تواضع و خاکساری اور غرورو تکبر
عَنْ عُمَرَ قَالَ : وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ " يَأَيُّهَا النَّاسُ ، تَوَاضَعُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللهُ ، فَهُوَ فِي نَفْسِهِ صَغِيرٌ ، وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ عَظِيمٌ ، وَمَنْ تَكَبَّرَ وَضَعَهُ اللهُ ، فَهُوَ فِي أَعْيُنِ النَّاسِ صَغِيرٌ ، وَفِي نَفْسِهِ كَبِيرٌ ، حَتَّى لَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِمْ مِنْ كَلْبٍ أَوْ خِنْزِيرٍ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے ایک دن خطبہ میں برسرِ منبر فرمایا: لوگو! فروتنی اور خاکساری اختیار کرو، کیوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے، جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے (یعنی اللہ کا حکم سمجھ کر اوراس کی رضا حاصل کرنے کے لیے) خاکساریکارویہ اختیار کیا (اور بندگانِ خدا کے مقابلہ میں اپنے کو اونچا کرنے کے بجائے نیچا رکھنے کی کوشش کی) تو اللہ تعالیٰ اس کو بلند کرے گا جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ اپنے خیال اور اپنی نگاہ میں تو چھوٹا ہو گا، لیکن عام بندگانِ خدا کی نگاہوں میں اونچا ہو گا۔ اور جو کوئی تکبر اور بڑائی کا رویہ اختیار کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو نیچے گرا دے گا، جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ عام لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل و حقیر ہو جائے گا، اگرچہ خود اپنے خیال میں بڑا ہو گا، لیکن دوسروں کی نظر میں وہ کتوں اور خنزیروں سے بھی زیادہ ذلیل اور نے وقعت ہو جائے گا۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تواضع و خاکساری اور غرورو تکبر
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الخُزَاعِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَاعِفٍ ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ . أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ . (رواه البخارى ومسلم)
حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تم کو بتاؤں کہ جنتی کون ہے؟ ہر وہ شخص جو (معاملہ اور برتاؤ میں اکھڑ اور سخت نہ ہو، بلکہ) عاجزوں کمزوروں کا سا اس کا رویہ ہو، اور اس لئے لوگ اس کو کمزور سمجھتے ہوں (اور اللہ کے ساتھ اس کا تعلق ایسا ہو کہ) اگر وہ اللہ پر قسم کھا لے، تو اللہ اس کی قسم پوری کر دکھائے۔ اور کیا میں تم کو بتاؤں کہ دوزخی کون ہے؟ ہر اکھڑ، بدخو اور مغرور شخص۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
اس حدیث میں اہل جنت کی صفت “ ضعیف، متضعف ” بتلائی گئی ہے، اس سے مراد وہ ضعف و کمزوری نہیں ہے جو قوت و طاقت کے مقابلہ میں بولی جاتی ہے، کیوں کہ وہ ضعف و کمزوری کوئی قابل تعریف صفت نہیں ہے، بلکہ ایک حدیث میں تو صراحۃً فرمایا گیا ہے کہ۔ “ الْمُؤْمِنُ الْقَوِىُّ خَيْرٌ وَاَحَبُّ اِلَى تَعَالَى مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيْفِ ” (طاقتور مسلمان خدا کے نزدیک کمزور مسلمان سے زیادہ بہتر اور محبوب ہے)۔ بلکہ جیسا کہ ترجمہ میں واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے، یہاں ضعیف و متضعف سے مراد وہ شریف الطبع متواضع اور نرم خو شخص ہے جو معاملہ اور برتاؤ میں عاجزوں اور کمزوروں کی طرح دوسروں سے دب جائے، اور اس لئے لوگ اسے کمزور سمجھیں اور دبا لیا کریں۔ اسی لئے اس حدیث میں ضعیف و متضعف کے مقابلہ میں عتل، جواظ، متکبر کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، بہرحال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ تواضع و نرمی اور عاجزی اہل جنت کی صفت ہے، اور غرور استکبار اور اکھڑ پن دوزخیوں کے اوصاف ہیں۔
اس حدیث میں جنتیوں کی صفت میں “ ضعیف و متضعف ” کے ساتھ ایک بات یہ بھی فرمائی گئی ہے کہ اگر وہ بندہ اللہ پر قسم کھا لے تو اللہ اس کی قسم پوری کر دے۔ بظاہر اس سے رسول اللہ ﷺ کا مقصد اس طرف اشارہ فرمانا ہے کہ جب کوئی بندہ! اللہ کے لئے اپنی خودی کو مٹا کر اُس کے بندوں کے ساتھ عاجزی اور فروتنی کا رویہ اختیار کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم کی لاج رکھے گا، اور اس کی بات کو پورا کر دکھائے گا، یا یہ کہ اگر وہ بندہ کسی خاص معاملہ میں اللہ کو قسم دے کر اُس سے کوئی خاص دعا کرے گا، تو اللہ اُس کی دعا ضرور قبول کرے گا۔
تواضع و خاکساری اور غرورو تکبر
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ . (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا، جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا۔ (مسلم و بخاری)
تشریح
کبریائی اور بڑائی دراصل صرف اس ذات پاک کا حق ہے جس کے ہاتھ میں سب کی موت و حیات اور عزت و ذلت ہے، جس کے لئے کبھی فنا نہیں، اور اس کے علاوہ سب کے لئے فنا ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے۔
وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
اور اسی کے لئے کبریائی اور بڑائی ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی ہے زبردست اور حکمت والا۔
پس اب جو بر خود غلط انسان کبریائی اور بڑائی کا دعویدار ہو، اور اللہ کے بندوں کے ساتھ غرور تکبر اس کا رویہ ہو، وہ گویا اپنی حقیقت بھول کر اللہ تعالیٰ کا حریف بنتا ہے، اس لئے وہ بہت ہی بڑا مجرم ہے، اور اس کا جرم نہایت ہی سنگین ہے، اور اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمایا ہے، کہ اپنی اس فرعونی صفت کی وجہ سے وہ جنت میں نہ جا سکے گا۔
یہ اصولی بات پوری تفصیل سے پہلے واضح کی جا چکی ہے کہ جن حدیثوں میں کسی بدعملی یا بداخلاقی کا انجام یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کا مرتکب جنت میں نہ جا سکے گا، ان کا مطلب عموماً یہ ہوتا ہے کہ یہ بدعملی یا بداخلاقی اپنی اصل تاثیر کے لحاظ سے جنت سے محروم کر دینے والی اور دوزخ میں پہنچانے والی ہے۔
یا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس کے مرتکب سچے ایمان والوں کے ساتھ اور ان کی طرح سیدھے جنت میں نہ جا سکیں گے، بلکہ اُن کو جہنم کا عذاب بھگتنا پڑے گا، اس لیے اس حدیث کا مطلب بھی اس اصول کی روشنی میں یہی سمجھنا چاہئے کہ غرور و تکبر اپنی اصلیت کے لحاظ سے جنت سے دور کر کے دوزخ میں ڈلوانے والی خصلت ہے، یا یہ کہ مغرور اور متکبر شخص سیدھا جنت میں نہ جا سکے گا، بلکہ اس کو دوزخ میں اپنے غرور و تکبر کی سزا بھگتنی پڑے گی، اور جب وہاں آگ میں تپا کے اُس کے تکبر کے مادہ کو جلا دیا جائے گا اور غرور کی گندگی سے اس کو پاک و صاف کر دیا جائے گا تو اگر وہ صاحب ایمان ہے تو اس کے بعد جنت میں جا سکے گا۔
تواضع و خاکساری اور غرورو تکبر
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ – وَفِىْ رِوَايَةٍ : وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ - وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ : شَيْخٌ زَانٍ ، وَمَلِكٌ كَذَّابٌ ، وَعَائِلٌ مُسْتَكْبِرٌ " (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین آدمی جن سے اللہ قیامت کے دن کلام نہیں فرمائے گا، اور ان کا تزکیہ نہیں کرے گا، اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کی طرف نگاہ بھی نہیں کرے گا، اور ان کے لیے آخرت میں درد ناک عذاب ہے، ایک بوڑھا زانی، دوسرا جھوٹا فرمانروا، اور تیسرا نادار و غریب متکبر۔ (صحیح مسلم)
عَنْ زَيْدِ بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا ، وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَيَاءُ " (رواه مالك مرسلا ورواه ابن ماجة والبيهقى فى شعب الايمان عن انس وابن عباس)
زید بن طلحہ سے روایت ہے وہ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ ہر دین کا کوئی امتیازی وصف ہوتا ہے، اور دین اسلام کا امتیازی وصف حیا ہے۔ (موطا امام مالک، سنن ابن ماجہ و شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
حیا کی خاص اہمیت اور اس کے معنی کی وسعت
جائے گا۔ اس حدیث میں اسی قسم کے تین مجرموں کے حق میں اعلان فرمایا گیا ہے کہ ان بدبختوں بدنصیبوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہم کلام نہ ہو گا، اور اُن کا تزکیہ بھی نہ فرمائے گا، اور آخرت میں یہ مجرم رب کریم کی نظر کرم سے بھی قطعی محروم رہیں گے۔ ایک بوڑھا زناکار، دوسرا جھوٹافرمانروا، تیسرا ناداری کی حالت میں تکبر کرنے والا۔ اور یہ اس لئے کہ جوانی کی حالت میں اگر کوئی شخص زنا کا مرتکب ہوا، تو اس کا یہ گناہ کبیرہ ہونے کے باوجود قابلِ درگزر بھی ہو سکتا ہے، کیوں کہ جوانی کی حالت میں شہوت سے مغلوب ہونا ایک فطری کمزوری ہے، لیکن اگر کوئی بوڑھا بڑھاپے میں یہ حرکت کرے، تو یہ اس کی طبیعت کی سخت خباثت کی نشانی ہے، اسی طرح اگر کوئی بے چارہ عام آدمی اپنی ضرورت نکالنے کے لیے جھوٹ بول جائے، تو اس کا گناہ بھی کبیرہ ہونے کے باوجود قابل معافی ہو سکتا ہے لیکن ایک صاحب اقتدار حکمران اگر جھوٹ بولتا ہے، تو یہ اس کی طبیعت کی انتہائی گندگی اور خدا سے بے خوفی کی نشانی ہے۔ ایسے ہی کوئی دولت مند اگر تکبر کرے تو انسان کی عام فطرت کے لحاظ سے کچھ زیادہ مستبعد نہیں۔ ع
“ چو بدولت برسی مست نہ گردی مردی ”
لیکن گھر میں فقر و فاقہ کے باوجود اگر کوئی شخص غرور و تکبر کی چال چلتا ہے تو بلا شبہ اس کی انتہائی دنائت اور کمینہ پن ہے۔ الغرض تینوں قسم کے یہ مجرم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی ہمکلامی سے اور اس کی نظرِ کرم سے تزکیہ سے محروم رہیں گے، تزکیہ نہ کئے جانے کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ ان کے گناہ معاف نہیں کئے جائیں گے، اور صرف عقیدہ یا بعض اعمال صالحہ کی بنیاد پر ان کو مومنین صالحین کے ساتھ شمار نہ کیا جائے گا، بلکہ ان کو سزا بھگتنی ہی بڑے گی۔ واللہ اعلم۔
شرم و حیا
