Mauwatta Imam Malik

All 1,740 hadiths in order · Page 40 of 87

781Mauwatta Imam Malik

موافق طاقت کے ہدی کیا چیز ہے۔

حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ کَانَ يَقُولُ مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ شَاةٌ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ کَانَ يَقُولُ مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ شَاةٌ

حضرت علی فرماتے تھے کہ مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ سے مراد ایک بکری ہے۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عباس کہتے تھے مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ سے ایک بکری مراد ہے۔

Yahya related to me from Malik from Jafar ibn Muhammad from his father that Ali ibn Abi Talib used to say, "The least difficult thing acceptable as a sacrificial animal is a sheep."

782Mauwatta Imam Malik

موافق طاقت کے ہدی کیا چیز ہے۔

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ بَدَنَةٌ أَوْ بَقَرَةٌ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ سے ایک بکری یا گائے مراد ہے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Urnar used to say, "The least thing that is acceptable as a sacrificial animal is a camel or a cow."

783Mauwatta Imam Malik

موافق طاقت کے ہدی کیا چیز ہے۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ مَوْلَاةً لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُقَالُ لَهَا رُقَيَّةُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا خَرَجَتْ مَعَ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَی مَکَّةَ قَالَتْ فَدَخَلَتْ عَمْرَةُ مَکَّةَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَأَنَا مَعَهَا فَطَافَتْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ دَخَلَتْ صُفَّةَ الْمَسْجِدِ فَقَالَتْ أَمَعَکِ مِقَصَّانِ فَقُلْتُ لَا فَقَالَتْ فَالْتَمِسِيهِ لِي فَالْتَمَسْتُهُ حَتَّی جِئْتُ بِهِ فَأَخَذَتْ مِنْ قُرُونِ رَأْسِهَا فَلَمَّا کَانَ يَوْمُ النَّحْرِ ذَبَحَتْ شَاةً

عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ایک آزاد لونڈی عمرہ بنت عبدالرحمن کی جس کا نام رقیہ تھا مجھ سے کہتی تھی کہ میں چلی عمرہ بنت عبدالرحمن کے ساتھ مکہ کو تو آٹھویں تاریخ ذی الحجہ کی وہ مکہ میں پہنچیں اور میں بھی ان کے ساتھ تھی تو طواف کیا خانہ کعبہ کا اور سعی کی صفا اور مروہ کے درمیان میں پھر عمرہ مسجد کے اندر گئیں اور مجھ سے کہا کہ تیرے پاس قینچی ہے میں نے کہا نہیں عمرہ نے کہا کہیں سے ڈھونڈھ کر لاؤ سو میں ڈھونڈھ کر لائی عمرہ نے اپنی لٹیں بالوں کی اس سے کاٹیں جب یوم النحر ہوا تو ایک بکری ذبح کی۔

Yahya related to me from Malik fromAbdullah ibn Abi Bakr that a mawla of Amir bint Abd ar-Rahman called Ruqayya told him that she once set out with Amra bint Abd ar-Rahman to go to Makka. She said, Amra entered Makka on the eighth of Dhul-Hijja, and I was with her. She did tawaf of the House, and say between Safa and Marwa, and then entered the back of the mosque. She asked me, Do you have a pair of scissors with you? and I said, No. She said, Then try and find some for me. I went and looked for some and brought them back and she cut some hair from the tresses of her head.Then, on the day of sacrifice, she slaughtered a sheep."

784Mauwatta Imam Malik

مختلف حدیثیں ہدی کے بیان میں

عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ الْمَکِّيِّ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ جَائَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَقَدْ ضَفَرَ رَأْسَهُ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي قَدِمْتُ بِعُمْرَةٍ مُفْرَدَةٍ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ کُنْتُ مَعَکَ أَوْ سَأَلْتَنِي لَأَمَرْتُکَ أَنْ تَقْرِنَ فَقَالَ الْيَمَانِي قَدْ کَانَ ذَلِکَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ خُذْ مَا تَطَايَرَ مِنْ رَأْسِکَ وَأَهْدِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ مَا هَدْيُهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ هَدْيُهُ فَقَالَتْ لَهُ مَا هَدْيُهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا أَنْ أَذْبَحَ شَاةً لَکَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَصُومَ

صدقہ بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص یمن کا رہنے والا آیا عبداللہ بن عمر کے پاس اور اس نے بٹ لیا تھا اپنے بالوں کو تو کہا اے ابا عبدالرحمن میں صرف عمرہ کا احرام باندھ کر آیا عبداللہ بن عمر نے کہا اگر تو میرے ساتھ ہوتا یا مجھ سے پوچھتا تو میں تجھے قران کا حکم کرتا اس شخص نے کہا اب تو ہوچکا عبداللہ بن عمر نے کہا کہ جتنے بال تیرے پریشان ہیں ان کو کتروا ڈال اور ہدی دے، ایک عورت عراق کی رہنے والی بوالی اے ابا عبدالرحمن کیا ہدی ہے اس کی؟ انہوں نے کہا جو ہدی ہے اس کی، اس عورت نے کہا کیا ہدی ہے؟ عبداللہ بن عمر نے کہا میرے نزدیک تو یہ ہے کہ اگر مجھے سوا بکری کے کچھ نہ ملے تب بھی بکری ذبح کرنا بہتر ہے روزے رکھنے سے۔

Yahya related to me from Malik from Sadaqa ibn Yasar al-Makki that a man from the people of Yemen, who had his hair braided, came to Abdullah ibn Umar and said, "Abu Abd arRahman, I have come to do just umra. Abdullah ibn Umar said to him, "If I had been with you or you had asked me I would have told you to do hajj and umra together." The Yemeni answered, "I am doing what I am doing," and Abdullah ibn Umar said to him, "Cut off the locks that are hanging from your head and offer a sacrificial animal." A woman from Iraq said, "What should his sacrificial animal be, Abu Abd ar-Rahman?" and he said, "His sacrificial animal?" and she said to him, "What should his sacrificial animal be?" Abdullah ibn Umar said, "If I could only find a sheep to sacrifice, I would prefer to do that than to fast."

785Mauwatta Imam Malik

مختلف حدیثیں ہدی کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ إِذَا حَلَّتْ لَمْ تَمْتَشِطْ حَتَّی تَأْخُذَ مِنْ قُرُونِ رَأْسِهَا وَإِنْ کَانَ لَهَا هَدْيٌ لَمْ تَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهَا شَيْئًا حَتَّی تَنْحَرَ هَدْيَهَا

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو عورت احرام باندھے ہو جب احرام کھلوائے تو کنگھی نہ کرے جب تک اپنے بالوں کی لٹیں نہ کٹوا دے اور جو اس کے پاس ہدی ہو جب تک ہدی نحر نہ کرے تو اپنے بال نہ کتروائے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to say, "A woman in ihram should not comb her hair when she leaves ihram until she has cut some of the tresses of her hair, and if she has an animal for sacrifice with her she should not cut off any of her hair until the animal has been killed."

786Mauwatta Imam Malik

مختلف حدیثیں ہدی کے بیان میں

عَنْ أَبِي أَسْمَائَ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ فَخَرَجَ مَعَهُ مِنْ الْمَدِينَةِ فَمَرُّوا عَلَی حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ وَهُوَ مَرِيضٌ بِالسُّقْيَا فَأَقَامَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ حَتَّی إِذَا خَافَ الْفَوَاتَ خَرَجَ وَبَعَثَ إِلَی عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَسْمَائَ بِنْتِ عُمَيْسٍ وَهُمَا بِالْمَدِينَةِ فَقَدِمَا عَلَيْهِ ثُمَّ إِنَّ حُسَيْنًا أَشَارَ إِلَی رَأْسِهِ فَأَمَرَ عَلِيٌّ بِرَأْسِهِ فَحُلِّقَ ثُمَّ نَسَکَ عَنْهُ بِالسُّقْيَا فَنَحَرَ عَنْهُ بَعِيرًا قَالَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَکَانَ حُسَيْنٌ خَرَجَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي سَفَرِهِ ذَلِکَ إِلَی مَکَّةَ

