Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 18 of 106

341Maarif-ul-Hadith

جھوٹ کی گندگی اور سڑاہند

عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا كَذَبَ العَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْهُ المَلَكُ مِيلًا مِنْ نَتْنِ مَا جَاءَ بِهِ؟ » (رواه الترمذى)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کے جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے ایک میل دور چلا جاتا ہے۔ (جامع ترمذی) تشریح جس طرح اسی مادی عالم کی مادی چیزوں میں خوشبو اور بدبو ہوتی ہے، اسی طرح اچھے اور برے اعمال اور کلمات میں بھی خوشبو اور بدبو ہوتی ہے، جس کو اللہ کے فرشتے اسی طرح محسوس کرتے ہیں جس طرح ہم یہاں کی مادی خوشبو اور بدبو کو محسوس کرتے ہیں، اور کبھی کبھی وہ اللہ کے بندے بھی اس کو محسوس کرتے ہیں جن کی روحانیت ان کی مادیت پر غالب آ جاتی ہے۔

342Maarif-ul-Hadith

جو تمہیں سچا سمجھے اس سے جھوٹ بولنا بڑی سخت خیانت ہے

عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : « كَبُرَتْ خِيَانَةً أَنْ تُحَدِّثَ أَخَاكَ حَدِيثًا هُوَ لَكَ بِهِ مُصَدِّقٌ ، وَأَنْتَ لَهُ بِهِ كَاذِبٌ » (رواه ابو داؤد)

سفیان بن اسید حضرمی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے آپ فرماتے تھے: یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے کوئی جھوٹی بات بیانکرو، درانحالیکہ وہ تم کو اس بیان میں سچا سمجھتا ہو۔ (سنن ابی داؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جھوٹ اگرچہ بہرحال گناہ اور بہت سنگین گناہ لیکن بعض خاص صورتوں میں اس کی سنگینی اور بھی بڑھ جاتی ہے، ان ہی صورتوں مین سے ایک صورت یہ بھی ہے کہ ایک شخص تم پر پورا بھروسہ اور اعتبار کرے اور تم کو بالکل سچا سمجھے اورتم اس کو اعتبار اور حسن ظن سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اس سے جھوٹ بولو، اور اس کو دھوکا دو۔

343Maarif-ul-Hadith

جھوٹی گواہی

عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا ، فَقَالَ : « عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ » ثَلَاثَ مِرَارٍ ، ثُمَّ قَرَأَ {فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ} (رواه ابو داؤد وابن ماجه)

خریم بن فاتک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن صبح کی نماز پڑھی، جب آپ اس سے فارغ ہوئے تو ایک دم کھڑے ہو گئے، اور فرمایا کہ: جھوٹی گواہی اشراک باللہ کے برابر کر دی گئی، یہ بات آپ نے تین دفعہ ارشاد فرمائی، اور قرآن مجید (سورہ حج) کی یہ آیت تلاوت فرمائی: “ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ ” (بتوں کی، یعنی بت پرستی کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات کہنے سے بچتے رہو، صرف ایک اللہکے ہو کر کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرتے ہوئے)۔ (سنن ابی داؤد، ابن ماجہ) تشریح ابھی اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ ہر جھوٹ گناہ ہے لیکن اس کی بعض قسمیں اور صورتیں بہت ہی بڑا گناہ ہیں، ان ہی میں سے ایک یہ ہے کہ کسی قضیہ اور معاملہ میں جھوٹی گواہی دی جائے، اور اس جھوٹی گواہی کے ذریعے کسی اللہ کے بندے کو نقصان پہنچایا جائے۔ سورہ حج کی مذکورہ بالا آیت میں جھوٹ کی اسی قسم کو شرک اور بت پرستی کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، اور دونوں سے بچنے کی تاکید کے لیے ایک ہی لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ قرآن مجید کے اس طرز بیان کا حوالہ دے کر رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں یہ ارشاد فرمایا کہ جھوٹی گواہی اپنی گندگی میں اور اللہ کی ناراضی اور لعنت کا باعث ہونے میں شرک باللہ کے ساتھ جوڑ دی گئی ہے، اور یہ بات آپ نے تین بار ارشاد فرمائی۔ اور جامع ترمذی کی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپ نے ایک دن صحابہؓ سے ارشاد فرمایا، اور تین دفعہ ارشاد فرمایا: “ کیا میں تم لوگوں کو بتاؤں کہ سب سے بڑے گناہ کون کون سے ہیں؟ ” پھر آپ نے فرمایا “ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور معاملات میں جھوٹی گواہی دینا اور جھوٹ بولنا ” راوی کا بیان ہے کہ پہلے آپ سہارا لگائے بیٹھے تھے لیکن پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، اور بار بار آپ نے اس ارشاد کو دہرایا، یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ کاش اب آپ خاموش ہو جاتے یعنی اس وقت آپ پر ایک ایسی کیفیت طاری تھی اور آپ ایسے جوش سے فرما رہے تھے کہ ہم محسوس کر رہے تھے کہ آپ کے قلب مبارک پر اس وقت بڑا بوجھ ہے، اس لئے جی چاہتا تھا کہ اس وقت آپ خاموش ہو جائیں، اور اپنے دل پر اتنا بوجھ نہ ڈالیں۔