شرم و حیا ایک ایسا اہم فطری اور بنیادی وصف ہے جس کو انسا کی سیرت سازی میں بہت زیادہ دخل ہے، یہی وہ وصف اور خلق ہے جو آدمی کو بہت سے بُرے کاموں اور بری باتوں سے روکتا، اور فواحش و منکرات سے اس کو بچاتا ہے ا، اور اچھے اور شریفانہ کاموں کے لیے آمادہ کرتا ہے، الغرض شرم و حیا انسان کی بہت سی خوبیوں کی جڑ بنیاد اور فواحش و منکرات سے اس کی محافظ ہے، اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے اپنی تعلیم و تربیت میں اس پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔
اس سلسلہ کے آپ کے چند ارشادات ذیل میں پڑھئے، اور اس وصف کو اپنے اندر پیدا کرنے اور ترقی دینے کی کوشش کیجئے۔
تشریح۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ ہر دین اور ہر شریعت میں اخلاق انسانی کے کسی خاص پہلو پر نسبتاً زیادہ زور دیا جاتا ہے، اور انسانی زندگی میں اسی کو نمایاں اور غالب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم اور شریعت میں رحمدلی اور عفو و درگزر پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے (یہاں تک کہ مسیحی تعلیمات کا مطالعہ کرنے والے کو صاف محسوس ہوتا ہے کہ رحمدلی اور وعفو و درگزر ہی گویا ان کی شریعت کا مرکزی نقطہ اور ان کی تعلیم کی روح ہے) اسی طرح اسلام یعنی حضرت محمد، رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت اور تعلیم میں حیا پر خاص زور دیا گیا ہے۔
یہاں یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ قرآن و حدیث کی اصطلاح میں حیا کا مفہوم بہت وسیع ہے، ہمارے عرف اور محاورہ میں تو حیا کا تقاضا اتنا ہی سمجھا جاتا ہے کہ آدمی فواحش سے بچے یعنی شرمناک باتیں اور شرمناک کام کرنے سے پرہیز کرے، لیکن قرآن و حدیث کے استعمالات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حیا طبیعتِ انسانی کی اس کیفیت کا نام ہے کہ ہر نامناسب بات اور ناپسندیدہ کام سے اس کو انقباض اور اس کے ارتکاب سے اذیت ہو، پھر قرآن و حدیث ہی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حیا کا تعلق صرف اپنے ابناء جنس ہی سے نہیں ہے، بلکہ حیا کا سب سے زیادہ مستحق وہ خالق و مالک ہے جس نے بندہ کو وجود بخشا اور جس کی پروردگاری سے وہ ہر آن حصہ پا رہا ہے، اور جس کی نگاہ سے اس کا کوئی عمل اور کوئی حال چھپا نہیں ہے، اس کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ شرم و حیا کرنے والے انسانوں کو سب سے زیادہ شرم و حیا اپنے ماں باپ کی، اور اپنے بڑوں اور محسنوں کی ہوتی ہے، اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ سب بڑوں سے بڑا، اور سب محسنوں کا محسن ہے، لہذا بندہ کو سب سے زیادہ شرم و حیا اسی کی ہونی چاہئے، اور اس حیا کا تقاضا یہ ہو گا کہ جو کام اور جو بات بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کے حکم کے خلاف ہو، آدمی کی طبیعت اس سے خود انقباض اور اذیت محسوس کرے اور اس سے باز رہے، اور جب بندہ کا یہ حال ہو جائے تو اس کی زندگی جیسی پاک اور اس کی سیرت جیسی پسندیدہ اور اللہ کی مرضی کے مطابق ہوگی ظاہر ہے۔
(اس حدیث کو امام مالکؒ نے موطا میں زید بن طلحہ تابعی سے مرسلاً روایت کیا ہے (یعنی ان صحابی کا ذکر نہیں کیا، جن سے یہ حدیث زید بن طلحہ کو پہنچی تھی) لیکن ابن ماجہ اور بیہقی نے اس حدیث کو اپنی سند کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے دو صحابیوں حضرت انسؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے)۔
عَنْ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الحَيَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « دَعْهُ فَإِنَّ الحَيَاءَ مِنَ الإِيمَانِ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گذر، انصار میں سے ایک شخص پر ہوا، اور وہ اس وقت اپنے بھائی کو حیا کے بارہ میں کچھ نصیحت و ملامت کر رہا تھا، تو آپ نے اس سے فرمایا کہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو کیوں کہ حیا تو ایمان کا جز یا ایمان کا پھل ہے۔ (صحیح بخاری و مسلم)
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انصار میں سے کوئی صاحب تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے شرم و حیا کا وصف خاص طور سے عطا فرمایا تھا، جس کا قدرتی نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ اپنے معاملات میں نرم ہوں گے، سخت گیری کے ساتھ لوگوں سے اپنے حقوق کا مطالبہ بھی نہ کرتے ہوں گے، اور بہت سے موقعوں پر اسی شرم و حیا کی وجہ سے کھل کر باتیں بھی نہ کر پاتے ہوں گے، جیسا کہ اہلِ حیا کا عموماً حال ہوتا ہے، اور اُن کے کوئی بھائی تھے، جو ان کی اس حالت اور روش کو پسند نہیں کرتے تھے، ایک دن یہ بھائی ان صاحب حیا بھائی کو اس پر ملامت اور سرزنش کر رہے تھے کہ تم اس قدر شرم و حیا کیوں کرتے ہو، اسی حالت میں رسول اللہ ﷺ کا ان دونوں بھائیوں پر گذر ہوا، اور آپ نے ان کی باتیں سن کر ملامت و نصیحت کرنے والے بھائی سے ارشاد فرمایا کہ اپنے ان بھائی کو ان کے حال پہ چھوڑ دو، ان کا یہ حال تو بڑا مبارک حال ہے، شرم و حیا تو ایمان کی ایک شاخ یا ایمان کا پھل ہے اگر اس کی وجہ سے بالفرض دنیا کے مفادات کچھ فوت بھی ہوتے ہوں، تو آخرت کے درجے بے انتہا بڑھتے ہیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ » (رواه احمد والترمذى)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حیا ایمان کی ایک شاخ ہے (یا ایمان کا ثمرہ ہے) اور ایمان کا مقام جنت ہے، اور بے حیائی و بے شرمی بدکاری میں سے ہے، اور بدی دوزخ میں لے جانے والی ہے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث میں اور اس سے پہلی حدیث میں بھی جو “ الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ ” فرمایا گیا ہے، بظاہر اس کامطلب یہی ہے کہ شرم و حیا شجر ایمان کی خاص شاخ یا اس کا ثمرہ ہے، صحیحین کی ایک دوسری حدیث میں (جو کتاب الایمان میں گذر چکی ہے) فرمایا گیا ہے “ الْحَيَاءُشُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ ” (اور حیا ایمان ہی کی ایک شاخ ہے) بہر حال حیا اور ایمان میں ایک خاص نسبت اور خاص رشتہ ہے، اور یہ سب اُسی کی تعبیریں ہیں۔ اور اسی کی ایک تعبیر وہ بھی ہے جو اس سے بعد والی حدیث میں آ رہی ہے۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْإِيمَانَ قُرَنَاءَ جَمِيعًا ، فَإِذَا رُفِعَ أَحَدُهُمَا رُفِعَ الْآخَرُ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ حیا اور ایمان یہ دونوں ہمیشہ ساتھ اور اکٹھے ہی رہتے ہیں، جب ان دونوں میں سے کوئی ایک اُٹھا لیا جائے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ایمان اور حیا میں ایسا گہرا تعلق ہے کہ اگر کسی آدمی یا کسی قوم میں سے ان دونوں میں سے ایک اٹھا لیا جائے تو دوسرا بھی اٹھ جائے گا، الغرض کسی شخص یا جماعت میں حیا اور ایمان یا تو دونوں ہوں گے یا دونوں میں سے ایک بھی نہ ہو گا۔
عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « الحَيَاءُ لاَ يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حیا صرف خیر ہی کو لاتی ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
بعض اوقات سرسری نظر میں یہشبہ ہوتا ہے کہ شرم و حیا کی وجہ سے آدمی کو کبھی کبھی نقصان بھی پہنچ جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں اسی شبہ کا ازالہ فرمایا ہے، اور آپ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ شرم و حیا کے نتیجہ میں کبھی کوئی نقصان کا شبہ ہوتا ہے وہاں بھی اگر ایمانی اور اسلامی وسیع نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بجائے نقصان کے نفع ہی نفع نظر آئے گا۔
یہاں بعض لوگوں کو ایک اور بھی شبہ ہوتا ہے اور وہ شبہ یہ کہ شرم و حیا کی زیادتی بعض اوقات دینی فرائض ادا کرنے سے بھی رکاوٹ بن جاتی ہے، مثلاً جس آدمی میں شرم و حیا کا مادہ زیادہ ہو وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فرائض ادا کرنے، اور اللہ کے بندوں کو نصیحت کرنے اور مجرموں کو سزا دینے جیسے اعلیٰ دینی کاموں میں بھی ڈھیلا اور کمزور ہوتا ہے لیکن یہ شبہ ایک مغالطہ پر مبنی ہے، انسان کی طبیعت کی جو کیفیت اس قسم کے کاموں کے انجام دینے میں رکاوٹ بنتی ہے وہ دراصل حیا نہیں ہوتی، بلکہ وہ اس آدمی کی ایک فطری اور طبعی کمزوری ہوتی ہے، لوگ ناواقفی سے اس میں اور حیا میں فرق نہیں کر پاتے۔
عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلاَمِ النُّبُوَّةِ ، إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ » (رواه البخارى)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگلی نبوت کی باتوں میں سے لوگوں نے جو کچھ پایا ہے اس میں ایک یہ مقولہ بھی ہے کہ “ جب تم میں شرم و حیا نہ ہو، تو پھر جو چاہو کرو ”۔ (صحیح بخاری)
تشریح
انبیائے سابقین کی پوری تعلیمات اگرچہ محفوظ نہیں رہیں، لیکن ان کی کچھ سچی پکی باتیں ضربُ المثل کی طرح ایسی مقبول عام اور مشہور عام ہو گئیں کہ سینکڑوں ہزاروں برس گذرنے پر بھی وہ محفوظ اور زبان زد خلائق رہیں، اُنہیں میں سے ایک تعلیم یہ بھی ہے جو حضور ﷺ کے زمانہ تک بطورِ ضرب المثل لوگوں کی زبان پر چڑھی ہوئی تھی
“ إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ ” جس کو فارسی میں کہا جاتا ہے “ بے حیا باش دہرچہ خواہی کُن ”۔ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں تصدیق فرمائی کہ یہ حکیمانہ اور ناصحانہ مقولہ اگلی نبوت کی تعلیمات میں سے ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْتَحْيُوا مِنَ اللهِ حَقَّ الحَيَاءِ . قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَسْتَحْيِي مِنَ اللهِ وَالحَمْدُ لِلَّهِ ، قَالَ : لَيْسَ ذَالِكَ ، وَلَكِنَّ الاِسْتِحْيَاءَ مِنَ اللهِ حَقَّ الحَيَاءِ أَنْ تَحْفَظَ الرَّأْسَ وَمَا وَعَى ، وَالبَطْنَ وَمَا حَوَى ، وَتَذْكُرَ الْمَوْتَ وَالبَلَى ، وَمَنْ أَرَادَ الآخِرَةَ تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا ، وَآثَرَ عَلَى الْاُوْلَى فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ اسْتَحْيَا مِنَ اللهِ حَقَّ الحَيَاءِ . (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ایسی حیا کرو جیسی اُس سے حیا کرنی چاہئے۔ مخاطبین نے عرض کیا، الحمدللہ! ہم اللہ سے حیا کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا، یہ نہیں (یعنی حیا کا مفہوم اتنا محدود نہیں ہے جتنا کہ تم سمجھ رہے ہو) بلکہ اللہ تعالیٰ سے حیا کرنے کا حق یہ ہے کہ سر اور سر میں جو افکار و خیالات ہیں اُن سب کی نگہداشت کرو، اور پیٹ کی اور جو کچھ اس میں بھرا ہے اس سب کی نگرانی کرو (یعنی برے خیالات سے دماغ کی، اور حرام و ناجائز غذا سے پیٹ کی حفاظت کرو) اور موت اور موت کے بعد قبر میں جو حالت ہونی ہے اس کو یاد کرو اور جو شخص آخرت کو اپنا مقصد بنائے، وہ دنیا کی آرائش و عشرتسے دستبردار ہو جائے گا، اور اس چند روزہ زندگی کے عیش کے مقابلہ میں آگے آنے والی زندگی کی کامیابی کو اپنے لئے پسند اور اختیار کرے گا، پس جس نے یہسب کچھ یا، سمجھو کہ اللہ سے حیا کرنے کا حق اُس نے ادا کیا۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس سلسلہ کی پہلی حدیث کی تشریح میں حیا کے معنی کی وسعت کی طرف جو اشارہ کیا گیا تھا، ترمذی کی اس حدیث سے اس کی توثیق ہی نہیں، بلکہ مزید توضیح و تشریح بھی ہو جاتی ہے، نیز حدیث کے آخری حصہ سے ایک اصولی بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ اللہ سے حیا کرنے کا حق وہی بندے ادا کر سکتے ہیں جن کی نظر میں اس دنیا اور اس کے عیش و عشرت کی کوئی قیمت نہ ہو، اور دنیا کو ٹھکرا کے آخرت کو انہوں نے اپنا مطمح نظر بنا لیا ہو، اور موت اور موت کے بعد کی منزلیں ان کو ہمہ وقت یاد رہتی ہوں، اور جس کا یہ حال نہ ہو وہ خواہ کیسی ہی باتیں بناتا ہو، اس حدیث کا فیصلہ ہے کہ اس نے اللہ سے حیا کا حق ادانہیں کیا۔
قناعت و استغناء اور حرص و طمع
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ ، وَرُزِقَ كَفَافًا ، وَقَنَّعَهُ اللهُ بِمَا آتَاهُ » (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کامیاب اور بامراد ہو وہ بندہ جس کو حقیقتِ اسلام نصیب ہوئی، اور اس کو روزی بھی بقدر کفاف ملی، اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اس قدر قلیل روزی پر قانع بھی بنا دیا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
جن اخلاق کی وجہ سے انسان اللہ تعالیٰ کا محبوب اور اس دنیا میں بھی بہت بلند ہو جاتا ہے اور دل کی بے چینی اور کڑھن کے سخت عذاب سے بھی اس کو نجات مل جاتی ہے، ان میں سے ایک قناعت اور استغناء بھی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ کو جو کچھ ملے اس پر وہ راضی اور مطمئن ہو جائے اور زیادہ کی حرص و لالچ نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے کو قناعت کی یہ دولت عطا فرمائے، بلا شبہ اس کو بڑی دولت عطا ہوئی، اور بڑی نعمت سے نوازا گیا۔ اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے چند ارشادات ذیل میں پڑھئے:
تشریح۔۔۔ بلا شبہ جس بندہ کو ایمان کی دولت نصیب ہو، اور ساتھ ہی اس دنیا میں گذارے کا کچھ ضروری سامان بھی، اور پھر اللہ تعالیٰ اس کے دل کو قناعت اور طمانیت کی دولت بھی نصیب فرما دے، تو اس کی زندگی بڑی مبارک اور بڑی خوشگوار ہے اور اس پر اللہ کا بڑا ہی فضل ہے۔ یہ قناعت اور دل کی طمانیت وہ کیمیا ہے جس سے فقیر کی زندگی بادشاہ کی زندگی سے زیادہ لذیذ اور پُر مسرت بن جاتی ہے۔
ایں کیمیائے ہستی قاروں کند گدارا
آدمی کے پاس اگر دولت کے ڈھیر ہوں، لیکن اس میں اور زیادہ کے لئے طمع اور حرص ہو، اور وہ اس میں اجافہ ہی کی فکر اور کوشش میں لگا رہے، اور “ هل من مزيد ” ہی کے پھیر میں پڑا رہے تو اسے کبھی قلبی سکون نصیب نہ ہو گا، اور وہ دل کا فقیر ہی رہے گا برخلاف اس کے اگر آدمی کے پاس صرف جینے کا مختصر سامان ہو، مگر وہ اس پر مطمئن اور قانع ہو تو فقر و افلاس کے باوجود وہ دل کا غنی رہے گا، اور اس کی زندگی بڑے اطمینان اور آسودگی کی زندگی ہوگی۔ اس حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے ایک دوسری حدیث میں ان الفاظ میں ارشاد فرمایاہے۔
قناعت و استغناء اور حرص و طمع
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « لَيْسَ الغِنَى عَنْ كَثْرَةِ العُرُوْضِ ، وَلَكِنَّ الغِنَى غِنَى النَّفْسِ » (رواه البخارى)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دولت مندی مال و اسباب سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اصلی دولت مندی دل کی بے نیازی ہے۔ (صحیح بخاری)
قناعت و استغناء اور حرص و طمع
عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِىْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ , تَقُوْلُ كَثْرَةَ الْمَالِ الْغِنَى؟ " قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : " تَقُوْلُ قِلَّةَ الْمَالِ هِيَ الْفَقْرُ؟ " , قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ ذَالِكَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ : " الْغِنَى فِى الْقَلْبِ , وَالْفَقْرُ فِى الْقَلْبِ " (رواه الطبرانى فى الكبير)
