Mauwatta Imam Malik

All 1,740 hadiths in order · Page 57 of 87

1121Mauwatta Imam Malik

عزل کے بیان میں

عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَاشْتَهَيْنَا النِّسَائَ وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْفِدَائَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ فَقُلْنَا نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ مَا عَلَيْکُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَةٍ کَائِنَةٍ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ کَائِنَةٌ

ابن محیریز سے روای تھے کہ میں مسجد میں گیا وہاں ابوسعید خدری کو بیٹھے دیکھا میں نے پوچھا عزل درست ہوئے انہوں نے کہا ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بن مصطلق میں گئے وہاں عورتیں کافروں کی قید ہوئی ہم لوگوں کو شہوت ہوئی اور مجردی دشوار گزری اور یہ بھی کہ ہم چاہتے تھے کہ ان عورتوں کو بیچ کر روپیہ حاصل کریں اس لے ہم نے چاہا کہ عزل کریں پھر ہم نے سوچا کہ رسول اللہ ﷺ موجود ہیں بغیر آپ ﷺ سے پوچھے کیونکر عزل کریں اس لئے آپ ﷺ سے پوچھا آپ ﷺ نے فرمایا عزل رکنے میں کچھ قباحت نہیں کیونکہ جس جان کو پیدا کرنا اللہ کو منظور ہے وہ خوار مخواہ پیدا ہوگی قیامت تک۔

1122Mauwatta Imam Malik

عزل کے بیان میں

عَنْ مَالِك عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَعْزِلُ

سعد بن ابی وقاص عزل کرتے تھے

1123Mauwatta Imam Malik

عزل کے بیان میں

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِأَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ کَانَ يَعْزِلُ

ابو ایوب انصاری عزل کرتے تھے۔

1124Mauwatta Imam Malik

عزل کے بیان میں

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ لَا يَعْزِلُ وَكَانَ يَكْرَهُ الْعَزْلَ

عبداللہ بن عمر عزل نہیں کرتے تھے اور مکروہ جانتے تھے۔

1125Mauwatta Imam Malik

عزل کے بیان میں

عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرِو بْنِ غَزِيَّةَ أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَجَائَهُ ابْنُ قَهْدٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّ عِنْدِي جَوَارِيَ لِي لَيْسَ نِسَائِي اللَّاتِي أُکِنُّ بِأَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْهُنَّ وَلَيْسَ کُلُّهُنَّ يُعْجِبُنِي أَنْ تَحْمِلَ مِنِّي أَفَأَعْزِلُ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَفْتِهِ يَا حَجَّاجُ قَالَ فَقُلْتُ يَغْفِرُ اللَّهُ لَکَ إِنَّمَا نَجْلِسُ عِنْدَکَ لِنَتَعَلَّمَ مِنْکَ قَالَ أَفْتِهِ قَالَ فَقُلْتُ هُوَ حَرْثُکَ إِنْ شِئْتَ سَقَيْتَهُ وَإِنْ شِئْتَ أَعْطَشْتَهُ قَالَ وَکُنْتُ أَسْمَعُ ذَلِکَ مِنْ زَيْدٍ فَقَالَ زَيْدٌ صَدَقَ

حجاج بن عمرو بن غزیہ بن ثابت پاس بیٹھے تھے اتنے میں ابن فہد ایک شخص یمن کا رہنے والا آیا اور کہا اے ابس سعید میرے پاس چند لونڈیاں ہیں جو میری بیبیوں سے بہتر ہیں مکر میں نہ نہیں چاہتا کہ وہ سب حاملہ ہوجائیں کیا میں اس سے عزل کروں زید نے حجاج سے کہا مسئلہ بتاؤ حجاج نے کہا اللہ تمہیں بخشے ہم تو تمہارے پاس علم سکیھنے کو آتے ہیں زید نے کہا بتاؤ جب میں نے کہا وہ کھیتیاں ہیں تیری تیرا جی چاہے ان میں پانی پہنچا یا جی چاہے سوکھا رکھ میں اس یا ہی سنا کرتا تھا زید سے زید نے کہا سچ بولا۔

