Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 17 of 106

321Maarif-ul-Hadith

کم بولنا اور بری اور فضول باتوں سے زبان کی حفاظت کرنا

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَمَتَ نَجَا " (رواه احمد والدارمى والبيهقى فى شعب الايمان)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو چُپ رہا وہ نجات پا گیا۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، مسند دارمی، شعب الایمان للبیہقی) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے بری باتوں اور فضول باتوں سے زبان کو روکا، وہ ہلاکت کے غار میں گرنے سے بچ گیا، ابھی حضرت معاذؓ کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد گذر چکا ہے کہ آدمی جہنم میں زیادہ تر زبان ہی کی بیباکیوں کی وجہ سے اوندھے منہ گرائے جائیں گے۔

322Maarif-ul-Hadith

کم بولنا اور بری اور فضول باتوں سے زبان کی حفاظت کرنا

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : لَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : مَا النَّجَاةُ؟ قَالَ : امْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ . (رواه احمد والترمذى)

حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور میں نے عرض کیا، کہ حضرت (مجھے بتا دیجئے کہ) نجات حاصل کرنے کا گُر کیا ہے (اور نجات حاصل کرنے کے لئے مجھے کیا کیا کام کرنے چاہئیں؟) آپ نے ارشاد فرمایا اپنی زبان پرقابو رکھو (وہ بے جا نہ چلے) اور چاہئے کہ تمہارے گھر میں تمہارے لئے گنجائش ہو، اور اپنے گناہوں پر اللہ کے حضور میں رویا کرو۔ (جامع ترمذی) تشریح زبان پر قابو رکھنے اور اپنے گناہوں پر رونے کا مطلب تو ظاہر ہے، لیکن ان دو کے علاوہ تیسری نصیحت جو آپ نے یہ فرمائی کہ “ تمہارے گھر میں تمہارے لئے گنجائش ہونی چاہئے ” اس کا مطلب یہ ہے کہ جب باہر کو کوئی کام نہ ہو تو آوارہ گردوں اور بے فکروں کی طرح باہر نہ گھوما کرو، بلکہ اپنے گھر میں اور بال بچوں میں رہ کر گھر کے کام کاج دیکھا کرو، اور اللہ کی عبادت کیا کرو۔ تجربہ شاہد ہے کہ بے ضرورت باہر گھومنا سینکڑوں برائیوں اور فتنوں کا سبب بن جاتا ہے۔

323Maarif-ul-Hadith

کم بولنا اور بری اور فضول باتوں سے زبان کی حفاظت کرنا

عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظَّهْرِ ، وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ؟ " قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " طُولُ الصَّمْتِ ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوذر غفاری ؓ کو مخاطب کر کے فرمایا: کہ میں تمہیں ایسی دو خصلتیں بتا دوں جو پیٹھ پر بہت ہلکی ہیں (ان کے اختیار کرنے میں آدمی پر کچھ زیادہ بوجھ نہیں پڑتا) اور للہ کی میزان میں وہ بہت بھاری ہوں گی؟ ابوذر کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا، کہ یا رسول اللہ! وہ دونوں خصلتیں ضرور بتلا دیجیے! آپ نے فرمایا، زیادہ خاموش رہنے کی عادت، اور حسن اخلاق، قسم اُس پاک ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، مخلوقات کے اعمال میں یہ دونوں چیزیں بے مثل ہیں۔ (شعب الایمان للبیہقی) تشریح جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے، زیادہ خاموش رہنے کا مطلب یہی ہے کہ بے ضرورت نامناسب اور ناپسندیدہ باتوں سے آدمی اپنی زبان روکے رہے، جس شخص کا یہ طرز عمل ہو گا، قدرتی طور پر وہ کم بولنے والا اور زیادہ خاموش رہنے والا ہو گا۔ رسول اللہ ﷺ کو اس دنیا میں سب سے زیادہ بولنے کی ضرورت تھی، کہ قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کے لئے آپ کو ہدایات دینی تھیں، اور آپ اس ضرورت سے بولنے میں کوئی کمی نہ کرتے تھے، بتانے کی ہر چھوٹی بڑٰ بات بتلاتے تھے، لیکن اس کے باوجود آپ کے دیکھنے والے صحابہ کرامؓ نے آپ کا حال یہ بیان فرمایا کہ “ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلَ الصَّمْتِ (1) ” (رسول اللہ ﷺ بہت زیادہ خاموش رہتے تھے)۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ “ وَلَا يَتَكَلَّمُ اِلَّا فِيْمَا يَرْجُوْ ثَوَابَهُ (2) ” (آپ صرف وہی بات کرتے تھے جس پر آپ کو ثواب کی امید ہوتی تھی)۔

324Maarif-ul-Hadith

کم بولنا اور بری اور فضول باتوں سے زبان کی حفاظت کرنا

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ قَالَ : لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ فَوَجَدْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ مُخْتَبِئًا بِكِسَاءٍ أَسْوَدَ وَحْدَهُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا هَذِهِ الْوَحْدَةُ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْوَحْدَةُ خَيْرٌ مِنْ جَلِيسِ السَّوْءِ ، وَالْجَلِيسُ الصَّالِحُ خَيْرٌ مِنَ الْوَحْدَةِ ، وَإِمْلَاءُ الْخَيْرِ خَيْرٌ مِنَ السُّكُوتِ ، وَالسُّكُوتُ خَيْرٌ مِنْ إِمْلَاءِ الشَّرِّ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