ابو اسما سے جو مولیٰ ہیں عبداللہ بن جعفر کے روایت ہے کہ عبداللہ بن جعفر کے ساتھ وہ مدینہ سے نکلے تو گزرے حسین بن علی پر اور وہ بیمار تھے سقیا میں پس ٹھہرے رہے وہاں عبداللہ بن جعفر یہاں تک کہ جب خوف ہوا حج کے فوت ہوجانے کا تو نکل کھڑے ہوئے عبداللہ بن جعفر اور ایک آدمی بھیج دیا حضرت علی کے پاس اور ان کی بی بی اسما بنت عمیس کے پاس وہ دونوں مدینہ میں تھے تو آئے حضرت علی اور اسماء مدینہ سے امام حسین کے پاس انہوں نے اشارہ کیا اپنے سر کی طرف حضرت علی نے حکم کیا ان کا سر مونڈا گیا سقیا میں، پھر قربانی کی ان کی طرف سے ایک اونٹ کی وہیں سقیا میں، کہا یحییٰ بن سعید نے کہ امام حسین حضرت عثمان بن عفان کے ساتھ نکلے تھے حج کرنے کو۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Yaqub ibn Khalid al-Makhzumi that Abu Asma, the mawla of Abdullah ibn Jafar, told him that he was with Abdullah ibn Jafar when they set out once from Madina. At as-Suqya they passed by Husayn ibn Ali, who was ill at the time. Abdullah ibn Jafar stayed with him and then, when he feared that he was late (for the hajj) he left, and sent for Ali ibn Abi Talib and Asma bint Umays in Madina, and they came to Husayn. Then Husayn pointed to his head, and AIi told someone to shave his head. Then he sacrificed an animal for him at as-Suqya, killing a camel for him. Yahya ibn Said added, "Husayn had set out with Uthman ibn Affan on that particular journey to Makka. "

787Mauwatta Imam Malik

عرفات اور مزدلفہ میں ٹھہرنے کا بیان

حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَرَفَةُ کُلُّهَا مَوْقِفٌ وَارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ وَالْمُزْدَلِفَةُ کُلُّهَا مَوْقِفٌ وَارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ

امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عرفات تمام ٹھہرنے کی جگہ ہے مگر بطن عرفہ میں نہ ٹھہرو اور مزدلفہ تمام ٹھہرنے کی جگہ ہے مگر بطن محسر میں نہ ٹھہرو۔

Yahya related to me from Malik that he had heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The whole of Arafa is a mawqif, except the middle of Urana, and the whole of Muzdalifa is a standing-place, except for the middle of Muhassir."

788Mauwatta Imam Malik

عرفات اور مزدلفہ میں ٹھہرنے کا بیان

حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ اعْلَمُوا أَنَّ عَرَفَةَ کُلَّهَا مَوْقِفٌ إِلَّا بَطْنَ عُرَنَةَ وَأَنَّ الْمُزْدَلِفَةَ کُلَّهَا مَوْقِفٌ إِلَّا بَطْنَ مُحَسِّرٍ قَالَ مَالِک قَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ قَالَ فَالرَّفَثُ إِصَابَةُ النِّسَائِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ قَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أُحِلَّ لَکُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَی نِسَائِکُمْ قَالَ وَالْفُسُوقُ الذَّبْحُ لِلْأَنْصَابِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ

عبداللہ بن زبیر کہتے تھے جانو تم کہ عرفات سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے مگر بطن محسر۔ کہا مالک نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فلا رفث ولا فسوق ولاجدال فی الحج، نہ رفث ہے نہ فسق ہے نہ جھگڑا ہے حج میں، تو رفث کے معنی جماع کے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے فرمایا ہے احل لکم لیلہ الصیام الرفث الی نساء کم حلال ہے تمہارے لئے روزوں کی رات میں جماع اپنی عورتوں سے یہاں پر رفث سے جماع مراد ہے۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that Abdullah ibn az-Zubayr used to say, "Know that the whole of Arafa is a standing-place except for the middle of Urana, and that the wholeof Muzdalifa is a standing-place except for the middle of Muhassir."

789Mauwatta Imam Malik

بے وضو عرفات یا مزدلفہ میں ٹھہرنے کا اور سوار ہو کر ٹھہرنے کا بیان

سُئِلَ مَالِک هَلْ يَقِفُ الرَّجُلُ بِعَرَفَةَ أَوْ بِالْمُزْدَلِفَةِ أَوْ يَرْمِي الْجِمَارَ أَوْ يَسْعَی بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهُوَ غَيْرُ طَاهِرٍ فَقَالَ کُلُّ أَمْرٍ تَصْنَعُهُ الْحَائِضُ مِنْ أَمْرِ الْحَجِّ فَالرَّجُلُ يَصْنَعُهُ وَهُوَ غَيْرُ طَاهِرٍ ثُمَّ لَا يَکُونُ عَلَيْهِ شَيْئٌ فِي ذَلِکَ وَلَکِنْ الْفَضْلُ أَنْ يَکُونَ الرَّجُلُ فِي ذَلِکَ کُلِّهِ طَاهِرًا وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَعَمَّدَ ذَلِکَ و سُئِلَ مَالِک عَنْ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ لِلرَّاکِبِ أَيَنْزِلُ أَمْ يَقِفُ رَاکِبًا فَقَالَ بَلْ يَقِفُ رَاکِبًا إِلَّا أَنْ يَکُونَ بِهِ أَوْ بِدَابَّتِهِ عِلَّةٌ فَاللَّهُ أَعْذَرُ بِالْعُذْرِ