344Maarif-ul-Hadith

جھوٹی قسم

عَنْ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لاَ يَحْلِفُ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ ، إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ » (رواه البخارى ومسلم)

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے حاکم کے کے سامنے جھوٹی قسم کھائی تا کہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کا مال مار لے، تو قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس حال میں اس کی پیشی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اس پر سخت غضب ناک اور ناراض ہوں گے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

345Maarif-ul-Hadith

جھوٹی قسم

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللهُ لَهُ النَّارَ ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ » فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ : « وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ » (رواه مسلم)

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق ناجائز طور پر مار لیا، تو اللہ نے ایسے آدمی کے لئے دوزخ واجب کر دی ہے اور جنت کو اس پر حرام کر دیا ہے، حاضرین میں سے کسی شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (ﷺ) اگرچہ وہ کوئی معمولی ہی چیز ہو (یعنی اگر کسی نے کسی کی بہت معمولی سی چیز قسم کھا کر ناجائز طور سے حاصل کر لی، تو کیا اس صورت میں بھی دوزخ اس کے لیے واجب اور جنت اس کے لیے حرام ہوگی؟) آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں اگرچہ جنگلی درخت پیلو کی ٹہنی ہی ہو۔ تشریح یعنی اگر بالکل معمولی اور بالکل بے حیثیت قسم کی کوئی چیز بھی جھوٹی قسم کھا کر کوئی حاصل کرے گا تو وہ بھی دوزخ میں ڈالا جائے گا۔

346Maarif-ul-Hadith

جھوٹی قسم

عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَا يَقْتَطِعُ أَحَدٌ مَالًا بِيَمِينٍ ، إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ أَجْذَمُ » (رواه ابو داؤد)

اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی کا مال جھوٹی قسم کھا کر مار لے گا وہ اللہ کے سامنے کوڑھی ہو کر پیش ہو گا۔ (سنن ابی داؤد) تشریح ان تینوں حدیثوں میں اس شخص کا انجام بیان کیا گیا ہے کہ جو کسی معاملہ اور مقدمہ میں جھوٹی قسم کھا کر دوسرے فریق کا مال مار لے، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ والی پہلی حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن جب خدا کے دربار میں اس کی پیشی ہوگی تو اس شخص پر اللہ تعالیٰ کا سخت غضب ہو گا۔۔۔ نعوذ باللہ من غضبہ وعقابہ۔ اور حضرت ابو امامہؓ والی دوسری حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ ایسے شخص پر جنت حرام ہے اور دوزخ کا اس کے لیے لازمی اور قطعی فیصلہ ہے۔ اور اشعث بن قیس کی اس حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ ایسا شخص قیامت کے دن کوڑھی ہو کر خدا کے سامنے پیش ہو گا۔ اللہ کی پناہ! کتنی سخت ہیں تینوں سزائیں اور ظاہر ہے کہ ان میں باہم کوئی منافات اور تضادات نہیں ہے لہذا اگر یہ شخص اس گناہ عظیم سے توبہ اور تلافی کر کے اس دنیا سے نہیں گیا ہے، تو پھر ان حدیثوں کا تقاضا یہی ہے کہ اس کو یہ سب کچھ پیش آئے گا، اور وہ یہ سارے عذاب چکھے گا۔ اور واقعہ یہ ہے کہ حاکم کی عدالت میں خدا کی قسم کھا کر، اور خدا کو گویا اپنا گواہ قرار دے کر جھوٹ بولنا، اور کسی بندے کا مال مارنے کے لیے یا اس کو بے آبرو کرنے کے لئے خدا کے پاک نام کو استعمال کرنا، ہے بھی ایسا بڑا گناہ کہ اس کی سزا جتنی بھی سخت دی جائے عین حکمت ہے۔

