بچے کو دودھ پلانے کا بیان
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ الرَّضَاعَةِ فَقَالَ سَعِيدٌ کُلُّ مَا کَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ وَإِنْ کَانَتْ قَطْرَةً وَاحِدَةً فَهُوَ يُحَرِّمُ وَمَا کَانَ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ فَإِنَّمَا هُوَ طَعَامٌ يَأْکُلُهُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ثُمَّ سَأَلْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ
ابراہیم بن عتبہ نے سعید بن مسیب سے پوچھا رضاعت کا حکم سعید نے کہا جو رضاعت دو برس کے اندر ہو اس سے حرمت ثابت ہوجائے گی اگرچہ ایک قطرہ ہو اور جو دو برس کے بعد اس سے حرمت ثابت نہ ہوگی بلکہ وہ مثل کھانوں کے ہے ابراہم نے کہا پھر میں نے عروہ بن زبیر سے پوچھا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا۔
Yahya related to me from Malik that Ibrahim ibn Uqba asked Said ibn al-Musayyab about suckling. Said said, "All that occurs in the first two years, even if it is only a drop, makes haram. Whatever is after two years, is only food that is eaten." Ibrahim ibn Uqba said, Then I asked Urwa ibn az-Zubayr and he told me the same as what Said ibn al-Musayyab said."
بچے کو دودھ پلانے کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ لَا رَضَاعَةَ إِلَّا مَا کَانَ فِي الْمَهْدِ وَإِلَّا مَا أَنْبَتَ اللَّحْمَ وَالدَّمَ
یحییٰ بن سعید نے کہا سعید بن مسیب کہتے ہیں رضاعت وہی ہے جو بچپن میں ہو جب بچہ جھولی میں رہتا ہو اور اس رضاعت سے خون اور گوشت بڑھے۔
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said that he heard Said ibn al-Musayyab say, "Suckling is only while the child is in the cradle. If not, it does not cause flesh and blood relations."
بچے کو دودھ پلانے کا بیان
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ الرَّضَاعَةُ قَلِيلُهَا وَکَثِيرُهَا تُحَرِّمُ وَالرَّضَاعَةُ مِنْ قِبَلِ الرِّجَالِ تُحَرِّمُ قَالَ يَحْيَی و سَمِعْت قَوْله تَعَالَی يَقُولُ الرَّضَاعَةُ قَلِيلُهَا وَکَثِيرُهَا إِذَا کَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ تُحَرِّمُ فَأَمَّا مَا کَانَ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ فَإِنَّ قَلِيلَهُ وَکَثِيرَهُ لَا يُحَرِّمُ شَيْئًا وَإِنَّمَا هُوَ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ
ابن شہاب کہتے تھے رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ حرمت ثابت کردیتی ہے اور رضاعت مروروں کی طرح سے بھی حرمت ثابت کردیتی ہے۔ کہا یحییٰ نے امام مالک کہتے تھے دو برس کے اندر رضاعت قلیل ہو یا کثیر حرمت ثابت کر دتیی ہے اور دو برس کی رضاعت سے حرمت ثابت نہیں ہوتی بلکہ وہ مثل اور کھانوں کے ہے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that he said, "Suckling however little or much, makes haram. Kinship by suckling makes men mahram."
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَضَاعَةِ الْکَبِيرِ فَقَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَکَانَ تَبَنَّی سَالِمًا الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَالِمٌ مَوْلَی أَبِي حُذَيْفَةَ کَمَا تَبَنَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَأَنْکَحَ أَبُو حُذَيْفَةَ سَالِمًا وَهُوَ يَرَی أَنَّهُ ابْنُهُ أَنْکَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مِنْ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ وَهِيَ مِنْ أَفْضَلِ أَيَامَی قُرَيْشٍ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی فِي کِتَابِهِ فِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ مَا أَنْزَلَ فَقَالَ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَائَهُمْ فَإِخْوَانُکُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيکُمْ رُدَّ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْ أُولَئِکَ إِلَی أَبِيهِ فَإِنْ لَمْ يُعْلَمْ أَبُوهُ رُدَّ إِلَی مَوْلَاهُ فَجَائَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ وَهِيَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ کُنَّا نَرَی سَالِمًا وَلَدًا وَکَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا فُضُلٌ وَلَيْسَ لَنَا إِلَّا بَيْتٌ وَاحِدٌ فَمَاذَا تَرَی فِي شَأْنِهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَيَحْرُمُ بِلَبَنِهَا وَکَانَتْ تَرَاهُ ابْنًا مِنْ الرَّضَاعَةِ فَأَخَذَتْ بِذَلِکَ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ فِيمَنْ کَانَتْ تُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنْ الرِّجَالِ فَکَانَتْ تَأْمُرُ أُخْتَهَا أُمَّ کُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ وَبَنَاتِ أَخِيهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنْ الرِّجَالِ وَأَبَی سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْکَ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ وَقُلْنَ لَا وَاللَّهِ مَا نَرَی الَّذِي أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ إِلَّا رُخْصَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَضَاعَةِ سَالِمٍ وَحْدَهُ لَا وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ عَلَيْنَا بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ فَعَلَی هَذَا کَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَضَاعَةِ الْکَبِيرِ
