Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 14 of 106

261Maarif-ul-Hadith

سخاوت اور بخل

عَنْ جَابِرٍ قَالَ : " مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قَطُّ فَقَالَ : لاَ" . (رواه البخارى ومسلم)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی چیز کا سوال کیا گیا ہو اور آپ نے جواب میں نہیں فرمایا ہو۔ (بخاری و مسلم) تشریح یعنی رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کا یہ حال تھا کہ آپ نے کبھی کسی سائل کو “ نہیں ” کہہ کر واپس نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ ہر سائل کو دیا اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوا کہ آپ کے پاس نہ ہوا، تو آپ نے قرض منگوا کر دیا۔

262Maarif-ul-Hadith

سخاوت اور بخل

عَنْْ أَبِىْ هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَوْ كَانَ عِنْدِىْ مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا لَسَرَّنِي أَنْ لاَ يَمُرَّ عَلَيَّ ثَلاَثٌ لِيَالٍ ، وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَيْءٌ أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو، تو میری خوشی یہی ہوگی کہ مجھ پر تین راتیں بھی ایسی نہ گذریں کہ میرے پاس اس میں سے کچھ بھی باقی ہو، بجز اس کے کہ میں کسی قرض کی ادائیگی کے لیے اس میں سے کچھ روک لوں۔ (بخاری و مسلم)

263Maarif-ul-Hadith

سخاوت اور بخل

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ اَبَدًا . (رواه النسائى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حرص و بخل اور ایمان کبھی ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے (یعنی بخیلی و کنجوسی اور ایمان کا کوئی جوڑ نہیں)۔ (سنن نسائی) تشریح مطلب یہ ہے کہ ایمان کی حقیقت اور بخل کی عادت میں ایسی منافات ہے کہ جس دل کو حقیقی ایمان نصیب ہو گا اس میں بخل نہیں آ سکتا، اور جس میں بخل دیکھا جائے تو سمجھ لیا جائے کہ اس میں ایمان کا نور نہیں ہے۔ ذرا سا غور کرنے سے ہر ایک کی سمجھ میں یہ بات آ سکتی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات پر کامل ایمان و یقین کے بعد دل میں بخل اور کنجوسی جیسی کسی خصلت کے لیے کوئی گنجائش ہی نہیں رہ سکتی۔

264Maarif-ul-Hadith

سخاوت اور بخل

عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ خَبٌّ ، وَلا بَخِيلٌ ، وَلا مَنَّانٌ . (رواه الترمذى)

حضرت ابو بکر صدیق ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: دھوکہ باز، بخیل اور احسان جتانے والا آدمی جنت میں نہ جا سکے گا۔ (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ یہ تینوں بُری خصلتیں (دھوکہ بازی، کنجوسی اور احسان کر کے جتانا) اُن خطرناک اور تباہ کن عادات میں سے ہیں جو جنت کے راستے میں رکاوٹ بننے والی ہیں، اس لئے جو بندے جنت کے شائق اور دوزخ سے خائف ہوں، اُن کو چاہئے کہ ان عادتوں سے اپنی حفاظت کریں۔

