Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 15 of 106

281Maarif-ul-Hadith

اللہ کے لئے محبت کرنے والوں کا قیامت کے دن خاص امتیاز

عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ لَأُنَاسًا مَا هُمْ بِأَنْبِيَاءَ ، وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، بِمَكَانِهِمْ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى » قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُخْبِرُنَا مَنْ هُمْ ، قَالَ : « هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوا بِرُوحِ اللَّهِ عَلَى غَيْرِ أَرْحَامٍ بَيْنَهُمْ ، وَلَا أَمْوَالٍ يَتَعَاطَوْنَهَا ، فَوَاللَّهِ إِنَّ وُجُوهَهُمْ لَنُورٌ ، وَإِنَّهُمْ عَلَى نُورٍ لَا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ ، وَلَا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنَ النَّاسُ » وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ} (رواه ابو داؤد)

حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے خوش نصیب بھی ہیں جو نبی یا شہید تو نہیں ہیں، لیکن قیامت کے دن بہت سے انبیاء اور شہداء ان کے خاص مقامِ قرب کی وجہ سے ان پر رشک کریں گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہمیں بتلا دیجئے، کہ وہ کون بندے ہیں؟ آپ نے فرمایا: وہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے بغیر کسی رشتہ اور قرابت کے اور بغیر کسی مالی لین دین کے روح خداوندی کی وجہ سے باہم محبت کی۔ پس قسم ہے خدا کی، ان کے چہرے قیامت کے دن نورانی ہوں گے بلکہ سراسر نور ہوں گے، اور وہ نور کے منبروں پر ہوں گے، اور عام انسانوں کو جس وقت خوفو ہراس ہو گا اس وقت وہ بے خوف اور مطمئن ہوں گے، اور جس وقت عام انسان مبتلائے غم ہوں گے وہ اس وقت بے غم ہوں گے، اور اس موقع پر آپ نے یہ آیت پڑھی: “ أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ” (معلوم ہونا چاہئے کہ جو اللہ کے دوست اور اس سے خاص تعلق رکھنے والے ہیں، اُن کو خوف و غم نہ ہو گا)۔ (سنن ابی داؤد) تشریح اس دنیا میں خونی رشتہ اور قرابت کی وجہ سے محبت و تعلق کا ہونا ایک ایسی عمومی اور فطری بات ہے جو انسانوں کے علاوہ عام جانوروں بلکہ درندوں میں بھی موجود ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کی مالی امدادکرتا ہے، اس کو ہدیے اور تحفے دیتا ہے تو اُس میں اُس محسن کی محبت پیداہو جانابھی ایک ایسی فطری بات ہے جو کافروں، مشرکوں اور فاسقوں فاجروں میں بھی پائی جاتی ہے۔ لیکن کسی رشتہ اور قرابت کے بغیر اور کسی مالی لین دین اور کسی ہدیے اور تحفے کے بغیر محض اللہ کے دین کے تعلق سے کسی سے محبت کرنا ایک ایسی ایمانی صفت ہے جس کی اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑی قدر و قیمت ہے اور اس کی وجہ سے بندہ اللہ تعالیٰ کا خاص محبوب و مقرب بن جاتا ہے، اور قیامت میں اس پر اللہ تعالیٰ کی ایسی نوازشیں ہوں گی کہ انبیاء اور شہداء اس پر رشک کریں گے۔ اس کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ لوگ اس درجہ اور مرتبہ میں انبیاء و شہداء سے افضل اور بلند تر ہوں گے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کم درجے کے کسی آدمی کو کسی خاص اچھی حالت میں دیکھ کر اس سے اونچے درجے والوں کو بھی اس پر رشک آنے لگتا ہے، یہ بات عقل و منطق کے لحاظ سے اگرچہ بہت سوں کو مستبعد معلوم ہوگی، لیکن واقعات کی دنیا میں بکثرت ایسا ہوتا رہتا ہے، اس لیے جو کچھ کہا گیا ہے یہ زبردستی کی تاویل نہیں ہے، بلکہ واقعی حقیقت ہے۔ یہ بندگانِ خدا جن کے مقام قرب پر انبیاء و شہداء کو رشک آئے گا۔ حدیث میں ان کا تعارف ان الفاظ میں کرایا گیا ہے: “ هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوْا بِرُوْحِ اللهِ ” اس لفظ رُوْح کو “ ر ” کے پیش کے ساتھ رُوْح بھی پڑھا گیا ہے، اور زبر کے ساتھ رَوْح بھی۔ ہمارے نزدیک دونوں صورتوں میں اس سے اللہ کا دین مراد ہے، اور مطلب یہی ہے کہ یہ وہ بندگانِ خدا ہوں گے جنہوں نے اس دنیوی زندگی میں اللہ کے دین کے تعلق سے باہم محبت و الفت کی۔ دین اُس اُخروی زندگی کے لئے جو اصل زندگی ہے بمنزلہ روح کے بھی ہے، اور وہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت اور رحمت بھی ہے، اور روح کے معنی رحمت، نعمت اور راحت کے ہیں۔ الغرض اس لفظ کو خواہ ر کے پیش کے ساتھ پڑھا جائے یا زبر کے ساتھ، ہر حال میں مطلب ایک ہی ہو گا۔ حدیث کے آخری حصے میں فرمایا گیا ہے، کہ اللہ کے دین کے تعلق سے باہم محبت کرنے والے ان بندگانِ خدا پر اللہ تعالیٰ کا ایک خاص الخاص انعام یہ ہو گا کہ قیامت کے دن جب کہ عام انسانوں پر خوف اور غم چھایا ہوا ہو گا، ان کے دلوں پر خوف اور غم کا کوئی اثر نہ ہو گا، اور یہ بالکل مطمئن اور اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے شاداں و فرحاں ہوں گے۔ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

282Maarif-ul-Hadith

اللہ کے لیے محبت کرنے والے قیامت کے دن عرش کے سایہ میں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللهَ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : « أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي ، الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي » (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ قیامت کے دن اللہ تعالیی ارشاد فرمائیں گے کہ کہاں ہیں میرے وہ بندے جو میری عظمت و جلال کی وجہ سے آپس میں الفت و محبت رکھتے تھے؟ آج جب کہ میرے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ہے، میں اپنے ان بندوں کو اپنے سایہ میں جگہ دوں گا۔ (صحیح مسلم) تشریح اللہ تعالیی خبیر و بصیر ہے، کائنات کا کوئی ذرہ اس کی نگاہ سے اوجھل نہیں ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان، کہ میرے وہ بندے کہاں ہیں؟ دراصل استفہام و استفسار کے لیے نہ ہو گا، بلکہ میدانِ حشر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پکار علیٰ رؤس الاشہاد اس کے لئے بلند ہوگی کہ اُن بندگانِ خدا کی یہ مقبولیت و محبوبیت سارے اہلِ محشر اور تمام اولین و آخرین کے سامنے ظاہر ہو جائے، اور سب سُن لیں اور دیکھ لیں کہ اللہ کے لئے محبت کرنے والوں کا مقام اور مرتبہ اللہ کے یہاں کیا ہے۔ اور حدیث میں اللہ کے سایہ سے مراد غالباً اس کے عرش کاسایہ ہے، جیسا کہ بعض دوسری حدیثوں میں تصریح بھی ہے۔