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن مجھ سے ارشاد فرمایا: ابوذر! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مال زیادہ ہونے کا نام تونگری ہے؟ میں نے عرض کیا، ہاں حضور! (ایسا ہی سمجھاجاتا ہے) پھر آپ نے فرمایا: کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ مال کم ہونے کا نام فقیری اور محتاجی ہے؟ میں نے عرض کیا، ہاں حضور! (ایسا ہی خیال کیا جاتا ہے) یہ بات آپ نے مجھ سے تین دفعہ ارشاد فرمائی۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا، اصلی دولتمندی دل کے اندر ہوتی ہے، اور اصلی محتاجی اور فقیری بھی دل ہی میں ہوتی ہے۔ (معجم کبیر للطبرانی)
تشریح
حقیقت یہی ہے کہ تونگری اور محتاجی، خوشحالی اور بدحالی کا تعلق روپیہ، پیسہ سے زیادہ آدمی کے دل سے ہے، اگر دل غنی اوربے نیاز ہے، تو آدمی نچنت اور خوشحال ہے اور اگر دل حرص و طمع کا گرفتار ہے، تو دولت کے ڈھیروں کے باوجود وہ خوشحالی سے محروم اور محتاج و پریشان حال ہے، سعدی علیہ الرحمہ کا مشہور قول ہے:
تونگری بدل ست نہ بہ مال
صبر و قناعت اللہ کی وسیع ترین اور عظیم ترین نعمت ہے
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ ، ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ ، حَتَّى إِذَا نَفِدَ عِنْدَهُ ، قَالَ : « مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ ، فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ ، وَمَا أُعْطِىَ أَحَدٌ مِنْ عَطَاءٍ أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ » (رواه ابو داؤد)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انصار میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ دے ایک دفعہ کچھ طلب کیا، آپ نے انکو عطا فرما دیا، (لیکن ان کی مانگ ختم نہیں ہوئی) اور انہوں نے پھر طلب کیا، آپ نے پھر ان کو عطا فرما دیا، یہاں تک کہ جو کچھ آپ کے پاس تھا وہ سب ختم ہوگیا، اور کچھ نہ رہا، آپ نے ان انصاریوں سے فرمایا، سنو! جو مال و دولت بھی میرے پاس ہو گا اور کہیں سے آئے گا، میں اس کو تم سے بچا کر نہیں رکھوں گا اور اپنے پاس ذخیرہ جمع نہیں کروں گا (بلکہ تم کو دیتا رہوں گا، لیکن یہ بات خوب سمجھ لو، کہ اس طرح مانگ مانگ کر حاصل کرنے سے آسودگی اور خوش عیشی حاصل نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ) جو کوئی خود عفیف بننا چاہتا ہے یعنی دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے اپنے کو بچانا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے اور سوال کی ذلت سے اس کو بچا دیتا ہے، اور جو کوئی بندوں کے سامنے اپنی محتاجی ظاہر کرنے سے بچنا چاہتا ہے، یعنی اپنے کو بندوں کا محتاج اور نیاز مند بنانا نہیں چاہتا، تو اللہ تعالیٰ اس کو بندوں سے بے نیاز کر دیتا ہے، اور جو کوئی کسی کٹھن موقع پر اپنی طبیعت کو مضبوط کر کے صبر کرنا چاہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو صبر کی توفیق دے دیتا ہے (اور صبر کی حقیقت اس کو نصیب ہو جاتی ہے) اور کسی بندہ کو بھی صبر سے زیادہ وسیع کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
س حدیث کا خاص سبق یہی ہے کہ بندہ اگر چاہتا ہے کہ وہ دوسرے بندوں کا محتاج نہ ہو، اور ان کے سامنے اس کو دستِ سوال دراز نہ کرنا پڑے، اور مصائب و مشکلات اس کو اپنی جگہ سے ہٹا نہ سکیں، تو اسے چاہئے کہ اپنی استطاعت کی حد تک وہ خود ایسا بننے کی کوشش کرے، اگر وہ ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی پوری پوری مدد فرمائے گا اور یہ سب چیزیں اس کو نصیب ہو جائیں گے۔
حدیث کے آخری حصہ میں فرمایا گیا ہے کہ “ کسی بندے کو صبر سے زیادہ وسیع کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی ”۔ واقعہ یہی ہے کہ “ صبر ” دل کی جس کیفیت کا نام ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نہایت وسیع اور نہایت عظیم نعمت ہے، اسی لیے قرآن مجید کی آیت “ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ” میں صبر کو صلوٰۃ یعنی نماز پر بھی مقدم کیا گیا ہے۔
دولت کی حرص کے بارے میں حکیم بن حزام کو حضور ﷺ کی نصیحت اور ان پر اسکا مثالی اثر
عَنْ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ ، فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ لِي : « يَا حَكِيمُ ، إِنَّ هَذَا المَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ ، بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ ، لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ ، وَاليَدُ العُلْيَا خَيْرٌ مِنَ اليَدِ السُّفْلَى » ، قَالَ حَكِيمٌ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالحَقِّ لاَ أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا . (رواه البخارى ومسلم)
حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ مال طلب کیا، آپ نے مجھے عطا فرما دیا، میں نے پھر مانگا آپ نے پھر عطا فرما دیا، پھر آپ نے مجھے نصیحت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ: اے حکیم! یہ مال سب کو بھلی لگنے والی اور لذیذ و شیریں چیز ہے، پس جو شخص اس کو بغیر حرص اور طمع کے سیر چشمی اور نفس کی فیاضی کے ساتھ لے اس کے واسطے اس میں برکت دی جائے گی۔ اور جو شخص دل کے لالچ کے ساتھ لے گا اس کے واسطے اس میں برکت نہیں ہوگی اور اس کا حال جوع البقر کے اس مریض کا سا ہو گا جو کھائے اور پیٹ نہ بھرے۔ اور اور والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے (یعنی دینے والے کا مقام اونچا ہے اور ہاتھ پھیلا کر لینا ایک گھٹیا بات ہے لہذا جہاں تک ہو سکے اس سے بچنا چاہئے۔ حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ (حضور ﷺ کی یہ نصیحت سُن کر) میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! قسم ہے اس پاک ذات کی جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے اب آپ کے بعد مرتے دم تک میں کسی سے کچھ نہ لوں گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اسی حدیث کی صحیح بخاری ہی کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حکیم بن حزام نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں جو عہد کیا تھا اس کو پھر ایسا نباہا کہ حضور ﷺ کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنے اپنے دورِ خلافت میں (جب کہ سب ہی کو وظیفے اور عطیے دئیے جاتے تھے) ان کو بھی بُلا کر بار بار کچھ وظیفہ یا عطیہ دینا چاہا لیکن یہ لینے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ اور فتح الباری میں حافظ ابنِ حجر نے مسند اسحاق بن راہویہ کے کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ شیخین کے بعد حضرت عثمان اور حضرت معاویہ ؓ کے زمانہ خلافت و امارت میں بھی انہوں نے کبھی کوئی وظیفہ یا عطیہ قبول نہیں کیا، یہاں تک کہ حضرت معاویہؓ کے دورِ امارت میں ایک سو بیس سال کی عمر میں ۵۴ھ میں وفات پائی۔
حرص و طمع کی تباہ کاریوں اور بد انجامیوں کے متعلق انتباہ
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : « إِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالشُّحِّ ، أَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا ، وَأَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا ، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا » (رواه ابو داؤد)
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن خطبہ دیا اور اس میں ارشاد فرمایا: کہ حرص و طمع سے بچو کیوں کہ تم سے پہلی قومیں اسی حرص سے تباہ ہوئیں، اسی نے ان کو بخل کرنے کو کہا تو انہوں نے بخل اختیار کیا اسی نے ان کو قطع رحمی یعنی حقوق قرابت کی پامالی کے لیے کہا تو انہوں نے قطع رحمی اختیار کی، اس نے ان کو بدکاری کے لیے کہا تو انہوں نے بدکاریاں کیں۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
یعنی حرص و طمع صرف ایک بُری خصلت ہی نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ سے انسانی معاشرہ میں دوسری بھی نہایت تباہ کن خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں جو بالآخر قوموں کو لے ڈوبتی ہیں، اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ اس خطرناک اور تباہ کن جذبہ سے اپنے دلوں اور سینوں کی پوری پوری حفاظت کریں۔
حرص انسان کی بد ترین خصلتوں میں سے ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول : « شَرُّ مَا فِي رَجُلٍ شُحٌّ هَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ » (رواه ابو داؤد)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ارشاد فرماتے تھے کہ، انسان میں سب سے بُری بات کڑھا دینے والی حرص اور گھبرا دینے والی بزدلی ہے۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
یہ حقیقت ہے کہ حریص اور لالچی آدمی ہر وقت اس غم میں گھلتا اور کڑھتا رہتا ہے، کہ یہ نہیں ملا، وہ نہیں ملا، فلاں کے پاس یہ ہے اور میرے پاس یہ نہیں ہے، اسی طرح زیادہ بزدل آدمی خواہ مخواہ موہوم خطرات سے بھی ہر وقت گھبراتا رہتا ہے اور اس کو اطمینان کے سانس لینے نصیب نہیں ہوتے، رسول اللہ ﷺ نے انسان کے دل کی ان دونوں کیفیتوں کو بدترین کیفیت بتلایا، اور فی الحقیقت یہ بدترین اور ذلیل ترین خصلتیں ہیں۔
صبر و شکر : سچے مؤمن کیلئے ہر حال میں خیر ہی خیر ہے نعمت پر شکر کرے تو خیر ہے ، مصیبت پر صبر کرے تو خیر ہے
عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ ، صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ » (رواه مسلم)
حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ مومن کا معاوملہ بھی عجیب ہے، اس کے ہر معاملہ اور ہر حال میں اس کے لیے خیر ہی خیر ہے، اگر اس کو خوشی اور راحت و آرام پہنچے تو وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے اور یہ اس کے لیے خیر ہی خیر ہے، اور اگر اسے کوئی دکھ اور رنج پہنچتا ہے تو وہ (اس کو بھی اپنے حکیم و کریم رب کا فیصلہ اور اس کی مشیت یقین کرتے ہوئے) اس پر صبر کرتا ہے اور یہ صبر بھی اس کے لئے سراسر خیر اور موجبِ برکت ہوتا ہے۔ (مسلم)
