Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 20 of 106

381Maarif-ul-Hadith

جو اپنی مصیبت کسی پر ظاہر نہ کرے اس کیلئے بخشش کا وعدہ ہے

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ مَنْ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ فِىْ مَالِهِ اَوْ فِىْ نَفْسِهِ فَكَتَمَهَا وَلَمْ يَشْكُهَا اِلَى النَّاسِ كَانَ حَقًّا عَلَى اَنْ يَغْفِرَ لَهُ . (رواه الطبرانى فى الاوسط)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ: جو بندہ کسی جانی یا مالی مصیبت میں مبتلا ہو، اور وہ کسی سے اس کا اظہار نہ کرے، اور نہ لوگوں سے شکوہ شکایت کرے تو اللہ تعالیٰ کا ذمہ ہے کہ وہ اس کو بخش دیں گے۔ (معجم اوسط للطبرانی) تشریح صبر کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ اپنی مصیبت اور تکلیف کا کسی سے اظہار بھی نہ ہو اور ایسا صابروں کے لئے اس حدیث میں مغفرت کا پختہ وعدہ کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی بخشش کا ذمہ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان مواعید پر یقین اور ان سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

382Maarif-ul-Hadith

ایک نواسہ کی وفات پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اپنی صاحبزادی کو صبر کی تلقین

عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : أَرْسَلَتْ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ إِنَّ ابْنًا لِي قُبِضَ ، فَأْتِنَا ، فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلاَمَ ، وَيَقُولُ : « إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ ، وَلَهُ مَا أَعْطَى ، وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى ، فَلْتَصْبِرْ ، وَلْتَحْتَسِبْ » ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا ، فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، وَمَعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ ، فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَتَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هَذَا؟ فَقَالَ : « هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ ، فَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی (حضرت زینب ؓ) نے آنحضرت ﷺ کے پاس کہلا کے بھیجا کہ میرے بچے کا آخری دم ہے، اور چل چلاؤ کا وقت ہے، لہذا آپ اس وقت تشریف لے آئیں، آپ نے اس کے جواب میں سلام کہلا کے بھیجا اور پیام دیا کہ بیٹی! اللہ تعالیٰ کسی سے جو کچھ لے وہ بھی اسی کا ہے، اور کسی کو جو کچھ دے وہ بھی اسی کا ہے، الغرض ہر چیز ہر حال میں اُسی کی ہے (اگر کسی کو دیتا ہے تو اپنی چیز دیتا ہے اور کسی سے لیتا ہے تو اپنی چیز لیتا ہے) اور ہر چیز کے لیے اس کی طرف سے ایک مدت اور وقت مقرر ہے (اور اس وقت کے آ جانے پر وہ چیز اس دنیا سے اٹھا لی جاتی ہے) پس چاہئے کہ تم صبر کرو، اور اللہ تعالیٰ سے اس صدمہ کے اجر و ثواب کی طالب بنو۔ صاحبزادی صاحبہ نے پھر آپ کے پاس پیام بھیجا اور قسم دی کہ اس وقت حضور ضرور ہی تشریف لے آئیں، پس آپ اُٹھ کر چل دئیے، اور آپ کے اصحاب میں سے سعد بن عبادہؓ اور معاذ بن جبلؓ اور ابی بن کعبؓ اور زید بن ثابتؓ اور بعض اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ہو لئے، پس وہ بچہ اُٹھا کر آپ کی گود میں دیا گیا، اور اس کا سانس اُکھڑ رہا تھا، اس کے حال کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، اس پر سعد بن عبادہ نے عرض کیا، حضرت یہ کیا؟ آپ نے فرمایا کہ یہ رحمت کے اس جذبہ کا اثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھ دیا ہے، اور اللہ کی رحمت ان ہی بندوں پر ہوگی جن کے دلوں میں رحمت کا یہ جذبہ ہو (اور جن کے دل سخت اور رحمت کے جذبہ سے بالکل خالی ہوں، وہ خدا کی رحمت کے مستحق نہ ہوں گے)۔ تشریح حدیث کے آخری حصے سے معلوم ہوا کہ کسی صدمہ سے دل کا متاثر ہونا اور آنکھوں سے آنسو بہنا صبر کے منافی نہیں، صبر کا مقتضی صرف اتنا ہے کہ بندہ مصیبت اور صدمہ کو اللہ تعالیٰ کی مشیت یقین کرتے ہوئے اس کو بندگی کی شان کے ساتھ انگیز کرے،، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس اور اس کاشاکی نہ ہو اور اس کی مقرر کی ہوئی حدود کا پابند رہے۔ باقی طبعی طور پر دل کا متاثر ہونا اور آنکھوں سے آنسو بہنا تو قلب کی رقت اور اس جذبہ رحمت کا لازمی نتیجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کی فطرت میں ودیعت رکھا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے اور جو دل اس سے خالی ہو وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہِ رحمت سے محروم ہے۔ سعد بن عبادہؓ نے حضور ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھ کر تعجب سے سوال اس لئے کیا کہ اس وقت تک ان کو یہ بات معلوم نہ تھی کہ دل کا یہ تاثر اور آنکھوں سے آنسو گرنا صبر کے منافی نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔

383Maarif-ul-Hadith

معاذ بن جبل کے صاحبزادے کے انتقال پر ان کے نام حضور ﷺ کا نہایت مؤثر اور ایمان آفریں تعزیت نامہ

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّعْزِيَهِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ : « بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، سَلَامٌ عَلَيْكَ ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعْظَمَ اللَّهُ لَكَ الْأَجْرَ ، وَأَلْهَمَكَ الصَّبْرَ ، وَرَزَقَنَا وَإِيَّاكَ الشُّكْرَ ، فَإِنَّ أَنْفُسَنَا وَأَمْوَالَنَا وَأَهْلَنَا مِنْ مَوَاهِبِ اللَّهِ الْهَنِيَّةِ وَعَوَارِيهِ الْمُسْتَوْدَعَةِ ، مَتَّعَكَ اللهُ بِهِ فِي غِبْطَةٍ وَسُرُورٍ ، وَقَبَضَهُ مِنْكَ بِأَجْرٍ كَبِيرٍ ، الصَّلَاةُ وَالرَّحْمَةُ وَالْهُدَى إِنِ احْتَسَبْتَهُ فَاصْبِرْ ، وَلَا يُحْبِطْ جَزَعُكَ أَجْرَكَ فَتَنْدَمَ ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْجَزَعَ لَا يَرُدُّ مَيِّتًا وَلَا يَدْفَعُ حُزْنًا ، وَمَا هُوَ نَازِلٌ فَكَأَنْ قَدْ وَالسَّلَامُ » (رواه الطبرانى فى الكبير والاوسط)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے ایک لڑکے کا انتقال ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو یہ تعزیت نامہ لکھوایا: بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کے رسول محمد (علیہ الصلوۃ والسلام) کی طرف سے معاذ بن جبل کے نام، میں پہلے اُس اللہ کی تم سے حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (بعد ازاں) دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تم کو اس صدمہ کا اجر عظیم دے، اور تمہارے دل کو صبر عطا فرمائے، اور ہم کو اور تم کو نعمتوں پر شکر کی توفیق دے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری جانیں اور ہمارے مال اور ہمارے اہل و عیال یہ سب اللہ تعالیٰ کے مبارک عطیے ہیں اور اس کی سونپی ہوئی امانتیں ہیں (اس اصول کے مطابق تمہارا لڑکا بھی اللہ تعالیٰ کی امانت تھا) اللہ تعالیٰ نے جب تک چاہا خوشی اور عیش کے ساتھ تم کو اس سے نفع اٹھانے اور جی بہلانے کا موقع دیا، اور جب اس کی مشیت ہوئی اپنی اس مانت کو تم سے واپس لے لیا، اور وہ تم کو اس کا بڑا اجر دینے والا ہے، اللہ کی خاص نوازش اور اس کی رحمت اور اس کی طرف سے ہدایت (کی تم کو بشارت ہے) اگر تم نے ثواب اور رضا الہی کی نیت سے صبر کیا۔ پس اے معاذ! صبر کرو، اور ایسا نہ ہو کہ جزع و قزع تمہارے اجر کو غارت کر دے، اور پھر تمہیں ندامت ہو (کہ صدمہ بھی پہنچا اور اجر سے بھی محرومی رہی) اور یقین رکھو کہ جزع و فزع سے کوئی مرنے والا واپس نہیں آتا، اور نہ اس سے دل کا رنج و غم دور ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حکم اترتا ہے وہ ہو کر رہنے والا ہے، بلکہ یقیناً ہو چکا ہے۔ والسلام۔ (معجم کبیر و معجم اوسط) تشریح قرآن مجید میں مصائب پر صبر کرنے والے بندوں کو تین چیزوں کی بشارت دی گئی ہے ارشاد ہے، “ أُولَـٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖوَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ ” (ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص نوازش اور عنایت ہوگی، اور وہ رحمت سے نوازے جائیں گے، اور وہ ہدایت یاب ہوں گے)۔ رسول اللہ ﷺ نے اس تعزیت نامہ میں اسی قرآنی بشارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ “ تم نے ثواب اور رضاء الہی کی نیت سے اس صدمہ پر صبر کیا، تو تمہارے لئے اللہ کی خاص نوازش اور اس کی رحمت اور ہدایت کی بشارت ہے ”۔ ف۔۔۔ رسول اللہ ﷺ کے اس تعزیت نامہ میں ہر اُس صاحب ایمان بندے کے لیے تعزیت و نصیحت اور تسلی تشفی کا پورا سامان ہے، جس کو کوئی صدمہ پہنچے، کاش اپنی مصیبتوں میں ہم رسول اللہ ﷺ کی اس ایمان افروز تعزیت و نصیحت سے سکون حاصل کریں اور صبر و شکر کو اپنا شعار بنائیں۔

384Maarif-ul-Hadith

امت محمدی ﷺ کے صبر و شکر کا سر چشمہ ان کی عقلیت نہیں بلکہ اللہ تعالی کا فضل اور اس کی خاص عطا ہے

عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، قَالَ : يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ إِنِّي بَاعِثٌ بَعْدَكَ أُمَّةً إِنْ أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ حَمِدُوا وَشَكَرُوا ، وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا ، وَلَا حِلْمَ وَلَا عَقْلَ . ، فَقَالَ : يَا رَبِّ كَيْفَ يَكُونُ هَذَا لَهُمْ وَلَا حُلْمٍ وَلَا عَقْلَ؟ ، قَالَ : أُعْطِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی ام الدرداءؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں، مجھ سے میرے شوہر ابو الدرداء نے بیان کیا کہ میں نے رسولِ خدا سے سنا، آپ بیان فرماتے تھے، کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ سے فرمایا کہ اے عیسیٰ! میں تمہارے بعد ایک امت پیدا کروں گا جس کی سیرت یہ ہوگی کہ جب ان کو ان کی چاہت اور خواہش کے مطابق نعمتیں ملیں گی تو وہ جذبہ شکر سے معمور ہو کر اللہ کی حمد و ثنا کریں گے، اور جب اُن پر ناخوشگوار احوال آئیں گے تو وہ صبر سے ان کا استقبال کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کے طالب ہوں گے حالانکہ ان میں (کوئی خاص درجہ کی) بردباری اور دانشمندی نہ ہوگی۔ حضرت عیسیٰؑ نے عرض کیا کہ، جب ان میں بردباری اور دانشمندی نہ ہوگی، تو ان سے خوشحالیوں میں شکر، اور مصائب پر صبر کیونکر ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں ان کو اپنے حلم اور اپنے علم میں سے کچھ حصہ دوں گا۔ (شعب الایمان للبیہقی) تشریح مصیبت میں مایوس، دل شکستہ اور سراسیمہ ہو جانا اور نعمت اور خوشحالی میں مست ہو کر اپنی اصل حقیقت کو اور خدا کو بھی بھول جانا انسانوں کی عام کمزوری ہے، اسی کو قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے: “ إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا ﴿١٩﴾ إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا﴿٢٠﴾ وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا ” اب اگر کسی امت اور کسی گروہ کی سیرت ایسی ہو کہ وہ مصیبتوں میں صابر اور نعمتوں پر شاکر ہو، تو اللہ تعالیٰ کا اس پر خاص فضل ہے، اور یہ اس کا بڑا امتیاز ہے، رسول اللہ ﷺ کے عام صحابہ اور قرون ما بعد کے صلحاء مومنین کو اللہ تعالیٰ نے جو خاص روحانی صفات عطا فرمائیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کو صبر و شکر کی دولت سے بہرہ ور فرمایا، اور ان کے اس صبر و شکر کا سرچشمہ ان کی عقلیت اور علم کی وسعت نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ اس نے اپنے علم و حلم کے کچھ ذرے ان بندوں کو عطا فرما دئیے ہیں، اور یہ صبر و شکر اسی کے ثمرات ہیں۔ جس طرح اس امت کے اور بہت سے امتیازات اور خصائص کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء سابقین سے فرمایا، اسی طرح صبر و شکر میں اس کے امتیاز کا ذکر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا تا کہ انہیں معلوم ہو کہ انسانوں کی روحانی تربیت اور سیرت سازی کا جو کام انہوں نے اور ان سے پہلے اللہ کے پیغمبروں نے کیا اس کی تکمیل ان کے بعد آنے والے اللہ کے پیغمبر کے ذریعہ ہونے والی ہے، اور اس کے نتیجہ میں ایک ایسی امت ظہور میں آنے والی ہے، جو صبر و شکر کے مقام پر فائز ہوگی، اور اللہ تعالیٰ کے علم و حلم سے وہ بہرہ یاب ہوگی۔

385Maarif-ul-Hadith

توکل اور رضا بالقضا

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « يَدْخُلُ الجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، هُمُ الَّذِينَ لاَ يَسْتَرْقُونَ ، وَلاَ يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ میری امت میں سے ستر ہزار بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے وہ، وہ بندگانِ خدا ہوں گے جو منتر نہیں کراتے، اور شگونِ بد نہیں لیتے، اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں۔ (بخاری و مسلم) تشریح ہم انسانوں کو جو حقیقتیں حضرات انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ معلوم ہوئی ہیں، ان میں سے ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ اس کارخانہ ہستی میں جو کچھ ہوتا ہے اور جس کو جو کچھ ملتا یا نہیں ملتا ہے، سب براہِ راست اللہ تعالیٰ کے حکم اور فیصلہ سے ہوتا ہے، اور ظاہری اسباب کی حیثیت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ وہ چیزوں کے ہم تک پہنچنے کے لیے اللہ ہی کے مقرر کئے ہوئے صرف ذریعے اور راستے ہیں، جس طرح کھروں میں پانی جن نلوں کے ذریعہ پہنچتا ہے وہ پانی پہنچانے کے صرف راستے ہیں، پانی کی تقسیم میں ان کا اپنا کوئی دخل اور کوئی حصہ نہیں ہے، اسی طرح عالمِ وجود میں کار فرمائی اسباب کی بالکل نہیں ہے، بلکہ کارفرما اور مؤثر صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کا حکم ہے۔ اس حقیقت پر دل سے یقین کر کے اپنے تمام مقاصد اور کاموں میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد اور بھروسہ کرنا، اسی سے لو لگانا، اسی کی قدرت اور اسی کے کرم پر نظر رکھنا، اسی سے امید یا خوف ہونا اور اسی سے دعا کرنا، بس اسی طرزِ عمل کا نام دین کی اصطلاح میں توکل ہے۔ توکل کی اصل حقیقت بس اتنی ہی ہے۔ ظاہری اسباب و تدابیر کا ترک کر دینا، یہ توکل کے لیے لازم نہیں ہے۔ حضرات انبیاء علیہم السلام خاص کر سید الانبیاء ﷺ اور آپ کے صحابہ کرامؓاور ہر دور کے عارفین کاملین کا توکل یہی تھا، یہ سب حضرات اس کارخانہ ہستی کے اسبابی سلسلے کو اللہ تعالیٰ کے امر و حکم کے ماتحت اور اس کی حکمت کا تقاضا جانتے ہوئے عام حالات میں اسباب کا بھی استعمال کرتے تھے، لیکن دل کا اعتماد اور بھروسہ صرف اللہ ہی کے حکم ہپر ہوتا تھا، اور جیسا کہ عرض کیا گیا وہ اسباب کو اپنی کے نلوں کی طرح صرف ایک ذریعہ ہی جانتے تھے، اور اسی واسطے وہ ان اسباب کے استعمال میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے احکام کی تعمیل کا پورا پورا لحاظ رکھتے تھے، نیز یہ بھی یقین رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ان اسباب کی پابن نہیں ہے، وہ اگر چاہتے تو ان کے بغیر بھی سب کچھ کر سکتا ہے، اور کبھی کبھی وہ اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کا مشاہدہ اور تجربہ بھی کرتے تھے۔ الغرض ترکِ اسباب نہ توکل کی حقیقت میں داخل ہے نہ اس کے لیے شرط ہے، ہاں اگر غلبہ حال سے اللہ کا کوئی صاحب یقین بندہ ترکِ اسباب کر دے تو قابل اعتراض بھی نہیں، بلکہ ان کے حق میں یہی کمال ہی ہو گا، اسی طرح اگر اسباب سے دل کا تعلق توڑنے کے لیے اور بجائے اسباب کے اللہ پر یقین پیدا کرنے کے لیے یا دوسروں کو اس کا مشاہدہ اور تجربہ کرانے کے لیے کوئی بندہ خدا ترکِ اسباب کا رویہ اختیار کر لے، تو یہ بھی بالکل درست ہو گا، لیکن توکل کی اصل حقیقت صرف اسی قدر ہے جو اوپر عرض کی گئی، اور قرآن و حدیث میں اسی کی ترغیب و دعوت دی گئی ہے اور اسی کے حاملین کی مدح و ثنا کی گئی ہے، اور بلا شبہ یہ توکل، ایمان اور توحید کے کمال کا لازمی ثمرہ ہے، جس کو توکل نصیب نہیں یقیناً اس کا ایمان اور اس کی توحید کامل نہیں ہے۔ پھر توکل سے بھی آگے رضا بالقضا کا مقام ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ بندے پر جو بھی اچھے یا بُرے احوال آئیں، وہ یہ یقین کرتے ہوئے کہ ہر حال کا بھیجنے والا میرا مالک ہی ہے، اس کے حکم اور فیصلہ پر دل سے راضی اور شاد رہے، اور راحت و عافیت کے دنوں کی طرح تکلیف و مصیبت کی گھڑیوں میں بھی اس کے خدا آشنا دل کی صدا یہی ہو، کہ: ہر چہ از دوست میرسد نیکوست ان تمہیدی سطروں کے بعد توکل اور رضا بالقضاء کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی چند حدیثیں پڑھئے: تشریح۔۔۔ اس حدیث کا مطلب صحیح طور پر سمجھنے کے لیے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت مبعوث ہوئے اس وقت اہل عرب میں دوسری بہت سی چھوٹی بڑی قابلِ اصلاح برائیوں کے علاوہ یہ دو برائیاں بھی عام طور پر رائج تھیں۔ ایک یہ کہ جب وہ خود یا ان کے بچے کسی بیماری اور دکھ درد میں مبتلا ہوتے، تو اس وقت کے منتر کرنے والوں سے منتر کراتے اور سمجھتے کہ یہ جنتر منتر دکھ اور بیماری کو بھگانے کی ایک آسان تدبیر ہے (اور یہ منتر عموماً جاہلیت کے زمانہ ہی کے تھے) اور دوسرے یہ کہ جب وہ کوئی ایسا کام کرنے کا ارادہ کرتے جس میں نفع اور نقصان، ہار اور جیت دونوں کا احتمال ہوتا تو شگون لیتے اور اگر شگون بُرا نکلتا تو سمجھتے کہ یہ کام ہم کو راست نہیں آئے گا، اس لئے پھر اس کو نہیں کرتے تھے، الغرض شگون کو بھی وہ نقصان سے بچنے کی ایک آسان تدبیر جانتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں چیزوں کی مختلف موقعوں پر مذمت فرمائی اور تعلیم دی کہ بیماری دور کرنے کے لیے منتر نہ کرائے جائیں، اور شگونِ بد لینے اور اس کا اثر قبول کرنے کا یہ طریقہ بھی چھوڑا جائے، اور یقین رکھا جائے کہ بیماری اور تندرستی اور نفع نقصان سب کچھ اللہ ہی کے اختیار میں ہے، لہذا اس پر بھروسہ کیا جائے اور اپنے مقاصد اور ضروریات کے لیے صرف وہی اسباب اور تدابیر استعمال کی جائیں جو اس کی مرضی کے خلاف نہیں ہیں، کیوں کہ اصل کارفرما اور موثر اسباب نہیں ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کا حکم ہے، لہذا کسی مقصد کے لیے ایسے اسباب استعمال کرنا جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، سخت حماقت ہے۔ پس اس حدیث کا مطلب یہی ہے کہ جنت میں بے حساب جانے والے یہ بندگانِ خدا وہ ہوں گے جنہوں نے اللہ پر اعتماد اور بھروسہ کر کے منتر اور شگونِ بد کے ان غلط طریقوں کو چھوڑ دیا۔ بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ سمجھا ہے کہ یہ لوگ اسباب کا استعمال مطلقاً ترک کر کے توکل کرنے والے ہوں گے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے، اگر یہ مقصد ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اس کی صراحت فرماتے، اس موقع پر اسباب میں سے صرف ان ہی دو چیزوں (منتر اور شگونِ بد) کے ذکر کرنے سے (جو کہ شریعت میں خود ہی ممنوع ہیں) صاف معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کا مطلب یہی ہے کہ یہ بندے وہ ہوں گے جو اپنے مقاصد اور ضروریات میں اللہ تعالیٰ ہی پر اعتماد اور بھروسہ کرنے کی وجہ سے اور اسی کی مشیت اور اسی کے حکم کو اصل کار فرما اور مؤثر سمجھنے کے سبب سے اس اسباب کو استعمال نہیں کرتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں۔ پس یہ حدیث خود ہی اس کی دلیل ہے کہ جو اسباب اللہ تعالیٰ نے جن مقاصد کے لیے اپنی حکمت سے مقرر فرمائے ہیں اور شریعت نے ان کی اجازت دی ہے ان کا ترک کر دینا توکل کا مقتضی نہیں ہے، بلکہ صرف ان اسباب اور تدابیر کا ترک کرنا توکل کا اقتضا ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اور شریعت نے جن کو غلط قرار دیا ہے۔ (۱) البتہ توکل کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسباب کو بس ایک راستہ اور اللہ کی حکمت کا پردہ سمجھے اور دل کا تعلق بس اللہ ہی سے ہو، اور یہی چیز متوکل اور غیر متوکل کے طرزِ عمل میں ایک محسوس فرق بھی پیدا کر دیتی ہے۔ اس حدیث میں جنت میں بے حساب داخل ہونے والے رسول اللہ ﷺ کے امتیوں کی تعداد ستر ہزار بتلائی گئی ہے، یہ تعداد صرف ان کی ہے جو اس فضیلت کے درجہ اول میں مستحق ہوں گے، ورنہ ایک دوسری حدیث میں یہ اضافہ بھی آیا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ستر ستر ہزار اور بھی بے حساب ہی جنت میں داخل کئے جائیں گے۔ علاوہ ازیں یہ بات کئی دفعہ ذکر کی جا چکی ہے کہ عربی زبان اور محاورات میں یہ عدد صرف کثرت اور غیر معمولی بہتات کے اظہار کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اور اس حدیث میں بھی غالباً ایسا ہی ہے۔ واللہ اعلم۔ یہ حدیث صرف ایک پیشن گوئی اور آخرت میں پیش آنے والے ایک واقعہ کی صرف خبر ہی نہیں ہے بلکہ حدیث کا اصل منشاء یہ ہے کہ آپ کے جن امتیوں کو یہ حدیث پہنچے وہ اپنی زندگی کو توکل والی زندگی بنانے کی کوشش کریں، تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جنت میں بے حساب داخل ہونے والوں کی فہرست میں ان کا نام بھی چڑھ جائے۔

