Mauwatta Imam Malik

All 1,740 hadiths in order · Page 39 of 87

761Mauwatta Imam Malik

جو جانور ہدی کے لئے درست ہے اس کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ إِذَا نُتِجَتْ النَّاقَةُ فَلْيُحْمَلْ وَلَدُهَا حَتَّی يُنْحَرَ مَعَهَا فَإِنْ لَمْ يُوجَدْ لَهُ مَحْمَلٌ حُمِلَ عَلَی أُمِّهِ حَتَّی يُنْحَرَ مَعَهَا

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جب جنے اونٹنی ہدی کی تو اس کے بچے کو بھی ساتھ لے چلیں اور اپنی ماں کے ساتھ قربانی کریں اگر اس کے چلنے کے لئے کوئی سواری نہ ہو تو اس کو اپنی ماں پر سوار کردیا جائے تاکہ اس کے ساتھ نحر کیا جائے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to say, "If a she-camel that is being driven as a sacrificial animal gives birth, the offspring should be carried along as well and they are sacrificed together with her, and if there is no place where they can be carried, they should be carried on the mother until they are all sacrificed."

762Mauwatta Imam Malik

جو جانور ہدی کے لئے درست ہے اس کا بیان

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ إِذَا اضْطُرِرْتَ إِلَی بَدَنَتِکَ فَارْکَبْهَا رُکُوبًا غَيْرَ فَادِحٍ وَإِذَا اضْطُرِرْتَ إِلَی لَبَنِهَا فَاشْرَبْ بَعْدَ مَا يَرْوَی فَصِيلُهَا فَإِذَا نَحَرْتَهَا فَانْحَرْ فَصِيلَهَا مَعَهَا

ہشام بن عروہ نے کہا کہ میرے باپ عروہ کہتے تھے کہ اگر تجھ کو ضرورت پڑے تو اپنی ہدی پر سوار ہوجا مگر ایسا نہ ہو کہ اس کی کمر ٹوٹ جائے اور جب ضرورت ہو تجھ کو اس کے دودھ کی تو پی لے جبکہ بچہ اس کا سیر ہوجائے، پھر جب تو اس کو نحر کرے تو اس کے بچے کو بھی اس کے ساتھ نحر کر۔

ahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father said, "If necessary, ride on your sacrificial animal, without burdening it, and if necessary, drink its milk after its young one has drunk its fill, and when you sacrifice it, sacrifice the young one with it."

763Mauwatta Imam Malik

ہدی ہانکنے کی ترکیب کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ إِذَا أَهْدَی هَدْيًا مِنْ الْمَدِينَةِ قَلَّدَهُ وَأَشْعَرَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ يُقَلِّدُهُ قَبْلَ أَنْ يُشْعِرَهُ وَذَلِکَ فِي مَکَانٍ وَاحِدٍ وَهُوَ مُوَجَّهٌ لِلْقِبْلَةِ يُقَلِّدُهُ بِنَعْلَيْنِ وَيُشْعِرُهُ مِنْ الشِّقِّ الْأَيْسَرِ ثُمَّ يُسَاقُ مَعَهُ حَتَّی يُوقَفَ بِهِ مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ ثُمَّ يَدْفَعُ بِهِ مَعَهُمْ إِذَا دَفَعُوا فَإِذَا قَدِمَ مِنًی غَدَاةَ النَّحْرِ نَحَرَهُ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ أَوْ يُقَصِّرَ وَکَانَ هُوَ يَنْحَرُ هَدْيَهُ بِيَدِهِ يَصُفُّهُنَّ قِيَامًا وَيُوَجِّهُهُنَّ إِلَی الْقِبْلَةِ ثُمَّ يَأْکُلُ وَيُطْعِمُ