265Maarif-ul-Hadith

اللہ کو سب سے زیادہ عزیز بندہ ہے جو بدلہ لینے اور سزا دینے کی قدرت رکھنے کے باوجود معاف کر دے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ ، يَتَعَجَّبُ وَيَتَبَسَّمُ فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ ، غَضِبْتَ وَقُمْتَ ، قَالَ : "كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْكَ ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ : مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ بِمَظْلَمَةٍ فَيُغْضِي عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، إِلَّا أَعَزَّ اللهُ بِهَا نَصْرَهُ ، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ ، يُرِيدُ بِهَا صِلَةً ، إِلَّا زَادَ اللهُ بِهَا كَثْرَةً ، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ ، يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً ، إِلَّا زَادَ اللهُ بِهَا قِلَّةً " (رواه احمد)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابو بکر ؓ کو گالیاں دیں اور رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے، (اور آپ اس شخص کے مسلسل گالیاں دینے پر اور ابو بکرؓ کے صبر کرنے اور خاموش رہنے پر) تعجب اور تبسم فرما رہے تھے، پھر جب اُس آدمی نے بہت ہی زیادہ گالیاں دی (اور زبان کو روکا ہی نہیں) تو ابو بکر نے بھی اُس کی بعض باتوں کو اُس پر اُلٹ دیا اور کچھ جواب دیا پس رسول اللہ ﷺ کچھ ناراضی کے ساتھ وہاں سے اُٹھ کر چل دئیے (حضرت ابو بکرؓ کو اس سے بہت فکر لاحق ہوئی، اور وہ بھی معذرت کے لئے اور حضور ﷺ کی ناراضی کا سبب معلوم کرنے کے لیے آپ کے پیچھے چلے)۔ پس ابو بکرؓ آپ ﷺ کے پاس پہنچے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! (یہ کیا بات ہوئی کہ) وہ شخص مجھے گالیاں دیتا رہا اور آپ وہاں تشریف فرما رہے، پھر جب میں نے کچھ جواب دیا، تو حضور ناراض ہو کر اٹھ آئے؟ آپ نے ارشاد فرمایا جب تک تم خاموش تھے، اور صبر کر رہے تھے تمہارے ساتھ اللہ کا ایک فرشتہ تھا، جو تمہاری طرف سے جواب دہی کر رہا تھا، پھر جب تم نے خود دیا، تو (وہ فرشتہ تو چلا گیا، اور) شیطان بیچ میں آ گیا (کیوں کہ اُسے امید ہو گئی کہ وہ لڑائی کو اور آگے بڑھا سکے گا)۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا، اے ابو بکر! تین باتیں ہیں جو سب کی سب بالکل حق ہیں، پہلی بات یہ ہے کہ جس بندہ پر کوئی ظلم و زیادتی کی جائے اور وہ محض اللہ عز وجل کے لیے اس سے درگزر کرے (اور انتقام نہ لے) تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس کی بھرپور مدد فرمائیں گے (دنیا اور آخرت میں اُس کو عزت دیں گے)۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ جو شخص صلہ رحمی کے لیے دوسروں کو دینے کا دروازہ کھولے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اُس کو اور بہت زیادہ دیں گے۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ جو آدمی (ضرورت سے مجبور ہو کر نہیں بلکہ) اپنی دولت بڑھانے کے لئے سوال اور گدا گری کا دروازہ کھولے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کی دولت کو اور زیادہ کم کر دیں گے۔ (مسند احمد) تشریح انصاف کے ساتھ ظلم کا بدلہ لینا اگرچہ جائز ہے، لیکن فضیلت اور عزیمت کی بات یہی ہے کہ بدلہ لینے کی قدرت کے باوجود محض اللہ کے لئے معاف کر دے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ چونکہ اخص الخواص میں سے تھے، اس لئے آپ نے اُن کی طرف سے تھوڑی سی جوابدہی کو بھی پسند نہیں فرمایا۔ قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا ہے: وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۖ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ (شورى 40: 42) اور برائی کا (قانونی) بدلہ اُسی کی مثل برائی ہے (یعنی جس درجہ کی زیادتی کسی نے کی، اُس کے بدلے میں اس کے ساتھ اسی درجہ کی زیادتی کی قانوناً اجازت ہے لیکن اللہ کا جو بندہ انتقام نہ لے اور معاف کر دے اور صلح و اصلاح کی کوشش کرے، تو اس کا خاص اجر و ثواب اللہ کے ذمہ ہے۔ رحم دلی کی جڑ سے جو شاخیں پھوٹتی ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اپنے مجرم اور قصور وار کو معاف کر دیا جائے، اور اس سے انتقام نہ لیا جائے، رسول اللہ ﷺ اپنی امت کو بھی اس کی خاص طور سے ترغیب دیتے تھے۔ چند ہی ورق پہلے “ کتاب الرقاق ” کے آخر میں حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت سے یہ حدیث درج ہو چکی ہے کہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے میرے رب نے نو باتوں کا خاص طور سے حکم فرمایا ہے، اور اُن میں سے ایک بات آپ نے یہ ذکر فرمائی، کہ مجھے حکم ہے کہ جو کوئی مجھ پر ظلم و زیادتی کرے، میں اُس کو معاف کر دیا کروں۔ اس سلسلہ کی ایک دو حدیثیں یہاں اور بھی پڑھ لیجئے۔

266Maarif-ul-Hadith

اللہ کو سب سے زیادہ عزیز بندہ ہے جو بدلہ لینے اور سزا دینے کی قدرت رکھنے کے باوجود معاف کر دے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ : يَا رَبِّ ، مَنْ أَعَزُّ عِبَادِكَ عِنْدَكَ؟ قَالَ : مَنْ إِذَا قَدَرَ غَفَرَ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کیا، پروردگار! آپ کے بندوں میں کون آپ کی بارگاہ میں زیادہ باعزت ہیں؟ ارشاد فرمایا: وہ بندے جو (قصوروار پر) قابو پانے کے بعد (اور سزا دینے کی قدرت رکھنے کے باوجود) اس کو معاف کر دیں۔ (شعب الایمان للبیہقی) تشریح یہاں یہ ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ قصور وار کا قصور معاف کرنے کی اس فضیلت کا تعلق افراد و اشخاص اور ان کے ذاتی اور نجی حقوق و معاملات سے ہے، لیکن جو جرائم اللہ تعالیٰ کے جرائم ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن پر سزا مقرر ہے، اُس سزا کے معاف کرنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ جو دنیا میں سب سے زیادہ رحمدل تھے، آپ کا طرز عمل بھی یہی تھا کہ اپنا قصور کرنے والوں کو ہمیشہ معاف فرما دیتے تھے۔ لیکن اللہ کی حدوں کے توڑنے والوں کو اللہ کے حکم کے مطابق ضرور سزا دیتے تھے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت ہے: (۱) وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فِي شَيْءٍ قَطُّ، إِلَّا أَنْ يُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللهِ، فَيَنْتَقِمُ .