386Maarif-ul-Hadith

توکل اور رضا بالقضا

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : « لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُوْنَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ ، لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ ، تَغْدُو خِمَاصًا ، وَتَرُوحُ بِطَانًا » (رواه الترمذى وابن ماجه)

حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ارشاد فرماتے تھے، کہ اگر تم لوگ اللہ پر ایسا توکل اور اعتماد کرو جیسا کہ اس پر توکل کرنے کا حق ہے، تو تم کو وہ اس طرح روزی دے جس طرح کہ پرندوں کو دیتا ہے، وہ صبح کو بھوکے اپنے آشیانوں سے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے واپس آتے ہیں۔ (ترمذی، ابن ماجہ) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر بنی آدم روزی کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ پر ایسا اعتماد اور بھروسہ کریں، جیسا کہ انہیں کرنا چاہئے تو اللہ کا معاملہ ان کے ساتھ یہ ہو کہ جس طرح وہ چڑیوں کو سہولت سے رزق دیتا ہے کہ انہیں آدمیوں کی سی محنت و مشقت کے بغیر معمولی نقل و حرکت سے روزی مل جاتی ہے، صبح کو وہ خالی پیٹ نکلتی ہیں اور شام کو پیٹ بھری اپنے آشیانوں میں واپس آتی ہیں، اسی طرح پھر اللہ تعالیٰ آدمیوں کو بھی سہولت سے رزق پہنچائے اور انہیں زیادہ کدوکاش نہ اٹھانی پڑے، جیسا کہ اب اٹھانی پڑتی ہے۔

387Maarif-ul-Hadith

رضا بالقضا کا مطلب

عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنَّ لِقَلْبِ ابْنِ آدَمَ بِكُلِّ وَادٍ شُعْبَةً ، فَمَنِ اتَّبَعَ قَلْبُهُ الشُّعَبَ كُلَّهَا ، لَمْ يُبَالِ اللَّهُ بِأَيِّ وَادٍ أَهْلَكَهُ ، وَمَنْ تَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ كَفَاهُ الشَّعَبَ » (رواه ابن ماجه)

حضرت عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: آدمی کے دل کے لیے ہر میدان میں ایک شاخ ہے (یعنی ہر میدان میں آدمی کے دل کی خواہشیں پھیلی ہوئی ہیں) پس جو آدمی اپنے دل کو ان سب شاخوں اور خواہشوں میں لگا دے گا، اور فکر کے گھوڑے ہر طرف دوڑائے گا تو اللہ کو پروا نہ ہوگی، کہ کسی وادی اور کس میدان میں اس کی ہلاکت ہو، اور جو آدمی اللہ پر بھروسہ کرے (اور اپنی حاجتیں اس کے سپرد کر دے، اور اپنی زندگی کو اس کا تابع فرمان بنا دے) تو اللہ تعالیٰ اس کی ساری ضرورتوں کے لئے کفایت کرے گا (اور اس کو دل کے اطمینان و سکون کی وہ دولت نصیب ہوگی جو اس دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے)۔ تشریح حدیث کا نفس مطلب ترجمہ کے ساتھ واضح کیا جا چکا ہے، حاصل اور اصل پیغام اس حدیث کا یہ ہے کہ بندہ اپنی ساری ضروریات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے، اور اس پر توکل اور اعتماد کرے، اور اس کے احکام کا پابند ہو کر زندگی گزارے، اور دنیوی ضرورتوں کے سلسلہ میں اپنی جدو جہد کو بھی اس کے احکام کے تحت کر دے، پھر اللہ اس کے لیے کافی ہو گا اور وہی اس کی ضرورتیں پوری کرتا رہے گا۔

388Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ ﷺ کی وصیت کہ اپنی ضرورتوں کیلئے صرف اللہ پر نظر رکھو اور اسی سے اپنی حاجتیں طلب کرو

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَقَالَ : يَا غُلاَمُ احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ ، احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ ، وَاعْلَمْ أَنَّ الأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلاَّ بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ ، وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلاَّ بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ ، رُفِعَتِ الأَقْلاَمُ وَجَفَّتْ الصُّحُفُ . (رواه احمد والترمذى)

حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک ہی سواری پر آپ کے پیچھے سوار تھا کہ آپ نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، اے لڑکے تو اللہ تعالیٰ کا خیال رکھ (یعنی اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے حقوق کی ادائیگی سے غافل نہ ہو) اللہ تعالیٰ تیرا خیال فرمائے گا، اور دنیا و آخرت کی آفات و بلیات سے تیری حفاظت کرے گا، تو اللہ کو یاد رکھ، جیسا کہ یاد رکھنا چاہئے، اس کو تو اپنے سامنے پائے گا، اور جب تو کسی چیز کو مانگنا چاہے تو بس اللہ سے مانگ، اور جب کسی ضرورت اور مہم میں تو مدد کا محتاج اور طالب ہو تو اللہ ہی سے امداد و اعانت طلب کر، اور اس بات کو دل میں بٹھا لے کہ اگر ساری انسانی برادری بھی باہم متفق ہو کر اور جڑ کر چاہے کہ تجھ کو کسی چیز سے نفع پہنچائے تو صرف اسی چیز سے تجھ کو نفع پہنچا سکے گی جو اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے مقدر کر دی ہے، اس کے سوا کسی چیز سے نہیں اور اسی طرح اگر ساری انسانی دنیا تجھ کو کسی چیز سے نقصان پہنچانا چاہے تو صرف اسی چیز سے نقصان پہنچا سکے گی جس سے نقصان پہنچنا اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی تیرے لئے مقدر کر دیا ہے، اس کے سوا کسی چیز سے تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جا سکے گا، اُٹھ چکے قلم اور خشک بھی ہو چکے صحیفے۔ (مسند احمد و جامع ترمذی) تشریح حدیث کا مطلب و منشاء اور اس کی روح یہی ہے کہ ہر قسم کا نفع و نقصان اور دکھ آرام صرف اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے، اس کے سوا کسی کے بس میں کچھ بھی نہیں، حتی کہ اگر ساری دنیا کے انسان مل کر کسی بندہ کو کوئی نفع یا نقصان یا دکھ یا آرام پہنچانا چاہیں تب بھی اللہ کے حکم اور اس کے فیصلے کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے، وجود میں وہی آئے گا اور وہی ہو گا جس کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے، اور قلم تقدیر جس کو اب سے بہت پہلے لکھ کر فارغ ہو چکا ہے، اور اس کی تحریر خشک بھی ہو چکی ہے۔ ایسی صورت میں اپنی حاجات کے لیے کسی مخلوق سے سوال کرنا اور اس سے مدد مانگنا صرف نادانی اور گمراہی ہے۔ لہذا جو مانگنا ہو اللہ وے مانگو اور اپنی حاجات کے لیے اسی کے آگے ہاتھ پھیلاؤ، اور اس سے لینے کی صورت یہ ہے کہ اس کو اور اس کے احکام و حقوق کو یاد رکھو، وہ تمہیں یاد رکھے گا اور تمہاری ضرورتیں پوری کرے گا، اور دنیا و آخرت میں تم پر فضل فرمائے گا۔ چونکہ کتاب الایمان میں تقدیر کے بیان میں پوری وضاحت اور تفصیل سے بتلایا جا چکا ہے کہ “ تقدیر ” کا مطلب کیا ہے، اور تقدیر کو ماننے کے باوجود عمل اور تدبیر کی ضرورت کیوں ہے، اس لیے اس شبہ اور وسوسہ کے متعلق یہاں کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ ناظرین میں سے اگر کسی کو اس بارے میں خلجان ہو تو معارف الحدیث حصہ اول میں تقدیر کا بیان پڑھ لیا جائے۔

389Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ ﷺ کی وصیت کہ اپنی ضرورتوں کیلئے صرف اللہ پر نظر رکھو اور اسی سے اپنی حاجتیں طلب کرو

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنْ شَيْءٍ يُقَرِّبُكُمْ اِلَى الْجَنَّةِ , وَيُبَاعِدُكُمْ مِنَ النَّارِ إِلَّا قَدْ أَمَرْتُكُمْ بِهِ , وَلَيْسَ شَيْءٌ يُقَرِّبُكُمْ مِنَ النَّارِ , وَيُبَاعِدُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا قَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ , وَأَنَّ الرُّوحَ الْأَمِينَ (وَإِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ) نَفَثَ فِي رُوعِيَ أَنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا , اَلَا فَاتَّقُوا اللهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ , وَلَا يَحْمِلَنَّكُمُ اسْتِبْطَاءُ الرِّزْقِ أَنْ تَطْلُبُوهُ بِمَعَاصِي اللهِ , فَإِنَّهُ لَا يُدْرَكُ مَا عِنْدَ اللهِ إِلَّا بِطَاعَتِهِ " (رواه البغوى فى شرح السنة والبيهقى فى شعب الايمان)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اے لوگو! نہیں ہے کوئی چیز ایسی جو جنت سے تم کو قریب اور دوزخ سے تم کو بعید کرے، مگر اس کا حکم میں تم کو دے چکا ہوں، اور اسی طرح نہیں ہے کوئی چیز ایسی جو دوزخ سے تم کو قریب اور جنت سے بعید کرے، مگر میں تم کو اس سے منع کر چکا ہوں (یعنی کوئی نیکی اور ثواب کی بات ایسی باقی نہیں رہی جس کی تعلیم میں نے تم کو نہ دے دی ہو، اور کوئی بدی اور گناہ کی بات ایسی نہیں رہی جس کی میں نے تم کو ممانعت نہ کر دی ہو، اس طرح اوامر و نواہی کی پوری تعلیم میں تم کو دے چکا ہوں، اور اللہ کے تمام مثبت و منفی احکام جو مجھے ملے تھے وہ میں تم کو پہنچا چکا ہوں) اور الروح الامین نے اور ایک روایت میں ہے کہ روح القدس نے (اور دونوں سے مراد جبرئیل امین ہیں) ابھی میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے (یعنی اللہ کی طرف سے یہ وحی پہنچائی ہے) کہ کوئی متنفس اس وقت تک نہیں مرتا جب تک کہ اپنا رزق پورا نہ کر لے (یعنی ہر شخص کو اس کے مرنے سے پہلے اس کا مقدر رزق ضرور بالضرور مل جاتا ہے، اور جب تک رزق پورا نہ ہو جائے اُس کو موت آ ہی نہیں سکتی ہے) لہذا اے لوگو! خدا سے ڈرو اور تلاشِ رزق کے سلسلہ میں نیکی اور پرہیزگاری کا رویہ اختیار کرو، اور روزی میں کچھ تاخیر ہو جانا تمہیں اس پر آمادہ نہ کر دے کہ تم اللہ کی نافرمانیوں اور نامشروع طریقوں سے اس کے حاصل کرنے کی فکر و کوشش کرنے لگو، کیوں کہ جو کچھ اللہ کے قبضہ میں ہے وہ اس کی فرمانبرداری اور اطاعت گذاری ہی کے ذریعہ اس سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ (شرح السنۃ، شعب الایمان للبیہقی) تشریح حدیث کا ابتدائی حصہ صرف تمہید ہے، رسول اللہ ﷺ اس موقع پر دراصل وہی خاص بات اپنے مخاطبین کو بتلانا اور پہنچانا چاہتے تھے جو جبرئیل امینؑ نے اُس وقت آپ کے دل میں ڈالی تھی، لیکن مخاطبین کے ذہنوں کو پوری طرح متوجہ کرنے کے لیے آپ نے پہلے ارشاد فرمایا کہ لوگو! حلال و حرام اور گناہ و ثواب کی پوری تعلیم میں تم کو دے چکا ہوں، اب ایک اہم تکمیلی بات جو ابھی جبرئیل امین نے مجھے پہنچائی ہے، میں تم کو بتانا چاہتا ہوں۔ اس تمہید کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے اپنے مخاطبین کے ذہنوں کو بیدار اور متوجہ کیا اور اس کے بعد وہ خاص بات ارشاد فرمائی، جس کا حاصل یہ ہی ہے کہ ہر شخص کا رزق مکتوب اور مقدر ہو چکا ہے، وہ مرنے سے پہلے پہلے اس کو مل کر رہے گا، اور جب معاملہ یہ ہی ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ اگر روزی میں کچھ تنگی اور تاخیر بھی ہو جب بھی وہ اس کے حاصل کرنے کے لیے کوئی ایسا قدم نہ اُٹھائے جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف ہو، اور بس میں اس کی نافرمانی ہوتی ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رزاقیت پر یقین رکھتے ہوئے صرف حلال اور مشروع طریقوں ہی سے اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرے کیوں کہ اللہ کا فضل و انعام اس کی فرمانبرداری اور اطاعت شعاری ہی کے راستہ سے حاصل کی جا سکتا ہے۔ اس کو ایک جزئی مثال کے انداز میں آسانی سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ فرض کیجئے اللہ کا کوئی بندہ تنگدستی میں مبتلا ہے اور اس کو اپنا پیٹ بھرنے کے لئے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے، اس موقع پر وہ ایک شخص کو دیکھتا ہے کہ وہ سو رہا ہے، شیطان اس کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ اس سونے والے شخص کی کوئی چیز اٹھا لے اور ابھی ہاتھ کے ہاتھ بیچ کی روزی حاصل کر لے، ایسے وقت کے لئے رسول اللہ ﷺ کی یہ تعلیم ہے کہ یقین رکھو جو روزی تم کو پہنچنے والی ہے وہ پہنچ کر رہے گی، پھر کیوں چوری کر کے اپنے اللہ کو ناراض، اپنے ضمیر اور اپنی روح کو ناپاک، اور اپنی عاقبت کو خراب کرتے ہو، بجائے چوری کرنے کے کسی حلال اور جائز ذریعہ سے روزی حاصل کرنے کی کوشش کرو، حلال کا میدا ہرگز تنگ نہیں ہے۔

390Maarif-ul-Hadith

ایک صحابی اور ان کی بیوی نے سخت حاجتمندی کے وقت اللہ تعالی سے رزق کی دعا کی اور ان کو اسی وقت خزانہ غیب سے رزق ملا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى أَهْلِهِ ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ ، خَرَجَ إِلَى الْبَرِيَّةِ ، فَلَمَّا رَأَتِ امْرَأَتُهُ قَامَتْ إِلَى الرَّحَى ، فَوَضَعَتْهَا ، وَإِلَى التَّنُّورِ فَسَجَرَتْهُ ، ثُمَّ قَالَتْ : اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا فَنَظَرَتْ فَإِذَا الْجَفْنَةُ قَدِ امْتَلَأَتْ . قَالَ : وَذَهَبَتْ إِلَى التَّنُّورِ فَوَجَدَتْهُ مُمْتَلِئًا . قَالَ : فَرَجَعَ الزَّوْجُ ، قَالَ : أَصَبْتُمْ بَعْدِي شَيْئًا؟ قَالَتِ امْرَأَتُهُ : نَعَمْ مِنْ رَبِّنَا . وَقَامَ إِلَى الرَّحَى . فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : « أَمَا أَنَّهُ لَوْ لَمْ يَرْفَعْهَا ، لَمْ تَزَلْ تَدُورُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ » (رواه احمد)