347Maarif-ul-Hadith

جھوٹی قسم

عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ » قَالَ ابوذر : خَابُوا وَخَسِرُوا ، مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ : « الْمُسْبِلُ ، وَالْمَنَّانُ ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ » (رواه مسلم)

حضرت ابوذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ ان سے ہمکلام ہو گا، نہ ان پر عنایت کی نظر کرے گا، اور نہ گناہوں اور گندگیوں سے ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ ابوذر غفاریؓ نے عرض کیا: یہ لوگ تو نامراد ہوئے اور ٹوٹے میں پڑے، حضور ﷺ! یہ تین کون کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: اپنا تہبند حد سے نیچے لٹکانے والا (جیسا کہ متکبروں اور مغروروں کا طریقہ ہے) اور احسان جتانے والا اور جھوٹی قسمیں کھا کے اپنا سودا چلانے والا۔ (صحیح مسلم) تشریح جس طرح حاکم اور پنچ کے کے سامنے کسی معاملے میں جھوٹی قسم کھانا اللہ تعالیٰ کے پاک نام کا نہایت غلط اور ناپاک استعمال ہے اسی طرح سودے کو بیچنے کے لئے گاہک کے سامنے جھوٹی قسم کھا کے اس کو یقین دلانا بھی اسم الٰہی کا نہایت بے محل استعمال اور بڑی دنی حرکت ہے، اس لئے یہ بھی جھوٹ کی نہایت سنگین قسم ہے اور قیامت میں ایسے شخص کو درد ناک عذاب دیا جائے گا، اور اپنی اس ذلیل بدکرداری کی وجہ سے یہ کذاب تاجر آخرت میں اللہ تعالیٰ کی ہم کلامی اور اس کی نظر کرم اور گناہوں کی بخشش سے محروم رہے گا۔

348Maarif-ul-Hadith

جھوٹ کی بعض خفی قسمیں

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : دَعَتْنِي أُمِّي يَوْمًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِي بَيْتِنَا ، فَقَالَتْ : هَا تَعَالَ أُعْطِيكَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيهِ؟ » قَالَتْ : أَرَدْتُّ اَنْ أُعْطِيَهُ تَمَرًا ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كِذْبَةٌ » (رواه ابو داؤد والبيهقى فى شعب الايمان)

عبداللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے، میری والدہ نے مجھے پکارا اور کہا بڑھ کے آ، میں تجھے کچھ دوں گی، رسول اللہ ﷺ نے میری ماں سے فرمایا: تم نے اس بچے کو کیا چیز دینے کا ارادہ کیا ہے؟ میری ماں نے عرض کیا میں نے اس کو ایک کھجور دینے کا ارادہ کیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: یاد رکھو اگر اس کہنے کے بعد اس بچے کو کوئی چیز بھی نہ دیتیں، تو تمہارے نامہ اعمال میں ایک جھوٹ لکھا جاتا۔ (سنن ابی داؤد، شعب الایمان للبیہقی) تشریح جھوٹ کی چند سنگین قسموں کا ذخر وت اوپر ہو چکا، لیکن بعض جھوٹ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو بہت سے لوگ جھوٹ ہی نہیں سمجھتے، حالانکہ وہ بھی جھوٹ ہی میں داخل ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے اُن سے بھی پرہیز کرنے کی تاکید فرمائی ہے ذیل کی حدیثوں میں جھوٹ کی بعض ایسی ہی صورتوں کا ذکر ہے: تشریح۔۔۔ حضور ﷺ کے اس ارشاد کا اصل منشاء یہ ہے کہ بچوں کو بہلانے کے لئے بھی جھوٹ کا استعمال نہ کیا جائے، کیوں کہ مسلمان کی زبان جھوٹ سے آلودہ ہونی ہی نہیں چاہئے علاوہ ازیں اس کی ایک بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ ماں باپ اگر بچوں سے جھوٹ بولیں گے اگرچہ ان کا مقصد صرف بہلاوا ہی ہو، پھر بھی بچے اُن سے جھوٹ بولنا سیکھیں گے، اور جھوٹ بولنے میں وہ کوئی قباحت نہ سمجھیں گے۔