283Maarif-ul-Hadith

محبت ذریعہ قرب و معیت

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ تَقُوْلُ فِي رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ؟ فَقَالَ « الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، حضور کیا فرماتے ہیں ایسے شخص کے بارے میں جس کو ایک جماعت سے محبت ہے لیکن وہ ان کے ساتھ نہیں ہو سکا َ؟ تو آپ نے فرمایا کہ جو آدمی جس سے محبت رکھتا ہے اس کے ساتھ ہی ہے۔ (یا یہ کہ آخرت میں اس کے ساتھ کر دیا جائے گا)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح سائل کا مقصد بظاہر یہ دریافت کرنا تھا کہ جو شخص اللہ کے کسی خاص صاسلح اور متقی بندہ سے یا اہلِ صلاح و تقویٰ کے کسی گروہ سے محبت رکھتا ہو لیکن عمل اور سیرت میں بالکل ان کے قدم بقدم اور ان کے درجہ کا نہ ہو، بلکہ ان سے کچھ پیچھے ہو، تو اس کا انجام کیا ہو گا؟ اور اس بنا پر رسول اللہ ﷺ کے جواب کا حاصل یہ ہو گا کہ یہ شخص عمل میں کچھ پیچھے ہونے کے باوجود اُن بندگانِ خدا کے ساتھ کر دیا جائے گا جن کے ساتھ اس کو اللہ کے لئے اور دین کے تعلق سے محبت تھی۔ اس سے اگلی حضرت ابوذر غفاری ؓ کی حدیث میں سوال کے الفاظ زیادہ واضح ہیں۔

284Maarif-ul-Hadith

محبت ذریعہ قرب و معیت

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ : الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ ، وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ كَعَمَلِهِمْ ، قَالَ : « أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ » ، قَالَ : فَإِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ ، وَرَسُولَهُ ، قَالَ : « فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ » قَالَ : فَأَعَادَهَا ابوذر فَأَعَادَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (رواه ابوداؤد)

حضرت عبداللہ بن صامت ؓ، ابوذر غفاری ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے (ابوذر نے) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا، یا رسول اللہ! ایک آدمی ہے اس کو اللہ کے خاص بندوں سے محبت ہے لیکن وہ اس سے عاجز ہے کہ ان کے سے عمل کر سکے (تو اس بے چارہ کا انجام کیا ہو گا؟) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ابوذر! تم کو جس سے محبت ہوگی تم اسی کے ساتھ ہو گے۔ ابوذر نے عرض کیا۔ حضرت! مجھے تو اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا پس تم ان ہی کے پاس اور ان ہی کے ساتھ رہو گے جن سے تم کو محبت ہے۔ یہ جواب سُن کر ابوذر نے پھر اپنی بات دُہرائی اور رسول اللہ ﷺ نے جواب میں پھر وہی ارشاد فرمایا جو پہلی دفعہ ارشاد فرمایا تھا۔ (سنن ابی داؤد)