تشریح
اس دنیا میں تکلیف اور آرام تو سب ہی کے لیے ہے لیکن اس تکلیف اور آرام سے اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی رضا حاصل کرنا یہ صرف اُن اہل ایمان ہی کا حصہ ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا ایمانی رابطہ قائم کر لیا ہے کہ وہ چین و آرام اور مسرت و خوشی کی ہر گھڑی میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں، اور جب کسی رنج اور دکھ میں مبتلا کئے جاتے ہیں، اور کوئی ناخوشگواری ان کو پیش آتی ہے، تو وہ بندگی کی پوری شان کے ساتھ صبر کرتے ہیں۔ اور چونکہ دکھ سکھ اور خوشی و ناخوشی ایسی چیزیں ہیں جن سے انسان کی زندگی کسی وقت بھی خالی نہیں رہتی اس لیے ان بندگانِ خدا کے قلوب بھی صبر و شکر کی کیفیات سے ہمہ دم معمور رہتے ہیں۔
اس دنیا میں دکھ اور رنج بھی ہے اور آرام اور خوشی بھی، شادی بھی ہے اور غمی بھی، شیرینی بھی ہے اور تلخی بھی، سردی بھی ہے او رگرمی بھی، خوشگواری بھی ہے اور ناخوشگواری بھی، اور سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور فیصلہ سے ہوتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے بندوں کا حال یہ ہونا چاہئے کہ جب کوئی دکھ اور مصیبت پیش آ جائے تو وہ مایوسی اور سراسیمگی کا شکار نہ ہوں بلکہ ایمانی صبر و ثبات کے ساتھ اس کا استقبال کریں، اور دل میں اس یقین کو تازہ کریں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، جو ہمارا حکیم اور کریم رب ہے، اور وہی ہم کو اس دکھ اور مصیبت سے نجات دینے والا ہے۔ اسی طرح جب ان کے حالات سازگار ہوں اور ان کی چاہتیں ان کو مل رہی ہیں اور خوشی اور شادمانی کے سامان میسر ہوں تو بھی وہ اس کو اپنا کمال اور اپنی قوت بازو کا نتیجہ نہ سمجھیں بلکہ اس وقت اپنے دل میں اس یقین کو تازہ کریں کہ یہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی بخشش ہے، اور وہ جب چاہے اپنی بخشی ہوئی ہر نعمت چھین بھی سکتا ہے، اس لئے ہر نعمت پر اس کا کر ادا کریں۔
یہ اسلام کی خاص تعلیمات میں سے ہے اور رسول اللہ ﷺ نے طرح طرح سے اس کی ترغیب اور تعلیم دی ہے، اس تعلیم پر عمل کرنے کا ایک نتیجہ تو یہ ہوتا ہے کہ بندہ ہر حال میں خدا سے وابستہ رہتا ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی مصیبتوں اور ناکامیوں سے شکست نہیں کھاتا اور رنج و غم کے تسلسل سے بھی اس کی جان نہیں گھلتی اور مایوسی اور دل شکستگی اس کی عملی قوتوں کو ختم نہیں کر سکتی۔ اس سلسلے کی رسول اللہ ﷺ کی چند حدیثیں ذیل میں پڑھئے:
شروع صدمہ میں صبر کرنے والے کو رحمت کی بشارت
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : « يَاابْنَ آدَمَ إِنْ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى ، لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ » (رواه ابن ماجه)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے فرزندِ آدم! اگر تو نے شروع صدمہ میں صبر کیا اور میری رضا اور ثواب کی نیت کی، تو میں نہیں راضی ہوں گا کہ جنت سے کم اور اس کے سوا کوئی ثواب تجھے دیا جائے۔ (ابن ماجہ)
تشریح
جب کوئی صدمہ کسی آدمی کو پہنچتا ہے تو اس کا زیادہ اثر ابتدا ہی میں ہوتا ہے، ورنہ کچھ دن گذرنے کے بعد تو وہ اثر خود بخود بھی زائل ہو جاتا ہے، اس لیے صبر دراصل وہی ہے جو صدمہ پہنچنے کے وقت اللہ تعالیٰ کا خیال کر کے اور اس کی رضا اور ثواب کی امید پر کیا جائے، اس کی فضیلت ہے اور اسی پر ثواب کا وعدہ ہے، بعد میں طبعی طور پر جو صبر آ جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔
ابو امامہ ؓ کی اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان فرمایا ہے کہ جو صاحبِ ایمان بندہ کسی صدمہ کے پہنچنے کے وقت اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب کی نیت سے صبر کرے گا تو اللہ اس کو جنت ضرور عطا فرمائے گاس اور جنت کے سوا اور اس سے کم درجہ کی کوئی چیز اس کے صبر کے ثواب میں دینے پر خود خدائے تعالیٰ راضی نہ ہو گا۔ اللہ اکبر! کس قدر کریمانہ انداز ہے، براہِ راست بندہ کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اے ابنِ آدم جب تجھے میرے تقدیری حکم سے کوئی صدمہ پہنچے اور تو اس وقت میری رضا اور ثواب کی امید پر اس صدمہ کا استقبال صبر سے کرے تو تجھے جنت دئیے بغیر میں راضی نہ ہوں گا۔ گویا اس صبر کی وجہ سے بندے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو ایسا خاص تعلق ہو جائے گا کہ اس بندہ کو جنت دئیے بغیر اللہ تعالیٰ راضی اور خوش نہ ہوں گے۔
ف۔۔۔ جب کسی بندہ خدا کو کسی قسم کا کوئی صدمہ پہنچے تو اگر اس وقت اس حدیث کو اور اللہ تعالیٰ کے اس کریمانہ وعدہ کو یاد کر کے صبر کر لے، تو ان شاء اللہ اس صبر میں ایک خاص لذت اور حلاوت ملے گی اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقیناً جنت بھی عطا ہوگی۔