1126Mauwatta Imam Malik

عزل کے بیان میں

عَنْ ذَفِيفٌ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ الْعَزْلِ فَدَعَا جَارِيَةً لَهُ فَقَالَ أَخْبِرِيهِمْ فَکَأَنَّهَا اسْتَحْيَتْ فَقَالَ هُوَ ذَلِکَ أَمَّا أَنَا فَأَفْعَلُهُ يَعْنِي أَنَّهُ يَعْزِلُ قَالَ مَالِک لَا يَعْزِلُ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ الْحُرَّةَ إِلَّا بِإِذْنِهَا وَلَا بَأْسَ أَنْ يَعْزِلَ عَنْ أَمَتِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهَا وَمَنْ کَانَتْ تَحْتَهُ أَمَةُ قَوْمٍ فَلَا يَعْزِلُ إِلَّا بِإِذْنِهِمْ

ذفیف سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ سے سوال ہوا عزل کرنا درست ہے یا نہیں انہوں نے اپنی لونڈی کو بلا کر کہا تو ان کو بتادے اس نے شرم کیا عبداللہ بن عباس نے کہا دیکھ لو ایسا ہی حکم ہے میں تو عزل کیا کرتا ہوں۔ کہا مالک نے آزاد عورت سے عزل کرنا بغیر اس کی اجازت کے درست نہیں اور اپنی لونڈی سے بغیر اس کی اجازت کے درست ہے اور پرائی لونڈی سے اس کے مالک کی اجازت لینا ضروری ہے۔

1127Mauwatta Imam Malik

سوگ کا بیان

عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثَةِ قَالَتْ زَيْنَبُ دَخَلْتُ عَلَی أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُهُ فَدَهَنَتْ بِهِ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَحَتْ بِعَارِضَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَيْتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

حمید بن نافع ؓ سے روایت ہے کہ زبیب بنت ابی سلمہ نے تین حدیثیں ان سے بیان کیں ایک تو یہ کہ میں ام حبیبہ کے پاس گئی جو بی بی تھیں آپ ﷺ کی جب ان کے باپ ابوسفیان بن حرب مرے تھے تو ام حبیبہ نے خوشبو منگوائی جس روز دی ملی ہوئی تھی وہ خوشبو ایک لونڈی کے لگا کر اپنے کلوں پر لگالی اور کہا کہ قسم اللہ کی مجھ خوشبو کی احتیاج نہیں مگر میں نے رسول اللہ ﷺ نے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور پچھلے دن پر اس کو درست نہیں کہ کسی مردے پر تین دن تک زیادہ سوگ کرے سو اے خاوند کے کہ اس پر چار مہینے دس دن تک سوگ کرے

1128Mauwatta Imam Malik

سوگ کا بیان

قَالَتْ زَيْنَبُ ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَی زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ حَاجَةٌ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَی مَيْتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

زینب نے کہا میں زینب بن جحش پاس جو بی بی تھیں آپ ﷺ کی گئی جب ان کے بھائی مرگئے تھے انہوں نے خوشومنگا کر لگائی اور کہا قسم اللہ کی مجھے خوشبو کی حاجت نہیں مگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور پچھلے دن پر اس کو درست نہیں کہ سوگ کرے کسی مردے پر تین روز سے زیادہ مگر خاوند پر چار مہینے دس دن تک سوگ کرے۔

1129Mauwatta Imam Malik

سوگ کا بیان

قَالَتْ زَيْنَبُ وَسَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدْ اشْتَکَتْ عَيْنَيْهَا أَفَتَکْحُلُهُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا کُلُّ ذَلِکَ يَقُولُ لَا ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَقَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ قَالَ حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ فَقَالَتْ زَيْنَبُ کَانَتْ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلَا شَيْئًا حَتَّی تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ تُؤْتَی بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْئٍ إِلَّا مَاتَ ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَی بَعْرَةً فَتَرْمِي بِهَا ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَائَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ

زینب نے کہا میں نے اپنی ماں ام سلمہ کے پاس گئی جو بی بی تھیں آپ ﷺ کی انہوں نے کہا ایک عورت آئی ٤ رسول اللہ ﷺ کے پاس اور کہنے لگی یا رسول اللہ ﷺ میری بیٹی کا خاوند مرگیا اور اس کی آنکھیں دکھتی ہیں اگر فرمائیے تو سرمہ لگا دوں آپ نے فرمایا نہیں نہیں دو بار یا تین بار بلکہ چار مہینے دس دن تک پرہیز کرنا ضروری ہے اور جاہلیت میں ایک سال تک پرہیز کرتے تھے جب سال ختم ہوتا تو اونٹ کی مینگنی پھینکتے تھے۔ حمید نے کہا میں نے زینب سے پوچھا اونٹ کی مینگنی پھینکنے کیا مطلب ہے انہوں نے کہا زمانہ جاہلیت میں جب عورت کا خاوند مرجاتا تو ایک کھنڈر میں چلے جاتے اور برے سے برے کپڑے پہن لیتے پھر ایک سال تک خوشبو وغیرہ کچھ نہ لگاتے بعد سال کے ایک جانور لاتے گدھا یا بکری یا کوئی پرندہ اس کو اپنے بدن پر ملتے اکثر وہ مرجاتا بعد اس کے باہر نکلتے تو ایک اونٹ کی مینگنی اس کو دیتے اس کو پھینک کر پھر اختیار ہوتا چاہے خوشبو لگائے یا اور کوئی کام کرے۔

1130Mauwatta Imam Malik

سوگ کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ زَوْجَيْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَيْتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ عَنْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لِامْرَأَةٍ حَادٍّ عَلَی زَوْجِهَا اشْتَکَتْ عَيْنَيْهَا فَبَلَغَ ذَلِکَ مِنْهَا اکْتَحِلِي بِکُحْلِ الْجِلَائِ بِاللَّيْلِ وَامْسَحِيهِ بِالنَّهَارِ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُمَا کَانَا يَقُولَانِ فِي الْمَرْأَةِ يُتَوَفَّی عَنْهَا زَوْجُهَا إِنَّهَا إِذَا خَشِيَتْ عَلَی بَصَرِهَا مِنْ رَمَدٍ أَوْ شَکْوٍ أَصَابَهَا إِنَّهَا تَکْتَحِلُ وَتَتَدَاوَی بِدَوَائٍ أَوْ کُحْلٍ وَإِنْ کَانَ فِيهِ طِيبٌ قَالَ مَالِک وَإِذَا کَانَتْ الضَّرُورَةُ فَإِنَّ دِينَ اللَّهِ يُسْرٌ

حضرت ام المومنین عائشہ اور حضرت ام المومنین حفصہ سے رواتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور پچھلے دن پر اس کو درست نہیں سوگ کرنا کسی مردے پر تین راتوں سے زیادہ مگر خاوند پر۔ حضرت ام سلمہ نے ایک عورت سے کہا جو سوگ میں تھی پنی خاوند کے اور اس کی آنکھ دکھتی تھی رات کو وہ سرمہ لگالے جس سے آنگھ روشن ہو اور دن کو پونچھ ڈالے۔ سالم بن عبداللہ اور سلیمان بن یسار کہتے تھے جس عورت کا خاوند مرجائے اور اس کو آنکھ کے آشوب یا کسی اور دکھ کی تکلیف ہو وہ سرمہ لگائے اور دو کرے اگرچہ اس میں خوشبو ہو۔ کہا مالک نے جب ضرورت ہو تو اللہ جل جلالہ کا دین آسان ہے۔