عمران بن حطان تابعی سے روایت ہے کہ میں ایک دن حضرت ابوذر غفاریؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے اُن کو مسجد میں اس حالت میں دیکھا کہ ایک کالی کملی لپیٹے ہوئے بالکل اکیلے بیٹھے ہیں، میں نے عرض کیا، اے ابوذر! یہ تنہائی ار یکسوئی کیسی ہے؟ (یعنی آپ نے اس طرح بالکل اکیلے اور سب سے الگ تھلگ رہنا کیوں اختیار فرمایا ہے!) انہوں نے جواب دیا، کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے کہ “ برے ساتھیوں کی ہمنشینی سے اکیلے رہنا اچھا ہے، اور اچھے ساتھی کے ساتھ بیٹھنا تنہائی سے بہتر ہے، اور کسی کو اچھی باتیں بتانا خاموش رہنے سے بہتر ہے، اور بُری باتیں بتانے سے بہتر خاموش رہنا ہے۔ ” (شعب الایمان للبیہقی) تشریح اس حدیث میں یہ بات زیادہ صراحت و وضاحت کے ساتھ آ گئی ہے کہ خاموشی کی جو افضلیت ہے وہ بُری باتیں کرنے کے مقابلے میں ہے، ورنہ اچھی باتیں کرنا خاموش رہنے سے افضل ہے، اسی طرح یہ بات بھی صراحت سے آ گئی ہے کہ بُرے لوگوں کے ساتھ اختلاط و ہمنشینی سے بہتر تنہائی ہے، لیکن صلحا کی صحبت تنہائی سے بہتر ہے۔ ف۔۔۔ یہاں ایک نکتہ یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ کے بندوں کی طبیعتیں اور ان کی استعدادیں اور ان کے رجحانات بہت مختلف ہیں، اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیم میں اتنی حکیمانہ وسعت اور ایسی جامعیت ہے کہ مختلف طبائع اور مختلف رجحانات رکھنے والے بندگانِ خدا اپنی اپنی طبیعت اور اپنے اپنے ذوق و رجحان کے مطابق آپ کی اتباع کر کے اللہ کے قرب و رضا کے اعلیٰ کے اعلیٰ مقامات حاصل کر سکتے ہیں۔ مثلاً بعض لوگوں کا مزاج اور ذوق ایسا ہوتا ہے کہ جس قسم کے لوگوں کو وہ پسند نہ کریں اُن سے ملنا جلنا اُن کے لئے شاق اور گراں ہوتا ہے، اور وہ ایسے لوگوں سے اختلاط رکھنے میں اپنا نقصان محسوس کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے لئے رسول اللہ ﷺ کی یہ تعلیم اور رہنمائی موجود ہے جس کا ذکر حضرت ابوذر غفاریؓ نے اس حدیث میں فرمایا اور جس پر خود ان کا عمل تھا۔ اور بعض لوگ اپنی فطرت اور طبیعت کے لحاظ سے ایسے ہوتے ہین کہ جن لوگوں کے احوال اور چال چلن کو وہ پسند نہ کریں اُن کی بھی اصلاح اور درستی کے لئے اُن سے ملنا جلنا اور ان کے بُرے اثرات سے اپنی حفاظت کرتے ہوئے اُن کے ساتھ اختلاط رکھنا اور مختلف صورتوں سے اُن کی خدمتیں کرنا اُن کے لئے شاق نہیں ہوتا، بلکہ ان کو اس سے مناسبت ہوتی ہے، اُن کے لیے رسول اللہ ﷺ نے دوسری حدیثوں میں (جو اپنے موقع پر آئیں گی) اسی طرز عمل کی رہنمائی فرمائی ہے، اور اکثر صحابہ کرامؓ جو حضرت ابوذر کی طرح تنہائی پسند نہیں تھے، ان کا طرز عمل وہی تھا پس صحابہ کرامؓ کی سیرت کے بعض پہلوؤں میں اور اسی طرح زمانہ ما بعد کے اہل ایمان اور اہل صلاح کے مختلف طبقوں کے طرز عمل میں جو اس طرح کی رنگا رنگی کہیں کہیں نظر آتی ہے اس کی حقیقت بس اتنی ہی ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی طبیعتوں اور مزاجی مناسبتوں کے قدرتی فرق اور رسول اللہ کی تعلیم و تربیت کی جامعیت اور کاملیت کا وہ قدرتی نتیجہ ہے۔ جو لوگ اپنی تنگ نظری سے سب کو ایک ہی حال اور بالکل ایک ہی رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں درحقیقت انہوں نے دین کی وسعت، تعلیم نبوی ﷺ کی جامعیت و کاملیت اور اللہ تعالیٰ کی تکوینی و تشریعی حکمت پر غور نہیں کیا ہے۔

