Mauwatta Imam Malik

All 1,740 hadiths in order · Page 52 of 87

1021Mauwatta Imam Malik

ولیمہ کے بیان میں

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا فَقَالَ زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ

انس بن مالک سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور ان پر زردی کا نشان تھا رسول اللہ ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیا مہر دیا ہے انہوں نے کہا ایک گٹھلی برابر سونا آپ ﷺ نے فرمایا ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری کا ہو۔

1022Mauwatta Imam Malik

ولیمہ کے بیان میں

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ لَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُولِمُ بِالْوَلِيمَةِ مَا فِيهَا خُبْزٌ وَلَا لَحْمٌ

یحی بن سعید نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ ولیہ کرتے تھے اس میں روٹی ہوتی تھی نہ گوشت۔

1023Mauwatta Imam Malik

ولیمہ کے بیان میں

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُکُمْ إِلَی وَلِيمَةٍ فَلْيَأْتِهَا

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ولیمہ کی دعوت میں بلایا جائے تو حاضر ہو۔

1024Mauwatta Imam Malik

ولیمہ کے بیان میں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَی لَهَا الْأَغْنِيَائُ وَيُتْرَکُ الْمَسَاکِينُ وَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَی اللَّهَ وَرَسُولَهُ

ابوہریرہ ؓ کہتے تھے ولیمہ کا کھانا سب کھانوں سے برا ہے اس میں امیر بلائے جاتے ہیں اور فقیر چھوڑ دیئے جاتے ہیں اور جو شخص دعوت میں نہ آئے اس نے نافرمانی کی اللہ اور رسول کی۔

1025Mauwatta Imam Malik

ولیمہ کے بیان میں

عَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ قَالَ أَنَسٌ فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی ذَلِکَ الطَّعَامِ فَقَرَّبَ إِلَيْهِ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّائٌ قَالَ أَنَسٌ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّائَ مِنْ حَوْلِ الْقَصْعَةِ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّائَ بَعْدَ ذَلِکَ الْيَوْمِ

انس بن مالک کہتے تھے کہ ایک درزی نے رسول اللہ ﷺ کی کچھ کھانا پکا کر دعوت کی میں بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گیا وہ درزی جو کی روٹی اور کدو کا سالن سامنے لایا تو میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ پیالے میں سے کدو ڈھونڈھ کر کھاتے تھے اس روز سے میں بھی کدؤں کو پسند کرنے لگا۔

1026Mauwatta Imam Malik

نکاح کی مختلف حدیثوں کا بیان

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُکُمْ الْمَرْأَةَ أَوْ اشْتَرَی الْجَارِيَةَ فَلْيَأْخُذْ بِنَاصِيَتِهَا وَلْيَدْعُ بِالْبَرَکَةِ وَإِذَا اشْتَرَی الْبَعِيرَ فَلْيَأْخُذْ بِذِرْوَةِ سَنَامِهِ وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ

زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی عورت سے نکاح کرے یا لونڈی خریدے تو اس کی پیشانی پکڑ کر برکت کی دعا کرے اور جب اونٹ خریدے تو اس کی کوہان پر ہاتھ رکھے اور شیطان مردود سے پناہ مانگے۔

1027Mauwatta Imam Malik

نکاح کی مختلف حدیثوں کا بیان

عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَکِّيِّ أَنَّ رَجُلًا خَطَبَ إِلَی رَجُلٍ أُخْتَهُ فَذَکَرَ أَنَّهَا قَدْ کَانَتْ أَحْدَثَتْ فَبَلَغَ ذَلِکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَضَرَبَهُ أَوْ کَادَ يَضْرِبُهُ ثُمَّ قَالَ مَا لَکَ وَلِلْخَبَرِ

ابوزبیر مکی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نکاح کا پیام دیا ایک شخص کی بہن کو اس نے بیان کیا کہ وہ عورت بدکار ہے جب حضرت عمر ؓ کو اس کی خبر پہنچی آپ نے اس شخص کو بلا کر مارا یا مارنے کا قصد کیا اور کہا کہ تجھے اس خبر پہنچانے سے کیا غرض تھی۔