عبداللہ بن عمر جب ہدی لے جاتے مدینہ سے تو تقلید کرتے اس کی اور اشعار کرتے اس کا ذوالحلیفہ میں، مگر تقلید اشعار سے پہلے کرتے لیکن دونوں ایک ہی مقام میں کرتے اس طرح پر کہ ہدی کا منہ قبلہ کی طرف کر کے پہلے اس کے گلے میں دو جوتیاں لٹکا دیتے پھر اشعار کرتے بائیں طرف سے اور ہدی کو اپنے ساتھ لے جاتے یہاں تک کہ عرفہ کے روز عرفات میں بھی سب لوگوں کے ساتھ رہتے پھر جب لوگ لوٹتے تو ہدی بھی لوٹ کر آتی، جب منیٰ میں صبح کو یوم النحر میں پہنچتے تو اس کو نحر کرتے قبل حلق یا قصر کے اور عبداللہ بن عمر اپنی ہدی کو آپ نحر کرتے ان کو کھڑا کرتے صف باندھ کر منہ ان کا قبلہ کی طرف کرتے پھر اس کو نحر کرتے اور ان کا گوشت بھی کھاتے دوسروں کو بھی کھلاتے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that when he brought an animal to be sacrificed from Madina he would garland it and brand it at Dhul-Hulayfa, doing the garlanding before the branding, but doing both in the same place, while facing the qibla. He would garland the animal with two sandals and brand it on its left side. It would then be driven with him until he observed the standing together with everybody at Arafa. Then he would drive it on with him when everybody else moved on, and then when he arrived at Mina on the morning of the sacrifice, he would sacrifice the animal, before he shaved his head. He would sacrifice the animals with his own hands ,lining them up standing and facing the qibla. He would then eat some of the meat, and give some of it away.

764Mauwatta Imam Malik

ہدی ہانکنے کی ترکیب کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا طَعَنَ فِي سَنَامِ هَدْيِهِ وَهُوَ يُشْعِرُهُ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَکْبَرُ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب اپنی ہدی کے کوہان میں زخم لگاتے اشعار کے لئے کہتے اللہ کے نام سے اللہ بڑا ہے

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said, when nicking the hump of his sacrificial animal to brand it, "In the name of Allah, and Allah is greater."

765Mauwatta Imam Malik

ہدی ہانکنے کی ترکیب کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ الْهَدْيُ مَا قُلِّدَ وَأُشْعِرَ وَوُقِفَ بِهِ بِعَرَفَةَ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر فرماتے تھے کہ ہدی وہ جانور ہے جس کی تقلید اور اشعار ہو اور کھڑا کیا جائے اس کو عرفات میں۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to say, "A sacrificial animal is what has been garlanded, branded, and stood with on Arafa."

766Mauwatta Imam Malik

ہدی ہانکنے کی ترکیب کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يُجَلِّلُ بُدْنَهُ الْقُبَاطِيَّ وَالْأَنْمَاطَ وَالْحُلَلَ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا إِلَی الْکَعْبَةِ فَيَکْسُوهَا إِيَّاهَا

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر اپنے اونٹوں کو جو ہدی کے ہوتے تھے مصری کپڑے اور چارجامی اور جوڑے اوڑھاتے تھے (قربانی کے بعد) ان کپڑوں کو بھیج دیتے تھے کعبہ شریف اوڑھانے کو۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to drape his sacrificial animals in fine Egyptian linen, saddlecloths and sets of clothing, which he would afterwards send to the Kaba and have the Kaba draped with them.

767Mauwatta Imam Malik

ہدی ہانکنے کی ترکیب کا بیان

حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دِينَارٍ مَا کَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَصْنَعُ بِجِلَالِ بُدْنِهِ حِينَ کُسِيَتْ الْکَعْبَةُ هَذِهِ الْکِسْوَةَ قَالَ کَانَ يَتَصَدَّقُ بِهَا

امام مالک نے پوچھا عبداللہ بن دینار سے کہ عبداللہ بن عمر اونٹ کی جھول کا کیا کرتے تھے جب کعبہ شریف کا غلاف بن گیا تھا؟ انہوں نے کہا صدقہ میں دے دیتے تھے

Yahya related to me from Malik that he asked Abdullah ibn Dinar what Abdullah ibn Umar used to do with the drapings of his animals when the Kaba began to be draped with the kiswa, and he said, "He gave them away as sadaqa."

768Mauwatta Imam Malik

ہدی ہانکنے کی ترکیب کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ فِي الضَّحَايَا وَالْبُدْنِ الثَّنِيُّ فَمَا فَوْقَهُ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے قربانی کے لئے پانچ برس یا زیادہ کا اونٹ ہونا چاہیے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to say, about sacrificial animals, "Six-year-old camels, three-year-old cows and sheep, or older than these."