1131Mauwatta Imam Malik

سوگ کا بیان

عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ اشْتَکَتْ عَيْنَيْهَا وَهِيَ حَادٌّ عَلَی زَوْجِهَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَلَمْ تَکْتَحِلْ حَتَّی کَادَتْ عَيْنَاهَا تَرْمَصَانِ قَالَ مَالِك تَدَّهِنُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا بِالزَّيْتِ وَالشِّيرِقِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ طِيبٌ قَالَ مَالِك وَلَا تَلْبَسُ الْمَرْأَةُ الْحَادُّ عَلَى زَوْجِهَا شَيْئًا مِنْ الْحَلْيِ خَاتَمًا وَلَا خَلْخَالًا وَلَا غَيْرَ ذَلِكَ مِنْ الْحَلْيِ وَلَا تَلْبَسُ شَيْئًا مِنْ الْعَصْبِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَصْبًا غَلِيظًا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِشَيْءٍ مِنْ الصِّبْغِ إِلَّا بِالسَّوَادِ وَلَا تَمْتَشِطُ إِلَّا بِالسِّدْرِ وَمَا أَشْبَهَهُ مِمَّا لَا يَخْتَمِرُ فِي رَأْسِهَا و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَهِيَ حَادٌّ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ جَعَلَتْ عَلَى عَيْنَيْهَا صَبِرًا فَقَالَ مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ إِنَّمَا هُوَ صَبِرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اجْعَلِيهِ فِي اللَّيْلِ وَامْسَحِيهِ بِالنَّهَارِ قَالَ مَالِك الْإِحْدَادُ عَلَى الصَّبِيَّةِ الَّتِي لَمْ تَبْلُغْ الْمَحِيضَ كَهَيْئَتِهِ عَلَى الَّتِي قَدْ بَلَغَتْ الْمَحِيضَ تَجْتَنِبُ مَا تَجْتَنِبُ الْمَرْأَةُ الْبَالِغَةُ إِذَا هَلَكَ عَنْهَا زَوْجُهَا قَالَ مَالِك تُحِدُّ الْأَمَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا شَهْرَيْنِ وَخَمْسَ لَيَالٍ مِثْلَ عِدَّتِهَا قَالَ مَالِك لَيْسَ عَلَى أُمِّ الْوَلَدِ إِحْدَادٌ إِذَا هَلَكَ عَنْهَا سَيِّدُهَا وَلَا عَلَى أَمَةٍ يَمُوتُ عَنْهَا سَيِّدُهَا إِحْدَادٌ وَإِنَّمَا الْإِحْدَادُ عَلَى ذَوَاتِ الْأَزْوَاجِ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَقُولُ تَجْمَعُ الْحَادُّ رَأْسَهَا بِالسِّدْرِ وَالزَّيْتِ

