جس تملیک سے ایک طلاق پڑتی ہے اس کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ مَلَّکَ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَقَالَتْ أَنْتَ الطَّلَاقُ فَسَکَتَ ثُمَّ قَالَتْ أَنْتَ الطَّلَاقُ فَقَالَ بِفِيکِ الْحَجَرُ ثُمَّ قَالَتْ أَنْتَ الطَّلَاقُ فَقَالَ بِفَاکِ الْحَجَرُ فَاخْتَصَمَا إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَاسْتَحْلَفَهُ مَا مَلَّکَهَا إِلَّا وَاحِدَةً وَرَدَّهَا إِلَيْهِ قَالَ مَالِک قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَکَانَ الْقَاسِمُ يُعْجِبُهُ هَذَا الْقَضَائُ وَيَرَاهُ أَحْسَنَ مَا سَمِعَ فِي ذَلِکَ قَالَ مَالِک وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِکَ وَأَحَبُّهُ إِلَيَّ
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک شخص ثقفی نے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دیا اس نے اپنے تئیں ایک طلاق دی یہ چپ ہو رہا پھر اس نے دوسری طلاق دی اس نے کہا تیرے منہ میں پتھر اس نے تیسری طلاق دی اس نے کہا تیرے منہ میں پتھر پھر دونوں لڑتے ہوئے مروان کے پاس آئے مروان نے اس بات کی قسم لی کہ میں نے ایک طلاق کا اختیار دیا تھا اس کے بعد وہ عورت اس کے حوالہ کردی۔ کہا مالک نے عبدالرحمن کہتے تھے کہ قاسم بن محمد اس فیصلہ کو پسند کرتے تھے اور مجھے بھی بہت پسند ہے۔
Yahya related to me from Malik from Abd ar-Rahman ibn al-Qasim from his father that a man of Thaqif gave his wife command over herself, and she said, "You are divorced." He was silent. She said, "You are divorced." He said, "May a stone be in your mouth." She said, "You are divorced." He said, "May a stone be in your mouth." They argued and went to Marwan ibn al-Hakam. He took an oath that he had only given her control over one pronouncement, and then she returned to him.
جس تملیک سے ایک طلاق پڑتی ہے اس کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا خَطَبَتْ عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ قَرِيبَةَ بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ فَزَوَّجُوهُ ثُمَّ إِنَّهُمْ عَتَبُوا عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَالُوا مَا زَوَّجْنَا إِلَّا عَائِشَةَ فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَهُ فَجَعَلَ أَمْرَ قَرِيبَةَ بِيَدِهَا فَاخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَمْ يَکُنْ ذَلِکَ طَلَاقًا
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی عبدالرحمن کا پیام بھیجا قریبہ بنت ابی امیہ کے پاس ان کے لوگوں نے ان کا عبدالرحمن کے ساتھ نکاح کردیا اس کے بعد لڑائی ہوئی ان لوگوں نے کہا یہ نکاح حضرت عائشہ نے کروایا ہے حضرت عائشہ نے عبدالرحمن ؓ کہا عبدالرحمن نے اختیار دے دیا قریبہ نے اپنے خاوند کو اختیار کیا اس کو طلاق نہ سمجھا۔
Malik said that Abd ar-Rahman declared that this decision had amazed al-Qasim, who thought it the best that he had heard on the subject. Malik added, "That is also the best of what I have heard on the subject."
جس تملیک سے طلاق بائن نہیں پڑتی اس کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوَّجَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُنْذِرَ بْنَ الزُّبَيْرِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ غَائِبٌ بِالشَّامِ فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ وَمِثْلِي يُصْنَعُ هَذَا بِهِ وَمِثْلِي يُفْتَاتُ عَلَيْهِ فَکَلَّمَتْ عَائِشَةُ الْمُنْذِرَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ الْمُنْذِرُ فَإِنَّ ذَلِکَ بِيَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا کُنْتُ لِأَرُدَّ أَمْرًا قَضَيْتِهِ فَقَرَّتْ حَفْصَةُ عِنْدَ الْمُنْذِرِ وَلَمْ يَکُنْ ذَلِکَ طَلَاقًا عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ سُئِلَا عَنْ الرَّجُلِ يُمَلِّکُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَتَرُدُّ بِذَلِکَ إِلَيْهِ وَلَا تَقْضِي فِيهِ شَيْئًا فَقَالَا لَيْسَ ذَلِکَ بِطَلَاقٍ
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ نے حفصہ بنت عبدالرحمن (اپنی بھتیجی) کا منذر بن زبیر سے نکاح کیا اور عبدالرحمن جو کہ لڑکی کے باپ تھے شام کو گئے ہوئے تھے جب عبدالرحمن آئے تو انہوں نے کہا کیا مجھ ہی سے ایسا کرنا تھا اور میرے اوپر جلدی کرنا تھا۔ ف 1 حضرت عائشہ ؓ نے منذر بن زبیر سے بیان کیا منذر نے کہا عبدالرحمن کو اختیار ہے۔ عبدالرحمن نے حضرت عائشہ ؓ کہا جس کام کو تم کر چکیں اس کام کو میں توڑنے والا نہیں پھر رہیں حضرت حفصہ منذر کے پاس اور اس اختیار کو طلاق نہ سمجھا۔ مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہ ؓ سوال ہوا ایک شخص اپنی عورت کو طلاق کا مالک کر دے مگر عورت اس کو قبول نہ کرے نہ اپنے تئیں طلاق دے انہوں نے کہا طلاق نہ پڑے گی۔
Yahya related to me from Malik from Abd ar-Rahman ibn al-Qasim from his father that Aisha, umm al-muminin, proposed to Qurayba bint Abi Umayya on behalf of Abd ar-Rahman ibn Abi Bakr. They married her to him and her people found fault with Abd ar-Rahman and said, "We only gave in marriage because of Aisha." Aisha therefore sent for Abd ar-Rahman and told him about it. He gave Qurayba authority over herself and she chose her husband and so there was no divorce.