285Maarif-ul-Hadith

محبت ذریعہ قرب و معیت

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَارَسُولَ اللهِ مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ : « وَمَاذَا أَعْدَدْتَ لَهَا » . قَالَ مَا اَعْدَدْتُ لَهَا ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ : « أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ اَنَسٌ فَمَا رَاَيْتُ الْمُسْلِمِيْنَ فَرِحُوْا بِشَيْئٍ بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ فَرِحَهُمْ بِهَا » . (رو اه البخارى ومسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ حضرت! قیامت کب آئے گی؟ آپ نے فرمایا: وائے برحال تو (تو قیامت کا وقت اور اس کے آنے کی خاص گھڑی دریافت کرنا چاہتا ہے، بتلا) تو نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ اُس نے عرض کیا، میں نے اس کے لیے کوئی خاص تیاری تو نہیں کی (جو آپ کے سامنے ذکر کرنے کے لائق اور بھروسہ کے قابل ہو) البتہ (توفیقِ الہٰی سے مجھے یہ ضرور نصیب ہے کہ) مجھے محبت ہے اللہ سے اور اس کے رسول سے۔ آپ نے فرمایا: تجھ کو جس سے محبت ہے تو ان ہی کے ساتھ ہے اور تجھ کو اُن کی معیت نصیب ہوگی۔ حدیث کے راوی حضرت انسؓ اس حدیث کو بیان فرمانے کے بعد فرماتے ہیں کہ: میں نے نہیں دیکھا مسلمانوں کو (یعنی حضور ﷺ کے صحابہ کو) کہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد ان کو کسی چیز سے اتنی خوشی ہوئی ہو جتنی کہ حضور ﷺ کی اس بشارت سے ہوئی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اسی حدیث کی ایک روایت میں حضرت انس ؓ کا آخری فقرہ اس طرح بھی نقل کیا گیا ہے۔ فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ، فَرَحَنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ » « فَأَنَا أُحِبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ بِحُبِّي إِيَّاهُمْ، وَإِنْ لَمْ أَعْمَلْ أَعْمَالِهِمْ » ہم لوگوں کو (یعنی حضور ﷺ کے صحابہ کو) کبھی کسی بات سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی کہ آپ کے اس ارشاد سے ہوئی کہ « أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ » (تم جس سے محبت کرتے ہو اُسی کے ساتھ ہو) پس میں بحمد اللہ محبت رکھتا ہوں رسول اللہ ﷺ سے اور ابو بکرؓ اور عمرؓ سے اور میں امید رکھتا ہوں کہ اپنی اس محبت ہی کی وجہ سے مجھے ان کا ساتھ نصیب ہو گا، اگرچہ میرے اعمال اُن حضرات کے سے نہیں ہیں۔ ناظرین کو ان حدیثوں کے متعلق دو باتیں خاص طور سے سمجھ لینی چاہئیں: محبت کی وجہ سے معیت کا مطلب اول یہ کہ ساتھ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ محبت کی وجہ سے محب و محبوب کا درجہ اور مرتبہ بالکل ایک ہو جائے گا، اور دونوں کے ساتھ بالکل یکساں معاملہ ہو گا، بلکہ یہ ساتھ ہونا اپنے اپنے حال اور اپنے اپنے درجہ کے لحاظ سے ایسا ہی ہو گا جیسا کہ دنیا میں بھی خادم اپنے مخدوموں کے ساتھ اور تابع اپنے متبوعوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اور بلا شبہ یہ بھی بہت بڑا شرف اور بہت بڑی نعمت ہے۔ محبت کے لیے اطاعت لازم دوسری بات یہ ہے کہ محبت کے لئے اطاعت لازم ہے، یہ ناممکن ہے کہ کسی کو اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہو، اور اس کی زندگی بغاوت اور معصیت کی ہو۔ پس جو لوگ آزادی اور بے فکری کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہ اگر اللہ و رسول کی محبت کا دعویٰ کریں تو جھوٹے ہیں، اور اگر واقعہ میں وہ خود بھی اپنے کو اہل محبت میں سے سمجھیں تو بڑے فریب میں مبتلا ہیں۔ حضرت رابعہ نے ایسے ہی مدعیان محبت سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے، اور بالکل صحیح فرمایا ہے: تَعْصِي الْإِلَهَ وَأَنْتَ تُظْهِرُ حُبَّهُ . . . عَارٌ عَلَيْكَ إِذَا فَعَلْتَ شَنِيعُ لَوْ كَانَ حُبُّكَ صَادِقًا لَأَطَعْتَهُ . . . إِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ أَحَبَّ مُطِيعُ (یعنی اے محبت کے جھوٹے مدعی! تو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے اور اس کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے، عقل و قیاس کے لحاظ سے یہ بات بہت ہی عجیب ہے، اگر تو دعویٰ محبت میں سچا ہوتا، تو اس کی فرمانبرداری کرتا، کیوں کہ ہر محب اپنے محبوب کی بات دل و جان سے مانا کرتا ہے) بہر حال اللہ و رسول کی محبت کے لئے ان کی اطاعت لازم ہے، بلکہ حق یہ ہے کہ کامل اطاعت محبت ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ ع عاشقی چیست بگو بندہ جاناں بودن اور اللہ و رسول کی اطاعت کرنے والوں کو انبیاء و صدیقین اور شہداء و صالحین کی معیت و رفاقت کی بشارت خود قرآن مجید میں بھی دی گئی ہے۔ وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا (النساء 69: 4) پس اس آیت اور مندرجہ بالا احادیث کے مضمون میں گویا تعبیر اور عنوان ہی کا فرق ہے۔ یہ بات حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت کردہ اس حدیث سے اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ جس کو حافظ ابن کثیر نے سورہ نساء کی اس آیت کا شانِ نزول بیان کرتے ہوئے اپنی تفسیر میں ابن مردویہ اور طبرانی کی سند سے نقل کیا ہے۔۔۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ: ایک شخص آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے اپنی بیوی، اپنی اولاد، اور اپنی جان سے بھی زیادہ حضور سے محبت ہے، اور میرا حال یہ ہے کہ میں اپنے گھر پر ہوتا ہوں اور حضور مجھے یاد آجاتے ہیں تو اس وقت تک مجھے صبر اور قرار نہیں آتا نہیں آتا جب تک حاضر خدمت ہو کر ایک نظر دیکھ نہ لوں اور جب میں اپنے مرنے کا اور حضور کی وفات کا خیال کرتا ہوں تو میری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ وفات کے بعد حضور تو جنت میں پہنچ کر انبیاء علیہم السلام کے بلند مقام پر پہنچا دئیے جائیں گے اور میں اگر اللہ کی رحمت سے جنت میں بھی گیا تو میری رسائی اس عالی مقام تک تو نہ ہو سکے گی، اس لئے آخرت میں حضور ﷺ کے دیدار سے بظاہر محرومی ہی رہے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے اُس شخص کی اس بات کا کوئی جواب اپنی طرف سے نہیں دیا، یہاں تک کہ سورہ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی: وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا (النساء ع 7) اور جو لوگ فرمانبرداری کریں اللہ کی اور اس کے رسول کی، پس وہ اللہ کے ان خاص مقرب بندوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ کا خاص انعام ہے یعنی انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین، اور یہ سب بڑے ہی اچھے رفیق ہوں گے۔ گویا اس آیت نے رسول اللہ ﷺ کے اس محبِ صادق کو اور دوسرے تمام اہلِ محبت کو خوش خبری سنائی کہ جب تم کو سچی محبت ہے تو تم اللہ و رسول کی فرمانبرداری ضرور کرو گے، اور پھر تم کو جنت میں اللہ کے خاص مقرر بندوں کی معیت اور رفاقت بھی نصیب ہوگی۔ چونکہ محبت کے بارے میں بہت سے لوگوں کو غلط فہمی ہوتی ہے اور وہ ناواقفی اور کم غوری کی وجہ سے محبت و اطاعت کے باہمی لزوم کو پیشِ نظر نہیں رکھتے، اس لئے اس موقع پر تھوڑی سی تفصیل ضروری سمجھی گئی اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا حُبَّكَ وَحُبَّ رَسُوْلِكَ وَحُبَّ مَنْ يَنْفَعُنَا حُبُّهُ عِنْدَكَ .۔ . (اے اللہ! ہم کو اپنی اور اپنے رسول کی محبت عطا فرما، اورجن بندوں کی محبت تیرے نزدیک ہمارے لئے نفع بخش ہو، اُن سب کی محبت ہم کو عطا فرما)۔

286Maarif-ul-Hadith

مسلمانوں میں باہم کیسی محبت و مؤدّت اور کیسا تعلق ہونا چاہئے

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرَى الْمُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ ، وَتَوَادِّهِمْ ، وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى عُضْواً تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى (رواه البخارى ومسلم)

