Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 16 of 106

301Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرم مزاجی

عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : « خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ بِالْمَدِينَةِ وَأَنَا غُلَامٌ لَيْسَ كُلُّ أَمْرِي كَمَا يَشْتَهِي صَاحِبِي أَنْ يَكُونَ عَلَيْهِ مَا قَالَ لِي فِيهَا أُفٍّ قَطُّ ، وَمَا قَالَ لِي لِمَ فَعَلْتَ هَذَا أَوْ أَلَّا فَعَلْتَ هَذَا » (رواه ابو داؤد)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں مدینہ میں دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہا، اور میں نو عمر لڑکا تھا، اس لئے میرا ہر کام رسول اللہ ﷺ کی مرضی کے بالکل مطابق نہیں ہوتا تھا، (یعنی نو عمری کی وجہ سے بہت سی کوتاہیاں بھی ہو جاتی تھیں) لیکن دسسال کی اس مدت میں کبھی آپ نے اُف کہہ کے بھی مجھے نہیں ڈانٹا، اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تم نے یہ کیوں کیا؟ یا کیوں نہیں کیا؟ تشریح رسول اللہ ﷺ جب ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اس وقت حضرت انس کی عمر تقریباً دس سال کی تھی، ان کی والدہ ام سلیم نے اُن کو مستقلاً رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دے دیا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے آخری روزِ حیات تک یہ آپ کی خدمت میں رہے، اُن ہی کا یہ بیان ہے کہ نو عمری اور لڑکپن کی وجہ سے آپ کے کاموں میں مجھ سے بہت سی کوتاہیاں بھی ہو جاتی تھیں، لیکن کبھی آپ نے مجھے کسی غلطی اور قصور پر اُفتک نہیں کہا، اور کبھی مجھ پر غصہ نہیں فرمایا۔ بلا شبہ یہ بہت بڑی اور بہت مشکلبات ہے، لیکن ہم امتیوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کا اسوہ حسنہ یہی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کی اس نرم مزاجیاور بردباری کا کوئی حصہ ہم کو بھی نصیب فرمائے۔

302Maarif-ul-Hadith

حلم و بردباری یعنی غصہ نہ کرنا اور غصہ کو پی جانا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْصِنِي ، قَالَ : « لاَ تَغْضَبْ » فَرَدَّدَ مِرَارًا ، قَالَ : « لاَ تَغْضَبْ » (رواه البخارى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا، کہ حضرت! مجھے کوئی وصیت فرمائیے۔ آپ نے ارشادفرمایا، کہ غصہ مت کیا کرو، اُس شخص نے پھر اپنی وہی درخواست کئی بار دہرائی، کہ حضرت مجھے اور وصیت فرمائیے، مگر آپ نے ہر دفعہ یہی فرمایا کہ غصہ مت کیا کرو۔ (صحیح بخاری) تشریح حلم و بردباری یعنی غصہ نہ کرنا اور غصہ کو پی جانا رسول اللہ ﷺ نے امت کو جن اخلاقکی تاکید و اہتمام کے ساتھ تعلیم دی ہے اُن میں سے ایک حلم و بردباری بھی ہے۔ تشریح۔۔۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ سے وصیت کی درخواست کرنے والے یہ صاحب کچھ غیر معمولی قسم کے تیز مزاج اور مغلوب الغضب تھے، اور اس وجہ سے اُن کے لیے مناسب ترین اور مفید ترین وصیت اور نصیحت یہی ہو سکتی تھی کہ “ غصہ نہ کیا کرو ” اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے بار بار ان کو یہی ایک نصیحت فرمائی۔ اور یہ بھی واقعہ ہے کہ بری عادتوں میں غصہ نہایت ہی خطرناک اور بہت ہی بدانجام عادت ہے۔ غصہ کی حالت میں آدمی کو نہ اللہ تعالیٰ کی حدود کا خیال رہتا ہے نہ اپنے نفع اور نقصان کا تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ انسان پرشیطان کا قابو جیسا غصہ کی حالت میں چلتا ہے ایسا شاید کسی دوسری حالت میں نہیں چلتا، گویا اس وقت انسان اپنے بس میں نہیں ہوتا، بلکہ شیطان کی مٹھی میں ہوتا ہے، حد یہ ہے کہ غصہ کی حالت میں آدمی کبھی کبھی کفریہ کلمات بھی بکنے لگتا ہے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا ہے “ غصہ دین و ایمان کو اس طرح خراب کر دیتا ہے جس طرح کہ ایلوا شہد کو خراب اور بالکل ہی کڑواکر دیتا ہے ”۔ (یہ حدیث “ کتاب الایمان ” میں درج کی جا چکی ہے)۔ لیکن واضح رہے کہ شریعت میں جس غصہ کی ممانعت اور سخت مذمت کی گئی ہے اس سے مراد وہی غصہ ہے جو نفسیانیت کی وجہ سے ہو اور جس سے مغلوب ہو کر آدمی اللہ تعالیٰ کی حدود اور شریعت کے احکام کا پابند نہ رہے، لیکن جو غصہ اللہ کے لیے اور حق کی بنیاد پر ہو، اور اس میں حدود سے تجاوز نہ ہو، بلکہ بندہ اس میں حدود اللہ کا پورا پابند رہے، تو وہ کمال ایمان کی نشانی اور جلالِ خداوندی کا عکس ہے۔