1028Mauwatta Imam Malik

نکاح کی مختلف حدیثوں کا بیان

عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ کَانَا يَقُولَانِ فِي الرَّجُلِ يَکُونُ عِنْدَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَيُطَلِّقُ إِحْدَاهُنَّ الْبَتَّةَ أَنَّهُ يَتَزَوَّجُ إِنْ شَائَ وَلَا يَنْتَظِرُ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَفْتَيَا الْوَلِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِکِ عَامَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ بِذَلِکَ غَيْرَ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ طَلَّقَهَا فِي مَجَالِسَ شَتَّی

ربیعہ بن ابو عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ قاسم بن محمد اور عروہ بن زبیر کہتے تھے جس شخص کی چار عورتیں ہوں پھر وہ اس میں سے ایک عورت کو تین طلاق دے دے تو ایک عورت نئی کرسکتا ہے اس کی عدت گزرنے کا انتظار ضروری نہیں۔ ربیعہ بن ابو عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ قاسم بن محمد اور عروہ بن زبیر نے ولید بن عبدالملک کو جس سال وہ مدینہ میں آیا تھا ایسا ہی فتوی دیا تھا مگر قاسم بن محمد نے یہ کہا کہ اس عورت کو کئی مجلسوں میں طلاق دی ہو۔

1029Mauwatta Imam Malik

نکاح کی مختلف حدیثوں کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ ثَلَاثٌ لَيْسَ فِيهِنَّ لَعِبٌ النِّکَاحُ وَالطَّلَاقُ وَالْعِتْقُ

سعید بن مسیب نے کہا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن میں کھیل نہیں ہوتا نکاح اور طلاق اور عتاق۔

1030Mauwatta Imam Malik

نکاح کی مختلف حدیثوں کا بیان

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّهُ تَزَوَّجَ بِنْتَ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ فَکَانَتْ عِنْدَهُ حَتَّی کَبِرَتْ فَتَزَوَّجَ عَلَيْهَا فَتَاةً شَابَّةً فَآثَرَ الشَّابَّةَ عَلَيْهَا فَنَاشَدَتْهُ الطَّلَاقَ فَطَلَّقَهَا وَاحِدَةً ثُمَّ أَمْهَلَهَا حَتَّی إِذَا کَادَتْ تَحِلُّ رَاجَعَهَا ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّةَ فَنَاشَدَتْهُ الطَّلَاقَ فَطَلَّقَهَا وَاحِدَةً ثُمَّ رَاجَعَهَا ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّةَ فَنَاشَدَتْهُ الطَّلَاقَ فَقَالَ مَا شِئْتِ إِنَّمَا بَقِيَتْ وَاحِدَةٌ فَإِنْ شِئْتِ اسْتَقْرَرْتِ عَلَی مَا تَرَيْنَ مِنْ الْأُثْرَةِ وَإِنْ شِئْتِ فَارَقْتُکِ قَالَتْ بَلْ أَسْتَقِرُّ عَلَی الْأُثْرَةِ فَأَمْسَکَهَا عَلَی ذَلِکَ وَلَمْ يَرَ رَافِعٌ عَلَيْهِ إِثْمًا حِينَ قَرَّتْ عِنْدَهُ عَلَی الْأُثْرَةِ

رافع بن خدیج نے محمد بن مسلمہ انصاری کی بیٹی سے نکاح کیا وہ ان کے پاس رہیں جب بڑھیاں ہوئیں تو رافع نے ایک جوان عورت سے نکاح کیا تو اس کی طرف زیادہ مائل ہوئے تو بڑھیا عورت نے طلاق مانگی محمد بن مسلمہ نے ایک طلاق دے دی پھر جب عدت اس کی گرزنے لگی رجعت کرلی اور جوان عورت کی طرف مائل رہے پھر جب عدت گرنے لگی رجعت کرلی اور جوان عورت کی طرف مائل رہے بڑھیا نے پھر طلاق مانگی تب رافع بن خدیج نے کہا اب تجھے کیا منظور ہے ایک طلاق اور رہ گئی ہے اگر تو اس حال میں میرے پاس رہنا چاہتی ہے تو رہ اور اگر نہیں رہ سکتی تو میں تجھے چھوڑ دوں اس نے کہا مجھے اسی حال میں رہنا منظور ہے رافع نے اس کو رکھ لیا اور اپنے اوپر کچھ گناہ نہیں سمجھا۔