325Maarif-ul-Hadith

ترک مالا یعنی

عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ حُسْنِ إِسْلامِ الْمَرْءِ ، تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ " (رواه مالك واحمد ، ورواه ابن ماجة عن ابى هريرة والترمذى والبيهقى فى شعب الايمان عنهما)

حضرت علی بن الحسین زین العابدین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کی اسلامیت کے حسن و کمال میں سے یہ بھی ہے کہ جو بات اُس کے لئے ضروری اور مفید نہ ہو اس کو چھوڑ دے۔ (اس حدیث کو امام مالکؒ نے مؤطا میں اور امام احمدؒ نے اپنی مسند میں حضرت علی بن الحسینؓ سے مرسلاً روایت کیا ہے اور ابن ماجہ نے سنن میں مسنداً حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے، اور امام ترمذی نے جامع میں، اور بیہقی نے شعب الایمان میں اس حدیث کو اسی طرح مرسلاً و مسنداً ان دونوں بزرگوں سے روایت کیا ہے)۔ تشریح حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بے ضرورت اور بے فائدہ باتیں نہ کرنا اور لغو و فضول مشغلوں سے اپنے کو محفوظ رکھنا کمال ایمان کا تقاضا اور آدمی کے اسلام کی رونق و زینت سے ہے، اسی خصلت کا مختصر اصطلاحی عنوان “ ترکل مالا یعنی ” ہے

326Maarif-ul-Hadith

چغل خوری

عَنْ حُذَيْفَةُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : « لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَتَّاتٌ » (رواه البخارى وفى رواية مسلم نمام)

حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ چغلخور آدمی جنت میں داخل نہ ہو سکے گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح جن بری عادتوں کا تعلق زبان سے ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے جن کو سنگین جُرم اور گناہِ عظیم قرار دیا ہے، اور جن سے بچنے اور پرہیز کرنے کی آپ نے سخت ترین تاکید فرمائی ہے، اُن میں سے ایک چغلخوری بھی ہے۔ یعنی کسی کی ایسی بات دوسرے کو پہنچانا جو اُس شخص کی طرف سے اس دوسرے آدمی کو بدگمان اور ناراض کر کے باہمی تعلقات کو خراب کر دے، اسی بری عادت کا نام چغلخوری ہے۔ چونکہ آپس کے تعلقات کی درستی و خوشگواری اور حسنِ معاشرت اور باہم میل و محبت تعلیم نبوی ﷺ کے مقاصد میں سے ہے (یہاں تک کہ ایک حدیث میں بعض حیثیتوں سے اس کو عبادات سے بھی اہم قرار دیا گیا ہے) اس لئے جو چیز باہمی تعلقات کو خراب کر کے بغض و عداوت ار مخالفت و منافرت پیدا کرے، ظاہر ہے کہ وہ بدترین درجہ کی معصیت ہوگی۔ بہر حال چغلخوری کو رسول اللہ نے اسی لئے سخت ترین گناہوں میں سے بتلایا ہے، اور آخرت میں سامنے آنے والے اس کے برے انجام سے پوری طرح ڈرایا ہے۔ تشریح۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ چغلخوری کی عادت ان سنگین گناہوں میں سے ہے جو جنت کے داخلہ میں رکاوٹ بننے والے ہیں، اور کوئی آدمی اس گندی اور شیطانی عادت کے ساتھ جنت میں نہ جا سکے گا، ہاں اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے کسی کو معاف کر کے یا اس جرم کی سزا دے کے اس کو پاک کر دے تو اس کے بعد داخلہ ہو سکے گا۔

327Maarif-ul-Hadith

چغل خوری

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، وَاَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيْدَ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خِيَارُ عِبَادِ اللهِ الَّذِينَ إِذَا رُءُوا ، ذُكِرَ اللهُ ، وَشِرَارُ عِبَادِ اللهِ الْمَشَّاءُونَ بِالنَّمِيمَةِ ، الْمُفَرِّقُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ ، الْبَاغُونَ الْبُرَآءَ الْعَنَتَ . (رواه احمد والبيهقى فى شعب الايمان)

عبدالرحمٰن بن غنم اور اسماء بنت یزیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں جن کو دیکھ کر اللہ یاد آئے، اور بدترین بندے وہ ہیں جو چغلیاں کھانے والے، دوستوں میں جدائی ڈالنے والے ہیں، اور جو اس کے طالب اور ساعی رہتے ہیں کہ اللہ کے پاک دامن بندوں کو کسی گناہ میں ملوث یا کسی مصیبت اور پریشانی میں مبتلا کریں۔ (مسند احمد، شعب الایمان للبیہقی) تشریح اس حدیث میں اللہ کے اچھے بندوں کی یعنی اللہ والوں کی نشانی یہ بتلائی گئی ہے کہ اُن کے دیکھنے سے خدا یاد آئے، اور بدترین انسان اُن لوگوں کو قرار دیا گیا ہے جو عادۃً چغلخور ہوں اور چغلیاں کھا کھا کے دوستوں میں پھوٹ ڈلوانا جن کی عادت اور جن کا دلچسپ مشغلہ ہو، اور جو بندگانِ خدا کو بدنام اور پریشان کرنے کے درپے رہتے ہوں۔ پس آدمی کو چاہئے کہ وہ صحبت و محبت کے لئے ایسے بندگانِ خدا کو تلاش کرے جن کے دیکھنے سے دل کی غفلت دور ہو، اور اللہ کی یاد آئے، اور جن کے پاس بیٹھنے سے قلب میں زندگی اور بیداری پیدا ہو، اور اس کے برخلاف جو ناخدا شناس اور موذی لوگ دوسروں کی بُرائی کے درپے رہتے ہوں، اور ان کو بدنام کرنا اور نقصان پہنچانا جن کا خاص مشغلہ ہو اُن سے بچے اور اُن کے برے اثرات سے اپنے کو بچانے کی فکر کرتا رہے۔