کہا یحییٰ نے سوال ہوا امام مالک سے کہ عرفات میں یا مزدلفہ میں کوئی آدمی بےوضو ٹھہر سکتا ہے یا بےوضو کنکریاں مار سکتا ہے یا بےوضو صفا اور مروہ کے درمیان میں دوڑ سکتا ہے تو جواب دیا کہ جتنے ارکان حائضہ عورت کرسکتی ہے وہ سب کام مرد بےوضو کرسکتا ہے اور اس پر کچھ لازم نہیں آتا مگر افضل یہ ہے کہ ان سب کاموں میں باوضو ہو اور قصدا بےوضو ہونا اچھا نہیں ہے۔ سوال ہوا امام مالک سے کہ عرفات میں سوار ہو کر ٹھہرے یا اتر کر، بولے سوار ہو کر مگر جب کوئی عذر ہو اس کو یا اس کے جانور کو تو اللہ جل جلالہ قبول کرنے والا ہے عذر کو۔

Malik was asked about whether a man could stand at Arafa, or at Muzdalifa, or stone the Jamras, or do say between Safa and Marwa if he was not in wudu, and he said, "Every practice in the hajj that a menstruating woman can take part in can be taken part in by a man who is not in wudu and there is nothing due from him for that. However, it is better for him to be in wudu for all those things, and he should not make a general practice of it." Malik was asked whether a man who was riding should get down to do the standing at Arafa or if he could stand while mounted, and he said, "He can stand while mounted, unless he or his riding beast have an illness, in which case Allah is the one who most often accepts an excuse."

790Mauwatta Imam Malik

وقوف عرفات کی انتہا کا بیان

حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ مَنْ لَمْ يَقِفْ بِعَرَفَةَ مِنْ لَيْلَةِ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ وَمَنْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ مِنْ لَيْلَةِ الْمُزْدَلِفَةِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَکَ الْحَجَّ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر کہتے تھے جو شخص عرفہ میں نہ ٹھہرا یوم النحر کے طلوع فجر تک تو فوت ہوگیا حج اس کا اور جو یوم النحر کے طلوع فجر سے پہلے عرفہ میں ٹھہرا تو اس نے پا لیا حج کو۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to say, "Someone who does not stand at Arafa on the night of Muzdalifa before the dawn breaks has missed the hajj, and someone who stands at Arafa on the night of Muzdalifa before the dawn breaks has caught the hajj."

791Mauwatta Imam Malik

وقوف عرفات کی انتہا کا بیان

حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَدْرَکَهُ الْفَجْرُ مِنْ لَيْلَةِ الْمُزْدَلِفَةِ وَلَمْ يَقِفْ بِعَرَفَةَ فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ وَمَنْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ مِنْ لَيْلَةِ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَکَ الْحَجَّ

عروہ بن زبیر نے کہا کہ جب مزدلفہ کی رات کی صبح ہوگئی اور وہ عرفہ میں نہ ٹھہرا تو حج اس کا فوت ہوگیا اور جو مزدلفہ کی رات کو عرفہ میں ٹھہرا طلوع فجر سے پہلے تو پا لیا اس نے حج کو۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father said, "Someone who does not stand at Arafa on the night of Muzdalifa before the dawn breaks has missed the hajj, and some one who stands at Arafa on the night of Muzdalifa before the dawn breaks has caught the hajj. Malik said, about a slave freed during the wuquf at Arafa, "His standing does not fulfil for him the hajj of Islam, except if he was not in ihram and then he went into ihram after he was freed and he stood at Arafa that same night before the dawn broke in which case that is enough for him. If, however, he did not go into ihram until after the dawn had broken, he is in the same position as someone who misses the hajj by not catching the standing at Arafa before the breaking of the dawn on the night of Muzdalifa, and he will have to do the hajj of Islam later."