ابن شہاب سے سوال ہوا کہ بڑھ پن میں کوئی آدمی عورت کو دودھ پئے تو اس کا کیا حکم ہے انہوں نے کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ خذیفہ بن عتبہ بن ریبعہ جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھے اور جنگ بدر میں آپ ﷺ کے ساتھ تھے انہوں نے بیٹا بنایا تھا سالم کو تو سالم مولیٰ کہتے تھے انہوں بی خذیفہ کے جیسے زید کو بیٹا کیا تھا رسول اللہ ﷺ نے اور ابوخذیفہ نے سالم کا نکاح اپنی بھتجی فاطمہ بنت ولد سے کردیا تھا جو پہلے ہجرت کرنے والوں میں تھی اور تمام قریش کی ثیبہ عورتوں میں افضل تھی جب اللہ جل جلالہ نے اپنی کتاب میں اتارا زید بن حارثہ کے حق میں کہ ان کو کے باپو کا نام معلوم نہ ہوتا اپنے مالک کی طرف نسبت کئے جانے تو سہلہ بنت سہیل ابوحذیفہ کی جورو جو بنی عامر بن لوی کی اولاد میں سے تھی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم تو حضرت سالم ؓ کو اپنا بچہ سمجھتے تھے ہم ننگے کھلے ہوتے تھے وہ اندر چلا آتا تھا اب کیا کرنا چاہئیے دوسرا گھر بھی ہمارے پاس نہیں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو پانچ بار دودھ پلادے تو وہ تیرا محرم ہوجائے گا۔ پھر حضرت ابوحذیفہ ؓ کی بیوی نے ایسا ہی کیا اور سالم کو اپنا رضائی بیٹا سمجھنے لگی حضرت ام المومنین عائشہ ؓ اسی حدیث پر عمل کرتیں تھی اور جس مرد کو چاہتیں کہ اپنے پاس آیا جایا کرے تو اپنی بہن ام کلثوم کو حکم کرتیں اور اپنی بھتیجیوں کو کہ اس شخص کو اپنا دودھ پلادیں لیکن رسول اللہ ﷺ کی اور بیبیاں اس کا انکار کرتی تھیں کہ بڑے پن میں کوئی دودھ پی کر ان کا محرم بن جائے اور ان کے پاس آیا جایا کرے اور وہ یہ کہتی تھیں کہ یہ خاص رخصت تھی رسول اللہ ﷺ کی طرف سے حضرت سہلہ بنت سہیل ؓ کو قسم اللہ کی ایس رضاعت کی وجہ سے ہمارا کوئی محرم نہیں ہوسکتا۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that he was asked about the suckling of an older person. He said, Urwa ibn az-Zubayr informed me that Abu Hudhayfa ibn Utba ibn Rabia, one of the companions of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, who was present at Badr, adopted Salim (who is called Salim, the mawla of Abu Hudhayfa) as the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, adopted Zayd ibn Haritha. He thought of him as his son, and Abu Hudhayfa married him to his brothers sister, Fatima bint al-Walid ibn Utba ibn Rabia, who was at that time among the first emigrants. She was one of the best unmarried women of the Quraysh. When Allah the Exalted sent down in His Book what He sent down about Zayd ibn Haritha, Call them after their true fathers. That is more equitable in the sight of Allah. If you do not know who their fathers were then they are your brothers in the deen and your mawali, (Sura 33 ayat 5) people in this position were traced back to their fathers. When the father was not known, they were traced to their mawla. "Sahla bint Suhayl who was the wife of Abu Hudhayfa, and one of the tribe of Amr ibn Luayy, came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, Messenger of Allah! We think of Salim as a son and he comes in to see me while I am uncovered. We only have one room, so what do you think about the situation? The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Give him five drinks of your milk and he will be mahram by it. She then saw him as a foster son. Aisha umm al-muminin took that as a precedent for whatever men she wanted to be able to come to see her. She ordered her sister, Umm Kulthum bint Abi Bakr as-Siddiq and the daughters of her brother to give milk to whichever men she wanted to be able to come in to see her. The rest of the wives of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, refused to let anyone come in to them by such nursing. They said, No! By Allah! We think that what the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered Sahla bint Suhayl to do was only an indulgence concerning the nursing of Salim alone. No! By Allah! No one will come in upon us by such nursing! "This is what the wives of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, thought about the suckling of an older person."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَأَنَا مَعَهُ عِنْدَ دَارِ الْقَضَائِ يَسْأَلُهُ عَنْ رَضَاعَةِ الْکَبِيرِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ إِنِّي کَانَتْ لِي وَلِيدَةٌ وَکُنْتُ أَطَؤُهَا فَعَمَدَتْ امْرَأَتِي إِلَيْهَا فَأَرْضَعَتْهَا فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَقَالَتْ دُونَکَ فَقَدْ وَاللَّهِ أَرْضَعْتُهَا فَقَالَ عُمَرُ أَوْجِعْهَا وَأْتِ جَارِيَتَکَ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ رَضَاعَةُ الصَّغِيرِ