267Maarif-ul-Hadith

خادم اور نوکر کو معافی دو ، اگرچہ وہ ایک دن میں ستر دفعہ قصور کرے

عَنِ عَبْدِاللهِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَمْ أَعْفُو عَنِ الْخَادِمِ؟ فَصَمَتَ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَمْ أَعْفُو عَنِ الخَادِمِ؟ فَقَالَ : كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً . (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنے خادم (غلام یا نوکر) کا قصور کتنی دفعہ معاف کروں؟ آپ نے اُس کو کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش رہے۔ اُس نے پھر وہی عرض کیا، کہ میں اپنے خادم کو کتنی دفعہ معاف کروں؟ آپ نے ارشاد فرمایا ہر روز ستر دفعہ۔ (جامع ترمذی) تشریح سوال کرنے والے کا مقصد یہ تھا کہ حضرت اگر میرا خادم غلام یا نوکر بار بار قصور کرنے، تو کہاں تک میں اس کو معاف کروں، اور کتنی دفعہ معاف کرنے کے بعد میں اس کو سزا دوں؟ آپ نے جواب دیا کہ: اگر بالفرض روزانہ ستر دفعہ بھی وہ قصور کرے، تو تم اس کو معاف ہی کرتے رہو۔ حضور ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ قصور کا معاف کرنا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی حد مقرر کی جائے، بلکہ حسن اخلاق اورترحم کا تقاضا یہ ہے کہ اگر بالفرض وہ روزانہ ستر دفعہ بھی قصور کرے تو اس کو معاف ہی کر دیا جائے۔ ف۔۔۔ جیسا کہ بار بار لکھا جا چکا ہے، ستر کا عدد ایسے موقعوں پر تحدید کے لئے نہیں ہوتا بلکہ صرف تکثیر کے لئے ہوتا ہے، اور خاص کر اس حدیث میں یہ بات بہت ہی واضح ہے۔

268Maarif-ul-Hadith

اللہ کو سب سے پیارا وہ بندہ ہے جو اس کی مخلوق کے ساتھ احسان کرے

عَنْ أَنَسٍ وَعَبْدِاللهِ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَلْقُ عِيَالُ اللهِ ، فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللهِ مَنْ اَحْسَنَ اِلَى عِيَالِهِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت انس اور حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال ہے (یعنی سب مخلوق کی روزی اور اُن کی ضروریات حیات کا حقیقۃً اللہ تعالیٰ ہی کفیل ہے، جس طرح کہ کوئی آدمی اپنے اہل و عیال کی روزی اور اُن کی ضروریات کا مجازاً کفیل ہوتاہے) پس اللہ کو اپنی ساری مخلوق میں زیادہ محبت اُن بندوں سے ہے جو اس کی عیال (یعنی اس کی مخلوق) کے ساتھ احسان کریں۔ تشریح ہماری اس دنیا کا دستور بھی یہی ہے کہ جو کوئی کسی کے اہل و عیال کے ساتھ احسان کرے اُس کے لیے دل میں خاص جگہ ہو جاتی ہے۔ اس حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ بھی یہی ہے کہ جو کوئی اُن کی مخلوق کے ساتھ احسان کابرتاؤ کرے (جس کی مختلف صورتیں اوپر ذکر کی جا چکی ہیں) وہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہو جاتا ہے۔ ف۔۔۔ یہ بات پہلے بھی بار بار ذکر کی جا چکی ہے اور یہاں بھی ملحوظ رہنی چاہئے کہ اس قسم کی بشارتوں کا تعلق صرف اُن بندوں سے ہوتا ہے جو کسی ایسے سنگین جرم کے مجرم نہ ہوں جو آدمی کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور محبت سے بالکل ہی محروم کر دیتا ہو۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ ایک بادشاہ اعلان کرتا ہے کہ جو کوئی میری رعایا کی ساتھ اچھا سلوک کرے گا وہ میری محبتکا مستحق ہو گا، اور میں اس کو انعامات سے نوازوں گا، تو ظاہر ہے کہ جو لوگ خود اس بادشاہ کے باغی ہوں گے یا دوسرے ناقابلِ معافی جرائم بطورپیشہ کے کرتے ہوں، (مثلاً قتل و غارتگری، ڈاکہ زنا وغیرہ) وہ اگر رعایا کے کچھ افراد کے ساتھ بڑے سے بڑا سلوک بھی کریں، تب بھی وہ اس اعلان کی بنیاد پر بادشاہ کی محبت اور انعام کے مستحق نہیں ہوں گے، اور یہی کہا جائے گا کہ اس شاہی فرمان کا تعلق ایسے باغیوں اور پیشہ ور مجرموں سے نہیں ہے۔

269Maarif-ul-Hadith

صرف احسان کرنے والوں کے ساتھ ہی احسان نہ کرو

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ تَكُونُوا إِمَّعَةً ، تَقُولُونَ : إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا ، وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا ، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا ، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلاَ تَظْلِمُوا . (رواه الترمذى)

حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم دوسروں کی دیکھا دیکھی کام کرنے والے نہ بنو کہ کہنے لگو کہ اگر اور لوگ اھسان کریں گے تو ہم بھی احسان کریں گے، اور اگر دوسرے لوگ ظلم کا رویہ اختیار کریں گے تو ہم بھی ویسا ہی کریں گے بلکہ اپنے دلوں کو اس پر پکا کرو کہ اگر اور لوگ احسان کریں تب بھی تم احسان کرو اور اگر لوگ برا سلوک کریں تب بھی تم ظلم اور برائی کا رویہ اختیار نہ کرو (بلکہ احسان ہی کرو)۔ (ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ دنیا میں خواہ احسان اور حسن سلوک کا چلن ہو یا ظلم اور بدسلوکی کا دور دورہ ہو، اہلِ ایمان کو چاہئے کہ اُن کا رویہ دوسروں کے ساتھ احسان اور حسن سلوک ہی کا رہے۔ نیز یہ احسان صرف اُن ہی لوگوں کے ساتھ نہ کیا جائے جو ہمارے ساتھ احسان کرتے ہوں، بلکہ جو لوگ ہمارے ساتھ برا سلوک کریں، اُن کے ساتھ بھی ہم احسان ہی کا رویہ رکھیں۔ “ کتاب الرقاق ” کے آخر میں حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت سے یہ حدیث گذر چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ مجھے میرے پروردگار کا ھکم ہے کہ جو مجھ سے قطع رحم کرے میں اُس کے ساتھ صلہ رحمی کروں، اور جو مجھے نہ دے، جب میرے لئے دینے کاوقت آئے تو میں اُس کو بھی دوں ”۔

270Maarif-ul-Hadith

صرف احسان کرنے والوں کے ساتھ ہی احسان نہ کرو

عَنْ أَنَسِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَضَى لِأَحَدٍ مِنْ أُمَّتِي حَاجَةً يُرِيدُ أَنْ يَسُرَّهُ بِهَا فَقَدْ سَرَّنِي ، وَمَنْ سَرَّنِي فَقَدْ سَرَّ اللهَ ، وَمَنْ سَرَّ اللهَ أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کسی نے میرے کسی امتی کی کوئی حاجت پوری کر دی اُس کا دل خوش کرنے کے لئے تو اُس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا اُس نے میرے اللہ کو خوش کیا، اور جس نے اللہ کو خوش کیا، اللہ اُس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ (شعب الایمان للبیہقی) تشریح رسول اللہ ﷺ کو اپنے امتیوں کے ساتھ جو خاص تعلق ہے، اُس کا اندازہ اس حدیث سے بھی کیا جا سکتا ہے، اس میں فرمایا گیا ہے کہ آپ کے کسی امتی کو خوش کرنے کے لئے اس کا کوئی کام کر دینا اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا خود رسول اللہ ﷺ کو خوش کرنے والا عمل ہے، اور اس کا صلہ اللہ تعالیٰ کی خوشی اور جنت ہے۔

271Maarif-ul-Hadith

صرف احسان کرنے والوں کے ساتھ ہی احسان نہ کرو

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ ، كَالسَّاعِىْ فِي سَبِيلِ اللهِ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَكَالْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ ، وَكَالصَّائِمِ لَا يُفْطِرُ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ اللہ کا جو بندہ بے شوہر والی اور بے سہارا کسی عورت اور کسی مسکین حاجتمند آدمی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتا ہو، وہ اجر و ثواب میں اُس مجاہد بندہ کی طرح ہے جو اللہ کی راہ میں دوڑ دھوپ کرتا ہو۔ راوی کہتے ہیں، اور میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ۔ اور اُس شب بیدار بندہ کی طرح ہے جو رات بھر نماز پڑھتا ہو اور تھکتا نہ ہو اور اُس دائمی روزہ دار کی طرح ہے جو ہمیشہ روزہ رکھتا ہو کبھی بے روزہ کے رہتا ہی نہ ہو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح جیسا کہ اوپر کی حدیثوں سے معلوم ہوا، احسان خواہ کسی قسم کا اور اللہ کی کسی مخلوق کے ساتھ کیا جائے وہ اللہ کو راضی کرنے والا عمل ہے، لیکن خاص کر کسی بے سہارا عورت اور کسی مسکین بندہ کی مدد کے لئے اور اُس کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرنا اتنا اونچا عمل ہے کہ اس کے کرنے والے بندے اجر و ثواب میں اُن بندوں کے برابر ہیں جو راہِ کدا میں جہاد کرتے ہوں، یا جو صائم النہار اور قائم اللیل ہوں۔

272Maarif-ul-Hadith

چھوٹے سے چھوٹے احسان کی بھی اللہ کے نزدیک بڑی قیمت ہے

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَلْقَ أَخَاهُ بِوَجْهٍ طَلْقٍ ، وَإِنْ اشْتَرَيْتَ لَحْمًا أَوْ طَبَخْتَ قِدْرًا فَأَكْثِرْ مَرَقَتَهُ وَاغْرِفْ لِجَارِكَ مِنْهُ . (رواه الترمذى)