303Maarif-ul-Hadith

غصہ میں نفس پر قابو رکھنے والا حقیقی پہلوان ہے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ ، وَلَكِنَّ الشَّدِيدَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت زبیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پہلوان اور طاقت ور وہ نہیں ہے جو مدمقابل کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان اور شہ زور در حقیقت وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔ (بخاری و مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ آدمی کا سب سے بڑا اور بہت ہی مشکل سے زیر ہرنے والا دشمن اس کا نفس ہے، جیسا کہ فرمایا گیا ہے کہ: “ اَعْدىٰ عَدُوِّكَ نَفْسُكَ الَّتِىْ بَيْنَ جَنْبَيْكَ ” (تیرا سخت ترین دشمن خود تیرا نفس ہے) اور معلوم ہے کہ خاص کر غصہ کے وقت اس کا قابو میں رکھنا نہایت ہی مشکل ہوتا ہے، اس لیے فرمایا گیا ہے کہ طاقت ور اور پہلوان کہلانے کا اصلی حقدار وہی مردِ خدا ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے، اور نفسانیت اس سے کوئی بیجا حرکت اور کوئی غلط کام نہ کرا سکے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ بندہ کے دل میں وہ کیفیت ہی پیدا نہ ہو جس کو غیظ، غضب اور غصہ کے لفظوں سے تعبیر کیا جاتا ہے (کیوں کہ کسی سخت ناگوار بات پر دل میں اس کیفیت کا پیدا ہو جانا تو بالکل فطری بات ہے، اور اس سے انبیاء علیہم السلام بھی مستثنیٰ نہیں ہیں) البتہ مطالبہ یہ ہے کہ اس کیفیت کے وقت بھی نفس پر پورا قابو رہے ایسا نہ ہو کہ اس سے مغلوب ہو کر آدمی وہ حرکتیں کرنے لگے جو شانِ بندگی کے خلاف ہوں۔

304Maarif-ul-Hadith

غصہ کے وقت کیا کیا جائے

عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا : « إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ ، فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ وَإِلَّا فَلْيَضْطَجِعْ » (رواه احمد والترمذى)

حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو چاہئے کہ بیٹھ جائے، پس اگر بیٹھنے سے غصہ فرو ہو جائے تو فبہا اور اگر پھر بھی غصہ باقی رہے تو چاہئے کہ لیٹ جائے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی) تشریح رسول اللہ ﷺ نے غصہ کے فرو کرنے کی یہ ایک نفسیاتی تدبیر بتلائی ہے جو بلا شبہ نہایت کارگر ہے، علاوہ اس کے اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ غصہ میں آدمی سے بیجا حرکتیں اور جو لغویات سرزد ہو سکتی ہیں، کسی جگہ جم کر بیٹھ جانے سے اُن کا امکان بہت کم ہو جاتا ہے، اور پھر لیٹ جانے سے ان کا امکان اور کم سے کمتر ہو جاتا ہے۔

305Maarif-ul-Hadith

غصہ کے وقت کیا کیا جائے

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « عَلِّمُوا ، وَيَسِّرُوا ، وَلا تُعَسِّرُوا ، وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ » (رواه احمد والطبرانى فى الكبير)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ لوگوں کو دین سکھاؤ، دین کی تعلیم دو، اور تعلیم میں آسانی پیدا کرو، دشواری پیدا نہ کرو، اور جب تم سے کسی کو غصہ آئے تو چاہئے کہ وہ اس وقت خاموشی اختیار کر لے، یہ آخری بات آپ نے تین دفعہ ارشاد فرمائی۔ (مسند احمد و معجم کبیر للطبرانی) تشریح غصہ کے بُرے نتیجوں سے اپنی حفاظت کرنے کے لیے یہ رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی دوسری تدبیر ہے کہ جب غصہ آئے تو آدمی خاموش رہنے کا فیصلہ کر لے، ظاہر ہے کہ پھر غصہ دل ہی میں گھٹ کر رہ جائے گا، اور بات آگے نہ بڑھے گی۔

306Maarif-ul-Hadith

غصہ کے وقت کیا کیا جائے

عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ عُرْوَةَ السَّعْدِىِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ ، وَإِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ ، فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ » (رواه ابو داؤد)

عطیہ بن سعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: غصہ شیطان کے اثر سے آتا ہے (یعنی غصہ میں حدود سے تجاوز شیطان کے اثر سے ہوتا ہے) اور شیطان کی آفرینش آگ سے ہوئی ہے (یعنی شیطان اپنی اصل کے لحاظ سے آتشی ہے) اورآگ پانی سے بجھائی جاتی ہے، لہذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے، تو اس کو چاہئے کہ وہ وضو کر لے۔ (سنن ابی داؤد) تشریح غصہ کو فرو کرنے کی یہ خاص الخاص تدبیر ہے، اور پہلی تدبیروں سے بھی زیادہ کارگر ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ غصہ کی حدت اور تیزی کی حالت میں اگر رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد یاد آ جائے، اور اسی وقت اُٹھ کے اچھی طرح پورے آداب کے لحاظ کے ساتھ وضو کر لیا جائے تو غصہ کی حدت میں فوراً سکعن پیدا ہو جائے گا۔ اور بالکل ایسا محسوس ہو گا کہ وضو کا پانی براہ راست غصہ کی بھڑکتی ہوئی آگ پر پڑا۔