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ ایک شخص عبداللہ بن عمر کے پاس آیا میں ان کے ساتھ تھا دارالقضا کے پا پوچھنے لگا بڑے آدمی کی رضاعت کا کیا حکم ہے عبداللہ بن عمر نے کہا ایک شخص حضرت عمر کے پاس آیا بولا میری ایک لونڈی تھی اس سے میں صحبت کیا کرتا تھا میری جورو نے قصدا اسے دودھ پلایا دیا جب میں اس کے پاس جانے لگا بولی سن لے قسم اللہ کی میں اس کو دودھ پلا چکی ہوں حضرت عمر نے فرمایا اپنی بی بی کو سزادے اور اپنی لونڈی سے صحبت کر رضاعت چھوٹے پن میں ہوتی ہے۔
Yahya related to me from Malik that Abdullah ibn Dinar said, "A man came to Abdullah ibn Umar when I waswith him at the place where judgments were given and asked him about the suckling of an older person. Abdullah ibn Umar replied, A man came to Umar ibn al-Khattab and said, I have a slave-girl and I used to have intercourse with her. My wife went to her and suckled her. When I went to the girl, my wife told me to watch out, because she had suckled her! Umar told him to beat his wife and to go to his slave-girl because kinship by suckling was only by the suckling of the young. "
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا مُوسَی الْأَشْعَرِيَّ فَقَالَ إِنِّي مَصِصْتُ عَنْ امْرَأَتِي مِنْ ثَدْيِهَا لَبَنًا فَذَهَبَ فِي بَطْنِي فَقَالَ أَبُو مُوسَی لَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ حَرُمَتْ عَلَيْکَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ انْظُرْ مَاذَا تُفْتِي بِهِ الرَّجُلَ فَقَالَ أَبُو مُوسَی فَمَاذَا تَقُولُ أَنْتَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ لَا رَضَاعَةَ إِلَّا مَا کَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ فَقَالَ أَبُو مُوسَی لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْئٍ مَا کَانَ هَذَا الْحَبْرُ بَيْنَ أَظْهُرِکُمْ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابوموسیٰ اشعری سے کہا میں اپنی عورت کا دودھ چھاتی سے چوس رہا تھا وہ میرے پیٹ میں چلا گیا ابوموسیٰ نے کہا وہ میرے نزدیک وہ عورت تجھ پر حرام ہوگئی عبداللہ بن مسعود نے کہا دیکھو کیا مسئلہ بتاتے ہو اس شخص کو ابوموسیٰ بولے اچھا تم کیا کہتے ہو عبداللہ بن مسعود نے کہا رضاعت وہ ہے جو دو برس کے اندر ہو جب ابومویس نے کہا مجھ سے کچھ مت پوچھا کرو جب تک یہ عالم تم میں موجود ہے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that a man said to Abu Musa al-Ashari (RA), "I drank some milk from my wifes breasts and it went into my stomach." Abu Musa said, "I can only but think that she is haram for you." Abdullah ibn Masud said, "Look at what opinion you are giving the man." Abu Musa said, "Then what do you say?" Abdullah ibn Masud said, "There is only kinship by suckling in the first two years." Abu Musa said, "Do not ask me about anything while this learned man is among you."
رضاعت کی مختلف حدیثوں کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الْوِلَادَةِ
حضرت ام المومنین عائشہ سے روای تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رضاعت سے حرام ہوجاتا ہے جو نسب سے حرام ہوجاتا ہے۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Dinar from Sulayman ibn Yasar and from Urwa ibn az-Zubayr from Aisha umm al-muminin, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, " What is haram by birth is haram by suckling."
رضاعت کی مختلف حدیثوں کا بیان
عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَی عَنْ الْغِيلَةِ حَتَّی ذَکَرْتُ أَنَّ الرُّومَ وَفَارِسَ يَصْنَعُونَ ذَلِکَ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ
جذامہ بنت وہب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے قصد کیا تھا کہ منع کردوں جماع سے جن تک عورت اپنے بچے کو دودھ پلائے پھر مجھے معلوم ہوا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کیا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو نقصان نہیں ہوتا۔
Yahya related to me from Malik that Muhammad ibn Abd ar-Rahman ibn Nawfal said, Urwa ibn az-Zubayr informed me from Aisha umm al-muminin that Judama bint Wahb al-Asadiyya informed her that she heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, I intended to prohibit ghila but I remembered that the Greeks and Persians do that without it causing any injury to their children. " Malik explained, "Ghila is that a man has intercourse with his wife while she is suckling."