جس تملیک سے طلاق بائن نہیں پڑتی اس کا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ إِذَا مَلَّکَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَلَمْ تُفَارِقْهُ وَقَرَّتْ عِنْدَهُ فَلَيْسَ ذَلِکَ بِطَلَاقٍ قَالَ مَالِک فِي الْمُمَلَّکَةِ إِذَا مَلَّکَهَا زَوْجُهَا أَمْرَهَا ثُمَّ افْتَرَقَا وَلَمْ تَقْبَلْ مِنْ ذَلِکَ شَيْئًا فَلَيْسَ بِيَدِهَا مِنْ ذَلِکَ شَيْئٌ وَهُوَ لَهَا مَا دَامَا فِي مَجْلِسِهِمَا
سعید بن مسیب نے کہا جب مرد اپنی عورت کو طلاق کا مالک کر دے مگر عورت خاوند سے جدا ہونا قبول نہ کرے اسی کے پاس رہنا چاہے تو طلاق نہ ہوگی۔ کہا مالک نے جس مجلس میں خاوند عورت کو طلاق کا اختیار دے اسی مجلس میں عورت کو اختیار ہوگا اگر وہ مجلس برخواست ہوئی اور عورت نے طلاق نہ لی تو پھر اختیار نہ رہے گا۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyab said, "If a man gives his wife authority over herself, and she does not separate from him and remains with him, there is no divorce."
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ إِذَا آلَی الرَّجُلُ مِنْ امْرَأَتِهِ لَمْ يَقَعْ عَلَيْهِ طَلَاقٌ وَإِنْ مَضَتْ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ حَتَّی يُوقَفَ فَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ وَإِمَّا أَنْ يَفِيئَ
حضرت علی فرماتے تھے جب مرد اپنی عورت سے ایلاء کرے تو عورت پو طلاق نہ پڑے گی اگرچہ چار مہینے گزر جائیں جب تک مقدمہ حاکم کے سامنے پیش نہ ہو اور خاوند کو مجبور کیا جائے یا طلاق دے یا جماع کرے۔
Yahya related to me from Malik from Jafar ibn Muhammad from his father that Ali ibn Abi Talib said, "When a man takes a vow to abstain from intercourse, divorce does not occur immediately. If four months pass, he must declare his intent and either he is divorced or he revokes his vow . " Malik said, "That is what is done among us."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ آلَی مِنْ امْرَأَتِهِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَتْ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ وُقِفَ حَتَّی يُطَلِّقَ أَوْ يَفِيئَ وَلَا يَقَعُ عَلَيْهِ طَلَاقٌ إِذَا مَضَتْ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ حَتَّی يُوقَفَ
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص ایلا کرے اپنی عورت سے جب چار مہنے گزر جائیں تو خاوند کو حاکم کے سامنے مجبور کریں طلاق دے یا رجوع کرے اور بغیر طلاق دئیے چار مہینے گزر جانے سے عورت پر طلاق نہ پڑے گی۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said, "When a man makes a vow to abstain from intercourse with his wife and four months have passed he must declare his intent and either he is divorced or he revokes his vow. Divorce does not occur until four months have passed and he continues to abstain."