حضرت ابو رہریرہ ؓ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ (رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں) اللہ کا ایک بندہ اپنے اہل و عیال کے پاس پہنچا جب اس نے ان کو فقر و فاقہ کی حالت میں دیکھا تو (الحاح کے ساتھ اللہ سے دعا کرنے کے لئے) جنگل کی طرف چل دیا، جب اس کی نیک بیبی نے دیکھا (کہ شوہر اللہ تعالیٰ سے مانگنے کے لئے گئے، تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر بھروسہ کر کے اس نے تیاری شروع کر دی) وہ اٹھ کر چکی کے پاس آئی اور اس کو تیار کیا (تا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کہیں سے کچھ غلہ آئے تو جلدی سے اس کو پیسا جا سکے) پھر وہ تنور کے پاس گئی اور اس کو گرم کیا (تا کہ آتا پس جانے کے بعد پھر روٹی پکانے میں دیر نہ لگے) پھر اس نے خود بھی دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ اے مالک ہمیں رزق دے۔ اب اس کے بعد اس نے دیکھا کہ چکی کے گردا گرد آٹے کے لئے جو جگہ بنی ہوتی ہے (جس کو چکی کا گرانڈ اور کہیں کہیں چکی کی بھِر بھی کہتے ہیں) وہ آٹے سے بھری ہوئی ہے، پھر وہ تنور کے پاس گئی تو دیکھا کہ تنور بھی روٹیوں سے بھرا ہوا ہے (اور جتنی روٹیاں اس میں لگ سکتی ہیں، لگی ہوئی ہیں) اس کے بعد اس بیوی کے شوہر واپس آئے اور بیوی سے پوچھا کہ میرے جانے کے بعد تم نے کچھ پایا؟ بیوی نے بتایا کہ ہاں ہمیں اپنے پروردگار کی طرف سے ملا ہے (یعنی براہِ راست خزانہ غیب سے اس طرح ملا ہے) یہ سُن کر یہ بھی چکی کے پاس گئے (اور اس کو اٹھا کر دیکھا یعنی تعجب اور شوق میں غالباً اس کا پاٹ اٹھا کر دیکھا) پھر جب یہ ماجرا رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ معلوم ہونا چاہئے کہ اگر یہ اس کو نہ اُٹھا کر نہ دیکھتے تو چکی قیامت تک یوں ہی چلتی رہتی اور اس سے ہمیشہ آٹا نکلتا رہتا۔ (مسند احمد) تشریح اس روایت میں جو واقعہ نقل کیا گیا ہے وہ خوارق کے قبیل سے ہے، اس دنیا میں عام طور سے اللہ تعالیٰ کی عطائیں اسباب ہی کے سلسلہ سے ملتی ہیں، لیکن کبھی کبھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ تماشا بھی ظہور میں آتا ہے کہ عالمِ اسباب کے عام دستور کے خلاف براہِ راست اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ایسے واقعات ظاہر ہوتے ہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے، اس کے لئے یہ کچھ بھی مشکل نہیں۔ پھر اس قسم کے واقعات اگر اللہ کے کسی پیغمبر کے ہاتھ پہ ظاہر ہوں تو ان کو معجزہ کہا جاتا ہے، اور اگر ان کے کسی متبع اُمتی کے ہاتھ پہ ایسے واقعہ کا ظہور ہو، تو اس کو کرامت کہا جاتا ہے۔ ان دونوں میاں بیوی نے اللہ تعالیٰ پر پوری طرح یقین کر کے اس سے روزی مانگی تھی، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو اس طرح قبول کیا کہ خارقِ عادت طریقہ سے ان کے لئے روزی کا سامان بھیجا، غیب سے چکی میں آ گیا اور تنور میں روٹیاں لگ گئیں۔ جو لوگ یقین اور توکل کی دولت سے محروم اور اللہ کی قدرت کی وسعتوں سے نا آشنا ہیں ان کے دلوں میں شاید اس قسم کی روایت پر شبہات اور وساوس پیدا ہوتے ہوں لیکن اللہ کے جن بندوں کو یقین و توکل اور اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت کا کچھ حصہ ملا ہے، اُن کے لیے تو ایسے واقعات میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے “ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ” (سورہ طلاق) اور جو کوئی اللہ پر توکل کرے (جیسا کہ توکل کا حق ہے) تو اللہ اس کے لئے اور اس کے کام بنانے کے لئے کافی ہے۔

391Maarif-ul-Hadith

اللہ کے فیصلوں پر دل سے راضی رہنا بندے کی سعادت و خوش نصیبی ہے اور ناراض رہنا شقاوت و بدبختی ہے

عَنْ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ رِضَاهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ ، وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ تَرْكُهُ اسْتِخَارَةَ اللهِ ، وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ سَخَطُهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ . (رواه احمد والترمذى)

حضرت سعد ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: آدمی کی نیک بختی اور خوش نصیبی میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لئے جو فیصلہ ہو وہ اُس پر راضی رہے، اور آدمی کی بدبختی اور بدنصیبی میں سے یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے خیر اور بھلائی کا طالب نہ ہو اور اس کی بدنصیبی اور بدبختی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے ناخوش ہو۔ (مسند احمد، جامع ترمذی) تشریح اللہ کے فیصلہ اور اس کی تقدیر سے بعض اوقات بندہ پر ایسے حالات آتے ہیں جو اُس کی طبیعت اور چاہت کے خلاف ہوتے ہیں، ایسے موقع پر بندہ کی سعادت اور نیک بختی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علیم کل اور حکیم مطلق اور رؤف بالعباد یقین کرتے ہوئے اُس کے فیصلہ پر راضی رہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے “ عَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ” (ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو برا سمجھو اور حقیقت اور انجام کے لحاظ سے اس میں تمہارے لئے بہتری ہو، اور اسی طرح ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسن کرو اور چاہو اور حقیقت اور انجام کے لحاظ سے اس میں تمہارے لئے برائی اور خرابی ہو، علمِ حقیقی ٓصرف اللہ کو ہے، اور تم بے خبر ہو) دوسری بات اس حدیث میں یہ فرمائی گئی ہے کہ بندہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے برابر یہ دعا کرتا رہے کہ اس کے نزدیک بندہ کے لئے جو خیر ہو اُسی کا اس کے لئے فیصلہ کیا جائے حضور نے فرمایا بندہ کا اپنے لئے اللہ تعالیٰ سے خیر نہ مانگنا بندہ کی بڑی بدنصیبی اور بدبختی ہے۔ اسی طرح یہ بھی بدبختی اور بدنصیبی ہے کہ بندہ اللہ کی قضا و قدر اور اس کے فیصلوں سے ناخوش اور ناراض ہو۔ ظاہر ہے کہ “ رضا بالقضا ” کا یہ مقام بندہ کو جب ہی حاصل ہو سکتا ہے جب کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی اُن صفات کمال و جمال پر پورا پورا ایمان و یقین حاصل ہو جو قرآن مجید نے اور رسول اللہ ﷺ نے بتلائی ہیں، اور پھر اس معرفت اور اس ایمان و یقین کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں رچ بس گئی ہو۔ ایمان و محبت کے اس مقام پر پہنچ جانے کے بعد بندہ کے دل کی صدا یہ ہوتی ہے ؎ زندہ کنی عطائے تو ور بکشی فدائے تودل شدہ مبتلائے تو ہر چہ کنی رضائے تو

392Maarif-ul-Hadith

اخلاص کی حقیقت اور اس کی اہمیت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ »

حضرت ابو رہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، و لیکن تمہارے دلوں اور تمہارے عملوں کو دیکھتا ہے ”۔ (صحیح مسلم) تشریح اخلاص و للہیت اور نام و نمود رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ انسانی دنیا کو اخلاق حسنہ کی جو تعلیم و ہدایت ملی ہے، اس عاجز کے نزدیک اُس کی تکمیل اخلاص و للہیت کی تعلیم سے ہوتی ہے۔ یعنی اخلاص و للہیت کتابِ اخلاق کا آخری تکمیلی سبق اور روحانی و اخلاقی بلندی کا آخری زینہ ہو۔ اس اخلاص و للہیت کا مطلب یہ ہے کہ ہر اچھا کام یا کسی کے ساتھ اچھا برتاؤ صرف اس لئے اور اس نیت سے کیا جائے کہ ہمارا خالق و پروردگار ہم سے راضی ہو، ہم پر رحمت فرمائے اور اس کی ناراضی اور غضب سے ہم محفوظ رہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بتایا ہے کہ تمام اچھے اعمال و اخلاق کی روح اور جان یہی اخلاصِ نیت ہے۔ اگر بظاہر اچھے سے اچھے اعمال و اخلاق اس سے خالی ہوں اور اُن کا مقصد رضاءِ الہٰی نہ ہو، بلکہ نام و نمود یا اور کوئی ایسا ہی جذبہ ان کا محرک اور باعث ہو تو اللہ کے نزدیک ان کی کوئی قیمت نہیں اور اُن پر کوئی ثواب ملنے والا نہیں۔ اسی کو دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کا ثواب جو اعمالِ صالحہ اور اخلاقِ حسنہ کا اصل صلہ اور نتیجہ ہے اور جو انسانوں کا اصل مطلوب و مقصود ہونا چاہئے وہ صرف اعمال و اخلاق پر نہیں ملتا بلکہ جب ملتا ہے جب کہ ان اعمال و اخلاق سے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور اُخروی ثواب کا ارادہ بھی کیا گیا ہو، اور وہی ان کے لیے اصل محرک ہو۔ اور ایسا ہی ہونا بھی چاہئے، اپنے معاملات میں خود ہمارا بھی یہی اصول ہے۔ فرض کیجئے کوئی شخص آپ کی بڑی خدمت کرتا ہے، آپ کو ہر طرح آرام پہنچانے اور خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن پھر کسی ذریعہ سے آپ کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اُسے آپ کے ساتھ کوئی خلوص نہیں ہے بلکہ اُس کا یہ برتاؤ اپنی فلاں ذاتی غرض کے لئے ہے ک، یا آپ کے کسی دوست یا عزیز قریب سے وہ اپنا کوئی کام نکالنا چاہتا ہے اور صرف اس کے دکھاوے کے لئے آپ کے ساتھ اُس کا یہ برتاؤ ہے، تو پھر آپ کے دل میں اُس کی اور اس کے اس برتاؤ کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہتی۔ بس یہی معاملہ اللہ تعالیٰ کا ہے، فرق اتنا ہے کہ ہم دوسروں کے دلوں کا حال نہیں جانتے، اور اللہ تعالیٰ سب کے دلوں اور اُن کی نیتوں کا حال جانتا ہے، پس اُس کے جن بندوں کا یہ حال ہے کہ وہ اُس کی خوشنودی اور رحمت کی طلب میں اچھے اعمال کرتے ہیں وہ ان کے ان اعمال کو قبول کر کے ان سے راضی ہوتا ہے اور ان پر رحمتیں نازل کرتا ہے، اور آخرت جو دار الجزا ہے اس میں اُس کی اس رضا اور رحمت کا پورا ظہور ہو گا۔ اور جو لوگ اچھے اعمال و اخلاق کا مظاہرہ دنیا والوں کی داد و تحسین اور نیک نامی و شہرت طلبی کے لئے یا ایسے ہی دوسرے اغراض و مقاصد کے لئے کرتے ہیں اُن کو یہ دوسرے مقاصد چاہے دنیا میں حاصل ہو جائیں لیکن وہ اللہ کی رضا اور رحمت سے محروم رہیں۔ اور ان کی اس محرومی کا پورا پورا ظہور بھی آخرت میں ہی ہو گا۔ اس باب میں اصل بنیاد تو رسول اللہ ﷺ کی مشہور حدیث “ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ” الحدیث ہے، جو حصہ اول کے بالکل شروع میں درج ہو چکی ہے اور وہیں اس کی تشریح بھی بسط و تفصیل سے کی جا چکی ہے، اس لئے یہاں اُس کے اعادہ کی ضرورت نہیں، اب اُس کے علاوہ اس سلسلہ کی دوسری چند حدیثیں یہاں درج کی جارہی ہیں، اور ان ہی حدیثوں پر یہ جلد دوم ختم ہو رہی ہے۔ تشریح۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبولیت کا معیار کسی کی شکل و صورت یا اُس کی دولت مندی نہیں ہے، بلکہ دل کی درستی اور نیک کرداری ہے، وہ کسی بندے کے لیے رضا اور رحمت کا فیصلہ اُس کی شکل و صورت یا اس کی دولت مندی کی بنیاد پر نہیں کرتا، بلکہ اس کے دل یعنی اس کی نیت کے صحیح رُخ اور اس کی نیک کرداری کی بنیاد پر کرتا ہے۔ بلکہ اس حدیث کی بعض رواویتوں میں بجائے مذکورہ بالا الفاظ کے یہ الفاظ ہیں: إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى اَجْسَادِكُمْ وَلَا اِلَى صُوَرِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ (جمع الفوائد ج 2 ص 160) “ اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں اور تمہارے صرف ظاہری اعمال کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے ”۔ یہ الفاظ اس حقیقت کے ادا کرنے کے لیے زیادہ واضح اور زیادہ صریح ہیں کہ مقبولیت کا اصل دارو مدار دل کے رخ کی صحت یعنی نیت کی درستی پر ہے، پس اگر کسی شخص کا عمل بظاہر اچھے سے اچھا ہو لیکن اس کا دل اخلاص سے خالی ہو، اور اس کی نیت درست نہ ہو، تو وہ عمل ہرگز قبول نہ ہو گا۔