1031Mauwatta Imam Malik

طلاق بتہ یعنی تین طلاق کے بیان میں

عَنْ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي مِائَةَ تَطْلِيقَةٍ فَمَاذَا تَرَی عَلَيَّ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ طَلُقَتْ مِنْکَ لِثَلَاثٍ وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ بِهَا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا عَنْ أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَمَانِيَ تَطْلِيقَاتٍ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَمَاذَا قِيلَ لَکَ قَالَ قِيلَ لِي إِنَّهَا قَدْ بَانَتْ مِنِّي فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ صَدَقُوا مَنْ طَلَّقَ کَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ فَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَهُ وَمَنْ لَبَسَ عَلَی نَفْسِهِ لَبْسًا جَعَلْنَا لَبْسَهُ مُلْصَقًا بِهِ لَا تَلْبِسُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ وَنَتَحَمَّلُهُ عَنْکُمْ هُوَ کَمَا يَقُولُونَ

ایک شخص نے ابن عباس ؓ سے کہا کہ میں نے اپنی عورت کو سو طلاق دیں ابن عباس نے جواب دیا کہ وہ تین طلاق میں تجھ سے بائن ہوگئی اور ستانوے طلاق سے تو نے اللہ کی آیتوں سے ٹھٹھا کیا۔، ایک شخص عبداللہ بن مسعود کے پاس آیا اور کہا میں نے اپنی عورت کو دو سو طلاقیں دیں ابن مسعود نے کہا لوگوں نے تجھ سے کیا کہا وہ بولا مجھ سے یہ کہا کہ تیری عورت تجھ سے بائن ہوگئی ابن مسعود نے کہا سچ ہے جو شخص اللہ کے حکم کے موافق طلاق دے گا تو اللہ نے اس کی صورت بیان کردی اور جو گڑبڑ کرے گا اس کی بلا اس کے سر لگا دیں گے گڑبڑ مت کرو تاکہ ہم کو مصیبت نہ اٹھانا پڑے وہ لوگ سچ کہتے ہیں تیری عورت تجھ سے جدا ہوگئی۔

Yahya related to me from Malik that he had heard that a man said to Abdullah ibn Abbas, "I have divorced my wife by saying I divorce you a hundred times. What do you think my situation is?" Ibn Abbas (RA) said to him, "She was divorced from you by three pronouncements, and by the ninety-seven, you have mocked the ayat of Allah."

1032Mauwatta Imam Malik

طلاق بتہ یعنی تین طلاق کے بیان میں

عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ لَهُ الْبَتَّةُ مَا يَقُولُ النَّاسُ فِيهَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ فَقُلْتُ لَهُ کَانَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ يَجْعَلُهَا وَاحِدَةً فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَوْ کَانَ الطَّلَاقُ أَلْفًا مَا أَبْقَتْ الْبَتَّةُ مِنْهَا شَيْئًا مَنْ قَالَ الْبَتَّةَ فَقَدْ رَمَی الْغَايَةَ الْقُصْوَی

ابوبکر بن حزم سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ طلاق بتہ میں لوگ کیا کہتے ہیں ابوبکر نے کہا ابان بن عثمان اس کو ایک طلاق سمجھتے تھے عمر بن عبدالعزیز نے کہا اگر طلاق ایک ہزار تک درست ہوتی تو بتہ اس میں سے کچھ باقی نہ رکھتا جس نے بتہ کہا وہ انتہا کو پہنچ گیا۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Abu Bakr (RA) ibn Hazm thatUmar ibn Abdul Aziz had asked him what people said about the irrevocable divorce, and Abu Bakr (RA) had replied that Aban ibn Uthman had clarified that it was declared only once. Umar ibn Abdul Aziz said, "Even if divorce had to be declared a thousand times, theirrevocable would use them all up. A person who says, irrevocably has cast the furthest limit."