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَأَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَانَا يَقُولَانِ فِي الرَّجُلِ يُولِي مِنْ امْرَأَتِهِ إِنَّهَا إِذَا مَضَتْ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَلِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ مَا کَانَتْ فِي الْعِدَّةِ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ کَانَ يَقْضِي فِي الرَّجُلِ إِذَا آلَی مِنْ امْرَأَتِهِ أَنَّهَا إِذَا مَضَتْ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَلَهُ عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ مَا دَامَتْ فِي عِدَّتِهَا قَالَ مَالِک وَعَلَی ذَلِکَ کَانَ رَأْيُ ابْنِ شِهَابٍ
ابن شہاب سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب اور ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے تھے جو شخص ایال کرے اپنی عورت سے تو جب چار مہینے گزر جائیں ایک طلاق پڑجائے گی مگر خاوند کو اختیار ہے کہ جب تک عورت عدت میں ہے رجعت کرلے۔ مالک کو پہنچا کہ مروان بن حکم حکم کرتے تھے جب کوئی شخص اپنی عورت سے ایلا کرے اور چار مہینے گز رجائیں تو ایک طلاق پڑجائے گی مگر خاوند کو اختیار رہے گا کہ جب تک عورت عدت میں ہے رجعت کرلے۔ کہا مالک نے ابن شہاب کی رائے یہی تھی۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Said al-Musayyab and Abu Bakr (RA) ibn Abd ar-Rahman said about a man who made a vow to abstain from intercourse with his wife, "If four months pass it is a divorce. The husband can go back to his wife as long as she is in her idda."
عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ إِيلَائِ الْعَبْدِ فَقَالَ هُوَ نَحْوُ إِيلَائِ الْحُرِّ وَهُوَ عَلَيْهِ وَاجِبٌ وَإِيلَائُ الْعَبْدِ شَهْرَانِ
امام مالک نے ابن شہاب سے غلام کی ایلاء کا حال پوچھا تو ابن شہاب نے کہا کہ غلام کا ایلاء بھی آزاد شخص کی طرح ہے مگر غلام کی مدت دو مہینے ہے۔
Yahya related to me from Malik that he had asked Ibn Shihab about the ila of the slave. He said that it was like the ila of the free man, and it put an obligation on him. The ila of the slave was two months.
عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَةً إِنْ هُوَ تَزَوَّجَهَا فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ إِنَّ رَجُلًا جَعَلَ امْرَأَةً عَلَيْهِ کَظَهْرِ أُمِّهِ إِنْ هُوَ تَزَوَّجَهَا فَأَمَرَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنْ هُوَ تَزَوَّجَهَا أَنْ لَا يَقْرَبَهَا حَتَّی يُکَفِّرَ کَفَّارَةَ الْمُتَظَاهِرِ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ تَظَاهَرَ مِنْ امْرَأَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَنْکِحَهَا فَقَالَا إِنْ نَکَحَهَا فَلَا يَمَسَّهَا حَتَّی يُکَفِّرَ کَفَّارَةَ الْمُتَظَاهِرِ
سعید بن عمر نے قاسم بن محمد سے پوچھا اگر کوئی شخص کسی عورت سے کہے کہ اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھ کو طلاق ہے قاسم بن محمد نے کہا کہ ایک شخص نے حضرت عمر کے زمانے میں ایک عورت کی نسبت یہ کہا تھا کہ اگر میں اس سے نکاح کروں وہ مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ حضرت عمر نے حکم دیا کہ اگر وہ شخص اس عورت سے نکاح کرے تو جماع نہ کرے جب تک کفارہ ظہار نہ دے۔ مالک کو پہنچا کہ ایک شخص نے قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار سے پوچھا اگر کوئی شخص کسی عورت سے ظہار کرے نکاح سے پہلے تو دونوں نے کہا کہ اگر وہ شخص اس عورت سے نکاح کرے تو جماع نہ کرے جب تک کفارہ ظہار ادا نہ کرے۔
Yahya related to me from Malik from Said ibn Amr ibn Sulaym az-Zuraqi that he asked al-Qasim ibn Muhammad about a man who made divorce conditional on his marrying a woman i.e. if he married her he would automatically divorce her. Al-Qasim ibn Muhammad said, "If a man marries a woman whom he has made as his mothers back, i.e. has made haram for him, Umar ibn al-Khattab ordered him not to go near her if he married her until he had done the kaffara for pronouncing dhihar."