349Maarif-ul-Hadith

جھوٹ کی بعض خفی قسمیں

عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عن جده ، قَالَ : قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : « وَيْلٌ لِمَنْ يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ ، وَيْلٌ لَهُ وَيْلٌ لَهُ » (رواه احمد والترمذى وابو داؤد والدارمى)

بہز بن حکیم بواسطہ اپنے والد معاویہ کے اپنے دادا حیدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص لوگوں کو ہنسانے کے لیے اپنے بیان میں جھوٹ بولے، اس پر افسوس! اس پر افسوس!۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، دارمی) تشریح مطلب یہ ہے کہ صرف لطفِ صحبت اور ہنسنے ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنا بھی بری بات اور بری عادت ہے، اگرچہ اس سے کسی کو نقصان نہیں پہنچتا لیکن اولاً تو خود بولنے والے کی زبان جھوٹ سے آلودہ ہوتی ہے، دوسرے باتوں سے اہل ایمان کے دل میں جو نفرت ہونی چاہئے اس میں بھی کمی آتی ہے، اور تیسری خرابی یہ ہے کہ لوگوں میں جھوٹی باتیں کرنے کی جرأت اس سے پیدا ہوتی اور جھوٹ کے رواج کو مدد ملتی ہے۔

350Maarif-ul-Hadith

جھوٹ کی بعض خفی قسمیں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ » (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ آدمی کے لیے یہی جھوٹ کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اسے بیان کرتا پھرے۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے بیان کرتے پھرنا بھی ایک درجے کا جھوٹ ہے اور جس طرح جان بوجھ کر جھوٹ بولنے کی عادت رکھنے والا آدمی قابلِ اعتبار نہیں ہوتا اسی طرح یہ آدمی بھی لائق اعتماد نہیں رہتا۔ بہر حال مؤمن کو چاہئے کہ وہ خفی قسم کے ان سب جھوٹوں سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرے۔

351Maarif-ul-Hadith

خیانت کی بعض خفی قسمیں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِاَبِى الْهَيْثَمِ بْنِ الْتَيْهَانِ إِنَّ المُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ . (رواه الترمذى)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر ابوالہیثم بن التیہان سے فرمایا: ججس سے کسی معاملے میں مشورہ کیا جائے وہ اس میں امین ہے اور اس کے سپرد امانت کی جاتی ہے۔ (جامع ترمذی) تشریح جس طرح بعض جھوٹ اس قسم کے ہیں کہ بہت سے لوگ ان کو جھوٹ ہی نہیں سمجھتے اسی طرح خیانت کی بھی بعض صورتیں ایسی ہیں کہ بہت سے لوگ ان کو خیانت ہی نہیں جانتے، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں بھی امت کو واضح طور پر آگاہی دی ہے، اس سلسلے میں ذیل کی حدیثیں پڑھئے: تشریح۔۔۔ ابو الہیثم بن التیہان نے ایک معاملہ میں رسول اللہ ﷺ سے مشورہ چاہا تھا، اس موقع پر آپ نے اُن سے یہ ارشاد فرمایا، جس کا مطلب یہ تھا کہ جس سے کسی معاملہ میں مشورہ لیا جائے اسے چاہئے کہ وہ محسوس کرے کہ مشورہ چاہنے والے نے اس کواعتماد اور بھروسے کے قابل سمجھ کراس سے مشورہ چاہا ہے اور اپنی ایک امانت اس کے سپرد کی ہے، لہٰذا اسے چاہئے کہ حقِ امانت اداکرنے میں کوتاہی نہ کرے، یعنی اچھی طرح سوچ سمجھ کر مشورہ دے اور پھر اس کی بات کو راز میں رکھے، اگر ایسا نہیں کرے گا تو ایک درجے کی خیانت کا مجرم ہو گا۔