328Maarif-ul-Hadith

چغل خوری

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي عَنْ أَحَدٍ شَيْئًا ، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ » (رواه ابو داؤد)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے ساتھیوں میں سے کوئی کسی دوسرے کی بات مجھے نہ پہنچایا کرے، میں چاہتا ہوں کہ جب میں تم لوگوں میں آؤں تو میرا دل (سب کی طرف سے صاف) اور بے روگ ہو۔ (سنن ابی داؤد) تشریح رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث کے ذریعہ امت کو سبق دیا کہ دوسروں کے متعلق ایسی باتیں سننے سے بھی آدمی کو پرہیز کرنا چاہئے جن سے اس کے دل میں بدگمانی کی کدورت اور رنجش وغیرہ پیدا ہونے کا امکان ہو (لیکن واضح رہے کہ جن موقعوں پر شرعی ضرورت اور دینی مصلحت کا تقاضا ایسی باتیں کہنے یا سننے کا ہو وہ مواقع اس سے مستثنیٰ ہوں گے)۔

329Maarif-ul-Hadith

غیبت اور بہتان

عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ ، وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ ، لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ ، فَإِنَّهُ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعُ اللَّهُ عَوْرَتَهُ ، وَمَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ » (رواه ابو داؤد)

حضرت ابو برزہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے وہ لوگو! جو زبان سے ایمان لائے ہو، اور ایمان ابھی ان کے دلوں میں نہیں اترا ہے، مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو، اور ان کے چھپے ہوئے عیبوں کے پیچھے نہ پڑا کرو (یعنی ان کی چھپی ہوئی کمزوریوں کی ٹوہ لگانے اور ان کی تشہیر کرنے میں دلچسپی نہ لیا کرو) کیوں کہ جو ایسا کرے گا اللہ تعالیٰ کا معاملہ بھی اس کے ساتھ ایسا ہی ہو گا، اور جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ معاملہ ہو گا اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گھر میں ذلیل کر دے گا۔ (سنن ابی داؤد) تشریح جس قسم کے مفاسد اور جو خطرناک نتیجے چغلخوری سے پیدا ہوتے ہیں وہی بلکہ اُنسے بھی کچھ زیادہ سنگین قسم کے نتیجے غیبت کرنے اور کسی پر بہتان لگانے سے پیدا ہوتے ہین۔ غیبت یہ ہے کہ کسی بھائی کی ایسی بات یا اس کے کسی ایسے فعل یا حال کا ذکر کیا جائے جس کے ذکر سے اس کو ناگواری اور اذیت ہو، اور جس کی وجہ سے وہ شخص حقیر و ذلیل یا مجرم سمجھا جائے۔ چونکہ غیبت سے ایک شخص کی رسوائی اور بے آبروئی ہوتی ہے، اور اس کو روحانی تکلیف پہنچتی ہے، اور دلوں میں فتنہ و فساد کا بیج پڑتا ہے، جس کے نتائج بعض حالتوں میں بڑے خطرناک اور دور رس نکلتے ہیں۔ اس لئے غیبت کو بھی سخت ترین گناہ قرار دیا گیا ہے اور اس کی انتہائی شناعت اور گندگی کو ذہن نشین کرنے کے لئے قرآن و حدیث میں “ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے ” سے اس کو تشبیہ دی گئی ہے۔ بہر حال غیبت کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی تعلیم میں نہایت ذلیل اور گھنونی بداخلاقی اور گناہِ کبیرہ قرار دیا ہے۔ اور بہتان کا درجہ اس سے بھی۹ آگے ہے، بہتان اس کا نام ہے کہ اللہ کے کسی بندہ کی طرف ایسی کسی برائی اور بداخلاقی کی نسبت کی جائے جس سے وہ بالکل بری اور پاک ہو، ظاہر ہے کہ یہ بڑی شقاوت کی بات ہے، اور ایسا کرنے والے اللہ کے اور اس کے بندوں کے سخت ترین مجرم ہیں اس تمہید کے بعد رسول اللہ ﷺ کی یہ چند حدیثیں پڑھیئے: تشریح۔۔۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ کسی مسلمان کی غیبت اور اس کے عیوب اور کمزوریوں کی تشہیر میں دلچسپی لینا دراصل ایک ایسی منافقانہ حرکت ہے جو صرف ایسے ہی لوگوں سے سرزد ہو سکتی ہے جو صرف زبان کے مسلمان ہوں، اور ایمان نے اُن کے دلوں میں گھر نہ کیا ہو۔