حضرت ابوذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی احسان کی کسی صورت اور کسی قسم کو بھی حقیر نہ سمجھے، پس اگر اپنے بھائی کو دینے کے لئے کچھ بھی نہ پائے تو اتنا ہی کرے کہ شگفتہ روئی کے ساتھ اُس سے ملاقات کرے (یہ بھی حسن سلوک کی ایک صورت ہے) اور جب تم گوشت خریدو یا ہانڈی پکاؤ تو اُس میں شوربا بڑھا دیا کرو، پھر چمچہ بھر اُس میں سے اپنے پڑوسی کے لئے بھی نکالا کرو۔ (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اپنے اعزہ و اقارب اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کیا کرے حسب استطاعت اُن کو تحفے دیا کرے، اور اگر تحفہ دینے کے لئے کوئی زیادہ بڑھیا چیزنہ ہو تو جو کچھ میسر ہو وہی دے دے، اور اس کو حقیر اور معمولی سمجھ کے دینے سے نہ رُکے، اور اگر کچھ بھی میسر نہ ہو تو اتنا ہی کرے کہ شگفتہ روئی اور خندہ جبینی کے ساتھ اُن سے ملا کرے، یہ بھی حسن سلوک کی ایک صورت ہے، اور تحفہ تحائف کی طرح اس سے بھی باہمی محبت و تعلق میں اضافہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں غریب اور نادارآدمی بھی اتنا تو کر ہی سکتا ہے، کہ جب کبھی گھر میں گوشت پکے تو اس میں شوربا کچھ زیادہ کر لیا جائے، اور کسی پڑوس کے گھر بھی اس میں سے بھیج دیا جائے۔ دراصل حسن سلوک کی ان آخری صورتوں کا ذکر حضور ﷺ نے بطور مثال کے کیا ہے، ورنہ مطلب یہ ہے کہ جس سے جو ہو سکے وہ دوسروں کے ساتھ احسان کرے۔

273Maarif-ul-Hadith

چھوٹے سے چھوٹے احسان کی بھی اللہ کے نزدیک بڑی قیمت ہے

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ، وَإِنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ أَخِيكَ . (رواه الترمذى)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم حسن سلوک کی کسی صورت اور کسی قسم کو بھی حقیر مت سمجھو، اور اُس کی ایک صورت (جس میں کچھ خرچ بھی نہیں ہوتا) یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی سے شگفتہ روئی کے ساتھ ملو، اور یہ بھی (حسن سلوک میں سے ہے) کہ تم اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے برتن میں پانی ڈال دو۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث میں اپنے بھائی کے برتن میں اپنے ڈول سے پانی ڈالنے کا ذکر بھی بطور مثال ہی کے کیا گیا ہے، اور مقصد صرف یہ ہے کہ اپنے بھائی کی جو خدمت اور مدد تم کر سکتے ہو اور اس کو جو آرام تم پہنچا سکتے ہو، اور جس طرح تم اس کے کام آ سکتے ہو، اُس میں دریغ نہ کرو، اللہ کی نظر میں یہ سب احسان ہی کی صورتیں ہیں۔ اگر آج رسول اللہ ﷺ کی ان ہدایات پر عمل کیا جائے تو کیسی محبت و مؤدت کی فضا ہو، اور کیسا بھائی چارہ ہو۔ ان حدیثوں نے یہ بھی بتایا کہ کسی پر احسان کرنا دولتمند پر موقوف نہیں ہے بلکہ اس فضیلت میں غربا بھی اپنی غربت اور ناداری کے ساتھ امیروں کے شریک ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان قیمتی ہدایات کی قدر کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی ہم سب کو توفیق دے۔

274Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایثار کی ایک مثال

عَنْ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ اِلَى النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِبُرْدَةٍ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكْسُوكَ هَذِهِ ، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا ، فَلَبِسَهَا ، فَرَآهَا عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَحْسَنَ هَذِهِ ، فَاكْسُنِيهَا ، فَقَالَ : « نَعَمْ » فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَمَهُ أَصْحَابُهُ ، قَالُوا : مَا أَحْسَنْتَ حِينَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مُحْتَاجًا إِلَيْهَا ، ثُمَّ سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا ، وَقَدْ عَرَفْتَ أَنَّهُ لاَ يُسْأَلُ شَيْئًا فَيَمْنَعَهُ ، فَقَالَ : رَجَوْتُ بَرَكَتَهَا حِينَ لَبِسَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَعَلِّي أُكَفَّنُ فِيهَا . (رواه البخارى)

حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک چادر (ہدیہ کے طور پر) لے کر آئی، اور عرض کیا کہ حضرت! میں یہ چادر آپ کو اُڑھانا چاہتی ہوں۔ آپ نے وہ چادر قبول فرما کر اوڑھ لی، اور آپ کی حالت یہ تھی کہ اس وقت آپ کو اس کی ضرورت تھی۔ آپ نے صحابہ میں سے ایک صاحب نے آپ کو وہ چادر اوڑھے دیکھا تو عرض کیا، یا رسول اللہ یہ چادر تو بہت ہی اچھی ہے، یہ تو مجھے عنایت فرما دیجئے۔ آپ نے فرمایا بہت اچھا (اور وہ چادر اُسی وقت اتار کر ان صاحب کو دے دی) پھر جب رسول اللہ ﷺ اس مجلس سے اٹھ گئے، تو بعض ساتھیوں نے ان صاحب کو ملامت کی، اور کہا: تم نے یہ اچھا نہیں کیا، تم نے دیکھا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو خود اس کی ضرورت تھی اور آپ نے حاجت مندی کی حالت میں یہ چادر اس خاتون سے قبول کی تھی، اس کے باوجود تم نے حضور ﷺ سے اس کو مانگ لیا، حالانکہ تم جانتے ہو کہ آپ کی عادت کریمہ یہ ہے کہ جو چیز بھی آپ سے مانگی جائے، آپ اس کو دے ہی دیتے ہیں۔ اُن صاحب نے عرض کیا میں نے تو برکت کے خیال سے ایسا کیا، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو پہن لیا تھا، اب مجھے امید ہے کہ یہی مبارک چادر میرا کفن بنے گی۔ (صحیح بخاری) تشریح ایثار احسان کا ایک اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی ایک چیز کا خود ضرورت مند ہو، لیکن جب کوئی دوسرا حاجتمند اُس کے سامنے آ جائے تو وہ چیز اُس کو دے دے، اور خود تکلیف اٹھا لے، اسی کا نام ایثار ہے، اور بلا شبہ انسانی اخلاق میں اس کا مقام بہت بلند ہے، رسول اللہ ﷺ کا خود اپنا طرزِ عمل بھی یہی تھا، اور دوسروں کو بھی آپ اس کی تعلیم اور ترغیب دیتے تھے۔