رضاعت کی مختلف حدیثوں کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنْ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِيمَا يُقْرَأُ مِنْ الْقُرْآنِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کِتَاب الْبُيُوعِ
حضرت عائشہ نے فرمایا پہلے قرآن شریف میں یہ اترا تھا کہ دس بارہ دودھ پلائے تو حرمت ثابت ہوتی ہے پھر منسوخ ہوگیا اور پانچ بار پلانا ٹھہرا رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور لوگ اس کو قرآن پڑھتے تھے۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr ibn Hazm from Amra bint Abd ar-Rahman that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "Amongst what was sent down of the Quran was ten known sucklings make haram - then it was abrogated by five known sucklings. When the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, died, it was what is now recited of the Quran." Yahya said that Malik said, "One does not act on this."
جو شخص غلام میں سے اپنا حصة آزاد کر دے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَکَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ فَأَعْطَی شُرَکَائَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي الْعَبْدِ يُعْتِقُ سَيِّدُهُ مِنْهُ شِقْصًا ثُلُثَهُ أَوْ رُبُعَهُ أَوْ نِصْفَهُ أَوْ سَهْمًا مِنْ الْأَسْهُمِ بَعْدَ مَوْتِهِ أَنَّهُ لَا يَعْتِقُ مِنْهُ إِلَّا مَا أَعْتَقَ سَيِّدُهُ وَسَمَّى مِنْ ذَلِكَ الشِّقْصِ وَذَلِكَ أَنَّ عَتَاقَةَ ذَلِكَ الشِّقْصِ إِنَّمَا وَجَبَتْ وَكَانَتْ بَعْدَ وَفَاةِ الْمَيِّتِ وَأَنَّ سَيِّدَهُ كَانَ مُخَيَّرًا فِي ذَلِكَ مَا عَاشَ فَلَمَّا وَقَعَ الْعِتْقُ لِلْعَبْدِ عَلَى سَيِّدِهِ الْمُوصِي لَمْ يَكُنْ لِلْمُوصِي إِلَّا مَا أَخَذَ مِنْ مَالِهِ وَلَمْ يَعْتِقْ مَا بَقِيَ مِنْ الْعَبْدِ لِأَنَّ مَالَهُ قَدْ صَارَ لِغَيْرِهِ فَكَيْفَ يَعْتِقُ مَا بَقِيَ مِنْ الْعَبْدِ عَلَى قَوْمٍ آخَرِينَ لَيْسُوا هُمْ ابْتَدَءُوا الْعَتَاقَةَ وَلَا أَثْبَتُوهَا وَلَا لَهُمْ الْوَلَاءُ وَلَا يَثْبُتُ لَهُمْ وَإِنَّمَا صَنَعَ ذَلِكَ الْمَيِّتُ هُوَ الَّذِي أَعْتَقَ وَأُثْبِتَ لَهُ الْوَلَاءُ فَلَا يُحْمَلُ ذَلِكَ فِي مَالِ غَيْرِهِ إِلَّا أَنْ يُوصِيَ بِأَنْ يَعْتِقَ مَا بَقِيَ مِنْهُ فِي مَالِهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَازِمٌ لِشُرَكَائِهِ وَوَرَثَتِهِ وَلَيْسَ لِشُرَكَائِهِ أَنْ يَأْبَوْا ذَلِكَ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي ثُلُثِ مَالِ الْمَيِّتِ لِأَنَّهُ لَيْسَ عَلَى وَرَثَتِهِ فِي ذَلِكَ ضَرَرٌ قَالَ مَالِك وَلَوْ أَعْتَقَ رَجُلٌ ثُلُثَ عَبْدِهِ وَهُوَ مَرِيضٌ فَبَتَّ عِتْقَهُ عَتَقَ عَلَيْهِ كُلُّهُ فِي ثُلُثِهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يُعْتِقُ ثُلُثَ عَبْدِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ لِأَنَّ الَّذِي يُعْتِقُ ثُلُثَ عَبْدِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ لَوْ عَاشَ رَجَعَ فِيهِ وَلَمْ يَنْفُذْ عِتْقُهُ وَأَنَّ الْعَبْدَ الَّذِي يَبِتُّ سَيِّدُهُ عِتْقَ ثُلُثِهِ فِي مَرَضِهِ يَعْتِقُ عَلَيْهِ كُلُّهُ إِنْ عَاشَ وَإِنْ مَاتَ عَتَقَ عَلَيْهِ فِي ثُلُثِهِ وَذَلِكَ أَنَّ أَمْرَ الْمَيِّتِ جَائِزٌ فِي ثُلُثِهِ كَمَا أَنَّ أَمْرَ الصَّحِيحِ جَائِزٌ فِي مَالِهِ كُلِّهِ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مشترک غلا میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے اور اس شخص کے پاس انتا مال کہ غلام کی قیمت دے سکے تو اس غلام کی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو موافق حصہ ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہوجائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جس قدر اس غلام میں سے آزاد ہوا ہے اتنا ہی حصہ آزاد رہے گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ مولیٰ اگر اپنے مرنے کے بعد اپنے غالم کا ایک حصہ جیسے ثلث یاربع یا نصف آزاد کر جائے تو بعد مولیٰ کے مرجانے کے اسی قدر حصہ جتنامولیٰ نے آزاد کیا تھا آزاد ہوجائے گا کیونکہ اس حصے کی آزادی بعد مولیٰ کے مرجانے کے لازم ہوئی اور جب تک مولیٰ ازندہ تھا اس کو اختیار تھا جب مرگیا تو موافق اس کی وصیت کے اسی قدر حصہ آزاد ہوگا اور باقی غلام آزاد نہ ہوگا اس واسطے کہ وہ غیر کی ملک ہوگا تو باقی غلام غیر کی طرف سے کیونکر آزاد ہوگا نہ اس نے آزادی شروع کی اور نہ ثابت کی اور نہ اس کے واسطے