330Maarif-ul-Hadith

غیبت اور بہتان

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا عُرِجَ بِي مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمُشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُمْ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ ، قَالَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ ، وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ " (رواه ابو داؤد)

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا: کہ جب مجھے معراج ہوئی تو (ملاء اعلیٰ کے اس سفر میں) میرا گذر کچھ ایسے لوگوں پر ہوا جن کے ناخن سُرخ تانبے کے سے تھے جن سے وہ اپنے چہروں اور اپنے سینوں کو نوچ نوچ کے زخمی کر رہے تھے، میں نے جبرئیل سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں جو ایسے سخت عذاب میں مبتلا ہیں؟ جبرئیل نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو زندگی میں لوگوں کے گوشت کھایا کرتے تھے (یعنی اللہ کے بندوں کی غیبتیں کیا کرتے تھے) اور ان کی آبروؤں سے کھیلتے تھے۔ (سنن ابی داؤد) تشریح نُحاس کے اصل معنی تانبے کے ہیں، اور آگ جب بالکل سرخ ہو تو اس کو بھی نُحاس کہا جاتا ہے، اس حدیث میں “ نُحاس کے ناخنوں ” کا جو ذکر ہے بظاہر اس سے مراد یہ ہے کہ ان لوگوں کے ناخن جہنم کی آگ میں تَپے ہوئے سُرخ تانبے کے یا تانبے کے سے تھے، اور یہ انہی ناخنوں سے اپنے چہرے اور اپنے سینوں کو نوچ نوچ کے زخمی کر رہے تھے۔ ان کے لئے عالمِبرزخ میں خاص طور سے یہ سزا اس لئے تجویز کی گئی کہ دنیوی زندگی میں یہ مجرمین اللہ کے بندوں کا گوشت نوچا کرتے تھے، یعنی غیبتیں کیا کرتے تھے، اور یہ اُن کا محبوب مشغلہ تھا۔

331Maarif-ul-Hadith

غیبت اور بہتان

عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ ، وَجَابِرٍ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْغِيبَةُ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ وَكَيْفَ الْغِيبَةُ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا؟ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَزْنِي فَيَتُوبُ فَيَتُوبُ اللهُ عَلَيْهِ " . (وَفِي رِوَايَةٍ " فَيَتُوبُ فَيَغْفِرُ اللهُ لَهُ) وَإِنَّ صَاحِبَ الْغِيبَةِ لَا يُغْفَرُ لَهُ حَتَّى يَغْفِرَهَا لَهُ صَاحِبُهُ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت ابو سعید خدری اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت اور سنگین ہے۔ بعض صحابہ نے عرض کیا کہ حضرت! غیبت زنا سے زیادہ سنگین کیونکر ہے؟ آپ نے فرمایا (بات یہ ہے کہ) آدمی اگر بدبختی سے زنا کر لیتا ہے تو صرف توبہ کرنے سے اس کی معافی اور مغفرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے، مگر غیبت کرنے والے کو جب تک خود وہ شخص معاف نہ کر دے جس کی اس نے غیبت کی ہے، اس کی معافی اور بخشش اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوگی۔ (شعب الایمان للبیہقی)

332Maarif-ul-Hadith

غیبت اور بہتان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : « أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ؟ » قَالُوا : اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : « ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ » قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟ قَالَ : « إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ ، فَقَدِ اغْتَبْتَهُ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُوْلُ فَقَدْ بَهَتَّهُ » (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کس کو کہتے ہیں؟ صحابہ نے عرض کیا، اللہ اور اس کے رسول ہی کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: تمہارا اپنے کسی بھائی کو اس طرح ذکر کرنا جس سے اس کو ناگواری ہو (بس یہی غیبت ہے) کسی نے عرض کیا کہ حضرت! اگر میں اپنے بھائی کی کوئی ایسی برائی ذکر کروں جو واقعۃً اس میں ہو (تو کیا یہ غیبت ہے؟) آپ نے ارشاد فرمایا: غیبت جب ہی ہوگی جب کہ وہ بُرائی اس میں موجود ہو، اور اگر اس میں وہ برائی اور عیب موجود ہی نہیں ہے (جو تم نے اس کی نسبت کر کے ذکر کیا) تو پھر تو یہ بہتان ہوا (اور یہ غیبت سے بھی زیادہ سخت اور سنگین ہے)۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے غیبت کی حقیقت اور غیبت اور بہتان کا فرق واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے، اوریہ بھی کہ بہتان غیبت سے زیادہ سنگین قسم کا جرم ہے ف۔۔۔ یہاں یہ بات بھی ملحوظ رکھنی چاہئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے بندوں کی خیر خواہی یا کسی مضرت اور مفسدہ کے انسداد کے لیے کسی شخص یا گروہ کی واقعی بُرائی دوسروں کے سامنے بیان کرنا ضروری ہو جائے، یا اس کے علاوہ ایسے ہی کسی شرعی، اخلاقی یا تمدنی مقصد کا حاصل ہونا اس پر موقوف ہو، تو پھر اس شخص یا گروہ کی بُرائی کا بیان کرنا اس غیبت میں داخل نہ ہو گا جو شرعاً حرام اور گناہ کبیرہ ہے جو شرعاً حرام اور گناہ کبیرہ ہے بلکہ بعض حالتوں میں تو یہ کارِ ثواب ہو گا۔ چنانچہ حاکم کے سامنے ظالم کے خلاف گواہی دینا یا کسی پیشہ ور دھوکے باز کی حالت سے لوگوں کو باخبر کرنا، تا کہ وہ اس کے دھوکے میں نہ آئیں، اور حضرات محدثین کا غیر ثقہ اور غیر عادل راویوں پر جرح کرنا، اور دین و شریعت کے محافظ علماء حق کا اہل باطل کی غلطیوں پر لوگوں کو مطلع کرنا یہ سب اسی قبیل سے ہے۔

