّاة فِي يَدِهِ فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّينَ الَّتِي يَحْتَزُّ بِهَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يتَوَضَّأ
عمرو بن امیہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ بکری کی دستی آپ کے ہاتھ میں ہے اور آپ اس سے کاٹ کر تناول فرما رہے ہیں ۔ اتنے میں آپ کو نماز کے لیے آواز دی گئی تو آپ نے اس (دستی) کو اور اس چھری کو جس کے ساتھ آپ کاٹ رہے تھے رکھ دیا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ، اور آپ ﷺ نے (نیا) وضو نہیں فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاء وَالْعَسَل. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ میٹھی چیزیں اور شہد پسند فرمایا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ أَهْلَهُ الْأُدْمَ. فَقَالُوا: مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ فَدَعَا بِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ وَيَقُولُ: «نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے اہل خانہ سے سالن طلب فرمایا تو انہوں نے عرض کیا ، ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہے ، آپ نے اسے منگایا اور اس کے ساتھ کھانا کھانے لگے ، اور آپ ﷺ فرما رہے تھے :’’ سرکہ بہترین سالن ہے ، سرکہ بہترین سالن ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَن سعيد بنِ زيدٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أنزلَ اللَّهُ تَعَالَى على مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام»
سعید بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کھنبی مَن (بنی اسرائیل کے من و سلویٰ) کی نوع میں سے ہے ، اور اس کا پانی آنکھ کے لیے باعثِ شفا ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔\nاور صحیح مسلم کی روایت میں ہے :’’ وہ (کھنبی) اس مَن میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ پر نازل فرمایا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔\n
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ
عبداللہ بن جعفر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو ککڑی کے ساتھ کھجور تناول فرماتے ہوئے دیکھا ۔ متفق علیہ ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ نَجْنِي الْكَبَاثَ فَقَالَ: «عَلَيْكُم بالأسْوَدِ مِنْهُ فإِنَّه أَطْيَبُ» فَقِيلَ: أَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ؟ قَالَ: «نَعَمْ وهلْ منْ نبيٍّ إِلاَّ رعاها؟»
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم (مکہ کے قریب) مرالظہران کے مقام پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، ہم پیلو چن رہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان میں سے سیاہ رنگ کی چنو کیونکہ وہ زیادہ اچھی ہیں ۔‘‘ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا ، کیا آپ بکریاں چرایا کرتے تھے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، اور ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَن أنس قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْعِيًا يَأْكُلُ تَمْرًا وَفِي رِوَايَةٍ: يَأْكُلُ مِنْهُ أكلا ذريعا. رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو اکڑوں بیٹھے کھجوریں کھاتے ہوئے دیکھا ۔ ایک دوسری روایت میں ہے : آپ ﷺ ان میں سے جلدی جلدی کھا رہے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْرِنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّى يستأذِنَ أَصْحَابه
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی آدمی اپنے ساتھی کی اجازت کے بغیر دو دو کھجوریں ایک ساتھ نہ اٹھائے ۔ متفق علیہ ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَجُوعُ أَهْلُ بَيْتٍ عِنْدَهُمُ التَّمْرُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: «يَا عَائِشَةُ بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ» قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس کے گھر میں کھجوریں ہوں وہ لوگ بھوکے نہیں رہتے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ ! وہ گھر جس میں کھجوریں نہ ہوں تو اس کے رہنے والے بھوکے ہیں ۔‘‘ آپ ﷺ نے دو یا تین مرتبہ فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
وَعَن سعدٍ قَالَ: سمعتُ رسولَ الله يَقُولُ: «مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ عَجْوَةٍ لَمْ يضرَّه ذَلِك الْيَوْم سم وَلَا سحر»
سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لے تو اس روز اس کے لیے زہر باعث نقصان ہے نہ جادو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ شِفَاءً وَإِنَّهَا تِرْيَاقٌ أَوَّلَ البكرة» . رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عالیہ کی عجوہ (کھجور) میں شفا ہے اور وہ زہر کا تریاق ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ يَأْتِي عَلَيْنَا الشَّهْرُ مَا نُوقِدُ فِيهِ نَارًا إِنَّمَا هُوَ التَّمْرُ وَالْمَاءُ إِلَّا أَنْ يُؤْتَى بِاللُّحَيْمِ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم پر ایسا مہینہ بھی آتا ہے کہ ہم اس میں (چولہے میں) آگ نہیں جلاتے تھے ، ہمارا کھانا صرف کھجور اور پانی ہوتا تھا ، البتہ کہیں سے تھوڑا سا گوشت آ جاتا تھا ۔ متفق علیہ ۔