ولاء ہے بلکہ یہ میت کا فعل ہے اسی نے آزاد کیا اور اسی نے اپنے لئے ولاء ثابت کی تو غیر کے مالک میں کیونکر درست ہوگا البتہ اگر یہ وصیت کر جائے کہ باقی غلام بھی اس کے مال میں سے آزاد کردیا جائے گا اور ثلث مال میں سے وہ غلام آزاد ہوسکتا ہو تو آزاد ہوجائے گا پھر اس کے شریکوں یا وارثوں کو تعرض نہیں پہنچتا کیونکہ ان کا کچھ ضرر نہیں۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے اپنی بیماری میں تہائی غلام آزاد کردیا تو وہ ثلث مال میں سے پورا آزاد ہوجائے گا کیونکہ یہ مثل اس شخص کے نہیں ہے جو اپنی تہائی غلام کی آزادی اپنی موت پر معلق کردے اس واسطے کہ اس کی آزادی قطعی نہیں جب تک زندہ ہے رجوع کرسکتا ہے اور جس نے اپنے مرض میں تہائی غلام قطعا آزاد کردیا اگر وہ زندہ رہ گیا تو کل غلام آزاد ہوجائے گا کیونکہ میت کا تہائی مال میں وصیت درست ہے جیسے صحیح سالم کا تصرف کل مالک میں درست ہے۔ کہا مالک نے جس شخص نے اپنا غلام قطعی طور پر آزاد کردیا یہاں تک کہ اس کی شہادت ہوگئی اور اس کی حرمت پوری ہوگئی اور اس کی میراث ثابت ہوگئی اب اس کے مولیٰ کو نہیں پہنچتا کہ اس پر کسی مال یا خدمت کی شرط لگادے یا اس پر کچھ غلامی کا بوجھ ڈالے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنا حصہ غلام میں سے آزاد کردے تو اس کی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو موافق حصہ کر آزاد کرے اور غلام اس کے اوپر آزاد ہوجائے گا پس جس صورت میں وہ غلام خاص اسی کی ملک ہے تو زیادہ تر اس کی آزادی پوری کرنے کا حقدار ہوگا اور غلامی کا بوجھ اس پر نہ رکھے سکے گا۔
Malik related to me from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace,said, "If a man frees his share of a slave and has enough money to cover the full price of the slave justly evaluated for him, he must buy out his partners so that the slave is completely freed. If he doesnt have the money, he partially frees him.
آزادی میں شرط کرنے کا بیان
عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ رَجُلًا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ عَبِيدًا لَهُ سِتَّةً عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَسْهَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ ثُلُثَ تِلْكَ الْعَبِيدِ
حسن بصری اور محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنے چھ غلاموں کو آزاد کردیا آپ ﷺ نے قرعہ ڈال کردو کی آزاد قائم رکھی۔
Malik related to me from Yahya ibn Said and somebody else from al-Hasan ibn Abi al-Hasan al-Basri and from Muhammad ibn Sirin that a man in the time of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, freed six of his slaves while he was dying. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, drew lots between them and freed a third of those slaves. Malik added that he had heard that the man did not have any property other than them.
آزادی میں شرط کرنے کا بیان
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَجُلًا فِي إِمَارَةِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ أَعْتَقَ رَقِيقًا لَهُ کُلَّهُمْ جَمِيعًا وَلَمْ يَکُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَأَمَرَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ بِتِلْکَ الرَّقِيقِ فَقُسِمَتْ أَثْلَاثًا ثُمَّ أَسْهَمَ عَلَی أَيِّهِمْ يَخْرُجُ سَهْمُ الْمَيِّتِ فَيَعْتِقُونَ فَوَقَعَ السَّهْمُ عَلَی أَحَدِ الْأَثْلَاثِ فَعَتَقَ الثُّلُثُ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهِ السَّهْمُ
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ ایک شخص نے ابان بن عثمان کی خلافت میں اپنے سب غلاموں کو آزاد کردیا اور سوا ان غلاموں کے اور کچھ مال اس شخص کے پاس نہ تھا تو ابان بن عثمان نے حکم کیا ان غلاموں کے تین حصے کئے گئے پھر جس حصے پر میت کا حصہ نکلا وہ غلام آزاد ہوگئے اور جب حصوں پر وارثوں کا نام نکلا وہ غلام رہے۔
Malik related to me from Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman that a man in the time of Aban ibn Uthmans amirate freed all of his slaves and did not have other property than them. Aban ibn Uthman took charge of the slaves and they were divided into three groups. Then he drew lots on the basis that which ever group drew the dead mans arrow would be free. The arrow fell to one of the thirds, and that third was freed.