333Maarif-ul-Hadith

دو رخے پن کی ممانعت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « تَجِدُوْنَ شَرَّ النَّاسِ يَوْمَ القِيَامَةِ ذَا الوَجْهَيْنِ ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ ، وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم قیامت کے دن سب سے بُرے حال میں اس آدمی کو پاؤ گے جو کچھ لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے، اور دوسروں کے پاس جاتا ہے تو اور۔ (صحیح بخاری ومسلم) تشریح بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب دو آدمیوں یا گروہوں میں اختلاف اور نزاع ہو تو وہ ہر فریق سے مل کر دوسرے کے خلاف باتیں کرتے ہیں، اسی طرح بعض لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب کسی سے ملتے ہیں، تو اس کے ساتھ اپنے حسنِ تعلق کا اظہار کرتے ہیں، اور پیچھے اس کی برائی اور بدخواہی کی باتیں کرتے ہیں، ایسے آدمی کو اردو زبان میں “ دو رُخا ” کہتے ہیں، اور عربی میں “ ذو الوجہین ” کہا جاتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ طرز عمل ایک طرح کی منافقت اور ایک قسم کی دھوکہ بازی ہے، جس سے بچنے کی رسول اللہ ﷺ نے اہل ایمان کو سخت تاکید فرمائی ہے، اور بتلایا ہے کہ یہ سخت گناہ کی بات ہے، اور ایسے لوگ سخت ترین عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے۔ تشریح۔۔۔ قیامت میں ایسا آدمی جس بدترین حالت میں دیکھا جائے گا اس کی کچھ تفصیل اس سے اگلی حدیث سے معلوم ہو سکتی ہے۔

334Maarif-ul-Hadith

دو رخے پن کی ممانعت

عَنْ عَمَّارٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ ذَا الْوَجْهَيْنِ فِي الدُّنْيَا كَانَ لَهُ لِسَانَانِ مِنْ نَارِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ " (رواه ابو داؤد)

حضرت عمار بن یاسر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: دنیا میں جو شخص دو رخا ہو گا (اور منافقوں کی طرح مختلف لوگوں سے مختلف قسم کی باتیں کرے گا) قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی دو زبانیں ہوں گی۔ (سنن ابی داؤد) تشریح اچھے اعمال اور اچھے اخلاق جن پر آخرت میں ثواب کے وعدے ہیں مختلف قسم کے ہیں، اور ان کے درجے بھی مختلف ہیں، اسی طرح بُرے اعمال اور بُرے اخلاق جن پر عذاب کی وعیدیں ہیں، وہ بھی مختلف قسم کے اور مختلف درجے کے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے علم و حکمت سے ہر نیکی اور بدی کا ثواب و عذاب اس کے مناسب مقرر فرمایا ہے، پس دو رخا پن (جو ایک طرح کی منافقت ہے) اس کی سزا یہ مقرر فرمائی گئی ہے کہ ایسے آدمی کے منہ میں وہاں آگ کی دو زبانیں ہوں گی۔ اَللَّهُمَّ احْفَظْنَا۔ واضح رہے کہ جانوروں میں سے بعضے سانپوں کی دو زبانیں ہوتی ہیں۔ یہاں یہ بات ہمارے لئے سوچنے سمجھنے کی ہے کہ بعض بد اعمالیوں اور بداخلاقیاں حقیقت میں نہایت خطرناک اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت سنگین ہیں، لیکن ہم لوگ ان کو معمولی بات سمجھتے ہیں اور ان سے بچنے کی جتنی فکر کرنی چاہئے اتنی فکر نہیں کرتے، ایسی ہی برائیوں کے بارے میں قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے: “ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِندَ اللَّـهِ عَظِيمٌ ” (تم اس کو معمولی اور ہلکی بات سمجھتے ہو، حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بہت سنگین اور بہت بڑی بات ہے)۔ یہ بُری عادت (دو رُخا پن) بھی اسی قبیل سے ہے، ہم مٰں سے بہت سے اس کو معمولی بات سمجھتے ہیں، اور اس سے بچنے کی فکر نہیں کرتے، حالانکہ ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتنا سنگین اور خطرناک گناہ ہے اور آخرت میں اس پر کتنا سخت عذاب ہونے والا ہے۔