1033Mauwatta Imam Malik

طلاق بتہ یعنی تین طلاق کے بیان میں

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ کَانَ يَقْضِي فِي الَّذِي يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ أَنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ

ابن شہاب سے روایت ہے کہ مروان طلاق بتہ میں تین طلاق کا حکم کرتا تھا۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Marwan ibn al-Hakam decided that if someone made three pronouncements of divorce, he had divorced his wife irrevocably. Malik said, "That is what I like best of what I have heard on the subject." 29.2 Divorce by Euphemistic Statements

1034Mauwatta Imam Malik

خلیہ اور بریہ اور ان کے مشابہات کا بیان۔

عَنْ کُتِبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ الْعِرَاقِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِامْرَأَتِهِ حَبْلُکِ عَلَی غَارِبِکِ فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَی عَامِلِهِ أَنْ مُرْهُ يُوَافِينِي بِمَکَّةَ فِي الْمَوْسِمِ فَبَيْنَمَا عُمَرُ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ لَقِيَهُ الرَّجُلُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ مَنْ أَنْتَ فَقَالَ أَنَا الَّذِي أَمَرْتَ أَنْ أُجْلَبَ عَلَيْکَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَسْأَلُکَ بِرَبِّ هَذِهِ الْبَنِيَّةِ مَا أَرَدْتَ بِقَوْلِکَ حَبْلُکِ عَلَی غَارِبِکِ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ لَوْ اسْتَحْلَفْتَنِي فِي غَيْرِ هَذَا الْمَکَانِ مَا صَدَقْتُکَ أَرَدْتُ بِذَلِکَ الْفِرَاقَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ هُوَ مَا أَرَدْتَ

حضرت عمر بن خطاب کے پاس خط لکھا ہوا آیا کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے کہا جبلک علی غاربک حضرت عمر خطاب نے لکھا اس شخص سے کہہ دینا کہ حج کے موسم میں مکہ میں مجھ سے ملے حضرت عمر کعبہ کا طواف کر رہے تھے ایک شخص ملا اور سلام کیا پوچھا تم کون ہے آپ نے فرمایا میں وہی شخص ہوں جس نے تم نے حکم کیا تھا مکہ میں ملنے کا حضرت عمر نے کہا قسم ہے تجھ کو اس گھر کے رب کی جبلک علی غاربک سے تیری کیا مراد تھی وہ بولا اے امیر المومین اگر تم مجھ کو کسی اور جگہ کی قسم دیتے تو میں سچ نہ کہتا اب سچ کہتا ہوں کہ میری نیت چھوڑ دینے کی تھی حضرت عمر نے فرمایا جیسے تو نے نیت کی ویسا ہی ہوا۔

Yahya related to me from Malik that he had heard that Umar ibn al-Khattab had heard in a letter from Iraq that a man said to his wife, "Your rein is on your withers (i.e. you have free rein)." Umar ibn al-Khattab wrote to his governor to order the man to come to him at Makka at the time of hajj. While Umar was doing tawaf around the House, a man met him and greeted him. Umar asked him who he was, and he replied that he was the man that he had ordered to be brought to him. Umar said to him, "I ask you by the Lord of this building, what did you mean by your statement, Your rein is on your withers.?" The man replied, "Had you made me swear by other than this place, I would not have told you the truth. I intended separation by that." Umar ibn al- Khattab said, "It is what you intended."

1035Mauwatta Imam Malik

خلیہ اور بریہ اور ان کے مشابہات کا بیان۔

عَنْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ کَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ إِنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ

حضرت علی کہتے تھے جو شخص اپنی عورت سے کہے تو مجھ پر حرام ہے تو تین طلاق پڑجائیں گی۔

Yahya related to me from Malik that he had heard that Ali ibn Abi Talib used to say that if a man said to his wife, "You are haram for me," it counted as three pronouncements of divorce. Malik said, "That is the best of what I have heard on the subject."