صفیہ بنت ابوعبید اپنے خاوند یعنی عبداللہ بن عمر کے سوگ میں تھیں انہوں نے سرمہ نہ لگایا اور ان کی آنکھیں دکھتی تھیں یہاں تک کہ چیپڑ آنے لگا۔ کہا مالک نے جو عورت سوگ میں ہو اپنے خاوند کے اور وہ زیور قسم سے کچھ نہ پہنے نہ انگوٹھی نہ پائے زیب نہ اور زیوہ نہ یمن کا کپڑا مگر جب موٹا اور سخت ہو نہ رنگا ہو کپڑا مگر سیاہ نہ کنگھی کرے نہ کھلی ڈالے مگر بیری وغیرہ کے پتوں سے بالوں کو دھو سکت ہے یا اور کسی چیز سے جس میں خوشبو نہ ہو مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ام سلمہ ؓ کے پاس گئے اور وہ اپنے خاوند ابوسلمہ کے سوگ میں تھیں انہوں نے اپنی آنکھوں پر ایلوا لگایا تھا آپ ﷺ نے نے پوچھا اے ام سلمہ؟ یہ کیا لگایا انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ ایلوا ہے آپ ﷺ نے فرمایا رات کو لگایا کر اور دن کو پونچھ ڈالا کر۔ کہا مالک نے اگر عورت نابالغ ہو اس کو حیض نہ آتا ہو وہ بالغہ کی طرح ہے جب اس کا خاوند مرجائے تو سوگ کرے اور جن امور سے بالغہ کو پرہیز کرنا لازم ہے ان سے بھی پرہیز کرے۔ کہا مالک نے جب لونڈی کا خاوند مرجائے وہ دو مہینے پانچ دن تک سوگ کرے۔ کہا امام مالک نے جب ام ولد کا مولیٰ مرجائے تو وہ سوگ نہ کرے کیونکہ سوگ ان عورتوں پر لازم ہے جو خاوند والیاں ہوں۔ حضرت بی بی ام سلمہ فرماتی تھیں جو عورت سوگ میں ہو وہ اپنے سر کو بیری کے پتے سے دھو سکتی ہے اور زیتون کا تیل ڈال سکتی ہے۔

1132Mauwatta Imam Malik

بچے کو دودھ پلانے کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمٍّ لِحَفْصَةَ مِنْ الرَّضَاعَةِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ کَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ

رسول اللہ ﷺ حضرت عائشہ کے گھر میں ان کے پاس تھے اتنے میں حضرت عائشہ نے ایک مرد کی آواز سنی جو حضرت حفصہ کے گھر جانے کی اجازت چاہتا تھا حضرت عائشہ بولیں یا رسول اللہ ﷺ یہ کون شخص ہے جو آپ ﷺ کے گھر میں جانا چاہتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ فلاں شخص ہے حضرت حفصہ کے رضاعی چچا کا نام لیا جب حضرت عائشہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر میرا رضاعی چچا زندہ ہوتا تو کیا میرے سامنے آتا آپ ﷺ نے فرمایا ہاں رضاعت حرام کرتی ہے جیسے نسب حرام کرتا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr from Amra bint Abd ar-Rahman that Aisha, umm al-muminin informed her that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was with her and she heard the voice of a man asking permission to enter the room of Hafsa. Aisha said that she had said, "Messenger of Allah! There is a man asking permission to enter your house!" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "I think it is so-and-so" (referring to a paternal uncle of Hafsa by suckling). Aisha said, "Messenger of Allah! If so-and-so were alive (referring to her paternal uncle by suckling) could he enter where I am?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Yes. Suckling makes haram as birth makes haram."

1133Mauwatta Imam Malik

بچے کو دودھ پلانے کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ جَائَ عَمِّي مِنْ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ عَلَيَّحَتَّی أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ إِنَّهُ عَمُّکِ فَأْذَنِي لَهُ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ فَقَالَ إِنَّهُ عَمُّکِ فَلْيَلِجْ عَلَيْکِ قَالَتْ عَائِشَةُ وَذَلِکَ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ وَقَالَتْ عَائِشَةُ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الْوِلَادَةِ

حضرت عائشہ نے کہا میرا رضاعی چچا میرے پاس آیا اور مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگی میں نے کہا رسول اللہ ﷺ کے پوچھے بغیر اجازت نہ دوں گی جب رسول اللہ ﷺ آئے تو پوچھا آپ ﷺ نے فرمایا وہ تیرا چچا ہے تو اس کو آنے کی اجازت دے دے میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھ کو تو عورت نے دودھ پلایا تھا مرد کا اس سے کیا تعلق آپ ﷺ نے فرمایا وہ تیرا چچا ہے بیشک تیرے پاس آئے گا اور یہ گفتگو اس وقت کی ہے جب آیت حجاب اتر چکی تھی حضرت عائشہ نے کہا جو رشتے نسب سے حرام ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہیں۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that Aisha, umm al-muminin said, "My paternal uncle by suckling came to me and I refused to give him permission to enter until I had asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, about it. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came and I asked him about it. He said, He is your paternal uncle, so give him permission. So I said, Messenger of Allah! The woman nursed me not the man. He said, He is your paternal uncle, so let him enter. " Aisha said, "That was after the veil had been imposed on us." Aisha added, "What is haram by birth is made haram by suckling."