307Maarif-ul-Hadith

اللہ کے لئے غصہ کو پی جانے کی فضیلت اور اُس کا صلہ

عَنِ عَبْدِاللهِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَجَرَّعَ عَبْدٌ أَفْضَلَ عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ جُرْعَةِ غَيْظٍ ، يَكْظِمُهَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ تَعَالَى " (رواه احمد)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ کسی بندہ نے کسی چیز کا کوئی گھونٹ ایسا نہیں پیا جو اللہ کے نزدیک غصہ کے اُس گھونٹ سے افضل ہو، جسے کوئی بندہ اللہ کی رضا کی خاطر پی جائے۔ (مسند احمد) تشریح غصہ کو پی جانا جس طرح اُردو زبان کا محاورہ ہے اسی طرح عربی زبان کا بھی یہی محاورہ ہے، بلکہ اُردو میں یہ محاورہ غالباً عربی ہی سے آیا ہے۔ حدیث کا مطلب یہی ہے کہ پینے کی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کا پینا اللہ کی رضا کا باعث ہو سکتا ہے، لیکن ان سب میں افضل ترین اللہ کی رضا جوئی کی خاطر غصہ کو پی جانا ہے۔ جن خوش خصال اور پاکیزہ صفات بندوں کے لئے جنت آراستہ کی گئی ہے، قرآن مجید میں اُن کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ: وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ غصہ کو پی جانے والے اور دوسرے کی زیادتی یا دوسرے کے قصور کو معاف کر دینے والے

308Maarif-ul-Hadith

اللہ کے لئے غصہ کو پی جانے کی فضیلت اور اُس کا صلہ

عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يُنْفِذَهُ ، دَعَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ اللَّهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ مَا شَاءَ » (رواه الترمذى وابو داؤد)

سہل بن معاذ اپنے والد ماجد حضرت معاذ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ جو شخص پی جائے غصہ کو درانحالیکہ اس میں اتنی طاقت اور قوت ہے کہ اپنے غصہ کے تقاضے کو وہ نافذ اور پورا کر سکتا ہے (لیکن اس کے باوجود محض اللہ کے لئے اپنے غصہ کو پی جاتا ہے، اور جس پر اس کو غصہ ہے اس کو کوئی سزا نہیں دیتا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے اس کو بلائیں گے، اور اس کو اختیار دیں گے کہ حورانِ جنت میں سے جس حور کو چاہے اپنے لئے انتخاب کر لے (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد) تشریح تجربہ شاہد ہے کہ غصہ کی شدت کے وقت آدمی کے دل کی انتہائی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے غصہ کے تقاضے کو پورا کر ڈالے، پس جو بندہ قدرت کے باوجود محض اللہ کی رضا کے لئے اپنے دل کی اس انتہائی خواہش کو دنیا میں قربان کرے گا، اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کی جزا اس شکل میں عطا فرمائیں گے، کہ ساری مخلوق کے سامنے اس کا بلا کر فرمایا جائے گا کہ اپنے دل کی چاہت کی اس قربانی کے بدلے آج حوارنِ جنت میں سے جو حور چاہو اپنے لئے انتخاب کر لو۔

309Maarif-ul-Hadith

اللہ کے لئے غصہ کو پی جانے کی فضیلت اور اُس کا صلہ

عَنْ أَنَسِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ خَزَنَ لِسَانَهُ سَتَرَ اللهُ عَوْرَتَهُ ، وَمَنْ كَفَّ غَضَبِهِ كَفَّ اللهُ عَنْهُ عَذَابَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنِ اعْتَذَرَ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ قَبِلَ عُذْرَهُ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو کوئی (دوسروں کی بدگوئی وغیرہ بُری باتوں سے) اپنی زبان روکے گا اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا (یعنی اس کے عیوب اور اس کی برائیاں دوسروں پر نہیں کھلنے دے گا) اور جو کوئی اپنے غصہ کو روکے گا، اور پی جائے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے اپنے عذاب کو روکے گا، اور وہ عذاب سے بچ جائے گا، اور جو بندہ اپنی تقصیر کی معذرت اللہ کے حضور میں کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی معذرت قبول فرمائے گا (اور اس کو معاف فرما دے گا)۔ (شعب الایمان للبیہقی)

310Maarif-ul-Hadith

حلم و برد باری اللہ کی محبوب صفات میں سے ہے

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لأَشَجِّ عَبْدِ القَيْسِ : إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ : الحِلْمُ ، وَالأَنَاةُ . (رواه مسلم)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ عبدالقیس کے سردار اشج سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں، جو اللہ تعالیٰ کو محبوب اور پیاری ہیں، ایک بردباری (غصہ سے مغلوب نہ ہونا) اور دوسرے جلدی نہ کرنا (صحیح مسلم) تشریح قبیلہ عبدالقیس کا ایک وفد آنحضرت ﷺ کی زیارت کے لئے مدینہ طیبہ آیا، اس وفد کے سارے لوگ اپنی سواریوں سے کود کود کر جلدی سے حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے، لیکن رئیس وفد جن کا نام منذر اور عرف اشج تھا، انہوں نے یہ جلد بازی نہیں کی، بلکہ اتر کے پہلے سارے سامان کو یکجا اور محفوظ کیا، پھر غسل کیا اور کپڑے تبدیل کئے، اور اس کے بعد متانت اور وقار کے ساتھ خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے ان کے اس رویہ کو پسند فرمایا، اور اسی موقع پر ان سے یہ ارشاد فرمایاکہ تم میں یہ دو خصلتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو بہت پیاری اور محبوب ہیں، ایک حلم (بردباری) یعنی غصہ سے مغلوب نہ ہونا، اور غصہ کے وقت اعتدال پر قائم رہنا، اور دوسری اناۃ یعنی کاموں میں جلد بازی اور بے صبری نہ کرنا، بلکہ ہر کام کو متانت اور وقار کے ساتھ اطمینان سے انجام دینا۔