حضرت انعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ ایمان والوں کو باہم ایک دوسرے پر رحم کھانے، محبت کرنے اور شفقت و مہربانی کرنے میں تم جسم انسانی کی طرح دیکھو گے کہ جب اُس کے کسی ایک عضو کو بھی تکلیف ہوتی ہے تو جسم کے باقی سارے اعضاء بھی بخار اور بے خوابی میں اسکے شریک حال ہو جاتے ہیں۔ (بخاری و مسلم) تشریح دینی اخوت اور اسلامی ہمدردی و غمخواری رسول اللہ ﷺ رحمۃ للعٰلمین ہیں، اور آپ کی تعلیم ساری دنیا کے لئے آبِ رحمت ہے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی عام مخلوق اور عام انسانوں کے ساتھ ترحم اور حسن سلوک کے بارے میں اپنے ماننے والوں کو جو ہدایات دی ہیں اور جو نصیحتیں فرمائی ہیں، اُن میں سے بعض گذشتہ اوراق میں درج کی جا چکی ہیں، لیکن آپ کو اللہ کا پیغمبر ماننے والی امت چونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے دینی رشتہ کے ذریعہ ایک برادری بنا دی گئی ہے، اور اب رہتی دنیا تک اس برادری ہی کو نبوت کی نیابت اور نمایندگی کرنی ہے، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب کہ امت کے مختلف افراد اور عناصر دینی اخوت، للہی محبت، مخلصانہ ہمدردی و خیر خواہی اور بے غرضانہ تعاون کے ذریعہ ایک وحدت بنے رہیں، اور ان کے دل آپس میں پوری طرح جڑے رہیں، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اپنی تعلیم میں اس پر خاص الخاص زور دیا ہے۔ اس سلسلہ کے آپ کے زیادہ تر ارشادات تو وہ ہیں جن جا “ معاشرت ” کے ابواب میں درج ہونا زیادہ مناسب ہو گا، لیکن دو ایک حدیثوں کا یہاں “ اخلاق ” کے سلسلہ ہی میں درج کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ تشریح۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ مجھ پر ایمان لانے والوں میں باہم ایسی محبت و مؤدت، ایسی ہمدردی اور ایسا دلی تعلق ہونا چاہئے کہ دیکھنے والی ہر آنکھ اُن کو اس حا میں دیکھے کہ اگر ان میں سے کوئی ایک کسی مصیبت میں مبتلا ہو، تو سب اس کو اپنی مصیبت سمجھیں، اور سب اس کی فکر اور بے چینی میں شریک ہوں اور اگر ایمان دعوے کے باوجود یہ بات نہیں ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ حقیقی اور کامل ایمان نصیب نہیں ہے۔ ایمان والوں کی یہی صفت قرآن مجید “ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ” کے مختصر الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔

287Maarif-ul-Hadith

مسلمانوں میں باہم کیسی محبت و مؤدّت اور کیسا تعلق ہونا چاہئے

عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « المُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا » ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ . (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: کہ ایمان والوں کا تعلق دوسرے ایمان والوں سے ایک مضبوط عمارت کے اجزاء کا سا ہونا چاہئے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مضبوطی کا ذریعہ بنتے ہیں (اور اُن کے جڑے رہنے سے عمارت کھڑی رہتی ہے) پھر آپ نے (ایمان والوں کے اس باہمی تعلق کا نمونہ دکھانے کے لئے) اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال دیں (اور بتایا کہ مسلمانوں کو اس طرح باہم ملکر ایک ایسی مضبوط دیوار بن جانا چاہئے جس کی اینٹیں باہم پیوستہ اور ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہوں اور کہیں ان میں کوئی خلا نہ ہو۔ (بخاری ومسلم)

288Maarif-ul-Hadith

باہم نفرت و عداوت ، بغض و حسد اور بد گمانی و شماتت کی ممانعت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الحَدِيثِ ، وَلاَ تَحَسَّسُوا ، وَلاَ تَجَسَّسُوا ، وَلاَ تَنَاجَشُوا ، وَلاَ تَحَاسَدُوا ، وَلاَ تَبَاغَضُوا ، وَلاَ تَدَابَرُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ تم دوسروں کے متعلق بدگمانی سے بچو، کیوں کہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے، تم کسی کی کمزوریوں کی ٹوہ میں نہ رہا کرو، اور جاسوسوں کی طرح راز دارانہ طریقے سے کسی کے عیب معلوم کرنے کی کوشش بھی نہ کیا کرو، اور نہ ایک دوسرے پر بڑھنے کی بے جا ہوس کرو، نہ آپس میں حسد کرو، نہ بغض و کینہ رکھو اور نہ ایک دوسرے سے منہ پھیرو، بلکہ اے اللہ کے بندو! اللہ کے حکم کے مطابق بھائی بھائی بن کر رہو (بخاری و مسلم) تشریح مندرجہ بالا حدیثوں میں رسول اللہ ﷺ نے جس طرح مسلمانوں کو باہم محبت و ہمدردی کا برتاؤ کرنے اور ایک جسم و جان بن کر رہنے کی تاکید فرمائی ہے، اسی طرح اس کے خلاف برتاؤ کرنے، مثلاً ایک دوسرے کے ساتھ بد گمانی رکھنے، بدگوئی کرنے، بے تعلق رہنے، اس کی مصیبت پر خوش ہونے، اس کو ایذا پہنچانے، اور حسد یا کینہ رکھنے کی سخت مذمت اور انتہائی تاکیدوں کے ساتھ ممانعت فرمائی ہے۔ اس سلسلہ کے آپ کے چند ارشادات یہ ہیں: تشریح۔۔۔ اس حدیث میں جن جن چیزوں سے ممانعت فرمائی گئی ہے، یہ سب وہ ہیں جو دلوں میں بغض و عداوت پیدا کر کے آپس کے تعلقات کو خراب کرتی ہیں۔ سب سے پہلے آپ نے بدگمانی کا ذکر فرمایا، یہ ایک قسم کا جھوٹا وہم ہے، جو شخص اس بیماری میں مبتلا ہو اُس کا حال یہ ہوتا ہے کہ جس کسی سے اس کا ذرا سا اختلاف ہو اُس کے ہر کام میں اس کو بدنیتی ہی بد نیتی معلوم ہوتی ہے، پھر محض اس وہم اور بدگمانی کی بنا پر وہ اس کی طرف بہت سی ان ہونی باتیں منسوب کرنے لگتا ہے پھر اس کا اثر قدرتی طور پر ظاہری برتاؤ پر بھی پڑتا ہے، پھر اس دوسرے شخص کی طرف سے بھی اس کا ردِّ عمل ہوتا ہے، اور اس طرح دل پھٹ جاتے ہیں، اور تعلقات ہمیشہ کے لیے خراب ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں بدگمانی کو “ أَكْذَبُ الحَدِيثِ ” فرمایا ہے، یعنی سب سے جھوٹی بات، بظاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کے خلاف زبان سے اگر جھوٹی بات ہی جائے تو اس کا سخت گناہ ہونا ہر مسلمان جانتا ہے، لیکن کسی کے متعلق بدگمانی کو اتنی بُری بات نہیں سمجھا جاتا رسول اللہ ﷺ نے متنبہ فرمایا کہ یہ بدگمانی بھی بہت بڑا بلکہ سب سے بڑا جھوٹ ہے، اور دل کا یہ گناہ زبان والے جھوٹ سے کم نہیں ہے۔ اور جس حدیث میں بدگمانی کی شناعت اور قباحت کو ان الفاط سے ظاہر فرمایا گیا ہے، اُسی طرح ایک دوسری حدیث میں نیک گمانی کو بہترین عبادت بتایا گیاہے، ارشاد ہے: " حُسْنَ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ " (رواه احمد وابوداؤد عن ابى هريرة) " پھر بدگمانی کے بعد اور جن جن بُری عادتوں سے اس حدیث میں ممانعت فرمائی گئی ہے۔ یعنی کسی کی کمزوریوں کی ٹوہ میں رہنا، دوسروں میں عیبوں کا تجسس کرنا، ایک دوسرے پر رفعت حاصل کرنے اور بڑھنے کی کوشش کرنا، کسی کو اچھے حال میں دیکھ کر اُس پرحسد کرنا، اور اس کی خوش حالی کو ٹھنڈی آنکھ نہ دیکھ سکنا، وغیرہ وغیرہ۔ ان سب کا حال بھی یہی ہے، کہ ان سے دلوں میں نفرت و عداوت کا بیج پڑتا ہے، اور ایمانی تعلق جس محبت و ہمدردی اور جس اخوت و یگانگت کو چاہتا ہے اس کا امکان بھی باقی نہیں رہتا۔ حدیث کے آخر میں جو فرمایا گیا ہے “ اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی ہو کر رہو! ” اس میں اشارہ ہے کہ جب تم اپنے دلوں اور سینوں کو نفرت و عداوت پیدا کرنے والی ان بری عادتوں سے صاف رکھو گے تب ہی تم آپس میں بھائی بھائی بن کر رہ سکو گے۔