352Maarif-ul-Hadith

خیانت کی بعض خفی قسمیں

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ الْحَدِيثَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ » (رواه الترمذى وابو داؤد)

حضرت جابر بن عبداللہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپنے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی کوئی بات کہے اور پھر ادھر ادھر دیکھے تو وہ امانت ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص تم سے بات کرے اور وہ زبانی تم سے نہ کہے اس کو راز رکھنا، لیکن اس کے کسی طریقے سے تمہیں محسوس ہو کہ وہ نہیں چاہتا ہے کہ اس کی یہ بات عام لوگوں کے علم میں آئے، تو پھر اس کی یہ بات امانتہی ہے اور امانت کی طرح تم کو اس کی حفاظت کرنی چاہئے، اگر ایسا نہ کیا اور دوسروں کو تم نے پہنچا دیا، تو تمہاری طرف سے یہ امانت میں خیانت ہوگی، اور تمہیں خدا کے سامنے اس کا جواب دینا ہو گا۔ لیکن ایک دوسری حدیث میں صاف فرمایا گیا ہے کہ: اگر کسی بندے کے ناحق قتل یا اس کی آبرو ریزی یا اس کو مالی نقصان پہنچانے کی سازش تمہارے علم میں آئے تو پھر ہرگز اس کو راز میں نہ رکھو بلکہ متعلقہ آدمیوں کو اس سے مطلع کردو۔ وہ حدیث بھی یہیں پڑھ لیجئے۔

353Maarif-ul-Hadith

خیانت کی بعض خفی قسمیں

عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ إِلَّا ثَلَاثَةَ مَجَالِسَ : سَفْكُ دَمٍ حَرَامٍ ، أَوْ فَرْجٌ حَرَامٌ ، أَوْ اقْتِطَاعُ مَالٍ بِغَيْرِ حَقٍّ " (رواه ابو داؤد)

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نشستیں امانت داری کے ساتھ ہوں (یعنی کسی مجلس میں رازداری کے ساتھ جو مشورہ یا فیصلہ ہو، اہلِ مجلس امانت سمجھ کر اس کو راز میں رکھیں) لیکن تین مجلسیں اس سے مستثنیٰ ہیں: ایک وہ جس کا تعلق کسی کے خون ناحق کی سازش سے ہو، دوسرے وہ جس کا تعلق کسی کی عصمت و عفت لوٹنے کے مشورے سے ہو، تیسرے وہ جس کا تعلق بغیر کسی حق کے کسی کا مال چھیننے سے ہو۔ (سنن ابی داؤد) تشریح ان باتوں کو بھی صرف مثال سمجھنا چاہئے، ورنہ منشاء یہ ہے کہ اگر کسی مجلس میں کسی معصیت اور ظلم کے لئے کوئی سازش اور کوئی مشورہ کیا جائے اور تم کو بھی اس میں شریک کیا جائے، تو پھر ہرگز اس کو راز میں نہ رکھو، بلکہ اس صورت میں تمہاری دیانتداری کا تقاضا یہ ہے کہ ظلم و معصیت کے اس منصوبہ کو ناکام بنانے کے لیے جن کو اس سے باخبر کرنا ضروری سمجھو، ان کو ضرور باخبر کر دو، اگر ایسا نہ کرو گے تو اللہ کے حق میں بھی خیانت ہوگی اور بندوں کے حق میں بھی۔

354Maarif-ul-Hadith

اختلاف اور فتنہ کو ختم کرنے کے لئے اپنی طرف سے کچھ کہہ دینا جھوٹ نہیں

عَنْ أُمَّ كُلْثُومٍ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَيْسَ الكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ ، وَيَقُولُ خَيْرًا ، أَوْ وَيَنْمِي خَيْرًا » (رواه البخارى ومسلم)