393Maarif-ul-Hadith

اخلاص کی برکت اور تاثیر و طاقت

عَنْ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَمَا ثَلاَثَةُ نَفَرٍ يَتَمَاشَوْنَ ، أَخَذَهُمُ المَطَرُ ، فَمَالُوْا إِلَى غَارٍ فِي الْجَبَلِ ، فَانْحَطَّتْ عَلَى فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ ، فَاطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : انْظُرُوا أَعْمَالًا عَمِلْتُمُوهَا لِلَّهِ صَالِحَةً ، فَادْعُوا اللَّهَ بِهَا لَعَلَّهُ يُفَرِّجُهَا ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ : اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ ، وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ ، كُنْتُ أَرْعَى عَلَيْهِمْ ، فَإِذَا رُحْتُ عَلَيْهِمْ فَحَلَبْتُ ، بَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ أَسْقِيهِمَا قَبْلَ وُلْدِىْ ، وَاَنَّهُ قَدْ نَآئ بِىَ الشَّجَرُ فَمَا اَتَيْتُ حَتَّى أَمْسَيْتُ ، فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا ، فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ ، فَجِئْتُ بِالْحِلَابِ فَقُمْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا أَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا ، وَأَكْرَهُ أَنْ اَبْدَأَ بِالصَّبِيَّةِ قَبْلَهُمَا ، وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ دَأْبِي وَدَأْبَهُمْ حَتَّى طَلَعَ الفَجْرُ ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ . فَفَرَجَ اللَّهُ لَهُمْ حَتَّى يَرَوْنَ السَّمَاءَ . قَالَ الثَّانِي : اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَتْ لِي بِنْتُ عَمٍّ أُحِبُّهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ ، فَطَلَبْتُ إِلَيْهَا نَفْسَهَا ، فَأَبَتْ حَتَّى آتِيَهَا بِمِائَةِ دِينَارٍ ، فَسَعَيْتُ حَتَّى جَمَعْتُ مِائَةَ دِينَارٍ فَلَقِيتُهَا بِهَا ، فَلَمَّا قَعَدْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا قَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ ، وَلاَ تَفْتَحِ الخَاتَمَ ، فَقُمْتُ عَنْهَا ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَاَخْرِجْ لَنَا مِنْهَا . فَفَرَّجَ لَهُمْ فُرْجَةً . وَقَالَ الآخَرُ : اللَّهُمَّ إِنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقِ أَرُزٍّ ، فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ قَالَ : أَعْطِنِي حَقِّي ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَقَّهُ فَتَرَكَهُ وَرَغِبَ عَنْهُ ، فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيَهَا ، فَجَاءَنِي فَقَالَ : اتَّقِ اللَّهَ وَلاَ تَظْلِمْنِي وَأَعْطِنِي حَقِّي ، فَقُلْتُ : اذْهَبْ إِلَى البَقَرِ وَرَاعِيهَا ، فَقَالَ : اتَّقِ اللَّهَ وَلاَ تَهْزَأْ بِي ، فَقُلْتُ : إِنِّي لاَ أَهْزَأُ بِكَ ، فَخُذْ ذَلِكَ البَقَرَ وَرَاعِيَهَا ، فَأَخَذَهُ فَانْطَلَقَ بِهَا ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ ، فَاَفْرِجْ مَا بَقِيَ . فَفَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُمْ " (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ: “ تین آدمی کہیں چلے جا رہے تھے کہ اُن کو مینہ (بارش) نے آ لیا، وہ پہاڑ کے ایک غار میں گھس گئے، پہاڑ سے غار کے منہ پر ایک پتھر کی چٹان آ پڑی اور غار کو بند کر دیا، تینوں میں سے ایک نے دوسروں سے کہا، اپنے اُن نیک عملوں پر نظر ڈالو جو خاص طور پر خدا کے لئے کئے ہوں، اور اُس عمل کے وسیلہ سے خدا سے دعا مانگو، اُمید ہے کہ خدا وند تعالیٰ اس پتھر یا اس مصیبت کو دور کر دے۔ ایک نے ان میں سے کہا اے اللہ! میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے اور میرے کئی چھوٹے بچے تھے، میں بکریاں وغیرہ چرایا کرتا تھا کہ ان کا دودھ ان سب کو پلاؤں جب شام ہو جاتی تو میں گھر آتا دودھ دوہتا اور سب سے پہلے اپنے ماں باپ کو پلاتا پھر بچوں کو دیتا، ایک روز ایسا اتفاق ہوا کہ چراگاہ کے درخت مجھ کو دُور لے گئے (یعنی بکریوں کو چراتا چراتا میں دور نکل گیا) اور وقت پر میں گھر واپس نہ آ سکا یہاں تک کہ شام ہو گئی، جب گھر پہنچا تو دیکھا کہ میرے ماں باپ دونوں سو گئے ہیں، میں نے حسب معمول دودھ دوہا پھر دودھ کا برتن لے کر ماں باپ کے پاس پہنچا، اور اُن کے سرہانے کھڑا ہوگیا، مجھ کو اُن کو جگانا بھی بُرا معلوم ہوا، اور یہ بھی کہ ماں باپ سے پہلے بچوں کو دودھ پلا دوں، بچے میرے پاؤں کے پاس پڑے بھوک سے روتے اور چلاتے تھے، اور میں دودھ لئے کھڑا تھا، صبح تک یہی کیفیت رہی یعنی میں دودھ لئے کھڑا رہا، اور بچے روتے رہے، اور ماں باپ پڑے سوتے رہے، اے اللہ! تو جانتا ہے کہ اگر میں میں نے یہ کام محض تیری رضا مندی اور خوشنودی کے لئے کیا تھا تو تو اس پتھر کو اتنا کھول دے کہ ہم آسمان کو دیکھ سکیں، چنانچہ خداوند تعالیٰ نے پتھر کو اتنا ہٹا دیا کہ آسمان نظر آنے لگا۔ دوسرے شخص نے کہا اے اللہ! میرے چچا کی ایک بیٹی تھی میں اُس سے انتہائی محبت رکھتا تھا، ایسی محبت جیسی کسی مرد کو کسی عورت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ہو سکتی ہے، میں نے اُس سے جماع کی خواہش ظاہر کی، اُس نے کہا کہ جب تک سو اشرفی نہ دو گے ایسا نہیں ہو سکتا، میں نے کوشش شروع کی، اور سو اشرفیاں جمع کر لیں، اور اُن کو لیکر میں اُس کے پاس پہنچا، پھر جب میں اُس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا (یعنی جماع کے لئے) تو اُس نے کہا کہ اے خدا کے بندے خدا سے ڈر اور مُہر کو نہ توڑ! میں خدا کے خوف سے فوراً اٹھ کھڑا ہوا (یعنی اُس سے جماع نہیں کیا) اے اللہ! اگر تیرے نزدیک میرا یہ فعل محض تیری رضا مندی اور خوشنودی کے لئے تھا تو اس پتھر کو ہٹا دے اور ہمارے لئے راستہ کھول دے، خداوند تعالیٰ نے پتھر کو تھوڑا سا اور ہٹا دیا۔ تیسرے شخص نے کہا اے اللہ! میں نے ایک شخص کو مزدوری پر لگایا تھا، ایک فرق (پیمانہ) چاول کے معاوضہ پر، جب وہ شخص اپنا کام ختم کر چکا تو کہا میری مزدوری مجھ کو دلوائیے؟ میں اُس کی مزدوری دینے لگا تو وہ اس کو چھوڑ کر چلا گیا، اور پھر اپنے حق کو لینے کے لئے نہ آیا، تو میں نے اس کی مزدوری کے چاولوں سے کاشت شروع کر دی، اور ہمیشہ کاشت کرتا رہا، یہاں تک کہ اُن چاولوں کی قیمت سے میں نے بہت سے بیل اور اُن کے چرواہے جمع کر لئے۔ پھر مدت کے بعد وہ مزدور میرے پاس آیا اور کہا، خدا سے ڈر اور مجھ پر ظلم نہ کر، اور میرا حق میرے حوالہ کر، میں نے کہا کہ ان بیلوں اور چرواہوں کو لے جا (کہ وہ تیرا حق ہے) اُس نے کہا خدا سے ڈر اور مجھ سے مذاق نہ کر، میں نے کہا کہ میں تجھ سے مذاق نہیں کرتا، ان بیلوں اور چرواہوں کو لے جا، یہ سب تیرے ہی ہیں، چنانچہ اُس نے اُن سب کو جمع کیا اور لے کر چلا گیا۔ اے اللہ! اگر تیرے نزدیک میرا یہی فعل محض تیری خوشنودی اور رضا مندی کے لئے تھا، تو تو اس پتھر کو بالکل ہٹا دے، چنانچہ خداوند تعالیٰ نے پتھر کو ہٹا دیا اور راستہ کھول دیا ”۔ تشریح رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں تین صاحبوں کا قصہ بیان فرمایا ہے، بظاہر کسی اگلے پیغمبر کے امتی تھے، حضور ﷺ نے اپنی امت کو سبق آموزی کے لئے اس قصہ کو بیان فرمایا۔ اس واقعہ میں اللہ کے ان بندوں نے اپنے جن اعمال کو خدا کے حضور میں پیش کر کے اُس سے دعا کی ہے اُن کی چند خصوصیتیں قابلِ لحاظ ہیں۔ سب سے پہلی اور سب سے اہم خصوصیت جس کا حدیث میں صراحۃً ذکر بھی ہے یہ ہے کہ تینوں عمل صرف اللہ کی رضا جوئی میں کئے گئے تھے اور ان اعمال کی اسی خصوصیت کی بنا پر ان بندوں نے اللہ کے حضور میں ان کو پیش کیا تھا۔ دوسری ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ تینوں عمل اللہ کے حکم و مرضی کے مقابلے میں اپنے نفس کی چاہت کو دبانے اور قربان کرنے کی اعلیٰ مثال ہیں۔ ذرا سوچئے پہلے شخص کا مجاہدہ نفس کتنا سخت ہے، دن بھر وہ جانوروں کو جنگل میں چراتا رہا ہے، اور شام کو دیر سے تھکا ہارا آیا ہے، قدرتی طور پر اس کا جی سونے کو بے حد چاہتا ہو گا۔ بلکہ وہ سونے کے لئے مضطر اور بے قرار ہو گا، لیکن چونکہ ماں باپ بلا دودھ پئے سو گئے تھے، اور یہ اللہ کی رضا اسی میں سمجھتا تھا کہ جس وقت نیند سے ان کی آنکھ کھلے، یہ اُن کو دودھ پلا دے، اس لئے یہ شخص رات بھر دودھ کا برتن ہاتھ میں لئے ان کے سرہانے کھڑا رہا۔ اور پھر اس کے بچے اس کے قدموں میں پڑے بھوک سے روتے چلاتے رہے، لیکن اس نے ماں باپ کے حق کو مقدم جان کر اللہ ہی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے یہ مجاہدہ بھی کیا کہ بوڑھے ماں باپ سے پہلے اپنے پیارے بچوں کو بھی دودھ نہ پلایا، یہاں تک کہ اسی حال میں صبح ہو گئی۔ اسی طرح دوسرے شخص کے عمل کی یہ خصوصیت بھی ظاہر ہے۔ ایکجوان ایک لڑکی سے عشق رکھتا ہے اور جب ایک بیش قرار رقم طے ہو جاتی ہے، اور کسی طرح وہ رقم مہیا کر کے اس کو دے بھی دیتا ہے اور زندگی کی سب سے بڑی تمنا پوری کرنے کا اُسے پورا موقع مل جاتا ہے اور کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہتی، تو ٹھیک اُس وقت اللہ کا نام بیچ میں آتا ہے اور وہ بندہ اپنے نفس کی خواہش پوری کئے بغیر اللہ سے ڈر کر اور اس کی رضا طلبی میں اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ ہر نفس رکھنے والا انسان اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ کتنا سخت مجاہدہ ہے، اور اللہ کی رضا کے مقابلے میں خواہش نفس قربان کرنے کی یہ کتنی اعلیٰ مثال ہے۔ اسی طرح تیسرے شخص کے عمل کی یہ خصوصیت بھی ظاہر ہے۔ ایک مزدور کے چند سیر چاول ایک شخص کے پاس رہ گئے اُس نے انہی چاولوں کو اپنی زمین میں بو دیا، پھر جو پیداوار ہوئی اس کو اس نے اُسی مزدور کی ملکیت قرار دے کر اُسی کے حساب میں اُس کو لگاتا اور بڑھاتا رہا یہاں تک کہ اس سے اتنی دولت فراہم ہو گئی، کہ جانوروں کا ایک ریوڑ کا ریوڑ ہوگیا۔ پھر جب کچھ مدت کے بعد وہ مزدور آیا تو اس امانت دار اور نیک کردار بندہ نے وہ ساری دولت جو خود اس کی اپنی محنت اور توجہ سے فراہم ہوئی تھی وہ سب کی سب اُس مزدور کے حوالہ کر دی، ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ اُس وقت شیطان نے دل میں کیسے کیسے وسوسے ڈالے ہوں گے، اور اپنے نفس کی یہ کتنی شدید خواہش ہوگی کہ یہ دولت جو صرف اپنی محنت سے پیدا کی گئی ہے، اور جس کا اُس مزدور کو کئی علم بھی نہیں ہے، اس کو اپنے ہی پاس رکھا جائے لیکن اللہ کے اس بندے نے رضا الہٰی کی طلب میں اپنے نفس کی اس خواہش کو قربان کیا اور وہ ساری دولت اس بے چارے مزدور کے حوالے کر دی۔ اسی طرح ان تینوں عملوں کی ایک خصوصیت یہ بھی قابلِ لحاظ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اصطلاحی اور عرفی عبادت نہیں ہے، بلکہ ایک کا تعلق بابِ معاشرت سے ہے، ایک کا بابِ معاملت سے اور ایک کی نوعیت یہ ہے کہ اللہ کے ایک بندہ نے خدا سے ڈر کر اور اس کی رضا جوئی میں ایک ایسے گناہ کو چھوڑا ہے جو اُس کی انتہائی تمنا اور خواہش تھی اور جس کے سارے اسباب بھی اُس نے فراہم کر لئے تھے۔ اس حدیث سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ اگر بندہ اپنے کسی نیک عمل کے متعلق یہ اندازہ رکھتا ہو کہ وہ اخلاص کی کیفیت کے ساتھ ادا ہوا ہے تو اپنی دعا میں بطور وسیلہ کے اللہ تعالیٰ کے حضور میں اُس کو پیش کر سکتا ہے۔ اخلاص و للہیت (یعنی ہر نیک عمل کا اللہ کی رضا اور رحمت کی طلب میں کرنا) جس طرح ایمان و توحید کا تقاضا اور عمل کی جان ہے اسی طرح ریا و سمعہ یعنی مخلوق کے دکھاوے اور دنیا میں شہرت اور ناموری کے لئے نیک عمل کرنا ایمان و توحید کے منافی اور ایک قسم کا شرک ہے۔