289Maarif-ul-Hadith

اہل ایمان کو ستانے والوں اور رسوا کرنے والوں کو سخت تنبیہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ ، وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا » وَيُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ « بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يُّحَقِّرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ ، دَمُهُ ، وَمَالُهُ ، وَعِرْضُهُ » (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، اس پر کوئی ظلم و زیادتی نہ کرے (اور جب وہ اس کی مدد و اعانت کا محتاج ہو، تو اس کی مدد کرے) اور اُس کو بے مدد کے نہ چھوڑے، اور اس کو حقیر نہ جانے، اور نہ اُس کے ساتھ حقارت کا برتاؤ کرے (کیا خبر کہ اس کے دل میں تقویٰ ہو، جس کی وجہ سے وہ اللہ کے نزدیک مکرم اور محترم ہو) پھر آپ نے تین بار اپنے سینہ کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ: تقویٰ یہاں ہوتا ہے (ہو سکتا ہے کہ تم کسی کو اُس کے ظاہری حال سے معمولی آدمی سمجھو، اور اپنے دل کے تقوے کی وجہ سے وہ اللہ کے نزدیک محترم ہو، اس لئے کبھی مسلمان کو حقیر نہ سمجھو) آدمی کے برا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اس کے ساتھ حقارت سے پیش آئے، مسلمان کی ہر چیز دوسرے مسلمان کے لئے قابل احترام ہے، اُس کا خون، اس کا مال، اور اس کی آبرو (اس لئے ناحق اُس کا خون گرانا، اس کا مال لینا، اور اس کی آبرو ریزی کرنا، یہ سب حرام ہیں)۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں ہر مسلمان پر اس کے دوسرے مسلمان بھائی کا ایک یہ حق بھی بتایا گیا ہے کہ جب وہ اس کی مدد کا محتاج ہو، تو یہ اس کی مدد کرے، لیکن یہ اُسی صورت میں ہے جب کہ وہ حق پر ہو اور مظلوم ہو۔ ایک دوسری حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ تمہارا بھائی اگر مظلوم ہو تو اُس کی مدد کرو، اور اگر ظالم ہو تو اس کو ظلم سے روکو، اُس کو ظلم سے روکنا ہی اُس کی مدد کرنا ہے۔

290Maarif-ul-Hadith

ایمان والے بندوں کو ستانے والوں اور رُسوا کرنے والوں کو سخت تنبیہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : صَعِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَنَادَى بِصَوْتٍ رَفِيعٍ ، يَا مَعْشَرَ مَنْ أَسْلَمَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يُفْضِى الإِيمَانُ إِلَى قَلْبِهِ ، لاَ تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ وَلاَ تُعَيِّرُوهُمْ وَلاَ تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ يَتَبَّعَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ يَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ ، وَمَنْ تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ وَلَوْ فِي جَوْفِ رَحْلِهِ . (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر چڑھے، اور آپ نے بلند آواز سے پکارا اور فرمایا، اے وہ لوگو جو زبان سے اسلام لائے ہو اور ان کے دلوں میں ابھی ایمان پوری طرح اترا نہیں ہے، مسلمان بندوں کو ستانے سے اور ان کو عار دلانے اور شرمندہ کرنے، اور اُن کے چھپے ہوئے عیبوں کے پیچھے پڑنے سے باز رہو، کیوں کہ اللہ کا قانون ہے کہ جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کے چھپے عیبوں کے پیچھے پڑے گا اور اس کو رسوا کرنا چاہے گا، تو اللہ تعالیٰ اُس کے عیوب کے پیچھے پڑے گا، اور جس کے عیوب کے پیچھے اللہ تعالیٰ پڑے گا، وہ اس کو ضرور رسوا کرے گا (اور وہ رسوا ہو کے رہے گا) اگرچہ اپنے گھر کے اندر ہی ہو۔ (جامع ترمذی) تشریح جب حقیقی ایمان کسی کے دل میں اتر جاتا ہے تو اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی پر اپنے انجام کی فکر غالب ہو اتی ہے، اور وہ اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کے بارہ میں محتاط ہو جاتا ہے، خاص کر اللہ کے جو بندے سچے ایمان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق جوڑ چکے ہوں ان کے بارے میں اور بھی زیادہ محتاط ہو جاتا ہے، اُن کو ستانے، اُن کو دل دکھانے، ان کی پچھلی برائیوں کا ذکر کر کے اُن کو شرمندہ کرنے اور ان کی زندگی کے چھپے ہوئے کمزور پہلوؤں کی وہ لگانے سے باز رہتا ہے لیکن اگر دل میں ایمان کی حقیقت نہ اُتری ہو، اور صرف زبان سے اسلام کی باتیں ہوں تو آدمی کا حال اس کے برعکس ہوتا ہے وہ اپنی فکر کے بجائے دوسروں کے عیب ڈھونڈتا ہے، خاص کر اللہ کے اُن بندوں کے پیچھے پڑتا ہے جو اللہ کے ساتھ ایمان اور عبدیت کا تعلق قائم کر چکے ہوتے ہیں، اُن کو لوگوں کی نظروں سے گرانا چاہتا ہے، اُن کی غلطیوں کی تشہیر کرتا ہے، اُن کو بدنام اور ذلیل کرنا چاہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں ایسے لوگوں کو آگاہ کیا ہے، کہ وہ اس حرکت سے باز آئیں، اللہ کے ایمان والے بندوں کو بدنام کرنے اور اُن کے مقام کو گرانے اور اُن کے چھپے ہوئے کمزور پہلوؤں کو اچھالنے کے مشغلہ کو ترک کریں، ورنہ آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی وہ ذلیل کئے جائیں گے اور ذلت و رسوائی کی مار اُن پر ضرور پڑے گی، اگر بالفرض ذلت و رسوائی سے بچنے کے لئے وہ خانہ نشین ہو کے بھی بیٹھیں گے تو اللہ اُن کو اُن کے گھر کی چہار دیواری ہی میں رسوا کرے گا۔ چوں خدا خواہد کہ پردہ کس دردمیلش اندر طعنہ باکاں برد