1036Mauwatta Imam Malik

خلیہ اور بریہ اور ان کے مشابہات کا بیان۔

عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ فِي الْخَلِيَّةِ وَالْبَرِيَّةِ إِنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ کُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا

عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ خلیہ اور بریہ ان میں سے ہر ایک میں تین طلاقیں پڑ جایئیں گی۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said that statements like "I cut myself off from you",or"You are abandoned", were considered as three pronouncements of divorce. Malik said that any strong statements such as these or others were considered as three pronouncements of divorce for a woman whose marriage had been consummated. In the case of a woman whose marriage had not been consummated, the man was asked to make an oath on his deen, as to whether he had intended one or three pronouncements of divorce. If he had intended one pronouncement, he was asked to make an oath by Allah to confirm it, and he became a suitor among other suitors, because a woman whose marriage had been consummated, required three pronouncements of divorce to make her inaccessible for the husband, whilst only one pronouncement was needed to make a woman whose marriage had not been consummated inaccessible. Malik added, "That is the best of what I have heard about the matter."

1037Mauwatta Imam Malik

خلیہ اور بریہ اور ان کے مشابہات کا بیان۔

عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ رَجُلًا کَانَتْ تَحْتَهُ وَلِيدَةٌ لِقَوْمٍ فَقَالَ لِأَهْلِهَا شَأْنَکُمْ بِهَا فَرَأَی النَّاسُ أَنَّهَا تَطْلِيقَةٌ وَاحِدَةٌ عَنْ ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ بَرِئْتِ مِنِّي وَبَرِئْتُ مِنْکِ إِنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ بِمَنْزِلَةِ الْبَتَّةِ قَالَ مَالِک فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ خَلِيَّةٌ أَوْ بَرِيَّةٌ أَوْ بَائِنَةٌ إِنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ لِلْمَرْأَةِ الَّتِي قَدْ دَخَلَ بِهَا وَيُدَيَّنُ فِي الَّتِي لَمْ يَدْخُلْ بِهَا أَوَاحِدَةً أَرَادَ أَمْ ثَلَاثًا فَإِنْ قَالَ وَاحِدَةً أُحْلِفَ عَلَی ذَلِکَ وَکَانَ خَاطِبًا مِنْ الْخُطَّابِ لِأَنَّهُ لَا يُخْلِي الْمَرْأَةَ الَّتِي قَدْ دَخَلَ بِهَا زَوْجُهَا وَلَا يُبِينُهَا وَلَا يُبْرِيهَا إِلَّا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ وَالَّتِي لَمْ يَدْخُلْ بِهَا تُخْلِيهَا وَتُبْرِيهَا وَتُبِينُهَا الْوَاحِدَةُ قَالَ مَالِک وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِکَ

قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک شخص کے نکاح میں ایک لونڈی تھی اس نے لونڈی کے مالکوں سے کہہ دیا تم جانو تمہارا کام جانے لوگوں نے اس کو ایک طلاق سمجھا۔ ابن شہاب کہتے تھے اگر مرد عورت سے کہے میں تجھ سے بری ہوا اور تو مجھ سے بری ہوئی تو تین طلاقیں پڑیں گی مثل بتہ کے۔ کہا مالک نے اگر کوئی شخص اپنی عورت کو کہے تو خلیہ ہے یا بریہ ہے یا بائنہ ہے تو اگر اس عورت سے صحبت کرچکا ہے تین طلاق پڑیں گی اور اگر صحبت نہیں کی تو اس کی نیت کے موافق پڑے گی اگر اس نے کہا میں نے ایک کی نیت کی تھی تو حلف لے کر اس کو سچا سمجھیں گے مگر وہ عورت ایک ہی طلاق میں بائن ہوجائے گی اب رجعت نہیں کرسکتا البتہ نکاح نئے سرے سے کرسکتا ہے کیونکہ جس عورت سے صحبت نہ کی ہو وہ ایک ہی طلاق میں بائن ہوجاتی ہے جس سے صحبت کرچکا اور وہ تین طلاق میں بائن ہوتی ہے۔ کہا مالک نے یہ روایت مجھے بہت پسند ہے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from al-Qasim ibn Muhammad that a certain man had taken a slave-girl belonging to somebody else as a wife. He said to her people, "She is your concern," and people considered that to be one pronouncement of divorce.