792Mauwatta Imam Malik

عورتوں اور لڑکوں کو آگے روانہ کردینے کا بیان

عَنْ نَافِعٍ عَنْ سَالِمٍ وَعُبَيْدِ اللَّهِ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ أَبَاهُمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يُقَدِّمُ أَهْلَهُ وَصِبْيَانَهُ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَی مِنًی حَتَّی يُصَلُّوا الصُّبْحَ بِمِنًی وَيَرْمُوا قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ

سالم اور عبیداللہ سے جو دو بیٹے ہیں عبداللہ بن عمر کے روایت ہے کہ ان کے باپ عبداللہ بن عمر آگے روانہ کردیتے تھے عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ سے منیٰ کی طرف تاکہ نماز صبح کی منیٰ میں پڑھ کر لوگوں کے آنے سے اول کنکریاں مار لیں۔

Yahya related to me from Malik from Nafj from Salim and Ubaydullah, two sons of Abdullah ibn Umar, that their father Abdullah ibn Umar used to send his family and children from Muzdalifa to Mina ahead of him so that they could pray subh at Mina and throw the stones before everyone (else) arrived.

793Mauwatta Imam Malik

عورتوں اور لڑکوں کو آگے روانہ کردینے کا بیان

حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ مَوْلَاةً لِأَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ جِئْنَا مَعَ أَسْمَائَ ابْنَةِ أَبِي بَکْرٍ مِنًی بِغَلَسٍ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهَا لَقَدْ جِئْنَا مِنًی بِغَلَسٍ فَقَالَتْ قَدْ کُنَّا نَصْنَعُ ذَلِکَ مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْکِ عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَکْرَهُ رَمْيَ الْجَمْرَةِ حَتَّی يَطْلُعَ الْفَجْرُ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ وَمَنْ رَمَی فَقَدْ حَلَّ لَهُ النَّحْرُ

اسماء بنت ابی بکر کی آزاد لونڈی سے روایت ہے کہ ہم اسما بنت ابی بکر کے ساتھ منیٰ میں آئے منہ اندھیرے تو میں نے کہا کہ ہم منیٰ میں منہ اندھیرے آئے اسماء نے کہا ہم ایسا ہی کرتے تھے اس شخص کے ساتھ جو تجھ سے بہتر تھے۔ امام مالک نے سنا بعض اہل علم سے مکروہ جانتے تھے کنکریاں مارنا قبل طلوع فجر کے نحر کے دن اور جس نے ماریں تو نحر اس کو حلال ہوگیا۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Ata ibn Abi Rabah that a mawla of Asma bint Abi Bakr told him, "We arrived at Mina with Asma bint Abi Bakr at the end of the night, and I said to her, We have arrived at Mina at the end of the night, and she said, We used to do that with one who was better than you. "

794Mauwatta Imam Malik

عورتوں اور لڑکوں کو آگے روانہ کردینے کا بیان

حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا کَانَتْ تَرَی أَسْمَائَ بِنْتَ أَبِي بَکْرٍ بِالْمُزْدَلِفَةِ تَأْمُرُ الَّذِي يُصَلِّي لَهَا وَلِأَصْحَابِهَا الصُّبْحَ يُصَلِّي لَهُمْ الصُّبْحَ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ ثُمَّ تَرْکَبُ فَتَسِيرُ إِلَی مِنًی وَلَا تَقِفُ

ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت المنذر دیکھتی تھیں اسما بنت ابی بکر کو مزدلفہ میں کہ جو امامت کرتا تھا ان کی اور ان کے ساتھیوں کی نماز میں حکم کرتی تھیں اس شخص کو کہ نماز پڑھائے صبح کی فجر نکلتے ہی پھر سوار ہو کر منیٰ کو آتی تھیں اور توقف نہ کرتی تھیں۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that Fatima bint al-Mundhir told him that she used to see Asma bint Abi Bakrat Muzdalifa telling whoever led the subh prayer for her and her companions to pray it as soon as the dawn broke, after which she would mount and go to Mina without stopping at all.