1134Mauwatta Imam Malik

بچے کو دودھ پلانے کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَائَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا وَهُوَ عَمُّهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ بَعْدَ أَنْ أُنْزِلَ الْحِجَابُ قَالَتْ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ عَلَيَّ فَلَمَّا جَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ عَلَيَّ

حضرت عائشہ نے کہا کہ میرا رضاعی چچا افلح میرے پاس آیا آیت حجاب کے اترنے کے بعد میں نے اس کو اندر آنے کی اجازت نہ دی جب رسول اللہ ﷺ آئے تو میں آپ ﷺ کو اس واقعہ کی خبر دی تو آپ ﷺ نے میرے پاس اسے آنے کی اجازت دے دی۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Urwa ibn az-Zubayr that Aisha umm al-muminin told him that Aflah, the brother of Abul-Quays came and asked permission to visit her after the veil had been lowered, and he was her paternal uncle by suckling. She said, "I refusedto give him permission to enter. When the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came, I told him about what I had done, and he ordered me to give him permission to enter."

1135Mauwatta Imam Malik

بچے کو دودھ پلانے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ مَا کَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ وَإِنْ کَانَ مَصَّةً وَاحِدَةً فَهُوَ يُحَرِّمُ

عبداللہ بن عباس کہتے تھے دو برس کے اندر بچہ اگر ایک دفعہ بھی دودھ چوسے تو رضاعت کی حرمت ثابت ہوگی

Yahya related to me from Malik from Thawr ibn Zayd ad-Dili that Abdullah ibn Abbas said, "The milk which a child under two years old sucks, even if it is only one suck, makes the foster relatives haram."

1136Mauwatta Imam Malik

بچے کو دودھ پلانے کا بیان

عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ کَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَأَرْضَعَتْ إِحْدَاهُمَا غُلَامًا وَأَرْضَعَتْ الْأُخْرَی جَارِيَةً فَقِيلَ لَهُ هَلْ يَتَزَوَّجُ الْغُلَامُ الْجَارِيَةَ فَقَالَ لَا اللِّقَاحُ وَاحِدٌ

عمرو بن شرید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس سے سوال ہوا اگر ایک شخص کی دو بیبیاں ہوں ان میں سے ایک بی بی ایک لڑکے کو دودھ پلائے اور دوسری بی بی ایک لڑکی کو کیا اس لڑکے کا نکاح اس لڑکی سے درست ہے جواب دیا درست نہیں کیونکہ دونوں کا باپ ایک ہی ہے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Amr ibn ash-Sharid that Abdullah ibn Abbas was asked whether, if a man had two wives, and one of them nursed a slave-boy, and the other had nursed a slave-girl, could the slave-boy marry the slave-girl. He said, "No. The husband is the same."

1137Mauwatta Imam Malik

بچے کو دودھ پلانے کا بیان

عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ لَا رَضَاعَةَ إِلَّا لِمَنْ أُرْضِعَ فِي الصِّغَرِ وَلَا رَضَاعَةَ لِکَبِيرٍ

عبداللہ بن عمر کہتے تھے رضاعت وہی ہے جو دو برس کے اندر ہو اس کے بعد رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said, "There is no kinship by suckling except for a person who is nursed when he is small. There is no kinship by suckling over the age of two years."