311Maarif-ul-Hadith

اطمینان و متانت سے کام کرنے کی فضیلت اور جلد بازی کی ممانعت

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، اَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الأَنَاةُ مِنَ اللهِ وَالعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ . (رواه الترمذى)

حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ کاموں کو متانت اور اطمینان سے انجام دینا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور جلد بازی کرنا شیطان کے اثر سے ہوتا ہے۔ (جامع ترمذی) تشریح یعنی ہر ذمہ داری کو اطمینان سے انجام دینے کی عادت ایک محمود عادت ہے اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے نصیب ہوتی ہے اور اس کے برعکس جلد بازی ایک بُری عادت ہے اور اس میں شیطان کا دخل ہوتا ہے۔

312Maarif-ul-Hadith

ہر کام متانت اور وقار کے ساتھ انجام دینے کی فضیلت اور ترغیب

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَرْجِسَ الْمُزَنِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : السَّمْتُ الحَسَنُ ، وَالتُّؤَدَةُ وَالاِقْتِصَادُ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ . (رواه الترمذى)

عبداللہ بن سرجسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اچھی سیرت، اور اطمینان و وقار سے اپنے کام انجام دینے کی عادت اور میانہ روی ایک حصہ ہے نبوت کے چوبیش حصوں میں سے۔ (جامع ترمذی) تشریح حدیث کا اصل مقصد ان تینوں چیزوں کی اہمیتبیان کرنا اور ان کی ترغیب دینا ہے۔ اور نبوت کے حصوں میں سے ہونے کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ پیغمبر کی زندگی جن محاسن اور کمالات سے مکمل اور مزین ہوتی ہے یہ تینوں اوصاف ان کا چوبیسواں حصہ ہیں، یا یہ کہ انسانی سیرت کی تعمیر کے سلسلہ میں انبیاء علیہم السلام جن خصائل کی تعلیم دیتے اور تلقین فرماتے ہیں، ان کے چوبیس حصوں میں سے ایک حصہ یہ تین چیزیں ہیں، یعنی اچھی سیرت اور اطمینان و وقار سے اپنے کام انجام دینے کی عادت، اور میانہ روی۔ میانہ روی “ میانہ روی ” ہم نے حدیث کے لفظ اقتصاد کا ترجمہ کیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر کام اور ہر حال میں افراط و تفریط سے بچا جائے، اور اعتدال کی روش اختیار کی جائے، رسول اللہ ﷺ نے اپنی تعلیمات میں اس چیز پر خاص طور سے زور دیا ہے، یہاں تک کہ عبادت جیسے بہترین انسانی عمل میں بھی آپ نے اعتدال و میانہ روی کی تاکید فرمائی ہے۔ بعض صحابہ نے بہت زیادہ عبادت گذاری کا ارادہ کیا، یعنی دن کو ہمیشہ روزہ رکھنے اور پوری رات جاگ کر نمازیں پڑھنے کا منصوبہ بنایا، تو آپ نے ان کو سخت تنبیہ فرمائی اور اس سے منع فرما دیا۔ اسی طرح بعض صحابہ نے جب اپنا پورا مال راہ خدا میں صرف کرنے کا ارادہ ظاہر کیا، تو آپ نے ان کو اس سے روک دیا، اور صرف ایک تہائی کی اجازت دی۔ بہر حال اقتصاد کا مطلب یہی اعتدال کی چال ہے۔ “ کتاب الرقاق ” کی متعدد حدیثوں میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے “ الْاِقْتِصَادُ فِى الْفَقْرِ وَالْغِنى ” کی ترغیب اور تاکید آپ پڑھ چکے ہیں، اس کا مطلب یہی ہے کہ تنگدستی اور فراخ دستی دونوں حالتوں میں آدمی اعتدال کی درمیانی چال چلے، اسی کو اس حدیث میں نبوت کا ایک جز بتایا گیا ہے۔

313Maarif-ul-Hadith

خوش کلامی اور بد زبانی

عَنْ عَائِشَةَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَنَّ يَهُودَ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : عَلَيْكُمْ ، وَلَعَنَكُمُ اللَّهُ ، وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ . قَالَ : « مَهْلًا يَا عَائِشَةُ ، عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ ، وَإِيَّاكِ وَالعُنْفَ وَالفُحْشَ » (رواه البخارى)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ کچھ یہودی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور انہوں نے (نفس کی خباثت، اور شرارت سے السلام علیکم کے بجائے) کہا “ السَّامُ عَلَيْكُمْ ” (جو دراصل ایک گالی ہے اور جس کا مطلب یہ ہے کہ تم کو موت آئے) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے (ان کی اس گستاخی کی سُن لیا اور سمجھ لیا اور) جواب میں فرمایا کہ تم ہی کو آئے، اور تم پر خدا کی لعنت اور اس کا غضب ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے عائشہ (ایسی سختی نہیں!) زبان کو روکو، نرمی کا رویہ اختیار کرو اور سختی اور بد زبانی سے اپنے کو بچاؤ۔ (صحیح بخاری) تشریح خوش کلامی اور بد زبانی انسان کی اخلاقی زندگی کے جن پہلوؤں سے اس کے ابنائے جنس کا سب سے زیادہ واسطہ پڑتا ہے، اور جن کے اثرات اور نتائج بھی بہت دور رس ہوتے ہیں، ان میں سے اس کی زبان کی شیرینی یا تلخی اور نرمی یا سختی بھی ہے، اسی لئے رسول اللہ ﷺ اپنے متبعین و متعلقین کو شیریں گفتاری اور خوش کلامی کی بڑی تاکید فرماتے، اور بدزبانی اور سخت کلامی سے شدت کے ساتھ منع فرماتے تھے، یہاں تک کہ بُری بات کے جواب میں بھی بری بات کہنے کو آپ پسند نہیں فرماتے تھے، ذیل کی چند حدیثیں پڑھئے: تشریح۔۔۔ گویا آپ نے ان یہودیوں کی ایسی سخت گستاخی کے جواب میں بھی سختی کو پسند نہیں فرمایا، اور نرمی ہی کو اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی۔