وَعَنْهَا قَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ يَوْمَيْنِ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ إِلَّا وَأَحَدُهُمَا تمر
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، محمد ﷺ کی آل نے دو دن (مسلسل) گندم کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی ، ان دو (دنوں) میں سے ایک دن کھجور ہوتی تھی ۔ متفق علیہ ۔
وَعَنْهَا قَالَتْ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا شَبِعْنَا مِنَ الأسودين
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہم نے دو سیاہ چیزیں (کھجور اور پانی) شکم سیر ہو کر نہیں کھائیں ۔ متفق علیہ ۔
وَعَن النّعمانِ بن بشيرٍ قَالَ: أَلَسْتُمْ فِي طَعَامٍ وَشَرَابٍ مَا شِئْتُمْ؟ لَقَدْ رَأَيْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَأُ بَطْنَهُ. رَوَاهُ مُسلم
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، کیا تمہارے پاس تمہاری چاہت کے مطابق کھانے پینے کی وافر چیزیں نہیں ہیں ؟ جبکہ میں نے تمہارے نبی ﷺ کو دیکھا کے آپ کے پاس پیٹ بھرنے کے لیے ردی قسم کی کھجوریں بھی نہیں تھیں ۔ رواہ مسلم ۔
وَعَن أَيُّوب قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ وَبَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَيَّ وَإِنَّهُ بَعَثَ إِلَيَّ يَوْمًا بِقَصْعَةٍ لمْ يأكُلْ مِنْهَا لأنَّ فِيهَا ثُومًا فَسَأَلْتُهُ: أَحْرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: «لَا وَلَكِنْ أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ» . قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كرهْت. رَوَاهُ مُسلم
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ کی خدمت میں کھانا پیش کیا جاتا تو آپ اس سے تناول فرماتے اور اس سے جو بچ جاتا وہ میرے لیے بھیج دیتے ، ایک روز آپ نے ایک پیالہ میری طرف بھیجا جس میں سے آپ نے کچھ نہیں کھایا تھا ، کیونکہ اس میں لہسن تھا ، میں نے آپ سے دریافت کیا ، کیا وہ حرام ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، لیکن اس کی بو کی وجہ سے میں اسے ناپسند کرتا ہوں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، جس چیز کو آپ ناپسند کرتے ہیں ، میں بھی ناپسند کرتا ہوں ۔ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزِلْنَا» أَوْ قَالَ: «فَلْيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا أَوْ لِيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ» . وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا فَقَالَ: «قَرِّبُوهَا» إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ وَقَالَ: «كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُناجي»
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے (کچا) لہسن یا پیاز کھایا ہو وہ ہم سے دور رہے ۔‘‘ یا فرمایا :’’ وہ ہماری مسجد سے دور رہے ، یا وہ اپنے گھر میں بیٹھا رہے ۔‘‘ اور نبی ﷺ کے پاس ایک ہنڈیا لائی گئی جس میں مختلف قسم کی سبزیاں تھیں ، آپ ﷺ نے اس میں سے بو محسوس کی اور فرمایا :’’ اسے اپنے کسی ساتھی کے پاس لے جاؤ ۔‘‘ اور فرمایا :’’ کھاؤ ، کیونکہ میں اس سے ہم کلام ہوتا ہوں جس سے تم ہم کلام نہیں ہوتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَن المِقدامِ بن معدي كرب عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كيلوا طَعَامك يُبَارك لكم فِيهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
مقدام بن معدیکرب ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنا اناج ماپ لیا کرو ، تمہیں اس میں برکت عطا کی جائے گی ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبُّنَا» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ جب دسترخوان اٹھا لیا جاتا تو نبی ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے :’’ ہر قسم کی بہت زیادہ پاکیزہ اور بابرکت حمد اللہ کے لیے ہے ، کفایت کی گئی نہ چھوڑی گئی ، اور نہ اس سے بے نیازی دکھائی جائے ، اے ہمارے رب !‘‘ رواہ البخاری ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيَرْضَى عنِ العبدِ أنْ يأكلَ الأكلَةَ فيحمدُه عَلَيْهِ أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وسنذكرُ حَدِيثي عائشةَ وَأبي هريرةَ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الدُّنْيَا فِي «بَابِ فَضْلِ الْفُقَرَاءِ» إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ بندے کے اس طرز عمل سے خوش ہوتا ہے کہ وہ ایک لقمہ کھائے تو اس پر اس کی حمد بیان کرے یا وہ کوئی چیز پیئے تو اس پر اس کی حمد بیان کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\n وَسَنَذْکْرْ حَدِیْثَنْی عَائِشَۃَ وَاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ : مَا شَبعَ اٰلُ مُحَمَّدِ ، وَخَرَجَ النَّبِیُّ ﷺ مِنَ الدُّنْیَا ، فِیْ بَابِ فَضْلِ الْفُقَرَآءِ اِنْ شَاءَ اللہُ تَعَالیٰ ۔\nہم عائشہ ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے مروی احادیث :’’ ما شبع ال محمد ‘‘ اور خرج النبی ﷺ من الدنیا ‘‘ ان شاء اللہ تعالیٰ ’’ باب فضل الفقراء ‘‘ میں ذکر کریں گے ۔\n