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ تَظَاهَرَ مِنْ أَرْبَعَةِ نِسْوَةٍ لَهُ بِکَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا کَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِثْلَ ذَلِکَ قَالَ مَالِک وَعَلَی ذَلِکَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِک قَالَ اللَّهُ تَعَالَی فِي کَفَّارَةِ الْمُتَظَاهِرِ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْکِينًا قَالَ مَالِک فِي الرَّجُلِ يَتَظَاهَرُ مِنْ امْرَأَتِهِ فِي مَجَالِسَ مُتَفَرِّقَةٍ قَالَ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا کَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِنْ تَظَاهَرَ ثُمَّ کَفَّرَ ثُمَّ تَظَاهَرَ بَعْدَ أَنْ يُکَفِّرَ فَعَلَيْهِ الْکَفَّارَةُ أَيْضًا قَالَ مَالِک وَمَنْ تَظَاهَرَ مِنْ امْرَأَتِهِ ثُمَّ مَسَّهَا قَبْلَ أَنْ يُکَفِّرَ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا کَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ وَيَکُفُّ عَنْهَا حَتَّی يُکَفِّرَ وَلْيَسْتَغْفِرْ اللَّهَ وَذَلِکَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ قَالَ مَالِک وَالظِّهَارُ مِنْ ذَوَاتِ الْمَحَارِمِ مِنْ الرَّضَاعَةِ وَالنَّسَبِ سَوَائٌ قَالَ مَالِک وَلَيْسَ عَلَی النِّسَائِ ظِهَارٌ قَالَ مَالِک فِي قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَالَّذِينَ يَظَّهَّرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا قَالَ سَمِعْتُ أَنَّ تَفْسِيرَ ذَلِکَ أَنْ يَتَظَاهَرَ الرَّجُلُ مِنْ امْرَأَتِهِ ثُمَّ يُجْمِعَ عَلَی إِمْسَاکِهَا وَإِصَابَتِهَا فَإِنْ أَجْمَعَ عَلَی ذَلِکَ فَقَدْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ الْکَفَّارَةُ وَإِنْ طَلَّقَهَا وَلَمْ يُجْمِعْ بَعْدَ تَظَاهُرِهِ مِنْهَا عَلَی إِمْسَاکِهَا وَإِصَابَتِهَا فَلَا کَفَّارَةَ عَلَيْهِ قَالَ مَالِک فَإِنْ تَزَوَّجَهَا بَعْدَ ذَلِکَ لَمْ يَمَسَّهَا حَتَّی يُکَفِّرَ کَفَّارَةَ الْمُتَظَاهِرِ قَالَ مَالِک لَا يَدْخُلُ عَلَی الرَّجُلِ إِيلَائٌ فِي تَظَاهُرِهِ إِلَّا أَنْ يَکُونَ مُضَارًّا لَا يُرِيدُ أَنْ يَفِيئَ مِنْ تَظَاهُرِهِ
عروہ بن زبیر نے کہا جو شخص ایک ہی دفعہ چار عورتوں سے ظہار کرے تو اس پر ایک کفارہ لازم آئے گا۔ ربیعہ بن عبدالرحمن نے بھی ایسا ہی کہا۔ کہا مالک نے میرے نزدیک بھی ایسا ہی حکم ہے۔ کہا مالک نے ظہار کے کفارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم میں سے جو لوگ اپنی عورتوں سے ظہار کرتے ہیں جماع سے پہلے اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی عورت سے کئی مرتبہ کئی مجلسوں میں ظہار کرے اس پر ایک کفارہ لازم آئے گا البتہ اگر ایک مرتبہ ظہار کر کے کفارہ ادا کردیا پھر دوبارہ ظہار کیا تو پھر کفارہ لازم آئے گا کہا مالک نے اگر کسی شخص نے ظہار کیا پھر کفارہ سے پہلے عورت سے جماع کیا تو اس پر ایک ہی کفارہ لازم آئے گا اب جب تک کفارہ نہ دے عورت سے علیحدہ رہے اور اللہ سے استغفار کرے۔ کہا مالک نے یہ میں نے اچھا سنا۔ کہا مالک نے ظہار میں محرم رضاعی یا محرم نسبی سے تشبیہ دینا دونوں برابر ہیں۔ کہا مالک نے عورتوں پر ظہار کا کفارہ نہیں ہے۔ کہا مالک نے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا فرمایا ہے جو لوگ اپنی عورتوں سے ظہار کرتے ہیں پھر لوٹ کر دہی بارت کرتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ظہار کے بعد پھر عورت کو رکھنا اور اس سے صحبت کرنا چاہتے ہیں تو ان پر اللہ تعالیٰ نے کفارہ واجب کیا اور جو ظہار کے بعد عورت کو طلاق دے دے اور نہ رکھے تو کچھ کفارہ نہیں اگر طلاق کے بعد پھر اس سے نکاح کرے تو صحبت نہ کرے جب تک ظہار کا کفارہ نہ دے۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی لونڈی سے ظہار کرے پھر اس سے صحبت کرنا چاہے تو درست نہیں جب تک کفارہ نہ دے۔ کہا مالک نے ظہار سے ایلاء نہیں ہوتا البتہ جب ظہار سے یہ نیت ہو کہ کفارہ نہ دیں گے اور عورت کو ضرر پہنچائیں گے تو ایلاء ہوجائے گا۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father said that a man who pronounced a dhihar from his four wives in one statement, had only to do one kaffara
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَسْأَلُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ کُلُّ امْرَأَةٍ أَنْکِحُهَا عَلَيْکِ مَا عِشْتِ فَهِيَ عَلَيَّ کَظَهْرِ أُمِّي فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُجْزِيهِ عَنْ ذَلِکَ عِتْقُ رَقَبَةٍ
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عروہ بن زبیر سے پوچھا اگر کوئی شخص اپنی عورت سے کہے جب تک تو زندہ ہے اگر میں دوسری بیوی سے نکاح کروں تو وہ میرے اوپر ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ عروہ نے جواب دیا کہ اس شخص کو ایک غلام آزاد کرنا کافی ہے۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that he heard a man ask Urwa ibn az-Zubayr about a man who said to his wife, "Any woman I marry along with you as long as you live will be like my mothers back to me." Urwa ibn az-Zubayr said, "The freeing of slaves is enough to release him from that."
عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ ظِهَارِ الْعَبْدِ فَقَالَ نَحْوُ ظِهَارِ الْحُرِّ قَالَ مَالِك يُرِيدُ أَنَّهُ يَقَعُ عَلَيْهِ كَمَا يَقَعُ عَلَى الْحُرِّ قَالَ مَالِك وَظِهَارُ الْعَبْدِ عَلَيْهِ وَاجِبٌ وَصِيَامُ الْعَبْدِ فِي الظِّهَارِ شَهْرَانِ قَالَ مَالِك فِي الْعَبْدِ يَتَظَاهَرُ مِنْ امْرَأَتِهِ إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ عَلَيْهِ إِيلَاءٌ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَوْ ذَهَبَ يَصُومُ صِيَامَ كَفَّارَةِ الْمُتَظَاهِرِ دَخَلَ عَلَيْهِ طَلَاقُ الْإِيلَاءِ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صِيَامِهِ
مالک نے ابن شہاب سے پوچھا ظہار کے غلام کا حال تو انہوں نے کہا آزاد کی طرح ہے۔ کہا مالک نے مطلب یہ ہے کہ غلام پر بھی کفارہ لازم آتا ہے جیسے آزد پر۔ کہا مالک نے غلام بھی ظہار میں دو مہینے کے روزے رکھے۔ کہا مالک نے ظہار کے غلام میں ایلاء شریک نہ ہوگا کیونکہ غلام جب دو مہینے کے روزے رکھے گا ایلاء کی طلاق پہلے ہی پڑجائے گی۔
ahya related to me from Malik that he asked Ibn Shihab about the dhihar of a slave. He said, "It is like the dhihar of a free man."
آزادی کے وقت اختیار ہونے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ فَکَانَتْ إِحْدَی السُّنَنِ الثَّلَاثِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ فَقَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَکِنْ ذَلِکَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَی بَرِيرَةَ وَأَنْتَ لَا تَأْکُلُ الصَّدَقَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ
حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ بریرہ کے سبب سے شرع کی تین باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ بریرہ جب آزاد ہوئی اس کو اختیار ہوا اگر چاہے اپنے خاوند کو چھوڑ دے دوسرا یہ کہ بریرہ جب آزاد ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ولا اس کو ملے گی جو آزاد کرے تیسرا یہ کہ آپ ﷺ بریرہ کے پاس تشریف لائے گوشت کی ہانڈی چڑھی ہوئی تھی بریرہ نے آپ ﷺ کے سامنے سالن پیش کیا آپ ﷺ نے فرمایا وہ ہانڈی چڑھی ہوئی ہے گوشت کی لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ وہ گوشت صدقہ کا ہے اور آپ ﷺ صدقہ نہیں کھاتے آپ ﷺ نے فرمایا کہ بریرہ پر صدقہ ہے اور ہمارے واسطے ہدیہ ہے بریرہ کی طرف سے۔
Yahya related to me from Malik from Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman from al-Qasim ibn Muhammad that Aisha umm al-muminin, said, "There were three sunnas established in connection with Barira: firstly was that when she was set free she was given her choice about her husband, secondly, the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said about her, The right of inheritance belongs to the person who has set a person free, thirdly, the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came in and there was a pot with meat on the boil. Bread and condiments were brought to him from the stock of the house. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Didnt I see a pot with meat in it? They said, Yes, Messenger of Allah. That is meat which was given as sadaqa for Barira, and you do not eat sadaqa. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, It is sadaqa for her, and it is a gift for us. "
آزادی کے وقت اختیار ہونے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ فِي الْأَمَةِ تَکُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَتَعْتِقُ إِنَّ الْأَمَةَ لَهَا الْخِيَارُ مَا لَمْ يَمَسَّهَا قَالَ مَالِک وَإِنْ مَسَّهَا زَوْجُهَا فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَهِلَتْ أَنَّ لَهَا الْخِيَارَ فَإِنَّهَا تُتَّهَمُ وَلَا تُصَدَّقُ بِمَا ادَّعَتْ مِنْ الْجَهَالَةِ وَلَا خِيَارَ لَهَا بَعْدَ أَنْ يَمَسَّهَا
عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ لونڈی اگر غلام کے نکاح میں ہو پھر آزاد ہوجائے تو اس کو اختیار ہوگا آزادی کے بعد جب تک اس کا شوہر اس اس سے جماع نہ کرے۔ کہا مالک نے اگر خاوند نے آزادی کے بعد اس سے جماع کیا اور لونڈی نے یہ کہا کہ مجھ کو یہ اختیار کا مسئلہ معلوم نہیں تھا تو عذر اس کا مسموع نہ ہوگا اور اس کو اختیار نہ رہے گا۔
ahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said that a female slave who was the wife of a slave and then was set free, had the right of choice as long as he did not have intercourse with her.