291Maarif-ul-Hadith

حسد کے بارے میں خاص انتباہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ ، فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ (رواه ابو داؤد)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: تم حسد کے مرض سے بچو، حسد آدمی کی نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ (سنن ابی داؤد) تشریح تجربہ بھی شاہد ہے کہ جس کے دل میں حسد کی آگ بھڑکتی ہے وہ اسی کے درپے رہتا ہے کہ جس کی خوشحالی پر اس کو حسد ہے کسی طرح اس کو کوئی نقصان پہنچائے، اس کو بے آبرو کرے، پھر اگر کچھ بس نہیں چلتا، تو اس کی غیبت ہی کر کے دل کی آگ بجھانا چاہتا ہے، اور جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی دوسری حدیثوں سے معلوم ہوا ہے اس کا کم از کم یہ نتیجہ تو ضرور ہی ہو گا کہ قیامت میں اس غیبت کرنے والے حاسد کی نیکیاں اس محسود بندے کو دلا دی جائیں گی۔ نیکیوں کو حسد کے کھا جانے کی یہ آسان توجیہ ہے۔

292Maarif-ul-Hadith

حسد کے بارے میں خاص انتباہ

عَنِ الزُّبَيْر قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ : الْحَسَدُ ، وَالْبَغْضَاءُ ، وَالْبَغْضَاءُ هِيَ : الْحَالِقَةُ ، لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ ، وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ ، (رواه احمد والترمذى)

حضرت زبیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ اگلی امتوں کی مہلک بیماری یعنی حسد و بغض تمہاری طرف چلی آ رہی ہے، یہ بالکل صفایا کر دینے والی اور مونڈ دینے والی ہے (پھر اپنا مقصدواضح کرتے ہوئے آپ نے فرمایا) میرے اس کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ بالوں کو مونڈنے والی ہے، بلکہ یہ مونڈتی ہے اور بالکل صفایا کر دیتی ہے دین کا۔ (مسند احمد، جامع ترمذی) تشریح صحابہ کرامؓ کے متعلق اللہ علیم و خبیر کی یہ شہادت قرآن مجید میں محفوظ ہے کہ وہ ایک دوسرے پر شفیق اور مہربان ہیں “ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ” دوسری جگہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خاص کرم نے ان کے دل ملا دئیے ہیں، اور وہ پُرانے جھگڑوں کو بالکل بُھلا کر آپس میں بھائی بھائی ہو گئے ہیں۔ فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا (آل عمران 103: 3) ایک اور جگہ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے، کہ اللہ کا یہ خاص انعام ہے، کہ اُس نے تم پر ایمان لانے والون کے دل ملا دئیے ہیں، اگر تم اس مقصد کے لئے دنیا کی ساری دولت اور سارے خزانے بھی خرچ کر ڈالتے تو بھی ان کے دلوں میں یہ الفت و محبت پیدا نہ کر سکتے۔ وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ (الانفال 63: 8) بہر حال قرآن مجید کی ان واضح شہادتوں سے معلوم ہوا کہ جہاں تک صحابہ کرامؓ کا تعلق ہے ان کے دل ایک دوسرے کی محبت و الفت سے بھر دئیے گئے تھے، اور ان میں باہم بغض و حسد کا نام و نشان بھی نہ تھا، اس لئے اس حدیث “ دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ: الْحَسَدُ، وَالْبَغْضَاءُ ” کا منشا یہی ہو سکتا ہے کہ بعد کے دوروں میں بغض و حسد کی جو مہلک بیماری مسلمانوں میں آنے والی تھی، رسول اللہ ﷺ پر وہ منکشف ہوئی، اور آپ نے امت کو اس آنے والی بلا سے خبر دار کیا اور بتلایا کہ بغض و حسد کی جس مہلک بیماری نے اگلی بہت سے امتوں کے دین و ایمان کو برباد کیا وہ میری امت کی طرف بھی چلی آ رہی ہے، لہٰذا اللہ کے بندے ہوشیار رہیں، اور اس لعنت سے اپنے دلوں اور سینوں کی حفاظت کی فکر کریں۔

293Maarif-ul-Hadith

بغض اور کینہ کی نحوست

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ ، يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ ، إِلَّا عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيُقَالُ : اتْرُكُوا ، أَوِ ارْكُوا ، هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا " (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہر ہفتہ میں دو دن دو شنبہ اور پنجشنبہ کو لوگوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں، تو ہر بندہ مؤمن کی معافی کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے، سوائے اُن دو آدمیوں کے جو ایک دوسرے سے کینہ رکھتے ہوں، پس اُن کے بارے میں حکم دے دیا جاتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑے رکھو (یعنی ان کی معافی نہ لکھو) جب تک کہ یہ آپس کے اس کینہ اور باہم دشمنی سے باز نہ آئیں اور دلوں کو صاف نہ کر لیں۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث کی تشریح ایک دوسری روایت سے ہوتی ہے جس کو امام منذری نے ترغیب و ترہیب میں اوسط طبرانی کے حوالہ سے نقل کیا ہے، اس میں فرمایا گیا ہے، کہ ہر دوشنبہ اور پنج شنبہ کو لوگوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں تو جس نے توبہ کی ہوتی ہے اس کی توبہ قبول کی جاتی ہے، لیکن باہم کینہ رکھنے والوں کے اعمال اُن کے کینہ کے سبب لوٹا دئیے جاتے ہیں (یعنی ان کی معافی اور توبہ کی قبولیت کا فیصلہ بھی نہیں کیا جاتا) جب تک کہ وہ اس سے باز نہ آئیں۔ اس مضمون کی چند اور حدیثیں بھی ہیں، ان سب سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جس مسلمان کے دل میں دوسرے مسلمان بھائی کے لیے کینہ ہو گا جب تک وہ اس کینہ سے اپنے دل اور سینے کو صاف پاک نہ کر لے، اس وقت تک وہ اللہ کی رحمت و مغفرت کا مستحق نہ ہو گا۔ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنا وَلِإِخْوانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونا بِالْإِيمانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ

294Maarif-ul-Hadith

شماتت کی سزا

عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ تُظْهِرِ الشَّمَاتَةَ لأَخِيكَ فَيَعَافِيْهِ اللَّهُ وَيَبْتَلِيكَ (رواه الترمذى)