ام کلثوم (بنت عقبی بن ابی معیط) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ آدمی جھوٹا اور گنہگار نہیں ہے جو باہم لڑنے والے آدمیوں کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کرے اور اس سلسلے میں (ایک فریق کی طرف سے دوسرے فریق کو) خیر اور بھلائی کی باتیں پہنچائے اور (اچھا تاثر ڈالنے والی) اچھی باتیں کرے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو شخصوں یا دو پارٹیوں کے درمیان سخت نزع اور رنجش ہے، اور ہر فریق دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتا ہے، اور پھر اس کے نتیجے میں بڑے بڑے شر اور فتنے پیدا ہوتے ہیں، کبھی کبھی تو خون خرابہ اور قتل و غارت اور آبرو ریزی تک نوبت پہنچ جاتی ہے، اور عداوت کے جوش میں ہر طرف سے ظلم اور تعدی کو اپنا حق سمجھا جاتا ہے ان حالات میں اگر کوئی مخلص اور بے غرض بندہ ان دونوں برسرجنگ فریقوں کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کرے، اور اس کے لیے وہ ضرورت محسوس کرے کہ ایک فریق کی طرف سے دوسرے فریق کو ایسی خیر اندیشی کے باتیں پہنچائی جائیں جن سے جنگ و عداوت کی آگ مجھے اور خوش گمانی اور مصالحت کی فضا پیدا ہو، تو اس مقصد کے لیے اگر اللہ کا وہ بندہ ایک فریق کی طرف سے دوسرے فریق کو ایسی خوش کن اور صلح جویانہ باتیں بھی پہنچائے جو واقعے میں اس فریق نے نہ کہی ہوں، اس مخلص بندے کا ایسا کرنا اس جھوٹ میں شمار نہ ہو گا، جو معصیت اور گناہ کبیرہ ہے، بس یہی اس حدیث کا منشاء ہے۔۔ اور یہی مطلب ہے حضرت سعدی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کے اس مقولے کا: “ دروغ مصلحت آمیز بہ ار راستی فتنہ انگیز ”

355Maarif-ul-Hadith

ایفاء وعدہ اور وعدہ خلافی

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ : إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ " (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو اس کو پورا نہ کرے اور جب اس کو کسی چیز کا امین بنا دیا جائے تو خیانت کرے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح وعدہ کر کے پورا کرنا درحقیقت سچائی ہی کی ایک وعملی قسم ہے اور وعدہ خلافی ایک طرح کا عملی جھوٹ ہے، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اپنی اخلاقی تعلیم میں وعدہ خلافی سے بچنے اور ہمیشہ وعدہ پورا کرنے کی بھی سخت تاکید فرمائی ہے۔ چند ہی صفحے پہلے وہ حدیث گزر چکی ہے کہ جس میں رسول اللہ ﷺ نے چند اچھے اخلاق کا ذکر کر کے فرمایا، کہ جو شخص ان باتوں کی پابندی کی ذمہ داری لے میں اس کے لئے جنت کا ذمہ لیتا ہوں اور ان میں آپ نے ایفاء وعدہ کو بھی گنایا۔ اور “ کتاب الایمان ” میں “ شعب الایمان ” کے حوالے سے حضرت انسؓ کی وہ حدیث گزر چکی ہے، جس میں فرمایا گیا ہے، کہ جو شخص اپنے کئے وہد کا پابند نہیں، اس کا دین میں کوئی حصہ نہیں۔ اب چند حدیثیں اس سلسلہ کی یہاں اور بھی درج کی جاتی ہیں: تشریح۔۔۔ قریب قریب اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت سے “ کتاب الایمان ” میں بھی گذر چکی ہے، اور وہاں پوری تفصیل سے بتایا جا چکا ہے کہ ان باتوں کے منافق کی نشانی ہونے کا کیا مطلب ہے۔ وہاں کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ جھوٹ، خیانت اور وعدہ خلافی دراصل یہ منافقوں کے اخلاق ہیں، اور جس شخص میں یہ بری عادتیں موجود ہوں اور وہ خواہ عقیدہ کا منافق نہ ہو لیکن عمل اور سیرت میں منافق ہے۔ اس حدیث کی صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: “ وَإِنْ صَلَّى وَصَامَ وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ ” یعنی وہ آدمی اگرچہ نماز پڑھتا ہو اور روزہ رکھتا ہو اور اپنے کو مسلمان بھی کہتا اور سمجھتا ہو پھر بھی ان بداخلاقیوں کی وجہ سے وہ ایک قسم کا منافق ہی ہے۔ بہر حال اس حدیث میں وعدہ خلافی کو نفاق کی نشانی اور ایک منافقانہ خصلت بتلایا گیا ہے۔