1138Mauwatta Imam Malik

بچے کو دودھ پلانے کا بیان

عَنْ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرْسَلَتْ بِهِ وَهُوَ يَرْضَعُ إِلَی أُخْتِهَا أُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالَتْ أَرْضِعِيهِ عَشْرَ رَضَعَاتٍ حَتَّی يَدْخُلَ عَلَيَّ قَالَ سَالِمٌ فَأَرْضَعَتْنِي أُمُّ کُلْثُومٍ ثَلَاثَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ مَرِضَتْ فَلَمْ تُرْضِعْنِي غَيْرَ ثَلَاثِ رَضَعَاتٍ فَلَمْ أَکُنْ أَدْخُلُ عَلَی عَائِشَةَ مِنْ أَجْلِ أَنَّ أُمَّ کُلْثُومٍ لَمْ تُتِمَّ لِي عَشْرَ رَضَعَاتٍ

حضرت عائشہ نے سالم بن عبداللہ کو جب وہ شیر خوار تھے اپنے بہن ام کلثوم کے پاس بھیجا اس لئے کہ دس بار اس کو دودھ پلائی بغیر پردہ کے میرے سامنے آجائیں سالم نے کہا ام کلثوم نے مجھ کو تین بار دودھ پلایا بعد اس کے میں بیمار ہوگیا اس لئے میں حضرت عائشہ کے سامنے نہیں جاتا کیونکہ میں نے ام کلثوم کا دس بار دودھ نہیں پیا تھا۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Salim ibn Abdullah ibn Umar informed him that Aisha umm al-muminin sent him away while he was being nursed to her sister Umm Kulthum bint Abi Bakr as-Siddiq and said, "Suckle him ten times so that he can come in to see me." Salim said, "Umm Kulthum nursed me three times and then fell ill, so that she only nursed me three times. I could not go in to see Aisha because Umm Kulthum did not finish for me the ten times."

1139Mauwatta Imam Malik

بچے کو دودھ پلانے کا بیان

عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ حَفْصَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرْسَلَتْ بِعَاصِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ إِلَی أُخْتِهَا فَاطِمَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ تُرْضِعُهُ عَشْرَ رَضَعَاتٍ لِيَدْخُلَ عَلَيْهَا وَهُوَ صَغِيرٌ يَرْضَعُ فَفَعَلَتْ فَکَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا

صفیہ بن ابی عبید سے روایت ہے کہ ام المومنین حفصہ نے عاصم بن عبداللہ بن سعد کو ضب وہ شیر خوار تھے اپنی بہن فاطمہ بنت عمر بن خطاب کے پاس بھیجا تاکہ ان کو دس مرتبہ دودھ پلائیں جب وہ بڑے ہوجائیں تو اسن کے سامنے ہوا کریں فاطمہ نے عاصم کو دودھ پلادیا پھر عاصم جب بڑے ہوئے تو حضرت حفصہ ان کے سامنے ہوا کرتیں۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Safiyya bint Abi Ubayd told him that Hafsa, umm al-muminin, sent Asim ibn Abdullah ibn Sad to her sister Fatima bint Umar ibn al-Khattab for her to suckle him ten times so that he could come in to see her. She did it, so he used to come in to see her.

1140Mauwatta Imam Malik

بچے کو دودھ پلانے کا بیان

عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا مَنْ أَرْضَعَتْهُ أَخَوَاتُهَا وَبَنَاتُ أَخِيهَا وَلَا يَدْخُلُ عَلَيْهَا مَنْ أَرْضَعَهُ نِسَائُ إِخْوَتِهَا

قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ سامنے ہوتیں ان لوگوں کے جن کو دودھ پلایا تھا ان کی بہنوں اور بھیتجوں کے اور نہیں سامنے ہوتی تھیں ان لوگوں کے جن کو دودھ پلایا تھا ان کی بھاوجوں نے۔

Yahya related to me from Malik from Abd ar-Rahman ibn al-Qasim that his father told him that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, admitted those whom her sisters and the daughters of her brother had nursed, and she did not admit those who were nursed by the wives of her brothers.