335Maarif-ul-Hadith

صدق و امانت اور کذب و خیانت

عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ صِدِّيقًا ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ ، فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ كَذَّابًا » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم سچائی کو لازم پکڑو، اور ہمیشہ سچ ہی بولو، کیوں کہ سچ بولنا نیکی کے راستے پر ڈال دیتا ہے، اور نیکی جنت تک پہنچا دیتی ہے، اور آدمی جب ہمیشہ سچ ہی بولتا ہے، اور سچائی ہی کو اختیار کر لیتا ہے تو وہ مقام صدیقیت تک پہنچ جاتا ہے، اور اللہ کے یہاں صدیقین میں لکھ لیا جاتا ہے، اور جھوٹ سے ہمیشہ بچتے رہو، کیوں کہ جھوٹ بولنے کی عادت آدمی کو بدکاری کے راستے پر ڈال دیتی ہے اور بدکاری اس کو دوزخ تک پہنچا دیتی ہے اور آدمی جھوٹ بولنے کا عادی ہو جاتا ہے اور جھوٹ کو اختیار کر لیتا ہے، تو انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے یہاں کذابین لکھ لیا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ نے اپنی تعلیم میں جن اخلاق حسنہ پر بہت زور دیا اور جن کو لازمہ ایمان و اسلام قرار دیا ہے ان میں سچائی اور امانت داری کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی یہ حدیث “ کتاب الایمان ” میں گذر چکی ہے کہ امانت میں خیانت کرنا اور عہد کو توڑنا، نفاق کی خاص علامات میں سے ہے، اور جس شخص میں یہ برائیاں جمع ہوں وہ منافق ہے۔ اسی طرح یہ حدیث بھی وہاں ذکر کی جا چکی ہے کہ “ جس میں امانت نہیں اس میں ایمان نہیں ” اور یہ کہ “ مومن جھوٹ بولنے کا عادی نہیں ہو سکتا ”۔ اب یہاں رسول اللہ ﷺ کے وہ ارشادات در کئے جاتے ہیں جن میں آپ نے براہ راست سچائی اور امانتداری پر قائم رہنے اور جھوٹ اور خیانت سے پرہیز کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ تشریح۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ سچ بولنا بذات خود بھی نیک عبادت ہے، اور اس کی یہ خاصیت بھی ہے کہ وہ آدمی کو زندگی کے دوسرے پہلوؤں میں بھی نیک کردار اور صالح بنا کر جنت کا مستحق بنا دیتی ہے اور ہمیشہ سچ بولنے والا آدمی مقام صدیقیت تک پہنچ جاتا ہے، اسی طرح جھوٹ بولنا بذات خود بھی ایک خبیث خصلت ہے، اور اس کی یہ خاصیت بھی ہے کہ وہ آدمی کے اندر فسق و فجور کا میلان پیدا کر کے اس کی پوری زندگی کو بدکاری کی زندگی بنا کر دوزخ تک پہنچا دیتی ہے، نیز جھوٹ کی عادت ڈال لینے والا آدمی کذابیت کے درجے تک پہنچ کر پورا لعنتی بن جاتا ہے۔

336Maarif-ul-Hadith

صدق و امانت اور کذب و خیانت

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ يَوْمًا فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَتَمَسَّحُونَ بِوَضُوئِهِ ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَذَا؟ " قَالُوا : حُبُّ اللهِ وَرَسُولِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحِبَّ اللهَ وَرَسُولَهُ ، أَوْ يُحِبَّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ فَلْيَصْدُقْ حَدِيثَهُ إِذَا حَدَّثَ ، وَلْيُؤَدِّ أَمَانَتَهُ إِذَا ائْتُمِنَ ، وَلْيُحْسِنْ جِوَارَ مَنْ جَاوَرَهُ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

عبدالرحمٰن بن ابی قراد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن وضو کیا تو آپ کے صحابہؓ وضو کا پانی لے لے کر (اپنے چہروں اور جسموں پر) ملنے لگے، آپ نے فرمایا: “ تم کو کیا چیز اس فعل پر آمادہ کرتی ہے، اور کون سا جذبہ تم سے یہ کام کراتا ہے؟ ” انہوں نے عرض کیا کہ: “ اللہ اور اس کے رسول کی محبت ” ان کا یہ جواب سن کر آپ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کی یہ خوشی ہو، اور وہ یہ چاہے کہ اس کو اللہ اور اس کے رسول سے حقیقی محبت ہو، یا یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کریں تو اسے چاہئے کہ جب وہ بات کرے تو ہمیشہ سچ بولے اور جب کوئی امانت اس کے سپرد کی جائے تو ادنیٰ خیانت کے بغیر اس کو ادا کر دے اور جس کے پڑوس میں اس کا رہنا ہو، اس کے ساتھ بہتر سلوک کرے۔ (شعب الایمان للبیہقی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ و رسول کی محبت اور ان کے ساتھ سچے تعلق کا اولین تقاضا یہ ہے کہ آدمی ہمیشہ سچ بولے، امانتداری کو شعار بنمائے اور جھوٹ اور خیانت سے کامل پرہیز کرے، اگر یہ نہیں تو محبت کا دعویٰ ایک بے جا جسارت اور ایک طرح کا نفاق ہے۔