جب غلام آزاد ہوجائے اس کا مال کون لے۔
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ مَضَتْ السُّنَّةُ أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا أُعْتِقَ تَبِعَهُ مَالُهُ قَالَ مَالِک وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِکَ أَيْضًا أَنَّ الْعَبْدَ وَالْمُکَاتَبَ إِذَا أَفْلَسَا أُخِذَتْ أَمْوَالُهُمَا وَأُمَّهَاتُ أَوْلَادِهِمَا وَلَمْ تُؤْخَذْ أَوْلَادُهُمَا لِأَنَّهُمْ لَيْسُوا بِأَمْوَالٍ لَهُمَا قَالَ مَالِک وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِکَ أَيْضًا أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا بِيعَ وَاشْتَرَطَ الَّذِي ابْتَاعَهُ مَالَهُ لَمْ يَدْخُلْ وَلَدُهُ فِي مَالِهِ قَالَ مَالِک وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِکَ أَيْضًا أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا جَرَحَ أُخِذَ هُوَ وَمَالُهُ وَلَمْ يُؤْخَذْ وَلَدُهُ
شہاب کہتے تھے کہ سنت جاری ہے اس بات پر جب غلام آزاد ہوجائے اس کا مال اسی کو ملے گا۔ کہا مالک نے اس کی دلیل یہ ہے کہ غلام اور مکاتب جب مفلس ہوجائیں تو ان کے مالک اور ام دلد لے لیں گے مگر اولاد کو نہ لیں گے کیونکہ اولاد غلام کا مالک نہیں ہے۔ کہا مالک نے اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ غلام جب بیچا جائے اور خریدار اس کے مالک لینے کی طرف کرلے تو اولاد اس میں داخل نہ ہوگی۔ کہا مالک نے غلام اگر کسی کو زخمی کرے تو اس دیت میں وہ خود اور مال اس کا گرفت کیا جائے گا مگر اس کی اولاد سے مواخذہ نہ ہوگا۔
Malik related to me that he heard Ibn Shihab say, "The precedent of the sunna is that when a slave is freed, his property follows him."
ام ولد کا آزاد ہونا اور آزاد کرنے کے اختیار کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ أَيُّمَا وَلِيدَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدِهَا فَإِنَّهُ لَا يَبِيعُهَا وَلَا يَهَبُهَا وَلَا يُوَرِّثُهَا وَهُوَ يَسْتَمْتِعُ بِهَا فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَتْهُ وَلِيدَةٌ قَدْ ضَرَبَهَا سَيِّدُهَا بِنَارٍ أَوْ أَصَابَهَا بِهَا فَأَعْتَقَهَا
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا جو لونڈی اپنے مالک سے جنے تو مالک اس کے بہ بیچے نہ ہبہ کر نہ وہ مالک کے وارثوں کے ملک میں آسکتی ہے بلکہ جب تک مالک زندہ رہے اس سے مزے لے جب مرجائے وہ آزاد ہوجائے گی۔ حضرت عمر بن خطاب کے پاس ایک لونڈی آئی جس کو اس کے مولیٰ نے آگ میں جلایا تھا آپ نے اس کو آزاد کردیا۔
Malik related to me from Nafi from Abdullah ibn Umar that Umar ibn al-Khattab said, "If a slave-girl gives birth to a child by her master, he must not sell her, give her away, or bequeath her. He enjoys her and when he dies she is free ."Malik said, "The generally agreed-on way of doing things among us is that a man is not permitted to be freed while he has a debt against him which exceeds his property. A boy is not allowed to be set free until he has reached puberty. The young person whose affairs are managed cannot set free in his property, even when he reaches puberty, until he manages his property."