769Mauwatta Imam Malik

ہدی ہانکنے کی ترکیب کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ لَا يَشُقُّ جِلَالَ بُدْنِهِ وَلَا يُجَلِّلُهَا حَتَّی يَغْدُوَ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَةَ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر اپنے اونٹوں کے جھول نہیں پھاڑتے تھے اور نہ جھول پہناتے تھے یہاں تک کہ عرفہ کو جاتے منیٰ سے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar never used to tear the drapes of his sacrificial animals, and he would not drape them until he went from Mina to Arafa.

770Mauwatta Imam Malik

ہدی ہانکنے کی ترکیب کا بیان

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لِبَنِيهِ يَا بَنِيَّ لَا يُهْدِيَنَّ أَحَدُکُمْ مِنْ الْبُدْنِ شَيْئًا يَسْتَحْيِي أَنْ يُهْدِيَهُ لِکَرِيمِهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَکْرَمُ الْکُرَمَائِ وَأَحَقُّ مَنْ اخْتِيرَ لَهُ

عروہ بن زبیر اپنے بیٹوں سے کہتے تھے اے میرے بیٹو! اللہ کے لئے تم میں سے کوئی ایسا اونٹ نہ دے جو آپ اپنے دوست کو دیتے ہوئے شرماتے ہو اس لئے کہ اللہ جل جلالہ سب کریموں سے کریم ہے اور زیادہ حقدار ہے اس امر کا کہ اس کے واسطے چیز چن کردی جائے۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father used to say to his sons, "My sons, let none of you sacrifice any animal which he would be ashamed to sacrifice for a noble woman, for surely Allah is the noblest of noble ones, and the most deserving of those for whom things are chosen."

771Mauwatta Imam Malik

جب ہدی مر جائے یا چلنے سے عاجز ہوجائے یا کھو جائے اس کا بیان

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ صَاحِبَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنْ الْهَدْيِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ بَدَنَةٍ عَطِبَتْ مِنْ الْهَدْيِ فَانْحَرْهَا ثُمَّ أَلْقِ قِلَادَتَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ يَأْکُلُونَهَا

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ہدی لے جانے والے نے پوچھا آپ ﷺ سے یا رسول اللہ ﷺ جو ہدی راستے میں ہلاک ہونے لگے اس کا کیا کروں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو اونٹ ہدی کا ہلاک ہونے لگے اس کو نحر کر اور اس کے گلے میں جو قلادہ پڑا تھا وہ اس کے خون میں ڈال دے پھر اس کو چھوڑ دے کہ لوگ کھا لیں اس کو۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that the man who was in charge of the sacrificial animal of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Messenger of Allah, what should I do with a sacrificial animal that gets injured?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "Slaughter any sacrificial animal that is injured. Then throw the garlands in its blood, and then give the people a free hand in eating it.

772Mauwatta Imam Malik

جب ہدی مر جائے یا چلنے سے عاجز ہوجائے یا کھو جائے اس کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ مَنْ سَاقَ بَدَنَةً تَطَوُّعًا فَعَطِبَتْ فَنَحَرَهَا ثُمَّ خَلَّی بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ يَأْکُلُونَهَا فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْئٌ وَإِنْ أَکَلَ مِنْهَا أَوْ أَمَرَ مَنْ يَأْکُلُ مِنْهَا غَرِمَهَا،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ

سعید بن مسیب نے کہا جو شخص ہدی کا اونٹ لے جائے پھر وہ تلف ہونے لگے اور وہ اس کو نحر کر کے چھوڑ دے کہ لوگ اس میں سے کھائیں تو اس پر کچھ الزام نہیں ہے البتہ اگر خود اس میں سے کھائے یا کسی کو کھانے کا حکم دے تو تاوان لازم ہوگا، عبداللہ بن عباس نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Said ibn al-Musayyab said, "If someone dedicates an animal voluntarily and then it is injured and he kills it and gives everyone a free hand in eating it, he owes nothing. If, however, he eats some of it himself, or tells certain other people to eat it, then he owes compensation."Yahya related to me from Malik from Thawr ibn Zayd ad-Dili from Abdullah ibn Abbas the same as that.