394Maarif-ul-Hadith

ریا ایک درجہ کا شرک اور ایک قسم کا نفاق ہے

عَنْ شَدَّادِ ابْنِ اَوْسٍ : قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ ، وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ ، وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ " (رواه احمد)

شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے، جس نے دکھاوے کے لئے نماز پڑھی اُس نے شرک کیا اور جس نے دکھاوے کے لئے روزہ رکھا اُس نے شرک کیا، اور جس نے دکھاوے کے لیے صدقہ خیرات کیا اُس نے شرک کیا۔ (مسند احمد) تشریح حقیقی شرک تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات یا اس کے افعال اور اس کے خاص حقوق میں کسی دوسرے کو شریک کیا جائے یا اللہ کے سوا کسی اور کی بھی عبادت کی جائے، یہ وہ “ شرک حقیقی ” اور “ شرک جلی ” اور “ شرک اکبر ” ہے جس کے متعلق قرآن مجید میں اعلان فرمایا گیا ہے، اور ہم مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ ہے کہ اس کا کرنے والا ہرگز ہرگز نہیں بخشا جائے گا۔ لیکن بعض اعمال اور اخلاق ایسے بھی ہیں جو اگرچہ اس معنی کے شرک نہیں ہیں لیکن اُن میں اس شرک کا تھوڑا بہت شائبہ ہے، اُن ہی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اللہ کی عبادت یا کوئی اور نیک کام اللہ کی رضا جوئی اور اس کی رحمت طلبی کے بجائے لوگوں کے دکھاوے کے لیے کرے، یعنی اس غرض سے کرے کہ لوگ اس کو عبادت گذار اور نیکو کار سمجھیں اور اس کے معتقد ہو جائیں، اسی کو ریا کہا جاتا ہے، یہ اگرچہ حقیقی شرک نہیں ہے لیکن ایک درجہ کا شرک اور ایک قسم کا نفاق اور سخت درجہ کا گناہ ہے۔ ایک دوسری حدیث میں اس کو “ شرک خفی ” اور ایک اور حدیث میں “ شرک اصغر ” کہا گیا ہے۔ (یہ دونوں حدیثیں آگے درج کی جا رہی ہیں)۔ واضح رہے کہ اس حدیث میں نماز، روزہ اور صدقہ و خیرات کا ذکر صرف مثال کے طور پر کیا گیا ہے، ورنہ ان کے علاوہ بھی جو نیک عمل لوگوں کے دکھاوے کے لئے اور ان کی نظروں میں معزز و محترم بننے کے لئے یا اُن سے کوئی دنیوی فائدہ ھاصل کرنے کے لئے کیا جائے گا وہ بھی ایک درجہ کا شرک ہی ہو گا، اور اس کا کرنے والا بجائے ثواب کے خدا کے سخت عذاب کا مستحق ہو گا۔

395Maarif-ul-Hadith

ریا ایک درجہ کا شرک اور ایک قسم کا نفاق ہے

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : « أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؟ » فَقُلْنَا : بَلَى ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ « قَالَ الشِّرْكُ الْخَفِيُّ ، أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ يُصَلِّي ، فَيَزِيْدُ صَلَاتَهُ ، لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ رَجُلٍ » (رواه ابن ماجة) ؎