314Maarif-ul-Hadith

خوش کلامی اور بد زبانی

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِطَعَّانٍ ، وَلَا لَعَّانٍ ، وَلَا فَاحِشٍ وَلَا بَذِىٍ " (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ مؤمن بندہ نہ زبان سے حملہ کرنے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا اور نہ بد گو اور نہ گالی بکنے والا۔ (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ مؤمن کا مقام یہ ہے اور اس کا شیوہ یہ ہونا چاہئے کہ اس کی زبان سے لعن طعن اور گالی گلوج نہ نکل، کتاب الایمان میں وہ حدیث گذر چکی ہے جس میں اختلاف و نزاع کے وقت گالیاں بکنے کو منافق کی نشانی بتلایا گیا ہے۔

315Maarif-ul-Hadith

خوش کلامی اور بد زبانی

عَنِ عَائِشَةَ قَالَتْ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : « بِئْسَ ابْنُ العَشِيرَةِ - أَوْ بِئْسَ رَجُلُ العَشِيرَةِ » قَالَ : ائْذَنُوا لَهُ ، فَلَمَّا دَخَلَ أَلاَنَ لَهُ القَوْلَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةَ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَلَنْتَ لَهُ القَوْلَ؟ وَقَدْ قُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ قَالَ « إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ أَوْ تَرَكَهُ النَّاسُ لِاِتِّقَاءَ فُحْشِهِ » (رواه البخارى ومسلم وابو داؤد واللفظ له)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی اجازت چاہی، آپ نے (ہم لوگوں سے) فرمایا کہ یہ اپنے قبیلہ کا بُرا فرزند ہے، یا فرمایا کہ یہ شخص اپنے قبیلہ کا بُرا آدمی ہے، پھر آپ نے فرمایا کہ اس کو آنے کی اجازت دے دو، پھر جب وہ آ گیا تو آپ نے اُس کے ساتھ گفتگو بہت نرمی سے فرمائی (جب وہ چلا گیا) تو حضرت عائشہؓ نے آپ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (ﷺ) آپ نے تو اس شخص سے بڑی نرمی کے ساتھ بات کی، اور پہلے آپ نے اسی کے بارے میں وہ بات فرمائی تھی (کہ وہ اپنے قبیلے کا بہت بُرا آدمی ہے) آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے نزدیک درجہ کے لحاظ سے بدترین آدمی قیامت کے دن وہ ہو گا، جس کی بدزبانی اور سخت کلامی کے ڈر سے لوگ اس کو چھوڑ دیں (یعنی اس سے ملنے اور بات کرنے سے گریز کریں) (صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد) تشریح رسول اللہ ﷺ کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی شریر اور بُرا بھی ہو، جب بھی اُس سے بات نرمی سے اور شریفانہ طریقہ ہی سے کرنی چاہئے، ورنہ بدزبانی اور سخت کلامی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی ایسے شخص سے ملنے اور بات کرنے سے گریز کرنے لگتے ہیں، اور جس شخص کا یہ حال ہو، وہ اللہ کے نزدیک بہت برا آدمی ہے اور قیامت کے دن اُس کا حال بہت برا ہو گا۔ اس حدیث کے بارے میں چند باتیں سمجھ لینی چاہئیں: ۱۔ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے آنے سے پہلے اُس کے بُرے آدمی ہونے کی اطلاع اپنے پاس والوں کو غالباً اس لیے دی تھی کہ وہ اس کے سامنے محتاط ہو کر بات کریں، اور کوئی ایسی بات نہ کر بیٹھیں جو کسی شریر اور برے آدمی کے سامنے نہ کرنی چاہئے، اور ایسی کسی مصلحت سے کسی شخص کی برائی سے دوسروں کو خبردار کرنا غیبت میں داخل نہیں ہے، بلکہ اس کا حکم ہے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ اذكروا الفاجر بما فيه لكى يحذره الناس ” (فاجر و بدکار آدمی میں جو برائی ہے اُس کا لوگوں سے ذکر کر دو، تا کہ اللہ کے بندے اس کے شر سے محفوظ رہ سکیں)۔ (کنز العمال) ۲۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس آدمی کا شریر اور بُرا ہونا معلوم ہو اُس سے بھی گفتگو نرمی ہی سے کرنی چاہئے، بلکہ اسی واقعہ کی صحیح بخاری کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: “ فَلَمَّا جَلَسَ تَطَلَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ وَانْبَسَطَ إِلَيْهِ ” جس کا مطلب یہ ہوا کہ آُ نے اُس آدمی سے شگفتگی اور خندہ روئی کے ساتھ ملاقات اور بات چیت کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض لوگوں کا یہ خیال کہ جن لوگوں کی برائی اور بدکرداری ہم جانتے ہوں اُن سے اچھی طرح ملنا بھی نہ چاہئے صحیح نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے مشہور صحابی حضرت ابو الدرداء ؓ سے خود امام بخاری نے نقل کیا ہے کہ وہ فرماتے تھے۔ “ إِنَّا لَنَكْشِرُ فِي وُجُوهِ أَقْوَامٍ، وَإِنَّ قُلُوبَنَا لَتَلْعَنُهُمْ ” یعنی ہم بہت سے ایسے لوگوں سے بھی ہنس کرملتے اور بولتے ہیں، جن کے احوال اور اعمال کے لحاظ سے ہمارے دل ان پر لعنت کرتے ہیں۔ ۳۔ اس حدیث کی ابو داؤد کی ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ نے جب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا، کہ جس آدمی کے بارے میں آپ نے خود فرمایا تھا کہ یہ بہت برا آدمی ہے، اُس سے آپ نے ایسی بشاشت اور شگفتگی کے ساتھ کیوں ملاقات اور بات چیت فرمائی؟ تو آپ نے جواب میں فرمایا “ يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ ” یعنی اے عائشہؓ! اللہ تعالیٰ بدزبان اور فحش گو آدمی کو دوست نہیں رکھتا۔ مطلب یہ ہے کہ بدزبانی کی عادت اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم کر دیتی ہے، لہذا میں کیسے اس کا مرتکب ہو سکتا ہوں۔