آزادی کے وقت اختیار ہونے کا بیان
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ مَوْلَاةً لِبَنِي عَدِيٍّ يُقَالُ لَهَا زَبْرَائُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا کَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ وَهِيَ أَمَةٌ يَوْمَئِذٍ فَعَتَقَتْ قَالَتْ فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَتْنِي فَقَالَتْ إِنِّي مُخْبِرَتُکِ خَبَرًا وَلَا أُحِبُّ أَنْ تَصْنَعِي شَيْئًا إِنَّ أَمْرَکِ بِيَدِکِ مَا لَمْ يَمْسَسْکِ زَوْجُکِ فَإِنْ مَسَّکِ فَلَيْسَ لَکِ مِنْ الْأَمْرِ شَيْئٌ قَالَتْ فَقُلْتُ هُوَ الطَّلَاقُ ثُمَّ الطَّلَاقُ ثُمَّ الطَّلَاقُ فَفَارَقَتْهُ ثَلَاثًا عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَبِهِ جُنُونٌ أَوْ ضَرَرٌ فَإِنَّهَا تُخَيَّرُ فَإِنْ شَائَتْ قَرَّتْ وَإِنْ شَائَتْ فَارَقَتْ قَالَ مَالِک فِي الْأَمَةِ تَکُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ ثُمَّ تَعْتِقُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَوْ يَمَسَّهَا إِنَّهَا إِنْ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَلَا صَدَاقَ لَهَا وَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَذَلِکَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ بنی عدی کی لونڈی جس کا نام زبرا تھا ایک غلام کے نکاح میں تھی وہ آزاد ہوگئی حضرت حفصہ نے اس کو بلایا اور کہا میں تجھ سے ایک بات کہتی ہوں مگر یہ نہیں چاہتی کہ تو کچھ کر بیٹھے تجھے اختیار ہے جب تک تیرا خاوند تجھ سے جماع نہ کرے اگر جماع کرے گا پھر تجھے اختیار نہ رہے گا زبرا بول اٹھی اگر ایسا ہی ہے تو طلاق ہے طلاق ہے پھر طلاق ہے جدا ہوگئی اپنے خاوند سے تین بار کہہ کر۔ امام مالک کو پہنچا کہ سعید بن مسیب نے کہا جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور خاوند کو جنون یا اور کوئی مرض نکلے تو عورت کو اختیار ہے خواہ مرد کے پاس رہے یا جدا ہوجائے۔ کہا مالک نے جو لونڈی غلام کے نکاح میں آئے پھر آزاد ہوجائے صحبت سے پہلے اور خاوند سے جدا ہونا اختیار کرے تو اس کو مہر نہ ملے گا ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Urwa ibn az-Zubayr that a mawla of the tribe of Banu Adi called Zabra told him that she had been the wife of a slave when she was a slave-girl. Then she was set free and she sent a message to Hafsa, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace. Hafsa called her and said, "I will tell you something., but I would prefer that you did not act upon it. You have authority over yourself as long as your husband does not have intercourse with you. If he has intercourse with you, you have no authority at all." Therefore she pronounced her divorce from him three times.