275Maarif-ul-Hadith

ایک صحابی (ابوطلحہ) اور ان کے گھر والوں کے ایثار کا ایک سبق آموز واقعہ ، اور اس پر رسول اللہ ﷺ کی بشارت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي مَجْهُودٌ ، فَأَرْسَلَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ، فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُخْرَى ، فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ ، حَتَّى وَقُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِكَ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ يُضِيفُهُ يَرْحَمُهُ اللهُ؟ » ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، يُقَالُ لَهُ اَبِىْ طَلْحَةَ فَقَالَ : أَنَا ، يَا رَسُولَ اللهِ ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ قَالَتْ : لَا إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي ، قَالَ : فَعَلِّلِيهِمْ بِشَيْءٍ ، وَنَوِّمِيْهِمْ فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا ، فَأَرِيهِ أَنَّا نَأْكُلُ ، فَإِذَا أَهْوَى بِيَدِهِ لِيَأْكُلَ ، فَقُومِي إِلَى السِّرَاجِ كَىْ تُصْلِحِيْهِ فَأَطْفِئِيْهِ فَفَعَلَتْ فَقَعَدُوا وَأَكَلَ الضَّيْفُ وَبَاتَا طَاوِيَيْنِ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَقَدْ عَجِبَ اللهُ مِنْ اَوْ ضَحِكَ اللهُ مِنْ فُلَانٍ وَفُلَانَةٍ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا، میں بڑا دکھی فقیر ہوں (مجھے بھوک بہت ستا رہی ہے) آپ نے اپنی بعض ازواج مطہرات کے پاس کہلا بھیجا (کہ اگر کھانے کی کوئی چیز ہو، تو ایک ایسے حاجتمند کے لیے بھیج دو) وہاں سے جواب ملا، کہ قسم اُس پاک ذات کی جس نے آپ کو دین حق کے ساتھ بھیجا ہے، ہمارے ہاں اس وقت کھانے پینے کی کوئی چیز پانی کے سوا نہیں ہے۔ پھر آپ نے اپنے کسی دوسرے گھر میں کہلا کے بھیجا، وہاں سے بھی یہی جواب ملا، پھر (یکے بعد دیگرے اپنے سب گھروں میں کہلا کے بھیجا اور) اُن سب کی طرف سے یہی جواب ملا (کہ اس وقت پانی کے سوا کھانے پینے کی کوئی چیز گھر میں نہیں ہے، اپنے سب گھروں سے یہ جواب ملنے کے بعد) آپ نے صحابہ حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا: تم میں سے کون اس بندہ کو اپنا مہمان بنا سکتا ہے، اُس پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہوگی! انصار میں سے ابو طلحہ نامی ایک شخص کھڑے ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! ان کو میں اپنا مہمان بناتا ہوں۔ چنانچہ وہ اس حاجت مند شخص کو اپنے گھر لے گئے اور بیوی سے کہا (اسوقت ایک مہمان کے لیے) کیا تمہارے ہاں کچھ ہے؟ بیوی نے جواب دیا، کہ بس اپنے بچوں کا کھانا ہے اس کے سوا کچھ نہیں ہے (یہاں تک کہ میرے اور تمہارے کھانے کے لئے بھی کچھ نہیں ہے)۔ ابو طلحہ نے کہا، تو پھر ایسا کرو کہ اُن بچوں کو کسی چیز سے بہلا کے (بِلا کھلائے) سُلا دو، اور جب ہمارا مہمان گھر میں آ جائے تو (اپنے طرزِ عمل سے) اُس پر یہ ظاہر کرنا اور ایسا دکھانا کہ (اس کے ساتھ) ہم بھی کھائیں گے، پھر جب وہ کھانے کے لئے ہاتھ بڑھائے (اور کھانا شروع کر دے) تو تم چراغ ٹھیک کرنے کے بہانے چراغ کے پاس جانا اور اُس کو گُل کر دینا (تا کہ گھر میں اندھیرا ہو جائے اور مہمان یہ نہ دیکھ سکے کہ ہم اُس کے ساتھ کھا رہے ہیں یا نہیں) چنانچہ بیوی نے ایسا ہی کیا، پس بیٹھے تو سب لیکن کھانا صرف مہمان ہی نے کھایا، اور ان دونوں میاں بیوی نے بھوکے رہ کر رات گذاری، پھر جب صھؓ ہوئی تو ابو طلحہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے اُن کا اور اُن کی بیوی کا نام لے کر اُن کو خوش خبری سنائی کہ، اللہ تعالیٰ کو اپنے فلاں بندے اور فلاں بندی کا یہ عمل بہت ہی پسند آیا، اور اللہ تعالیٰ بہت ہی خوش ہوا۔ راوی کو شک ہے کہ آپ ﷺ نے اس مطلب کے ادا کرنے کے لئے “ عَجِبَ اللهُ ” کا لفظ بولا تھا، یا “ ضَحِكَ اللهُ ” کا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تربیت اور آپ کے عملی نمونہ نے صحابہ کرامؓ میں ایثار کی یہ صفت جس درجہ میں پیدا کر دی تھی یہ واقعہ اُسکا ایک نمونہ ہے۔ قرآن مجید میں رسول اللہ ﷺ کے انصار کی اسی صفت اور اسی سیرت کی مدح ان الفاظ میں کی گئی ہے: وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (سوره حشر 9: 59) ابو طلحہؓ انصاری کے اس عمل کو اللہ تعالیٰ کے ہاں جو غیر معمولی قبولیت حاصل ہوئی، اور رضا اور پسندیدگی کا جو خاص الخاص درجہ نصیب ہوا، اُس کو سمجھانے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے بطور مجاز یا استعارہ کے “ عَجِبَ ” یا “ ضَحِكَ ” کا لفظ بولا، ورنہ ظاہر ہے کہ حیرت و تعجب کرنا اور ہنسنا، اپنے حقیقی معنی کے لحاظ سے یہ دونوں صفتیں کسی بندہ ہی کی ہو سکتی ہیں۔