حضرت واثلہ ابنالاسقع سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے کسی بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار مت کرو (اگر ایسا کرو گے تو ہو سکتا ہے کہ) اللہ اُس کو اس مصیبت سے نجات دے دے اور تم کو مبتلا کر دے۔ (جامع ترمذی) تشریح جب دو آدمیوں میں اختلاف پیدا ہوتا ہے، اور وہ ترقی کر کے دشمنی اور عداوت کی حد تک پہنچ جاتا ہے تو یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک کے مبتلائے مصیبت ہونے سے دوسرے کو خوشی ہوتی ہے، اس کو شماتت کہتے ہیں، حسد اور بغض کی طرح یہ خبیث بھی عادت بھی اللہ تعالیٰ کو سخت ناراض کرنے والی ہے، اور اللہ تعالیٰ بسا اوقات دنیا ہی میں اس کی سزا اس طرح دے دیتے ہیں کہ مصیبت زدہ کو مصیبت سے نجات دے کر اس پر خوش ہونے والے کو مبتلائے مصیبت کر دیتے ہیں۔

295Maarif-ul-Hadith

نرم مزاجی اور درشت خوئی

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ اللهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ ، وَمَا لَا يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ " (رواه مسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ خود مہربان ہے (نرمی اور مہربانی کرنا اُس کی ذاتی صفت ہے) اور نرمی اورمہربانی کرنا اس کو محبوب بھی ہے (یعنی اس کو یہ بات پسند ہے کہ اس کے بندے بھی آپس میں نرمی اورمہربانی کا برتاؤ کریں) اور نرمی پر وہ اتنا دیتا ہے جتنا کہ درشتی اور سختی پر نہیں دیتا ہے، اور جتنا کہ نرمی کے ماسوا کسی چیز پر بھی نہیں دیتا۔ (صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ نے اخلاق کے سلسلہ میں جن باتوں پر خاص طور سے زور دیا ہے، اور آپ کی اخلاقی تعلیم میں جن کو خاص اہمیت حاصل ہے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئے اور درشتی اور سختی کا رویہ اختیار نہ کرے، اس سلسلہ کے آپ کے چند ارشادات یہاں پڑھیئے۔ تشریح۔۔۔ بعض لوگ اپنے مزاج اور معاملہ اور برتاؤ میں سخت ہوتے ہیں، اور بعض لوگ نرم اور مہربان، اور ناآشنایانِ حقیقت سمجھتے ہیں کہ سخت گیری سے آدمی وہ حاصل کر لیتا ہے جو نرمی سے حاصل نہیں کر سکتا، گویا ایسے لوگوں کے خیال میں سخت گیری کار براری کا وسیلہ اور مقاصد میں کامیابی کی کنجی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد میں اس غلط خیال کی بھی اصلاح فرمائی ہے۔ سب سے پہلے توآپ نے نرم خوئی کی عظمت اور رفعت یہ بیان فرمائی، کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفت ہے، اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ محبوب ہے کہ اس کے بندوں کا باہمی معاملہ اور برتاؤ بھی مرمی کا ہو۔ پھر آخر میں آپ نے فرمایا کہ مقاصد کا پورا ہونا نہ ہونا، اورکسی چیز کا ملنا تو اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت پر موقوف ہے، جو کچھ ہوتا ہے اسی کے فیصلہ اور اسی کی مشیت سے ہوتا ہے، اور اس کا قانون یہ ہے کہ وہ نرمی پر اس قدر دیتا ہے جس قدر کہ سختی پرنہیں دیتا، بلکہ نرمی کے علاوہ کسی چیز پر بھی اللہ تعالیٰ اتنا نہیں دیتا جتنا کہ نرمی پر دیتا ہے، اس لیے اپنے منافع اور مصالح کے نقطہ نظر سے بھی اپنے تعلقات اورمعاملات میں آدمی کو نرمی اور مہربانی ہی کا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ دوسرے لفطوں میں اسی کو یوں کہہ لیجئے کہ جو شخص چاہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر مہربان ہو، اور اس کے کام پورے کرے، اس کو چاہئے کہ وہ دوسروں کے حق میں مہربان ہو، اور بجائے سخت گیری کے نرمی کو اپنا اصول اور اپنا طریقہ بنائے۔

296Maarif-ul-Hadith

نرم مزاجی اور درشت خوئی

عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : « مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ ، يُحْرَمِ الْخَيْرَ » (رواه مسلم)

حضرت جریر سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو آدمی نرمی کی صفت سے محروم کیا گیا وہ سارے خیر سے محروم کیا گیا۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ نرمی کی صفت اتنی بڑی خیر ہے اور اس کا درجہ اتنا بلند ہے کہ جو شخص اس سے محروم رہا، گویا وہ اچھائی اور بھلائی سے یکسر محروم اور خالی ہاتھ رہا، یا یوں کہا جائے کہ انسان کی اکثر اچھائیوں اور بھلائیوں کی جڑ بنیاد اور ان کا سرچشمہ چونکہ اس کی نرم مزاجی ہے لہذا جو شخص اس سے محروم رہا وہ ہر قسم کے خیر اور ہر اچھائی اور بھلائی سے محروم رہے گا۔

297Maarif-ul-Hadith

نرم مزاجی اور درشت خوئی

عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِن خَيْرِالدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ حُرِمَ حَظَّهُ مِن خَيْرِالدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . (رواه البغوى فى شرح السنة)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نرمی کی خصلت کا اپنا حصہ مل گیا اس کو دنیا اور آخرت کے خیر میں سے حصہ مل گیا اور جس کو نرمی نصیب نہیں ہوئی، وہ دنیا اور آخرت میں خیر کے حصے سے محروم رہا۔