جس لونڈی یا غلام کا عتاق واجب میں آزاد کرنا درست ہے اس کا بیان
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ أَنَّهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ جَارِيَةً لِي کَانَتْ تَرْعَی غَنَمًا لِي فَجِئْتُهَا وَقَدْ فُقِدَتْ شَاةٌ مِنْ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا فَقَالَتْ أَکَلَهَا الذِّئْبُ فَأَسِفْتُ عَلَيْهَا وَکُنْتُ مِنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ أَفَأُعْتِقُهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ اللَّهُ فَقَالَتْ فِي السَّمَائِ فَقَالَ مَنْ أَنَا فَقَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتِقْهَا
عمر بن حکم سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میری ایک لونڈی بکریاں چرا رہی تھی جب میں وہاں گیا دیکھا تو ایک بکری گم ہے پوچھا میں نے ایک بکری کہاں ہے بولی اس کو بھیڑیا کھا گیا ہے مجھے غصہ آیا آخر میں آدمی تھا میں نے ایک طماچہ اس کے منہ پر جڑا میرے ذمے ایک بردہ آزاد کرنا واجب ہے کیا اسی کو آزاد کر دوں آپ ﷺ نے اس لونڈی سے فرمایا اللہ جل جلالہ کہاں ہے وہ بولی آسمان پر ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا میں کون ہو بولی آپ ﷺ اللہ کے رسول پھر آپ ﷺ نے اس شخص کو فرمایا اس کو آزاد کر دے۔
Malik related to me from Hilal ibn Usama from Ata ibn Yasar that Umar ibn al-Hakam said, "I went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, Messenger of Allah, a slave girl of mine was tending my sheep. I came to her and one of the sheep was lost. I asked her about it and she said that a wolf had eaten it, so I became angry and I am one of the children of Adam, so I struck her on the face. As it happens, I have to set a slave free, shall I free her? The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, questioned her, Where is Allah? She said, In heaven. He said, Who am I? She said, You are the Messenger of Allah. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Free her. "
جس لونڈی یا غلام کا عتاق واجب میں آزاد کرنا درست ہے اس کا بیان
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ لَهُ سَوْدَائَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَإِنْ کُنْتَ تَرَاهَا مُؤْمِنَةً أُعْتِقُهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَتَشْهَدِينَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَتُوقِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ قَالَتْ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتِقْهَا عَنْ سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ الرَّجُلِ تَکُونُ عَلَيْهِ رَقَبَةٌ هَلْ يُعْتِقُ فِيهَا ابْنَ زِنًا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ ذَلِکَ يُجْزِئُ عَنْهُ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ الرَّجُلِ تَکُونُ عَلَيْهِ رَقَبَةٌ هَلْ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يُعْتِقَ وَلَدَ زِنًا قَالَ نَعَمْ ذَلِکَ يُجْزِئُ عَنْهُ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ایک شخص انصاری رسول اللہ ﷺ کے پاس کالی لونڈی لے کر آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے اوپر ایک مسلمان بردہ آزاد کرنا واجب ہے کیا میں اس کو آزاد کر دوں اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ مومنہ ہے تو میں اسی کو آزاد کر دوں آپ ﷺ نے اس لونڈی سے فرمایا کیا تو یقین کرتی ہے اس بات کو کہ نہیں ہے کوئی معبود سچا سوائے اللہ کے وہ بولی ہاں پھر آپ ﷺ نے فرمایا تو یقین کرتی ہے اس بات کو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں وہ بولی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو یقین کرتی ہے اس بات کر کہ مرنے کے بعد پھر جی اٹھیں گے بولی ہاں تب آپ ﷺ نے فرمایا اس کو آزاد کر دے ابوہریرہ ؓ سوال ہوا کہ جس شخص پر ایک بردہ آزاد کرنا لازم ہوگیا ہو ولد الزنا کو آزاد کرسکتا ہے جواب دیا ہاں کرسکتا ہے۔ فضالہ بن عبید انصاری سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا جس شخص پر ایک بردہ آزاد کرنا لازم ہوگیا وہ ولدا لزنا کو آزاد کرسکتا ہے جواب دیا ہاں کرسکتا ہے۔
Malik related to me from Ibn Shihab from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud that one of the Ansar came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, with a black slave-girl of his. He said, "Messenger of Allah, I must set a slave free who is a mumina. If you think that she is mumina, I will free her." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, questioned her, "Do you testify that there is no god but Allah?" She said, "Yes." "Do you testify that Muhammad is the Messenger of Allah? ﷺ " She said, "Yes." "Are you certain about the rising after death?" She said, "Yes." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Free her."