316Maarif-ul-Hadith

خوش کلامی اور بد زبانی

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « الكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ . (رواه البخارى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ٰ، کہ آپ نے ارشاد فرمایا: کہ اچھی اور میٹھی بات بھی ایک صدقہ ہے (یعنی نیکی کی ایک قسم ہے، جس پر بندہ اجر کا مستحق ہوتا ہے)۔ (صحیح بخاری) تشریح یہ دراصل ایک طویل حدیث کا ٹکڑا ہے، امام بخاری نے اس پوری حدیث کو بھی روایت کیا ہے، اور ایک جگہ تعلیقاً صرف اتنا ہی ٹکڑا نقل کیا ہے، مطلب ظاہر ہے۔ کسی کے ساتھ اچھی بات شیریں انداز میں کرنا اس کے دل کی خوشی کا باعث ہوتا ہے اور اللہ کے کسی بندہ کے دل کو خوش کرنا بلا شبہ بڑی نیکی ہے، کہنے والے نے تو یوں تک کہہ دیا ہے “ دل بدست آور کہ حجِ اکبر است ”

317Maarif-ul-Hadith

کم بولنا اور بری اور فضول باتوں سے زبان کی حفاظت کرنا

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قُلْتُ يَارَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ ، قَالَ : « لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ اَمْرٍ عَظِيمٍ ، وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ ، تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ » ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ؟ الصَّوْمُ جُنَّةٌ ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ فِىْ جَوْفِ اللَّيْلِ ، ثُمَّ تَلَا {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} حَتَّى بَلَغَ {يَعْمَلُونَ} " ثُمَّ قَالَ : « أَلَا أَدُلُّكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ ، وَعَمُودِهِ ، وَذُرْوَةِ سَنَامِهِ؟ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رَأْسُ الأَمْرِ الإِسْلاَمُ ، وَعَمُودُهُ الصَّلاَةُ ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ » ثُمَّ قَالَ : « أَلَا أُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ؟ » قُلْتُ : بَلَى يَا نَبِيَّ اللهِ ، فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ ، فَقَالَ : « كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا » فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللهِ وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ؟ قَالَ : « ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلاَّ حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ؟ » (رواه احمد والترمذى وابن ماجه)