298Maarif-ul-Hadith

نرم مزاجی اور درشت خوئی

عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُرِيدُ اللهُ بِأَهْلِ بَيْتٍ رِفْقًا إِلَّا نَفَعَهُمْ ، وَلَا يَحْرِمُهُمْ إِيَّاهُ إِلَّا ضَرَّهُمْ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نہیں ارادہ کرتا اللہ تعالیٰ کسی گھر کے لوگوں کے لئے نرمی کی صفت عطا کرنے کا، مگر ان کو نفع پہنچاتا ہے اس کے ذریعہ، اور نہیں محروم کرتا کسی گھر کے لوگوں کو نرمی کی صفت سے مگر یہ کہ ضرر پہنچاتا ان کو۔ (شعب الایمان للبیہقی) تشریح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ عام سنت اور اس کا کلی قانون ہے کہ جس گھر کے لوگوں کو وہ نرمی کی خصلت عطا فرماتا ہے ان کے لیے یہ نرمی بہت سی منفعتوں اور برکتوں کا ذریعہ بنتی ہے، اور جن لوگوں کو وہ اس اچھی خصلت سے محروم رکھتا ہے ان کے لیے یہ محرومی بہت سے نقصانات اور بہت سی زحمتوں کا سبب بنتی ہے۔ انسان کی خصلتوں میں نرمی اور سختی کی یہ خصوصیت ہے کہ ان کے استعمال کا دائرہ بہت زیادہ وسیع ہے جس شخص کے مزاج اور رویہ میں سختی ہوگی وہ اپنے گھر والوں، بیوی بچوں، عزیزوں قریبوں کے لیے سخت ہو گا، پڑوسیوں کے حق میں سخت ہو گا، اگر استاد ہے تو شاگردوں کے حق میں سخت ہو گا، اسی طرح اگر حاکم اور افسر ہے تو محکوموں اور ماتحتوں کے حق میں سخت ہو گا، غرضیکہ زندگی میں جہاں جہاں اور جن جن سے اس کا واسطہ پڑے گا ان کے ساتھ اس کا رویہ سخت ہو گا اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کی زندگی خود اس کے لئے اور اس سے تعلق رکھنے والوں کے لیے مستقل عذاب ہوگی۔ اور اس کے برعکس جس بندہ کے مزاج اور رویہ میں نرمی ہوگی وہ گھر والوں پڑوسیوں، افسروں، ماتحتوں، شاگردوں، استادوں، اپنوں، بیگانوں، غرض کہ سب کے ساتھ نرم ہو گا اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس نرمی کی بدولت وہ خود بھی راحت سے رہے گا اور دوسروں کے لئے بھی راحت اور سکون کا باعث ہو گا، پھر یہ نرمی باہم محبت و مؤدت پیدا کرے گی اور اکرام و احترام اورخیر خواہی کے جذبات کو ابھورے گی، اور اس کے برعکس درشت مزاجی اور رتندخوئی دلوں میں بغض و عداوت پیدا کرے گی، اور حسد و بد خواہی اور جنگ و جدل کے منحوس جذبات کو بھڑکائے گی۔ سختی اور نرمی کے یہ تو چند وہ دنیوی نتائج ہیں جن کا ہم روز مرہ اپنی زندگیوں میں اور اپنے ماحول میں تجربہ اور مشاہدہ کرتے رہتے ہیں (اور تھوڑے سے غور و فکر سے بہت سے ان بڑے اور دور رس نتائج کو بھی سمجھ سکتے ہیں) ان کے علاوہ اس نرم مزاجی اور درشت خوئی کے جو بے حد عظیم الشان اخروی نتائج آخرت کی زندگی میں سامنے آنے والے ہیں، ان کا تجربہ اور مشاہدہ تو اپنے وقت پر ہی ہو گا، لیکن اس دنیوی زندگی میں آخرت کے نفع و نقصان اور ثواب و عذاب کو جتنا کچھ ہم جان اور سمجھ سکتے ہیں، اس کے لئے رسول اللہ ﷺ کے اس سلسلہ کے ارشادات ہمارے لئے کافی ہیں۔

299Maarif-ul-Hadith

نرم مزاجی اور درشت خوئی

عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ وَمَنْ تَحْرُمُ النَّارُ عَلَيْهِ؟ كُلُّ هَيِّنٍ لَيْنٍ قَرِيبٍ سَهْلٍ " (رواه ابوداؤد والترمذى)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تم کو ایسے شخص کی خبر نہ دوں جو دوزخ کی آگ کے لئے حرام ہے، اور دوزخ کی آگ اس پر حرام ہے؟ (سنو میں بتاتا ہوں، دوزخ کی آگ حرام ہے) ہر ایسے شخص پر جو مزاج کا تیز نہ ہو، نرم ہو، لوگوں سے قریب ہونے والا ہو، نرم خو ہو۔ تشریح اس حدیث میں یہ هَيِّنٍ لَيْنٍ قَرِيبٍ سَهْلٍ چاروں لفظ قریب المعنیٰ ہیں، اور نرم مزاجی کے مختلف پہلوؤں کی یہ ترجمانی کرتے ہیں۔ مطلب حدیث کا یہ ہے کہ جو آدمی اپنے مزاج اور رویہ میں نرم ہو، اور نرم خوئی کی وجہ سے لوگوں سے خوب ملتا جلتا ہو، دور دور اور الگ الگ نہ رہتا ہو، اور لوگ بھی اس کی اس اچھی اور شیریں خصلت کی وجہ سے اُس سے بے تکلف اور محبت سے ملتے ہوں، جس سے بات اور معاملہ کرتا ہو، نرمی اور مہربانی سے کرتا ہو، ایسا شخص جنتی ہے، اور دوزخ کی آگ اس پر حرام ہے۔ شرح حدیث کے اسی سلسلہ میں بار بار ذکر کیا جا چکا ہے کہ قرآن مجید کے نصوص اور رسول اللہ ﷺ کی مسلسل تعلیم و تربیت سے صحابہ کرامؓ کے ذہن میں چونکہ یہ بات پوری طرح راسخ ہو چکی تھی (اور دین کی صرف ضروری درجہ کی بھی واقفیت رکھنے والا ہر شخص آج بھی اتنی بات جانتا ہے) کہ اس قسم کی بشارتوں کا تعلق صرف ان ہی لوگوں سے ہے جو ایمان رکھتے ہوں، اور دین کے لازمی مطالبات ادا کرتے ہوں، اس لئے اس قسم کی بشارتوں کے ساتھ عموماً اس شرط کو الفاظ میں ذکر نہیں کیا جاتا۔ (اور بشارت کے موضوع کے لیے یہی مناسب ہے) لیکن ذہنوں میں یہ شرط ملحوظ اورمحفوظ رہنی چاہئے، یہ ایک مسلمہ ایمانی حقیقت ہے کہ ایمان کے بغیر اللہ کے یہاں اعمال اور اخلاق کی کوئی قیمت نہیں۔

300Maarif-ul-Hadith

نرم مزاجی اور درشت خوئی

عَنْ حَارِثَةَ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْجَوَّاظُ وَلَا الْجَعْظَرِيُّ » (رواه ابو داؤد)

حارثہ بن وہب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ سخت گو اور درشت خو آدمی جنت میں نہیں جائے گا۔ (ابو داؤد) تشریح حدیثوں میں کبھی کبھی کسی برے عمل یا بری عادت کی برائی بیان کرنے کے لیے اور لوگوں کو اس سے بچانے کے لیے یہ اندازِ بیان بھی اختیار کیا جاتا ہے کہ “ اس عمل یا عادت، والا آدمی جنت میں نہ جا سکے گا ” اور مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ یہ عمل اور یہ عادت، شانِ ایمان کے خلاف اور جنت کے راستہ میں رکاوٹ بننے والی ہے، اس لئے جنت کے طلب گار اہلِ ایمان کو اس سے پورے اہتمام سے بچنا چاہئے۔ حارثہ بن وہب کی اس حدیث کا مقصد بھی یہی ہے کہ سخت گوئی اور درشت خوئی ایمان کے منافی اور جنت کا راستہ روکنے والی نہایت منحوس عادتیں ہیں جو کسی مسلمان میں نہ ہونی چاہئیں، اور ان ناپاک عادتوں والے لوگ سچے مومنین کی طرح اور اُن کے ساتھ جنت میں نہ جا سکیں گے۔