356Maarif-ul-Hadith

ایفاء وعدہ اور وعدہ خلافی

عَنْ عَلِىٍّ وَعَبْدِاللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَلْعِدَةُ دَيْنٌ . (رواه الطبرانى فى الاوسط)

حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ وعدہ بھی ایک طرح کا قرض ہے (لہذاس اس کو ادا کرنا چاہئے)۔ (معجم اوسط للطبرانی) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کو کچھ دینے کا یا اس کے ساتھ کوئی سلوک کرنے کا یا اسی طرح کا کوئی اور وعدہ کیا گیا ہے تو وعدہ کرنے والے کو چاہئے کہ وہ اس کو اپنے پر قرض سمجھے، اور اس کو پورا کرنے کی فکر کرے، لیکن اگر بالفرض کسی بُرے کام میں ساتھ دینے کا، یا کسی اور ایسے کام کے کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے جو شرعاً صحیح نہیں ہے، یا اس سے کسی دوسرے کی حق تلفی ہوتی ہے، تو اس وعدہ کا پورا کرنا ضروری نہ ہو گا، بلکہ اس کے خلاف ہی کرنا ضروری ہو گا، اوراس وعدہ خلافی میں کوئی گناہ نہ ہوگا، بلکہ اتباع شریعت کا ثواب ہو گا۔

357Maarif-ul-Hadith

ایفاء وعدہ اور وعدہ خلافی

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْحَمْسَاءِ ، قَالَ : بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعٍ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ وَبَقِيَتْ لَهُ بَقِيَّةٌ فَوَعَدْتُهُ أَنْ آتِيَهُ بِهَا فِي مَكَانِهِ ، فَنَسِيتُ ، فَذَكَرْتُ بَعْدَ ثَلَاثٍ ، فَإِذَا هُوَ فِي مَكَانِهِ ، فَقَالَ : « لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَيَّ ، أَنَا هَاهُنَا مُنْذُ ثَلَاثٍ أَنْتَظِرُكَ » (رواه ابو داؤد)

عبداللہ بن ابی الحمساء سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے (یعنی آپ کے نبی ہونے سے پہلے) آپ سے خرید و فروخت کا ایک معاملہ کیا (پھر جو کچھ مجھے دینا تھا اس کا کچھ حصہ تو میں نے وہیں دے دیا) اور کچھ اداکرنا باقی رہ گیا، تو میں نے آپ سے وعدہ کیا کہ میں اسی جگہ لے کر آتا ہوں پھر میں بھول گیا اور تین دن کے بعد مجھے یاد آیا (میں اسی وقت لے کر پہنچا) تو دیکھا، کہ آپ اسی جگہ موجود ہیں، آپ نے فرمایا، کہ تم نے مجھے بڑی مشکل میں ڈالا، اور بڑی زحمت دی، میں تمہارے انتظار میں تین دن سے یہیں ہوں۔ (سنن ابی داؤد) تشریح گویا نبی ہونے سے پہلے بھی رسول اللہ ﷺ اپنے وعدہ کی ایسی پابندی فرماتے تھے کہ تین دن تک ایک جگہ رہ کر ایک شخص کا انتظار فرماتے رہے، واضح رہے کہ وعدہ کی اس حد تک پابندی کرنا شرعاً ضروری نہیں ہے، (جیسا کہ اس کے بعد والی حدیث سے معلوم بھی ہو جائے گا) لیکن اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی فطرت میں جو “ خلق عظیم ” ودیعت فرمایا تھا، اس کا تقاضا یہی تھا۔