795Mauwatta Imam Malik

عرفات سے لوٹتے وقت چلنے کا بیان

حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا جَالِسٌ مَعَهُ کَيْفَ کَانَ يَسِيرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ قَالَ کَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ

عروہ بن زبیر نے کہا کہ سوال ہو اسامہ بن زید سے اور میں بیٹھا تھا ان کے پاس کہ رسول اللہ ﷺ حج وداع میں کس طرح چلاتے تھے اونٹ کو؟ کہا انہوں نے چلاتے تھے ذرا تیز جب جگہ پاتے تو خوب دوڑا کر چلاتے تھے۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father said, "I was sitting with Usama ibn Zayd when some one asked him, How did the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, travel when he went from Arafa to Muzdalifa during the farewell hajj? and he replied, He went at a medium pace, but when he found a gap (in the crowds) he speeded up. "

796Mauwatta Imam Malik

عرفات سے لوٹتے وقت چلنے کا بیان

حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يُحَرِّکُ رَاحِلَتَهُ فِي بَطْنِ مُحَسِّرٍ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر تیز کرتے تھے اپنے اونٹ کو بطن محسر میں ایک ڈھیلے کی مار تک۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to spur on his mount in the middle of Muhassir over the distance of a stones throw.

797Mauwatta Imam Malik

حج میں نحر کرنے کا بیان

حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِنًی هَذَا الْمَنْحَرُ وَکُلُّ مِنًی مَنْحَرٌ وَقَالَ فِي الْعُمْرَةِ هَذَا الْمَنْحَرُ يَعْنِي الْمَرْوَةَ وَکُلُّ فِجَاجِ مَکَّةَ وَطُرُقِهَا مَنْحَرٌ

امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منیٰ کو نحر کی جگہ یہ ہے اور ساری منیٰ نحر کی جگہ ہے اور عمرہ میں کہا مروہ کو نحر کی جگہ یہ ہے اور سب راستے مکہ کے نحر کی جگہ ہے۔

Yahya related to me from Malik that he had heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said once at Mina, "This place (where I have just sacrificed), and the whole of Mina, is a place of sacrifice," and he said once during umra, "This place of sacrifice" meaning Marwa, "and all the pathways of Makka and its roads are a place of sacrifice."

798Mauwatta Imam Malik

حج میں نحر کرنے کا بیان

حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَلَا نُرَی إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَکَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَی بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ قَالَتْ عَائِشَةُ فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالُوا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ

حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم نکلے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جب پانچ راتیں باقی رہی تھیں ذیقعدہ کی اور ہم کو گمان یہی تھا کہ آپ ﷺ حج کو نکلے ہیں جب ہم نزدیک ہوئے مکہ سے تو حکم کیا رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو جس کے ساتھ ہدی نہ تھی کہ طواف اور سعی کر کے احرام کھول ڈالے کہا عائشہ نے کہ یوم النحر کے دن ہمارے پاس گوشت آیا گائے کا تو میں نے پوچھا کہ یہ گوشت کہاں سے آیا لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیبیوں کی طرف سے نحر کیا ہے۔

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said that Amra bint Abd ar-Rahman told him that she had heard Aisha, umm al-muminin, saying, "We set out with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, when there were five nights left in Dhul-Qada and we assumed that we must be setting out for hajj. When we got near to Makka, the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, told everyone that did not have a sacrificial animal with them to leave ihram after they had done tawaf of the House and say between Safa and Marwa." Aisha added, "We were sent some beef on the day of sacrifice. I asked what it was and they said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, had sacrificed for his wives." Yahya ibn Said said, "I mentioned this hadith to Qasim ibn Muhammad and he said, She has given you the complete hadith, by Allah. "

799Mauwatta Imam Malik

حج میں نحر کرنے کا بیان

حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِکَ فَقَالَ إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّی أَنْحَرَ

حضرت ام المومنین حفصہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا لوگوں نے احرام کھول ڈالا اور آپ ﷺ نے عمرہ کر کے اپنا احرام نہیں کھولا تو فرمایا آپ ﷺ نے میں نے تلبید کی اپنے سر کی اور تقلید کی اپنی ہدی کی تو میں احرام نہ کھولوں گا جب تک نحر نہ کرلوں۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that Hafsa, umm al-muminin, once said to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, "Why is it that everyone has left ihram and you still have not left ihram from your umra?" and he replied, "I have matted my hair and garlanded my sacrificial animal and will not leave ihram until I have sacrificed the animal."

800Mauwatta Imam Malik

نحر کرنے کا بیان

حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ بَعْضَ هَدْيِهِ وَنَحَرَ غَيْرُهُ بَعْضَهُ

حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ہدی کے بعض جانوروں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور بعضوں کو اوروں نے ذبح کیا۔

19O Yahya related to me from Malik from Jafar ibn Muhammad from his father from Ali ibn Abi Talib that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, killed some of his sacrificial animals himself, and someone else killed the rest.