آزادی کے وقت اختیار ہونے کا بیان
عَنْ مَالِک عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ إِذَا خَيَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَاخْتَارَتْهُ فَلَيْسَ ذَلِکَ بِطَلَاقٍ قَالَ مَالِک وَذَلِکَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ قَالَ مَالِک فِي الْمُخَيَّرَةِ إِذَا خَيَّرَهَا زَوْجُهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَقَدْ طَلُقَتْ ثَلَاثًا وَإِنْ قَالَ زَوْجُهَا لَمْ أُخَيِّرْکِ إِلَّا وَاحِدَةً فَلَيْسَ لَهُ ذَلِکَ وَذَلِکَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُهُ قَالَ مَالِک وَإِنْ خَيَّرَهَا فَقَالَتْ قَدْ قَبِلْتُ وَاحِدَةً وَقَالَ لَمْ أُرِدْ هَذَا وَإِنَّمَا خَيَّرْتُکِ فِي الثَّلَاثِ جَمِيعًا أَنَّهَا إِنْ لَمْ تَقْبَلْ إِلَّا وَاحِدَةً أَقَامَتْ عِنْدَهُ عَلَی نِکَاحِهَا وَلَمْ يَکُنْ ذَلِکَ فِرَاقًا إِنْ شَائَ اللَّهُ تَعَالَی
کہا مالک نے ابن شہاب کہتے تھے جب مرد اپنی عورت کو طلاق دے اور عورت خاوند کو اختیار کرے تو طلاق نہ پڑے گی۔ کہا مالک نے میں نے یہ اچھا سنا۔ کہا مالک نے جب مرد عورت کو اختیار دے اور عورت اپنی تئیں اختیار کرے تو تین طلاق پڑجائیں گی اگر خاوند کہے میں نے ایک طلاق کا اختیار دیا تھا تو یہ نہ سنا جائے گا۔ کہا مالک نے اگر خاوند نے بی بی کو طلاق کا اختیار دیا عورت نے کہا میں نے ایک طلاق قبول کی خاوند نے کہا میری غرض یہ نہ تھی میں نے تجھے تین طلاق کا اختیار دیا تھا مگر عورت ایک ہی طلاق کو قبول کرے زیادہ نہ لے تو وہ خاوند سے جدا نہ ہوگی۔
Yahya related to me that Malik heard Ibn Shihab say, "When a man gives his wife the right of choice, and she chooses him, that is not divorce."
عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهَا کَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَی الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ فِي الْغَلَسِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذِهِ فَقَالَتْ أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا شَأْنُکِ قَالَتْ لَا أَنَا وَلَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ لِزَوْجِهَا فَلَمَّا جَائَ زَوْجُهَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ قَدْ ذَکَرَتْ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ تَذْکُرَ فَقَالَتْ حَبِيبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ خُذْ مِنْهَا فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ فِي بَيْتِ أَهْلِهَا
حبیبہ بنت سہل ثابت بن قیس کے نکاح میں تھیں ایک روز رسول اللہ ﷺ اندھیرے میں فجر کی نماز کو نکلے حبیبہ کو دروازے پر پایا پوچھا کون بولی میں حبیبیہ بنت سہل ہوں یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا کیوں کیا ہے بولی یا میں نہیں یا ثابت بن قیس نہیں جب ثابت بن قیس آئے آپ ﷺ نے ان سے کہا اس حبیبہ بنت سہل نے مجھ سے کہا جو کچھ اللہ کو منظور تھا حبیبہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ثابت نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ میرے پاس موجود ہے آپ ﷺ نے ثابت سے فرمایا تم اپنی چیز لے لو انہوں نے لے لی اور حبیبہ اپنے میکے میں بیٹھی رہیں۔،
Yahya related. to me from Malik from Yahya ibn Said that Amra bint Abd ar-Rahman told him from Habiba bint Sahl al-Ansari that she had been the wife of Thabit ibn Qays ibn Shammas. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, went out for the dawn prayer, and found Habiba bint Sahl at his door in the darkness. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to her, "Who is this?" She said, "I am Habiba bint Sahl, Messenger of Allah." He said, "What do you want?" She said, "That Thabit ibn Qays and I separate." When her husband, Thabit ibn Qays came, the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "This is Habiba bint Sahl. She mentioned what Allah willed that she mention." Habiba said, "Messenger of Allah, all that he has given me is with me!" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to Thabit ibn Qays, "Take it from her," and he took it from her, and she stayed in the house of her family.
صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا بِکُلِّ شَيْئٍ لَهَا فَلَمْ يُنْکِرْ ذَلِکَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ مَالِک فِي الْمُفْتَدِيَةِ الَّتِي تَفْتَدِي مِنْ زَوْجِهَا أَنَّهُ إِذَا عُلِمَ أَنَّ زَوْجَهَا أَضَرَّ بِهَا وَضَيَّقَ عَلَيْهَا وَعُلِمَ أَنَّهُ ظَالِمٌ لَهَا مَضَی الطَّلَاقُ وَرَدَّ عَلَيْهَا مَالَهَا قَالَ فَهَذَا الَّذِي کُنْتُ أَسْمَعُ وَالَّذِي عَلَيْهِ أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَنَا قَالَ مَالِک لَا بَأْسَ بِأَنْ تَفْتَدِيَ الْمَرْأَةُ مِنْ زَوْجِهَا بِأَکْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهَا
صفیہ بنت ابوعبید کی لونڈی نے اپنے خاوند سے سارے مال کے بدلے میں خلع کیا تو عبداللہ بن عمر نے اس کو برا نہ جانا۔ کہا مالک نے جو عورت مال دے کر اپنا پیچھا چھڑائے پھر معلوم ہو کہ خاوند نے سرا سر ظلم کیا تھا اور عورت کا کچھ قصور نہ تھا بلکہ خاوند نے زور ڈال کر زبردستی سے اس کا پیسہ مار لیا تو عورت پر طلاق پڑجائے گی۔ اور مالک اس کا پھر وادیا جائے گا میں نے یہی سنا اور میرے نزدیک یہی حکم ہے اگر عورت جتنا خاوند نے اس کو دیا ہے اس سے زیادہ دے کر اپنا پیچھا چھڑائے تو کچھ قباحت نہیں۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from a mawla of Safiyya bint Abi Ubayd that she gave all that she possessed to her husband as compensation for her divorce from him, and Abdullah ibn Umar did not disapprove of that.
