Maarif-ul-Hadith 305

کتاب الاخلاق

305Maarif-ul-Hadith

غصہ کے وقت کیا کیا جائے

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « عَلِّمُوا ، وَيَسِّرُوا ، وَلا تُعَسِّرُوا ، وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ » (رواه احمد والطبرانى فى الكبير)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ لوگوں کو دین سکھاؤ، دین کی تعلیم دو، اور تعلیم میں آسانی پیدا کرو، دشواری پیدا نہ کرو، اور جب تم سے کسی کو غصہ آئے تو چاہئے کہ وہ اس وقت خاموشی اختیار کر لے، یہ آخری بات آپ نے تین دفعہ ارشاد فرمائی۔ (مسند احمد و معجم کبیر للطبرانی) تشریح غصہ کے بُرے نتیجوں سے اپنی حفاظت کرنے کے لیے یہ رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی دوسری تدبیر ہے کہ جب غصہ آئے تو آدمی خاموش رہنے کا فیصلہ کر لے، ظاہر ہے کہ پھر غصہ دل ہی میں گھٹ کر رہ جائے گا، اور بات آگے نہ بڑھے گی۔