358Maarif-ul-Hadith

ایفاء وعدہ اور وعدہ خلافی

عَنْ زَيْدِ بْنِ اَرْقَمَ اَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ وَعَدَ رَجُلًا فَلَمْ يَاتِ اَحَدُهُمَا اِلَى وَقْتِ الصَّلوٰةِ وَذَهَبَ الَّذِىْ جَاءَ لِيُصَلِّىْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ . (رواه رزين)

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کسی دوسرے شخص سے (کسی جگہ آ کر ملنے کا) وعدہ کیا، پھر نماز کے وقت تک اُن میں سے ایک نہیں آیا (اور دوسرا وقت معین پر مقرر جگہ پر پہنچ گیا، اور نہ آنے والے کا انتظار کرتا رہا، یہاں تک کہ نماز کا وقت آ گیا) اور یہ پہنچ جانے والا نماز پڑھنے کے لئے مقررہ جگہ سے چلا گیا، تو اس کو کوئی گناہ نہ ہو گا۔ (رزین) تشریح مطلب یہ ہے کہ جب وعدہ کے مطابق یہ شخص مقررہ جگہ پر پہنچ گیا، اور کچھ دیر تک دوسرے آدمی کا انتظار بھی کرتا رہا، تو اس نے اپنا حق ادا کر دیا، اب اگر نماز کا وقت آ جانے پر یہ شخص نماز پڑھنے کے لئے چلا جائے، یا اپنی کسی دوسری ضرورت سے چلا جائے، تو اس پر وعدہ خلافی کا الزام نہیں آئے گا، اور یہ گناہ گار نہیں ہو گا۔

359Maarif-ul-Hadith

ایفاء وعدہ اور وعدہ خلافی

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : « إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ أَخَاهُ ، وَمِنْ نِيَّتِهِ أَنْ يَفِيَ لَهُ فَلَمْ يَفِ وَلَمْ يَجِئْ لِلْمِيعَادِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ » (رواه ابو داؤد والترمذى)

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا، جب کسی آدمی نے اپنے کسی بھائی سے آنے کا وعدہ کیا، اور اس کی نیت یہی تھی کہ وہ وعدہ پورا کرے گا، لیکن (کسی وجہ سے) وہ مقررہ وقت پر آیا نہیں، تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی شخص نے کوئی وعدہ کیا ہے اور نیت اس کو پورا کرنے کی ہی تھی، لیکن کسی وجہ سے وہ اپنا وعدہ پورا نہ کر سکا تو عنداللہ گناہگار نہ ہو گا، لیکن اگر نیت ہی وعدہ پورا کرنے کی نہ تھی، اور اس کا یہ وعدہ ایک طرح کا فریب تھا، تو اس کے گناہ ہونے میں شبہ نہیں۔

360Maarif-ul-Hadith

تواضع و خاکساری اور غرورو تکبر

عَنْ عَيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ ، أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لَا يَبْغِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ وَلَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عیاض بن حماز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی اور حکم بھیجا ہے کہ تواضع اور خاکساری اختیار کرو جس کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ کوئی کسی پر ظلم و زیادتی نہ کرے، اور کسی کے مقابلہ میں فخر نہ کرے۔ تشریح تواضع یعنی فروتنی اور خاکساری اُن خاص اخلاق میں سے ہے جن کی قرآن و حدیث میں بہت زیادہ تاکید فرمائی گئی ہے، اور بڑی ترغیب دی گئی ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ انسان بندہ ہے اور بندہ کا حسن و کمال یہی ہے کہ اُس کے عمل سے بندگی اور نیاز مندی ظاہر ہو، اور تواضع اور خاکساری بندگی اور عبدیت ہی کا مظہرہے، جیسے کہ اس کے بالکل برعکس تکبر کبریائی کا مظہر ہے، اور اسی لئے وہ شان بندگی کے قطعاً خلاف اور صرف خدا ہی کے لئے زیبا ہے۔