773Mauwatta Imam Malik

جب ہدی مر جائے یا چلنے سے عاجز ہوجائے یا کھو جائے اس کا بیان

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَهْدَی بَدَنَةً جَزَائً أَوْ نَذْرًا أَوْ هَدْيَ تَمَتُّعٍ فَأُصِيبَتْ فِي الطَّرِيقِ فَعَلَيْهِ الْبَدَلُ

ابن شہاب نے کہا جو شخص اونٹ جزا کا یا نذر کا یا تمتع کا لے گیا پھر وہ راستے میں تلف ہوگیا تو اس پر اس کا عوض لازم ہے۔

Yahya related to me from Malik that Ibn Shihab said, "If someone dedicates an animal as compensation, or for a vow, or as the sacrifice for tamattu, and misfortune befalls it on the road, he must provide a substitute."

774Mauwatta Imam Malik

جب ہدی مر جائے یا چلنے سے عاجز ہوجائے یا کھو جائے اس کا بیان

عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَهْدَی بَدَنَةً ثُمَّ ضَلَّتْ أَوْ مَاتَتْ فَإِنَّهَا إِنْ کَانَتْ نَذْرًا أَبْدَلَهَا وَإِنْ کَانَتْ تَطَوُّعًا فَإِنْ شَائَ أَبْدَلَهَا وَإِنْ شَائَ تَرَکَهَا

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا جو شخص اونٹ ہدی کا لے جائے پھر وہ راستے میں مرجائے یا گم ہوجائے تو اگر نذر کو ہو تو اس کا عوض دے اور جو نفل ہو تو چاہے عوض دے چاہے نہ دے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said, "If someone dedicates an animal and then it goes astray or dies, he should provide a substitute, if it was for a vow. If, however, it was voluntary, then he can either provide a substitute for it or not, as he wishes."

775Mauwatta Imam Malik

محرم جب اپنی بیوی سے صحبت کرے اس کی ہدی کا بیان

عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ سُئِلُوا عَنْ رَجُلٍ أَصَابَ أَهْلَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِالْحَجِّ فَقَالُوا يَنْفُذَانِ يَمْضِيَانِ لِوَجْهِهِمَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا ثُمَّ عَلَيْهِمَا حَجُّ قَابِلٍ وَالْهَدْيُ قَالَ وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَإِذَا أَهَلَّا بِالْحَجِّ مِنْ عَامٍ قَابِلٍ تَفَرَّقَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا

امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب اور علی بن ابی طالب اور ابوہریرہ ؓ سوال ہوا کہ ایک شخص نے جماع کیا اپنی بی بی سے احرام میں وہ کیا کرے ان سب نے جواب دیا کہ وہ دونوں حج کے ارکان ادا کرتے جائیں یہاں تک کہ حج پورا ہوجائے پھر آئندہ سال ان پر حج اور ہدی لازم ہے۔ حضرت علی نے یہ بھی فرمایا کہ پھر آئندہ سال جب حج کریں تو دونوں جدا جدا رہیں یہاں تک کہ حج پورا ہوجائے۔

Yahya related to me from Malik that he had heard that Umar ibn al-Khattab and AIi ibn Abi Talib and Abu Hurayra were asked about a man who had intercourse with his wife while he was in ihram on hajj. They said, "The two of them should carry on and complete their hajj. Then they must do hajj again in another year, and sacrifice an animal." Malik added that AIi ibn Abi Talib said, "When they then go into ihram for hajj in a future year they should keep apart until they have completed their hajj."

776Mauwatta Imam Malik

محرم جب اپنی بیوی سے صحبت کرے اس کی ہدی کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ مَا تَرَوْنَ فِي رَجُلٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ الْقَوْمُ شَيْئًا فَقَالَ سَعِيدٌ إِنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَبَعَثَ إِلَی الْمَدِينَةِ يَسْأَلُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا إِلَی عَامٍ قَابِلٍ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ لِيَنْفُذَا لِوَجْهِهِمَا فَلْيُتِمَّا حَجَّهُمَا الَّذِي أَفْسَدَاهُ فَإِذَا فَرَغَا رَجَعَا فَإِنْ أَدْرَکَهُمَا حَجٌّ قَابِلٌ فَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ وَالْهَدْيُ وَيُهِلَّانِ مِنْ حَيْثُ أَهَلَّا بِحَجِّهِمَا الَّذِي أَفْسَدَاهُ وَيَتَفَرَّقَانِ حَتَّی يَقْضِيَا حَجَّهُمَا