جن بردوں کا آزاد کرنا درست ہنہیں واجب اعتاق میں
أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ الرَّقَبَةِ الْوَاجِبَةِ هَلْ تُشْتَرَى بِشَرْطٍ فَقَالَ لَا قَالَ مَالِك وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الرِّقَابِ الْوَاجِبَةِ أَنَّهُ لَا يَشْتَرِيهَا الَّذِي يُعْتِقُهَا فِيمَا وَجَبَ عَلَيْهِ بِشَرْطٍ عَلَى أَنْ يُعْتِقَهَا لِأَنَّهُ إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَلَيْسَتْ بِرَقَبَةٍ تَامَّةٍ لِأَنَّهُ يَضَعُ مِنْ ثَمَنِهَا لِلَّذِي يَشْتَرِطُ مِنْ عِتْقِهَا قَالَ مَالِك وَلَا بَأْسَ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّقَبَةَ فِي التَّطَوُّعِ وَيَشْتَرِطَ أَنْ يُعْتِقَهَا قَالَ مَالِك إِنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي الرِّقَابِ الْوَاجِبَةِ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَنْ يُعْتَقَ فِيهَا نَصْرَانِيٌّ وَلَا يَهُودِيٌّ وَلَا يُعْتَقُ فِيهَا مُكَاتَبٌ وَلَا مُدَبَّرٌ وَلَا أُمُّ وَلَدٍ وَلَا مُعْتَقٌ إِلَى سِنِينَ وَلَا أَعْمَى وَلَا بَأْسَ أَنْ يُعْتَقَ النَّصْرَانِيُّ وَالْيَهُودِيُّ وَالْمَجُوسِيُّ تَطَوُّعًا لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً فَالْمَنُّ الْعَتَاقَةُ قَالَ مَالِك فَأَمَّا الرِّقَابُ الْوَاجِبَةُ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي الْكِتَابِ فَإِنَّهُ لَا يُعْتَقُ فِيهَا إِلَّا رَقَبَةٌ مُؤْمِنَةٌ قَالَ مَالِك وَكَذَلِكَ فِي إِطْعَامِ الْمَسَاكِينِ فِي الْكَفَّارَاتِ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُطْعَمَ فِيهَا إِلَّا الْمُسْلِمُونَ وَلَا يُطْعَمُ فِيهَا أَحَدٌ عَلَى غَيْرِ دِينِ الْإِسْلَامِ
عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا کہ جس بردہ کا آزاد کرنا واجبہو وہ شرط لگا کر خرید کیا جائے کہا نہیں۔ کہا مالک نے جو شخص غلام کو آزاد کرنے کے لئے اور اس پر آزاد کرنا واجب ہو تو اس شرط سے نہ خریدے کہ میں آزاد کردوں گا اس واسطے کہ اگر اس شرط سے خریدے گا تو بائع (بچنے والا) رعایت کرکے اس کی قیمت کم کردے گا اس صورت میں وہ پورارقبہ نہ ہوگا۔
Malik related to me that he had heard that Abdullah ibn Umar was asked whether a slave could be bought on the specific condition that it was to be used to fulfil the obligation of freeing a slave, and he said, "No."
مردے کی طرف سے آزاد کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ أُمَّهُ أَرَادَتْ أَنْ تُوصِيَ ثُمَّ أَخَّرَتْ ذَلِکَ إِلَی أَنْ تُصْبِحَ فَهَلَکَتْ وَقَدْ کَانَتْ هَمَّتْ بِأَنْ تُعْتِقَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَيَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا فَقَالَ الْقَاسِمُ إِنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمِّي هَلَکَتْ فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ
عبدالرحمن بن ابی عمرہ نے وصیت کرنے کا ارادہ کیا پھر صبح تک دیر کی رات کو مرگئیں اور ان کا قصد بردہ آزاد کرنے کا تھا عبدالرحمن نے کہا میں نے قاسم بن محمد سے پوچھا اگر میں اپنی ماں کی طرف سے آزاد کر دوں تو ان کو کچھ فائدہ ہوگا قاسم نے کہا سعد بن عبادہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میری ماں مرگئی اگر میں اس کی طرف سے آزاد کر دں کیا اس کو فائدہ ہوگا آپ ﷺ نے فرمایا ہان۔
13 Malik related to me from Abd ar-Rahman ibn Abi Amra al-Ansari that his mother had wanted to make a bequest, but she delayed until morning and died. She had intended to set someone free, so Abd ar-Rahman said, I said to al-Qasim ibn Muhammad, Will it help her if I free a slave for her? Al-Qasim replied, Sad ibn Ubadah said to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, My mother died, will it help her if I set a slave free for her? The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said "Yes." "
مردے کی طرف سے آزاد کرنے کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ فِي نَوْمٍ نَامَهُ فَأَعْتَقَتْ عَنْهُ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِقَابًا کَثِيرَةً قَالَ مَالِک وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِکَ
یحییٰ بن سعید نے کہا عبدالرحمن بن ابوبکرسوتے سوتے مرگئے حضرت عائشہ نے ان کی طرف سے بہت سے بردے آزاد کئے۔
Malik related to me that Yahya ibn Said said, Abd ar-Rahman ibn Abi Bakr died in his sleep, and Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, set free many slaves for him." Malik said, "This is what I like best of what I have heard on the subject."
بردے آزاد کرنے کی فضلیت اور زانیہ اور ولد زنا کے آزاد کرنے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الرِّقَابِ أَيُّهَا أَفْضَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغْلَاهَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوا کون سا بررہ آزاد کرنا افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا جس کی قیمت بھاری ہو اور اس کے مالکون کر بہت مرغوب ہو۔
Malik related to me from Hisham ibn Urwa from his father from Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was asked what was the most excellent kind of slave to free. The Messenger of Allah, May Allah bless him and grant him peace, answered, "The most expensive and the most valuable to his master."