337Maarif-ul-Hadith

صدق و امانت اور کذب و خیانت

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اضْمَنُوا لِي سِتًّا مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنْ لَكُمُ الْجَنَّةَ : اصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ ، وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُمْ ، وَأَدُّوا إِذَا اؤْتُمِنْتُمْ ، وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ ، وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ ، وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ " (رواه احمد والبيهقى فى شعب الايمان)

حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم چھ باتوں کے ضامن ہو جاؤ اور ان کی ذمہ داری لے لو تو میں تمہارے لئے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں (وہ چھ باتیں یہ ہیں) جب بات کرو تو ہمیشہ سچ بولو، جب کسی سے وعدہ کرو تو اس کو پورا کرو، جب کوئی امانت سپرد کی جائے تو اس کو ٹھیک ٹھیک ادا کرو، اور حرام کاری سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو، اور جن چیزوں کی طرف نظر کرنے سے منع فرمایا گیا ہے ان کی طرف سے آنکھیں بن کرو، یعنی کوشش کرو کہ ان پر نظر نہ پڑے، اور جن موقعوں پر ہاتھ روکنے کا حکم دیا گیا ہے وہاں ہاتھ روک لو (یعنی ناحق کسی کو نہ مارو نہ ستاؤ، نہ کسی کی کوئی چیز چھیننے کے لئے ہاتھ بڑھاؤ وغیرہ وغیرہ) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایمان لے آیا ہے اور فرائض و ارکان ادا کرتا ہے اور مذکورہ بالا چھ بنیادی اخلاق (صدق و امانت وغیرہ) کا بھی اپنے کو پابند بنا لیتا ہے تو پھر یقیناً وہ جنتی ہے، اور اس کے لئے اللہ اور رسول کی طرف سے جنت کی ضمانت اور بشارت ہے۔

338Maarif-ul-Hadith

تجارت میں صدق و امانت

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : التَّاجِرُالصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ ، وَالصِّدِّيقِينَ ، وَالشُّهَدَاءِ . (رواه الترمذى والدار قطنى)

حضرت سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سچا اور امانت دار سودا گر انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا۔ (جامع ترمذی، مسند دارمی، سنن دار قطنی) تشریح اس حدیث نے واضح طور پر یہ بھی بتایا ہے کہ قرب خداوندی کے اعلیٰ سے اعلیٰ مقامات ھاصل کرنے کے لئے بھی دنیا اور مشاغل دنیا چھوڑنا ضروری نہیں، بلکہ ایک سودا گر بازار میں بیٹھ کر اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کی طرف فرمانبرداری اور صدق و امانت جیسے دینی قوانین کی پابندی کے ذریعے حضرت انبیاء اور صدیقین و شہداء کی معیت اور رفاقت تک حاصل کر سکتا ہے۔

339Maarif-ul-Hadith

تجارت میں صدق و امانت

عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ اَبِيْهِ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « التُّجَّارُ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا ، إِلَّا مَنِ اتَّقَى اللَّهَ وَبَرَّ وَصَدَقَ » (رواه الترمذى وابن ماجة والدارمى)

حضرت عبید بن رفاعہ اے نے والد ماجد حضرت رفاعہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث روایت کی کہ آپ نے ارشاد فرمایا: کہ تاجر لوگ قیامت کے دن بدکار اٹھائے جائیں گے (یعنی عام تاجروں کا حشر بدکاروں کا سا ہو گا) سوائے ان (خدا ترس اور خدا پرست) تاجروں کے جنہوں نے اپنی تجارت میں تقویٰ اور حسنِ سلوک اور سچائی کو برتا ہو گا۔ (جامع ترمذی، سنن ابی ابن ماجہ، مسند دارمی)

340Maarif-ul-Hadith

جھوٹ اور خیانت ایمان کے منافی ہیں

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى الْخِلَالِ كُلِّهَا إِلَّا الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ "

حضرت ابو امامہ باہلی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ مومن کی طبیعت اور فطرت میں ہر خصلت کی گنجائش ہے، سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔ (مسند احمد، شعب الایمان للبیہقی) تشریح مطلب یہ ہے کہ مومن اگر واقعی مومن ہو، تو جھوٹ اور خیانت کی اس کی فطرت میں گنجائش نہیں ہو سکتی، دورسری برائیاں اور کمزوریاں اس میں ہو سکتی ہیں لیکن خیانت اور جھوٹ جیسی خالص منافقانہ عادتیں ایمان کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں، پساگر کسی میں یہ بری عادتیں موجود ہوں، تو اسے سمجھنا چاہئے کہ اس کو ایمان کی حقیقت ابھی نصیب نہیں ہوئی ہے، اور اگر اپنی اس محرومی پر وہ مطمئن نہیں رہنا چاہتا ہے، تو اس کو ان خلاف ایمان عادتوں سے اپنی زندگی کو پاک رکھنا چاہئے۔