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا سعید بن مسیب سے وہ کہتے تھے لوگوں سے تم کیا کہتے ہو اس شخص کے بارے میں جس نے جماع کیا اپنی عورت سے، احرام کی حالت میں تو لوگوں نے کچھ جواب نہ دیا تب سعید نے کہا کہ ایک شخص نے ایسا ہی کیا تھا تو اس نے مدینہ میں کسی کو بھیجا دریافت کرنے کے لئے بعض لوگوں کے پاس، بعض لوگوں نے کہا کہ میاں بیوی میں ایک سال تک جدائی کی جائے، سعید نے کہا دونوں حج کرنے چلے جائیں اور اس حج کو پورا کریں جو فاسد کردیا ہے جب فارغ ہو کر لوٹیں تو دوسرے سال اگر زندہ رہیں تو پھر حج کریں اور ہدی دیں اور دوسرے حج کا احرام وہیں سے باندھیں جہاں سے پہلے حج کا احرام باندھا تھا اور مرد عورت جدا رہیں جب تک فارغ نہ ہوں حج سے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that he heard Said ibn al-Musayyab asking a group of people, "What do you think about someone who has intercourse with his wife while he is in ihram?" and none of them answered him. Said said, "There is a man who has had intercourse with his wife while in ihram who has sent a message to Madina asking about it." Some of them said, "They should be kept apart until a future year," and Said ibn al-Musayyab said, "They should carry on and complete the hajj which they have spoiled, and then return home when they have finished. If another hajj comes upon them, they must do hajj and sacrifice an animal. They should go into ihram at the same place where they went into ihram for the hajj that they spoiled, and they should keep apart until they have finished their hajj." Malik said, "They should both sacrifice an animal." Malik said, about a man who had intercourse with his wife during hajj after he had come down from Arafa but before he had stoned the Jamra, "He must sacrifice an animal and do hajj again in another year. If, however, he had intercourse with his wife after he stoned the Jamra, he only has to do an umra and sacrifice an animal and he does not have to do another hajj." Malik said, "What spoils a hajj or an umra and makes sacrificing an animal and repeating the hajj necessary is the meeting of the two circumcised parts, even if there is no emission. It is also made necessary by an emission if it is the result of bodily contact. I do not think that a man who remembers something and has an emission owes anything, and if a man were to kiss his wife and no emission were to occur from that, he would only have to sacrifice an animal. A woman in ihram who has intercourse with her husband several times during hajj or umra out of obedience to him only has to do another hajj and sacrifice an animal. That is if her husband has intercourse with her while she is doing hajj. If he has intercourse with her while she is doing umra, she must repeat the umra she has spoiled and sacrifice an animal."

777Mauwatta Imam Malik

جس شخص کو حج نہ ملے اس کی ہدی کا بیان

عَنْ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ خَرَجَ حَاجًّا حَتَّی إِذَا کَانَ بِالنَّازِيَةِ مِنْ طَرِيقِ مَکَّةَ أَضَلَّ رَوَاحِلَهُ وَإِنَّهُ قَدِمَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَوْمَ النَّحْرِ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ عُمَرُ اصْنَعْ کَمَا يَصْنَعُ الْمُعْتَمِرُ ثُمَّ قَدْ حَلَلْتَ فَإِذَا أَدْرَکَکَ الْحَجُّ قَابِلًا فَاحْجُجْ وَأَهْدِ مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ

سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ابوایوب انصاری حج کرنے کو نکلے جب نازیہ میں پہنچے مکہ کے راستے میں تو ان کا اونٹ گم ہوگیا سو آئے وہ مکہ میں حضرت عمر بن خطاب کے پاس دسویں تاریخ کو ذی الحجہ کی اور بیان کیا ان سے حضرت عمر نے فرمایا کہ عمرہ کرلے اور احرام کھول ڈال پھر آئندہ سال حج کے دن آئیں تو حج کر اور ہدی دے موافق اپنی طاقت کے۔

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said that Sulayman ibn Yasar told him that Abu Ayyub al-Ansari once set off to do hajj and then, when he reached an-Naziya, on the road to Makka, his riding beasts strayed. He reached Umar ibn al-Khattab on the day of sacrifice and told him what had happened and Umar said, "Do what someone doing umra would do, and then you can leave ihram, and then when the hajj next comes upon you, do it and sacrifice whatever animal is easy for you ."