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ رُبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوَّذِ بْنِ عَفْرَائَ جَائَتْ هِيَ وَعَمُّهَا إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا فِي زَمَانِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَبَلَغَ ذَلِکَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَلَمْ يُنْکِرْهُ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عِدَّتُهَا عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ وَابْنَ شِهَابٍ کَانُوا يَقُولُونَ عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ مِثْلُ عِدَّةِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثَةُ قُرُوئٍ قَالَ مَالِک فِي الْمُفْتَدِيَةِ إِنَّهَا لَا تَرْجِعُ إِلَی زَوْجِهَا إِلَّا بِنِکَاحٍ جَدِيدٍ قَالَ مَالِک وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِکَ
نافع سے روایت ہے کہ ربیع بنت معوذ بن عفرا اور ان کی پھو بھی عبداللہ بن عمر کے پاس آئیں اور بیان کیا کہ انہوں نے اپنے خاوند سے خلع کیا تھا حضرت عثمان کے زمانے میں جب یہ خبر حضرت عثمان کو پہنچی انہوں نے برا نہ جانا عبداللہ بن عمر نے کہا جو عورت خلع کرے اس کی عدت مطلقہ کی عدت کی طرح ہے۔ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار اور ابن شہاب کہتے تھے جو عورت خلع کرے وہ تین طہر تک عدت کرے جیسے مطلقہ عدت کرتی ہے۔ کہا مالک نے جو عورت مال دے کر اپنا پیچھا چھڑائے تو پھر اپنے خاوند سے مل نہیں سکتی مگر نیا نکاح کر کے۔ کہا مالک نے یہ میں نے اچھا سنا۔
عَنْ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَائَ إِلَی عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ کَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَکَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّی کَبُرَ عَلَی عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَی أَهْلِهِ جَائَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ کَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّی أَسْأَلَهُ عَنْهَا فَقَامَ عُوَيْمِرٌ حَتَّی أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ کَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ فِيکَ وَفِي صَاحِبَتِکَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا قَالَ سَهْلٌ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلَاعُنِهِمَا قَالَ عُوَيْمِرٌ کَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَکْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَالِک قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَکَانَتْ تِلْکَ بَعْدُ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ
سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ عویمر عجلانی عاصم بن عدی کے پاس آئے اور پوچھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو پائے پھر کیا کرے اگر اس کو مار ڈالے تو خود بھی مارا جاتا ہے تم میرے واسطے رسول اللہ ﷺ سے اس مسئلے کو پوچھو عاصم نے آپ ﷺ سے اس مسئلے کو پوچھا آپ ﷺ نے اس سوال کو ناپسند کیا اور برا کہا عاصم کو یہ امر نہایت دشوار گزرا وہ جب لوٹ کر اپنے گھر میں آئے عویمر نے آ کر پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا عاصم نے کہا تم سے مجھے بھلائی نہ پہنچی آپ ﷺ نے اس سوال کو برا جانا عویمر نے کہا قسم اللہ کی میں تو آپ ﷺ سے بغیر پوچھے نہ رہوں گا پھر عویمر آپ ﷺ کے پاس آئے لوگ جمع تھے انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ اگر کوئی بیگانے مرد کو اپنی بی بی کے ساتھ پائے اور اس کو مار ڈالے تو خود مارا جاتا ہے پھر کیا کرے آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے اور تمہاری بی بی کے حق میں اللہ کا حکم اترا ہے تم اپنی بی بی کو لے آؤ سہل کہتے ہیں دونوں نے آ کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے لعان کیا اور میں اس وقت موجود تھا جب لعان سے فارغ ہوئے عویمر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر میں اس عورت کو رکھوں تو گویا میں نے جھوٹ بولا یہ کہہ کر تین طلاق دے دیں بغیر آپ ﷺ کے کہے ہوئے ابن شہاب نے کہا پھر یہی متلاعنین کا طریقہ جاری رہا۔