خوش کلامی اور بد زبانی
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِطَعَّانٍ ، وَلَا لَعَّانٍ ، وَلَا فَاحِشٍ وَلَا بَذِىٍ " (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ مؤمن بندہ نہ زبان سے حملہ کرنے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا اور نہ بد گو اور نہ گالی بکنے والا۔ (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ مؤمن کا مقام یہ ہے اور اس کا شیوہ یہ ہونا چاہئے کہ اس کی زبان سے لعن طعن اور گالی گلوج نہ نکل، کتاب الایمان میں وہ حدیث گذر چکی ہے جس میں اختلاف و نزاع کے وقت گالیاں بکنے کو منافق کی نشانی بتلایا گیا ہے۔