حضرت معاذ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے ایک دن رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ حضرت! مجھے ایسا عمل بتا دیجئے کہ جس کی وجہ سے میں جنت میں پہنچ جاؤں، اور دوزخ سے دور کر دیا جاؤں، آپ نے فرمایا، تم نے بہت بڑی بات پوچھی ہے، لیکن (بڑی اور بھاری ہونے کے باوجود) وہ اس بندے کے لئے آسان ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ اس کو آسان کر دے (اور توفیق دے دے)۔ لو سنو! (سب سے مقدم بات تو یہ ہے کہ دین کے ان بنیادی مطالبوں کو فکر اور اہتمام سے ادا کرو) اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور اچھے طریقے (اور دل کی توجہ کے ساتھ) نماز ادا کیا کرو، اور زکوٰۃ دیا کرو اور رمضانکے روزے رکھا کرو، اور بیت اللہ کا حج کرو۔ پھر فرمایا کیا میں تمہیں خیر کے دروازے بھی بتا دوں؟ (گویا جو کچھ اب تک آپ نے بتلایا یہ تو اسلام کے ارکان اور فرائض تھے، اس کے بعد آپ نے فرمایا، کہ تم چاہو تو میں تمہیں خیر کے اور دروازے بتلاؤں! غالباً اس سے آپ کی مراد نفل عبادات تھیں، چنانچہ حضرت معاذؓ کی طلب دیکھ کرآپ نے اُن سے فرمایا) روزہ (گناہوں سے اور دوزخ کی آگ سے بچانے والی) سپر اور ڈھال ہے، اور صدقہ گناہ کو (اور گناہ سے پیدا ہونے والی آگ کو) اس طرح بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اور رات کے درمیانی حصے کی نماز (یعنی نمازِ تہجد کا بھی یہی حال ہے، اور ابوابِ خیر میں اس کا خاص الخاص مقام ہے) اس کے بعد آپ نے (تہجد اور صدقہ کی فضیلت کے سلسلہ میں) سورہ سجدہ کی یہ آیت پڑھی: (1) تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴿١٦﴾ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ پھر آپ نے فرمایا، کیا میں تمہیں معاملہ کا (یعنی دین کا) سر اور اس کا عُمود یعنی ستون اور اس کی بلند چوٹی بتا دوں؟ (معاذؓکہتے ہیں) میں نے عرض کیا، حضرت ضرور بتا دیں! آپ نے فرمایا، دین کا سر، یا سرا اسلام ہے، اور اس کا ستون نماز ہے، اور اس کی بلند چوٹی جہاد ہے۔ پھر آپ نے فرمایا، کیا میں تمہیں وہ چیز بھی بتا دوں جس پر گویا ان سب کا مدار ہے (اور جس کے بغیر یہ سب چیزیں ہیچ اور بے وزن ہیں، معاذ کہتے ہیں) میں نے عرض کیا حضرت وہ چیز بھی ضرور بتلا دیجئے! پس آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا، اس کو روکو (یعنی اپنی زبان قابو میں رکھو، یہ چلنے میں بیباک اور بے احتیاط نہ ہو، معاذ کہتے ہیں) میں نے عرض کیا، حضرت! ہم جو باتیں کرتے ہیں، کیا ان پر بھی ہم سے مواخذہ ہو گا؟ آپ نے عرض فرمایا، اے معاذ! تجھے تیری ماں روئے (عربی محاورہ کے مطابق یہاں یہ پیار کا کلمہ ہے) آدمیوں کو دوزخ میں ان کے منہ کے بل، یا فرمایا کہ ان کی ناکوں کے بل (زیادہ تر) ان کی زبانوں کی بیباکانہ باتیں ہی ڈلوائیں گی۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) تشریح دنیا میں جھگڑے اور فسادات زیادہ تر زبان کی بے احتیاطیوں اور بے باکیوں ہی سے پیدا ہوتے ہیں، اور جو بڑے بڑے گناہ آدمیوں سے بکثرت سرزد ہوتے ہیں ان کا تعلق بھی بیشتر زبان ہی سے ہوتا ہے، اسی لئے رسول اللہ ﷺ اس کی بڑی تاکید فرماتے تھے، کہ زبان کو قابو میں رکھا جائے، اور ہر قسم کی بری باتوں سے بلکہ بے ضرورت اور بے فائدہ باتیں کرنے سے بھی زبان کو روکا جائے، اور جب بات کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہ ہو اور بات سے کسی خیر اور نفع کی امید نہ ہو، تو خاموش ہی رہا جائے، یہ تعلیم رسول اللہ ﷺ کی ان اہم تعلیمات میں سے ہے جن پر آپ نے نجات کا دارو مدار بتلایا ہے، اور بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز، روزہ، حج اور جہاد جیسی عبادات کی نورانیت اور ان کا حسن و قبول بھی زبان کی اسی احتیاط پر موقوف ہے۔ اس بارہ میں رسول اللہ ﷺ کے بعض ارشادات “ کتاب الرقاق ” میں گذر چکے ہیں، چند حدیثیں یہاں اور درج کی جاتی ہیں: تشریح۔۔۔ اس حدیث میں ارکانِ اسلام کے بعد آپ نے ابوابِ خیر کے عنوان سے روزہ اور صدقہ کا جو ذکر فرمایا ہے، اس عاجز کے نزدیک اس سے مراد نفلی روزہ اور نفلی صدقہ ہے، اور اسی لئے آپ نے اس کے ساتھ نمازِ تہجد کا ذکر فرمایا ہے جو نفل نمازوں میں سب سے افضل ہے۔ پھر آپ نے اسلام کو “ راس الامر ” یعنی دین کا سر بتلایا ہے، بظاہر یہاں اسلام سے مراد اسلام قبول کرنا اور اس کو اپنا دین بنانا ہے، اور مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص سارے اچھے عمل کرے، اور اس کے اخلاق و معاملات بھی اچھے ہوں لیکن وہ اسلام کو اپنا دین نہ بنائے تو اس کی مثال ایک ایسے جسم کی سی ہے جس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ سب درست ہوں لیکن سر کٹ گیا ہو، پھر نماز کو آپ نے دین کا ستون بتلایا، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کوئی مکان بغیر ستون کے قائم نہیں رہ سکتا، اسی طرح بغیر نماز کے دین کا قیام نہیں، پھر آپ نے جہاد کو دین کی بلند ترین چوٹی فرمایا، ظاہر ہے کہ دین کی بلندی اور رفعت جہاد ہی پر موقوف ہے۔ حدیث کا سب سے آخری جز جس کی وجہ سے یہاں ایک حدیث کو درج کیا گیا ہے، یہ ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ان سب چیزوں کا دار و مدار اس پر ہے کہ آدمی اپنی زبان کی حفاظت کرے، یعنی زبان کی بیباکیاں ان سب اعمالِ حسنہ کو بے وزن اور بے نور کر دیتی ہیں۔ پھر جب حضرت معاذ کو یہ سن کر تعجب ہوا، اور انہوں نے دریافت کیا کہ کیا باتوں پر بھی ہماری پکڑ ہوگی؟ تو آپ نے فرمایا آدمی جہنم میں اوندھے منہ زیادہ تر زبان ہی کی بے احتیاطیوں اور بے باکیوں کی وجہ سے ڈالے جائیں گے۔ آج بھی ہر دیکھنے والا بچشم خود دیکھ سکتا ہے کہ جو بڑے بڑے گناہ و باکی طرح عام ہیں اور جن سے بچنے والے بہت ہی کم ہیں، ان کا تعلق زیادہ تر زبان و دہن ہی سے ہے ؎ ہر چہ بر آدمی برسد ز زیاں ہمہ از آفت زبان برسد