276Maarif-ul-Hadith

مؤمن کو الفت و محبت کا مرکز ہونا چاہئے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « الْمُؤْمِنُ مَأْلَفٌ ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ ، وَلَا يُؤْلَفُ » (رواه احمد والبيهقى فى شعب الايمان)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مؤمن تو الفت و محبت کا مرکز ہے، اور اس آدمی میں کوئی بھلائی نہیں جو دوسروں سے الفت نہیں کرتا، اور دوسرے اس سے الفت نہیں کرتے۔ (مسند احمد، شعب الایمان للبیہقی) تشریح مطلب یہ ہے کہ بندہ مؤمن کو اُنس و محبت کا مرکز ہونا چاہئے کہ وہ خود دوسروں سے محبت کرے، اور دوسرے اس سے محبت کریں اور مانوس ہوں، اگر کسی شخص میں یہ بات نہیں ہے تو گویا اس میں کوئی خیر نہیں، نہ وہ دوسروں کو کوئی نفع پہنچا سکے گا او رنہ دوسرے لوگ اس سے نفع اٹھا سکیں گے۔ اس حدیث میں اُن خشک مزاج متقثت حضرات کے لیے خاص سبق ہے جو سب سے بے تعلق رہنے ہی کو دین کا تقاضا سمجھتے ہیں اور اس لئے نہ وہ خود دوسروں سے مانوس ہوتے ہیں اور نہ دوسروں کو اپنے سے مانوس کرتے ہیں۔ البتہ مومن کی یہ محبت و الفت اور دوسروں سے مانوس ہونا اور ان کو اپنے سے مانوسکرنا سب اللہ ہی کے لیے اور اس کے احکام کے تحت ہونا چاہئے۔ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

277Maarif-ul-Hadith

اللہ کے لئے محبت اور اللہ کے لئے بغض و عداوت

عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ الْحُبُّ فِي اللَّهِ ، وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ » (رواه ابو داؤد)

حضرت ابوذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندوں کے اعمال میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب وہ محبت ہے جو اللہ کے لئے ہو، اور وہ بغض و عداوت ہے جو اللہ کے لئے ہو۔ (سنن ابی داؤد) تشریح کسی بندہ کا یہ حالہو جانا کہ وہ صرف اللہ کے لئے محبت کرے، اور اللہ ہی کے لیے کسی سے بغض رکھے، بلا شبہ بہت اونچا مقام ہے، “ کتاب الایمان ” میں یہ حدیث گذر چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوذر غفاریؓ سے فرمایا، کہ ایمان کی مضبوط ترین دستاویز اللہ کے لیے محبت و تعلق جوڑنا، اور اللہ کے لیے کسی سے تعلق توڑنا ہے۔

278Maarif-ul-Hadith

اللہ کے لئے محبت دراصل اللہ تعالیٰ کی تعظیم و عبادت ہے

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَحَبَّ عَبْدٌ عَبْدًا لِلَّهِ إِلَّا أَكْرَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " (رواه احمد)

حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ جس بندہ نے بھی اللہ کے لیے کسی بندہ سے محبت کی، اُس نے اپنے رب عزوجل یہ کی عظمت و توقیر کی۔ (مسند احمد) تشریح یعنی کسی بندہ کا کسی دوسرے بندے سے اللہ کے لئے اوراللہ کے تعلق سے محبت کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کی عظمت کا حق ادا کرنا ہے اور اس طرح اس کا شمار اللہ تعالیٰ کی عبادات میں ہے۔

279Maarif-ul-Hadith

اللہ کے لیے آپس میں میل محبت کرنے والے اللہ کے محبوب ہو جاتے ہیں

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : « وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ وَالْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ » (رواه مالك)

حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میری محبت واجب ہے اُن لوگوں کے لئے جو باہم میری وجہ سے محبت کریں، اور میری وجہ سے اور میرے تعلق سے کہیں جُڑ کر بیٹھیں اورمیری وجہ سے باہم ملاقات کریں، اور میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کریں۔ (مؤطا امام مالک) تشریح اللہ کے جن بندوں نے اپنی محبت و چاہت اور اپنے ظاہری و باطنی تعلق کو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے تحت کر دیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ جس سے محبت کرتے ہیں اللہ کے لیے کرتے ہیں، جس کے پاس بیٹھتے ہین اللہ کے لیے بیٹھتے ہیں جس سے ملتے ہیں اللہ کے لیے ملتے ہیں، جو کچھ ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی کی رضا جوئی کے لیے کرتے ہیں، بے شک اللہ کے یہ بندے اس کے مستحق ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی خاص رضا اور محبت ان کو نصیب ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کے اس بشارتی منشور کا اعلانفرمایا ہے کہ میرے ان بندوں کے لیے میری محبت واجب اور مقرر ہو چکی ہے، میں ان سے محبت کرتا ہوں، ان سے راضی ہوں، اور وہ میرے محبوب اور پسندیدہ بندے ہیں۔ اللهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الْمُتَحَابِّينَ فِيْكَ وَالْمُتَجَالِسِيْنَ فِيْكَ وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيْكَ وَالْمُتَبَاذِلِينَ فِيْكَ . (اے اللہ! ہمیں اپنے اُن بندوں میں سے کر دیجئے جو تیرے ہی لئے آپس میں محبت کرتے ہیں، تیرے ہی لیے باہم جُڑ کے بیٹھتے ہیں، تیرے ہی لئے آپس میں ملتے ہیں، اور تیری ہی رضا کے لئے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں)۔

280Maarif-ul-Hadith

صرف اللہ کے تعلق سے اس کے ایک بندے کی زیارت کو جانے والے شخص سے فرشتہ کی ملاقات اور اللہ کی محبت کی بشارت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى ، فَأَرْصَدَ اللهُ لَهُ ، عَلَى مَدْرَجَتِهِ ، مَلَكًا ، قَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ : أُرِيدُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ ، قَالَ : هَلْ لَكَ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا؟ قَالَ : لَا ، غَيْرَ أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللهِ ، قَالَ : فَإِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكَ ، بِأَنَّ اللهَ قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ فِيهِ " (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ سے کہ ایک شخص اپنے ایک بھائی سے، جو دوسری ایک بستی میں رہتا تھا، ملاقات کے لئے چلا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی راہ گذر پر ایک فرشتہ کو منتظر بنا کے بٹھا دیا (جب وہ شخص اس مقام سے گذرا تو،) فرشتہ نے اُس سے پوچھا، تمہارا کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا، میں اس بستی میں رہنے والے اپنے ایک بھائی سے ملنے جا رہا ہوں۔ فرشتہ نے کہا، کیا اُس پر تمہارا کوئی احسان ہے، اور کوئی حقِ نعمت ہے جس کوتم پورا اور پختہ کرنے کے لئے جا رہے ہو۔ اُس بندہ نے کہا، نہیں! میرے جانے کا باعث اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کے لئے مجھے اس بھائی سے محبت ہے (یعنی بس اسہ للہی محبت کے تعلق اورتقاضے سے میں اس کی زیارت اور مُلاقات کے لئے جا رہا ہوں)۔ فرشتہ نے کہا، کہ میں تمہیں بتاتا ہوں، کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس یہ بتانے کے لئے بھیجا ہے کہ اللہ تم سے محبت کرتا ہے جیسا کہ تم اللہ کے لئے اُس کے اس بندہ سے محبت کرتے ہو۔ (صحیح مسلم) تشریح یہ واقعہ جو رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں بیان فرمایا ہے، بظاہر کسی اگلی امت کے کسی فردد کا ہے، اوراس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کبھی کبھی فرشتے اللہ کے حکم سے کسی غیر نبی کے پاس بھی آ سکتے ہیں، اور اس سے اس طرح کی باتیں دو بدو کر سکتے ہین، حضرت جبرئیلؑ کا اللہ کے حکم سے حضرت مریم صدیقہ کے پاس آنا، اور ان سے باتیں کرنا قرآن مجید میں بھی مذکور ہے۔ حالانکہ معلوم ہے کہ حضرت مریم نبی نہ تھیں۔ اس واقعہ کی اصل روح اور اس کے بیان سے آنحضرت ﷺ کا خاص مقصداس حقیقت کا واضح کرنا تھا کہ اللہ کے کسی بندہ کا اپنے کسی بھائی سے اللہ کے لئے محبت کرنا اور اس للہی محبت کے تقاضے سے اس سے ملاقات کرنے کے لئے جانا ایسا عمل ہے جو اس محبت کرنے والے بندے کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتا ہے، اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے، کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص فرشتہ کے ذریعہ اس کو اپنی محبت کا پیغام پہنچاتا ہے۔ فَطُوبَى لَهُمْ وَبُشْرَى لَهُمْ (ان کو مبارک ہو ان کو بشارت ہو)۔