778Mauwatta Imam Malik

جس شخص کو حج نہ ملے اس کی ہدی کا بیان

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ هَبَّارَ بْنَ الْأَسْوَدِ جَائَ يَوْمَ النَّحْرِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَنْحَرُ هَدْيَهُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَخْطَأْنَا الْعِدَّةَ کُنَّا نَرَی أَنَّ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمُ عَرَفَةَ فَقَالَ عُمَرُ اذْهَبْ إِلَی مَکَّةَ فَطُفْ أَنْتَ وَمَنْ مَعَکَ وَانْحَرُوا هَدْيًا إِنْ کَانَ مَعَکُمْ ثُمَّ احْلِقُوا أَوْ قَصِّرُوا وَارْجِعُوا فَإِذَا کَانَ عَامٌ قَابِلٌ فَحُجُّوا وَأَهْدُوا فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ

سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ہبار بن اسود آئے یوم النحر کو اور عمر بن خطاب نحر کر رہے تھے اپنی ہدی کا تو کہا انہوں نے اے امیر المومنیں ہم نے تاریخ کے شمار میں غلطی کی ہم سمجھتے تھے کہ آج عرفہ کا روز ہے حضرت عمر نے کہا مکہ کو جاؤ اور تم اور تمہارے ساتھی سب طواف کرو اگر کوئی ہدی تمہارے ساتھ ہو تو اس کو نحر کر ڈالو پھر حلق کرو یا قصر اور لوٹ جاؤ اپنے وطن کو، آئندہ سال آؤ اور حج کرو اور ہدی دو جس کو ہدی نہ ملے وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات روزے جب لوٹے تب رکھے۔

Malik related to me from Nafi from Sulayman ibn Yasar that Habbar ibn al-Aswad arrived on the day of sacrifice while Umar ibn al-Khattab was sacrificing his animal and said, "Amir al-muminin, we made a mistake in our reckoning and we thought that today was the day of Arafa." Umar said, "Go to Makka, you and whoever else is with you, and do tawaf and sacrifice your animal if you have one with you. Then shave or cut your hair and return home. Then, in another year, do hajj and sacrifice an animal, and if you cannot find one, fast three days on hajj and seven when you return home." Malik said, "Someone who intends to do hajj and umra together and then misses the hajj must do hajj again in another year, doing hajj with umra, and offer two sacrificial animals, one for doing the hajj with umra, and one for the hajj that he has missed."

779Mauwatta Imam Malik

جو شخص صبحت کرے اپنی بی بی سے قبل طواف الزیادہ کے اس کی ہدی کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ وَقَعَ بِأَهْلِهِ وَهُوَ بِمِنًی قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْحَرَ بَدَنَةً

عبداللہ بن عباس سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے صحبت کی اپنی بی بی سے اور وہ منیٰ میں تھا قبل طواف زیارہ کے، تو حکم کیا اس کو عبداللہ بن عباس نے ایک اونٹ نحر کرنے کا۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zubayr al-Makki from Ata ibn Abi Rabah that Abdullah ibn Abbas was asked about a man who had had intercourse with his wife while at Mina before he had done the tawaf al-ifada, and he told him to sacrifice an animal.

780Mauwatta Imam Malik

جو شخص صبحت کرے اپنی بی بی سے قبل طواف الزیادہ کے اس کی ہدی کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَا أَظُنُّهُ إِلَّا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ الَّذِي يُصِيبُ أَهْلَهُ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ يَعْتَمِرُ وَيُهْدِي عَنْ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ فِي ذَلِكَ مِثْلَ قَوْلِ عکرمۃ عن ابن عباس

عبداللہ بن عباس نے کہا جو شخص صحبت کرے اپنی بی بی سے قبل طواف زیارہ کے تو وہ ایک عمرہ کرے اور ہدی دے۔ ربیعہ بن ابی عبدالرحمن نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Thawr ibn Zayd ad-Dili that lkrama, the mawla of Ibn Abbas (RA) , said, (and Thawr believed it to be from Abdullah ibn Abbas), "Someone who has intercourse with his wife before he has done the tawaf al-ifada should do an umra and sacrifice an animal."