318Maarif-ul-Hadith

کم بولنا اور بری اور فضول باتوں سے زبان کی حفاظت کرنا

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ ، رَفَعَهُ قَالَ : إِذَا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ فَإِنَّ الأَعْضَاءَ كُلَّهَا تُكَفِّرُ اللِّسَانَ فَتَقُولُ : اتَّقِ اللَّهَ فِينَا فَإِنَّا نَحْنُ بِكَ ، فَإِنْ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَإِنْ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا . (رواه الترمذى)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے ارشادفرمایا کہ جب آدمی صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضاء عاجزی اور لجاجت کے ساتھ زبان سے کہتے ہیں کہ (خدا کی بندی ہم پر رحم کر) اور ہمارے بارے میں خدا سے ڈر، کیوں کہ ہم تو تیرے ہی ساتھ بندھے ہوئے ہیں، تو ٹھیک رہی تو ہم ٹھیک رہیں گے، اور اگر تو نے غلط روی اختیار کی، تو ہم بھی غلط روی کریں گے (اور پھر اس کا خمیازہ بھگتیں گے)۔ (جامع ترمذی) تشریح اوپر والی حدیث سے معلوم ہوا تھا کہ انسان کے ظاہری اعضا میں سے زیادہ تر زبان ہی کی غلط روی لوگوں کے جہنم میں ڈالے جانے کا باعث ہوگی۔ اس حدیث میں بتلایا گیا ہے کہ زبان کی اسی خاص نوعیت کی وجہ سے ہر روز انسان کے سارے اعضاء بزبانِ قال پوری عاجزی اور لجاجت کے ساتھ زبان سے درخواست کرتے ہیں کہ خدا کی بندی ہماری صلاح و فلاح اور ہمارے انجام کی اچھائی برائی تجھ سے ہی وابستہ ہے اس لئے ہم پر رحم کر اور خدا سے بے خوف ہو کر بیباکانہ نہ چل، ورنہ تیرے ساتھ ہم بھی اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ ایک دوسری مشہور حدیث میں اعضاء انسانی میں سے قلب کی یہ خصوصیت بیان کی گئی ہے کہ “ إِذَا صَلُحَ صَلُحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ ” (جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے تمام جسم اور اس کے سارے اعضاء کا صلاح و فساد اس کے قلب کے صلاح و فساد سے وابستہ ہے) لیکن ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد اور منافات نہیں ہے، اصل تو قلب ہی ہے لیکن ظاہری اعضاء میں چونکہ زبان ہی اس کی خاص ترجمان ہے، اس لئے دونوں کی نوعیت یہی ہے، کہ اگر یہ ٹھیک ہیں تو خیریت ہے اوراگر ان میں فساد اور کجی ہے تو پھر انسان کی خیریت نہیں۔

319Maarif-ul-Hadith

کم بولنا اور بری اور فضول باتوں سے زبان کی حفاظت کرنا

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الجَنَّةَ » (رواه البخارى)

حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ جو شخص ذمہ لے لے اپنی زبان اور اپنی شرمگاہ کا (کہ یہ دونوں غلط استعمال نہ ہوں گی) میں اُس کے لئے ذمہ داری لیتا ہوں جنت کی۔ (صحیح بخاری) تشریح انسانی اعضاء میں زبان کے علاوہ غلط استعمال سے جس عضو کی حفاظت کو خاص اہمیت حاصل ہے وہ انسان کی شرم گاہ ہے، اس لئے اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ جو بندہ اس کا ذمہ لے لے کہ وہ غلط استعمال سے اپنی زبان کی بھی حفاظتکرے گا، اور شہوت نفس کو بھی خداکے احکام کا پابند رکھے گا، میں اس کے لیے اللہ کی طرف سے جنت کا ذمہ لے سکتا ہوں۔ یہاں پھر یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ رسول اللہ ﷺ کے اس قسم کے ارشادات کے مخاطب وہ اہل ایمان ہوتے تھے جو آپ ہی کی تعلیم و تلقین سے اس بنیادی حقیقت کو جان چکے تھے، کہ اس قسم کے وعدوں کا تعلق صرف اُن لوگوں سے ہے جو صاحب ایمان اور ایمان کے بنیادی مطالبات کو بھی ادا کرتے ہوں۔

320Maarif-ul-Hadith

کم بولنا اور بری اور فضول باتوں سے زبان کی حفاظت کرنا

عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ ، فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا . (رواه الترمذى)

حضرت سفیان بن عبد الللہ ثقفی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: حضرت! میرے بارے میں جن باتوں کا حضور کو خطرہ ہو سکتا ہے ان میں زیادہ خطرناک اور خوفناک کیا ہے؟ سفیان کہتے ہیں کہ آپ نے اپنی زبانِ مبارک پکڑ کے فرمایا کہ: سب سے زیادہ خطرہ اس سے ہے۔ (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ تم سے کسی اور برائی کا تو زیادہ خطرہ نہیں ہے، البتہ یہ خطرہ ہے کہ تمہاری زبان بے جا چلے، لہذا اس کے بارے میں ہوشیار اور محتاط رہو۔ ہو سکتا ہے کہ سوال کرنے والے سفیان بن عبداللہ ثقفی کی زبان میں کچھ تیزی ہو، اس لئے حضور ﷺ نے ان سے یہ فرمایا ہو۔ واللہ اعلم۔