1038Mauwatta Imam Malik

جس تملیک سے طلاق بائن پڑتی ہے اس کا بیان

عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي جَعَلْتُ أَمْرَ امْرَأَتِي فِي يَدِهَا فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا فَمَاذَا تَرَی فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أُرَاهُ کَمَا قَالَتْ فَقَالَ الرَّجُلُ لَا تَفْعَلْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَنَا أَفْعَلُ أَنْتَ فَعَلْتَهُ

امام مالک کو پہنچا کہ ایک شخص عبداللہ بن عمر کے پاس آیا اور بولا میں نے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دیا تھا اس نے اپنے آپ کو تین طلاق دے لی اب کیا کہتے ہو ابن عمر نے کہا کہ طلاق پڑگئی وہ شخص بولا ایسا تو مت کرو ابن عمرو نے کہا میں نے کیا کیا تو نے اپنے آپ کیا۔

Yahya related to me from Malik that he had heard that a man came to Abdullah ibn Umar, and said, "Abu Abd ar-Rahman! I placed the command of my wife in her hand, and she divorced herself, what do you think?" Abdullah ibn Umar said, "I think that it is as she said." The man said, "Dont do it, Abu Abd ar-Rahman!" Ibn Umar (RA) said, "You did it, it has nothing to do with me."

1039Mauwatta Imam Malik

جس تملیک سے طلاق بائن پڑتی ہے اس کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ إِذَا مَلَّکَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَالْقَضَائُ مَا قَضَتْ بِهِ إِلَّا أَنْ يُنْکِرَ عَلَيْهَا وَيَقُولُ لَمْ أُرِدْ إِلَّا وَاحِدَةً فَيَحْلِفُ عَلَی ذَلِکَ وَيَکُونُ أَمْلَکَ بِهَا مَا کَانَتْ فِي عِدَّتِهَا

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جب مرد اپنی عورت کو طلاق کا مالک کر دے تو جب بھی طلاق عورت چاہے اپنے اوپر ڈال لے مگر جب خاوند انکار کرے اور کہے میں نے ایک طلاق کا اختیار دیا تھا اور حلف کرے تو اس عورت کا مستحق ہوگا جب تک وہ عدت میں ہے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said, "When a man gives a woman command over herself, then the result is as she decides unless he denies it and says that he only meant to give her one divorce and he swears to it - then he has access to her while she is in her idda."

1040Mauwatta Imam Malik

جس تملیک سے ایک طلاق پڑتی ہے اس کا بیان

عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَأَتَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ مَا شَأْنُکَ فَقَالَ مَلَّکْتُ امْرَأَتِي أَمْرَهَا فَفَارَقَتْنِي فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ مَا حَمَلَکَ عَلَی ذَلِکَ قَالَ الْقَدَرُ فَقَالَ زَيْدٌ ارْتَجِعْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّمَا هِيَ وَاحِدَةٌ وَأَنْتَ أَمْلَکُ بِهَا

خارجہ بن زید سے روایت ہے کہ وہ اپنے باپ زید بن ثابت کے پاس بیٹھے تھے اتنے میں محمد بن ابی عتیق روتے ہوئے آئے زید نے پوچھا کیوں انہوں نے کہا میں نے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دیا تھا اس نے مجھے چھوڑ دیا زید نے کہا تو نے کیوں اختیار دیا انہوں نے کہا تقدیر میں یوں ہی تھا زید نے کہا اگر تو چاہے تو رجعت کرلے کیونکہ ایک طلاق پڑی ہے ابھی تو اس کا مالک ہے۔

Yahya related to me from Malik from Said ibn Sulayman ibn Zayd ibn Thabit that Kharija ibn Zayd ibn Thabit told him that he was sitting with Zayd ibn Thabit when Muhammad ibn Abi Atiq came to him with his eyes brimming with tears. Zayd asked him what the matter was. He said, "I gave my wife command of herself, and she separated from me." Zayd said to him, "What made you do that?" He said, "The Decree." Zayd said, "Return to her if you wish for it is only one pronouncement, and you have access to her."