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ (اپنے حجرہ مبارک سے) نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اُس وقت ہم لوگ آپس میں مسیح دجال کا کچھ تذکرہ کر رہے تھے، تو آپ نے ہم سے فرمایا، کیا میں تم کو وہ چیز بتاؤں جو میرے نزدیک تمہارے لئے دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے، ہم نے عرض کیا، حضور! ضرور بتلائیں وہ کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ شرک خفی ہے (جس کی ایک مثال یہ ہے) کہ آدمی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہو، پھر اپنی نماز کو اس لئے لمبا کر دے کہ کوئی آدمی اس کو نماز پڑھتا دیکھ رہا ہے۔ (سنن ابن ماجہ) تشریح رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب غالباً یہ تھا کہ دجال جس کھلے شرک و کفر کی دعوت دے گا اور جس کے لئے وہ لوگوں کو مجبور کرے گا، مجھے اس کا زیادہ خطرہ نہیں ہے کہ میرا کوئی سچا امتی اس کی بات ماننے کے لئے آمادہ ہو گا، لیکن مجھے اس کا خطرہ ضرور ہے کہ شیطان تم کو کسی ایسے شرک میں مبتلا کر دے جو بالکل کھلا ہوا شرک نہ ہو، بلکہ خفی قسم کا شرک ہو، جس کی مثال آپ نے یہ دی کہ نماز اس لئے لمبی اور بہتر پڑھی جائے کہ دیکھنے والے معتقد ہو جائیں۔ سنن ابن ماجہ ہی کی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول الل ﷺ نے ایک دفعہ اپنی امت کے شرک میں مبتلا ہونے کا خطرہ ظاہر فرمایا تو بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا ایسا ہو گا کہ آپ کے بعد آپ کی امت شرک میں مبتلا ہو جائے؟ آپ نے فرمایا: یہ تو اطمینان ہے کہ میرے امتی چاند سورج کو اور پتھروں اور بتوں کو نہیں پوجیں گے، لیکن یہ ہو سکتا ہے اور ہو گا کہ ریا والے شرک میں وہ مبتلا ہوں۔

396Maarif-ul-Hadith

ریا ایک درجہ کا شرک اور ایک قسم کا نفاق ہے

عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ » قَالُوا : وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ : " الرِّيَاءُ . (رواه احمد)

محمود بن لبید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ خطرہ “ شرک اصغر ” کا ہے۔ بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! “ شرک اصغر ” کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا، ریا (یعنی کوئی نیک کام لوگوں کے دکھاوے کے لئے کرنا) (مسند احمد) تشریح رسول اللہ ﷺ کے ان ارشادات کا اصل مقصد و منشاء اپنے امتیوں کو اس خطرہ سے خبردار کرنا ہے تا کہ وہ ہوشیار رہیں، اور اس خفیہ قسم کے شرک سے بھی اپنے دلوں کی حفاظت کرتے رہیں، ایسا نہ ہو کہ شیطان ان کو اس خفی قسم کے شرک میں مبتلا کر کے تباہ کر دے۔

397Maarif-ul-Hadith

جس عمل میں شرک کی ذرا بھی آمیزش ہوگی وہ قبول نہ ہو گا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللهُ تَعَالَى : أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي ، تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ " وَفِىْ رِوَايَةٍ فَاَنَا مِنْهُ بَرِئٌ هُوَ لِلَّذِىْ عَمِلَهُ . (رواه مسلم)

حضرت ابو رہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں شرک اور شرکت سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں (یعنی جس طرح اور شرکاء شرکت پر راضی ہو جاتے ہیں اور اپنے ساتھ کسی کی شرکت منظور کر لیتے ہیں، اسی طرح میں راضی نہیں ہوتا، اور کسی کی ادنیٰ شرکت گوارا نہیں کر سکتا، ہر قسم کی شرکت سے بالکل نے نیاز اور سخت بیزار ہوں) پس جو شخص کوئی عمل (عبادت وغیرہ) کرے جس میں میرے ساتھ کسی اور سے بھی کچھ شریک کرے (یعنی اس سے اس کی غرض میری رضا اور رحمت کے علاوہ کسی اور کو بھی کچھ حاصل کرنا یا زس کو معتقد بنانا ہو) تو میں اس کو اور اس کے شریک کو دونوں کو چھوڑ دیتا ہوں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ میں اُس سے بیزار اور بے تعلق ہوں، وہ عمل (میرے لئے بالکل نہیں بلکہ) صرف اس دوسرے کے لئے ہے جس کے لئے اُس نے کیا (یعنی جس کو اُس نے شریک کیا)۔ (صحیح مسلم)

398Maarif-ul-Hadith

جس عمل میں شرک کی ذرا بھی آمیزش ہوگی وہ قبول نہ ہو گا

عَنْ أَبِي سَعِيْدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا جَمَعَ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ القِيَامَةِ لِيَوْمٍ لاَ رَيْبَ فِيهِ ، نَادَى مُنَادٍ : مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ أَحَدًا فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ . (رواه احمد)

ابو سعید بن ابی فضالہ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے سب آدمیوں (اولین و آخرین) کو جمع کرے گا تو ایک منادی یہ اعلان کرے گا، کہ جس شخص نے اپنے کسی ایسے عمل میں جو اس نے اللہ کے لیے کیا کسی اور کو بھی شریک کیا تھا وہ اس کا ثواب اسی دوسرے سے جا کر طلب کرے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ سب شرکاء سے زیادہ نے نیاز ہے شرک سے۔ (مسند احمد) تشریح دونوں حدیثوں کا حاصل اور پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف اس نیک عمل کو قبول کرتا ہے اور اسی پر ثواب دے گا جو اخلاص کی کیفیت کے ساتھ صرف اس کی رضا اور رحمت کی طلب میں کیا گیا ہو، اور اس کے برخلاف جس عمل سے اللہ کے سوا کسی اور کی بھی خوشنودی یا اس سے کسی قسم کی نفع اندوزی مطلوب و مقصود ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو قبول نہ کرے گا، وہ نہایت بے نیاز اور شرک کی لگاوٹ سے بھی بیزار ہے۔ یہ انجام تو ان اعمال کا ہے جو اللہ کے لیے کئے جائیں لیکن نیت میں پورا خلوص نہ ہو بلکہ کسی طور پر اللہ کے سوا کسی اور کی بھی لگاوٹ ہو لیکن جو “ نیک اعمال ” محض ریاکارانہ طور پر کئے جائیں، جن سے صرف نام و نمود، دکھاواو اور شہرت اور لوگوں سے خراجِ عقیدت وصول کرنا ہی مقصود ہو تو وہ نہ صرف یہ کہ مردود قرار دے کر ان عمل کرنے والوں کے منہ پر مار دئیے جائیں گے، بلکہ یہ ریاکار اپنے ان ہی اعمال کی وجہ سے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔

399Maarif-ul-Hadith

ریاکاروں کو فضیحت اور رسوائی کی سزا

عَنِ جُنْدُبٍ قَالَ : قَالَ النَّبِىُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت جندب ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو شخص کوئی عمل سنانے اور شہرت دینے کے لیے کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو شہرت دے گا اور جو کوئی دکھاوے کے لیے کوئی نیک عمل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو خوب دکھائے گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ دکھاوے اور شہرت کی غرض سے نیک اعمال کرنے والوں کو ایک سزا اُن کے اس عمل کی مناسبت سے یہ بھی دی جائے گی کہ ان کی اس ریاکاری اور منافقت کو خوب مشہور کیا جائے گا اور سب کو مشاہدہ کرایا جائے گا کہ یہ بدبخت لوگ یہ نیک اعمال اللہ کے لیے نہیں کرتے تھے، بلکہ نام و نمود اور دکھاوے اور شہرت کے لیے کیا کرتے تھے۔ الغرض جہنم کے عذاب سے پہلے ان کو ایک سزا یہ ملے گی کہ سرِ محشر ان کی ریاکاری اور منافقت کا پردہ چاک کر کے سب کو ان کی بدباطنی دکھا دی جائے گی۔ اللهم احفظنا!

400Maarif-ul-Hadith

دین کے نام پر دنیا کمانے والے ریاکاروں کو سخت تنبیہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ يَخْتِلُونَ الدُّنْيَا بِالدِّينِ يَلْبَسُونَ لِلنَّاسِ جُلُودَ الضَّأْنِ مِنَ اللِّينِ ، أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ السُّكَّرِ ، وَقُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الذِّئَابِ ، يَقُولُ اللَّهُ : أَبِي يَغْتَرُّونَ ، أَمْ عَلَيَّ يَجْتَرِئُونَ؟ فَبِي حَلَفْتُ لَأَبْعَثَنَّ عَلَى أُولَئِكَ مِنْهُمْ فِتْنَةً تَدَعُ الحَلِيمَ فِيْهِمْ حَيْرَانَ " (رواه الترمذى)

حضرت ابو رہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آخری زمانہ میں کچھ ایسے مکار لوگ پیدا ہوں گے جو دین کی آڑ میں دنیا کا شکار کریں گے، وہ لوگوں پر اپنی درویشی اور مسکینی ظاہر کرنے اور ان کو متاثر کرنے کے لیے بھیڑوں کی کھال کا لباس پہنیں گے، ان کی زبانیں شکر سے زیادہ میٹھی ہوں گی، مگر ان کے سینوں میں بھیڑیوں کے سے دل ہوں گے، (ان کے بارے میں) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، کیا یہ لوگ میرے ڈھیل دینے سے دھوکہ کھا رہے ہیں، یا مجھ سے نڈر ہر کر میرے مقابلے میں جرأت کر رہے ہیں، پس مجھے اپنی قسم ہے کہ میں ان مکاروں پر انہی میں سے ایسا فتنہ کھڑا کروں گا جو اُن کے عقلمندوں اور داناؤں کو بھی حیران بنا کے چھوڑے گا۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ریاکاری کی یہ خاص قسم کہ عابدوں زاہدوں کی صورت بنا کر اور اپنے اندرونی حال کے بالکل برعکس اُن خاصان خدا کی سی نرم و شیریں باتیں کر کر کے اللہ کے سادہ لوح بندوں کو اپنی عقیدت کے جال میں پھانسا جائے، اور ان سے دنیا کمائی جائے، بدترین قسم کی ریا کاری ہے، اور ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی تنبیہ ہے کہ وہ مرنے سے پہلے اس دنیا میں بھی سخت فتنوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