عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص سوال کرے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اسے بےنیاز کرتا ہو، تو یہ سوال قیامت کے دن اس کے چہرے پہ زخم کا نشان بن کر آئے گا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کتنا مال آدمی کو بےنیاز کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کی مالیت کا سونا ١ ؎۔ ایک شخص نے سفیان ثوری سے کہا: شعبہ تو حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے؟ سفیان ثوری نے کہا کہ یہ حدیث ہم سے زبید نے بھی محمد بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے روایت کی ہے۔
It was narrated from Abdullah bin Masud that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever begs when he has enough to suffice him, his begging will come on the Day of Resurrection like lacerations on his face." It was said: Messenger of Allah, what is sufficient for him?" He said: "Fifty Dirham, or their value in gold." (Daif) Another chain of narrators for the Hadith has been discussed by Sufyan (one of the narrators).
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوداود کی روایت میں ہے: غنا کی حد یہ ہے کہ آدمی کے پاس صبح و شام کا کھانا ہو، اور ایک روایت میں ہے کہ ایک اوقیہ کا مالک ہو، اور اس روایت میں پچاس درہم مذکور ہے، شافعی نے دوسرے قول کو لیا ہے اور احمد اور اسحاق اور ابن مبارک نے پہلے قول کو، بعض لوگوں نے تیسرے قول کو اور ابوحنیفہ نے کہا جو دو سو درہم کا مالک ہے یا اس قدر مالیت کا اسباب اس کے پاس ہے اس کے لیے سوال صحیح نہیں۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مالدار کے لیے زکاۃ حلال نہیں ہے مگر پانچ آدمیوں کے لیے: زکاۃ وصول کرنے والے کے لیے، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے، یا ایسے مالدار کے لیے جس نے اپنے پیسے سے اسے خرید لیا ہو، یا کوئی فقیر ہو جس پر صدقہ کیا گیا ہو، پھر وہ کسی مالدار کو اسے ہدیہ کر دے، (تو اس مالدار کے لیے وہ زکاۃ حلال ہے) یا وہ جو مقروض ہو۔
It was narrated from Abu Sa te ed AI-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: "Charity is not perrrussible for a rich man except in five cases: One who is appointed to collect it, a warrior fighting in the cause of Allah, a rich man who buys It with his own money, a poor man who receives the charity and gives it as a gift to a rich man, and a debtor." (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٢٤ (١٦٣٥)، (تحفة الأشراف: ٤١٧٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ١٧ (٢٩)، مسند احمد (٣/٤، ٣١، ٤٠، ٥٦، ٩٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جو شخص حلال مال سے صدقہ دے، اور اللہ تعالیٰ تو حلال ہی قبول کرتا ہے، اس کے صدقہ کو دائیں ہاتھ میں لیتا ہے، گرچہ وہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو، پھر وہ صدقہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ پہاڑ سے بھی بڑا ہوجاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کو ایسے ہی پالتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from gaeed bin Yasar that heard Abu Hurairah (RA) say: The Messenger of Allah ﷺ said: No one gives charity from good sources _ for Allah does not accept anything but that which is good _ but the Most Merciful takes it in His Right Hand. even if it is a date, and it flourishes ,, Hand of the Most Merciful until it becomes bigger than a mountain, and He tends it as anyone of you would tend to his colt (i.e., young pony) or his young (weaned) camel:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لئے یمین (داہنا ہاتھ) اور کف (یعنی مٹھی) ثابت کیا گیا ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ یمین (داہنے) ہیں، ایسی حدیثوں سے جہمیہ اور معتزلہ اور اہل کلام کی جان نکلتی ہے، جب کہ اہل حدیث ان کو اپنی آنکھوں پر رکھتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ اللہ کا پہنچاننے والا اس کے رسول سے زیادہ کوئی نہ تھا، پس جو صفات اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لئے ثابت کیں یا اس کے رسول نے بیان کیں، ہم ان سب کو مانتے ہیں، لیکن ان کو مخلوقات کی صفات سے مشابہ نہیں کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات مشابہت سے پاک ہے، لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْئٌ وَهُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ (سورة الشورى: 11) یہی نجات کا راستہ ہے، محققین علمائے سلف اور ائمہ اسلام نے اسی کو اختیار کیا ہے، اہل تاویل کہتے ہیں کہ یہ مجازی ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ صدقہ قبول ہوجاتا ہے، اور بڑھنے کا معنی یہ ہے کہ اس کا ثواب عظیم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم میں سے ہر شخص سے قیامت کے دن کلام کرے گا، اور دونوں کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا، وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو آگ ہوگی، دائیں جانب دیکھے گا تو اپنے اعمال کے سوا کچھ نہ پائے گا، اور بائیں دیکھے گا تو اپنے اعمال کے سوا ادھر بھی کچھ نہ دیکھے گا، لہٰذا تم میں سے جو جہنم سے بچ سکے تو اپنے بچاؤ کا سامان کرے، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کر کے ۔
It was narrated from Adi bin Hatim that the Messenger of Allah ﷺ said: "Each one of you will be spoken to by his Lord, with no media tor between them. He will look in front of him and the Fire will be facing him. He will look to his right and will not see anything but something that he had sent on before. He will look to his left and will not see anything but something that he had sent on before.Whoever among you can save himself from the Fire, even with half a date, let him do so." (Sahih)
سلمان بن عامر ضبی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسکین و فقیر کو صدقہ دینا (صرف) صدقہ ہے، اور رشتہ دار کو صدقہ دینا دو چیز ہے، ایک صدقہ اور دوسری صلہ رحمی ۔
It was narrated from Salman bin ‘Amir Dabbi that the Messenger of Allah ﷺ said: “Charity given to the poor is charity, and that given to a relative is two things: charity and upholding the ties of kinship. (Sahih)
علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ منیٰ میں تھا، تو عثمان ؓ انہیں لے کر تنہائی میں گئے، میں ان کے قریب بیٹھا تھا، عثمان ؓ نے ان سے کہا: کیا آپ چاہتے ہیں آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے کرا دوں جو آپ کو ماضی کے حسین لمحات کی یاد دلا دے؟ جب عبداللہ بن مسعود ؓ نے دیکھا کہ عثمان ؓ ان سے اس کے علاوہ کوئی راز کی بات نہیں کہنا چاہتے، تو انہوں نے مجھ کو قریب آنے کا اشارہ کیا، میں قریب آگیا، اس وقت عبداللہ بن مسعود ؓ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ ایسا کہتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا ہے: اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شخص نان و نفقہ کی طاقت رکھے تو وہ شادی کرلے، اس لیے کہ اس سے نگاہیں زیادہ نیچی رہتی ہیں، اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت ہوتی ہے، اور جو نان و نفقہ کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے، اس لیے کہ یہ شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے۔
It was narrated that Alqamah bin Qais said: "I was with Abdullah bin Masud in Mina, and Uthman took him aside. I was sitting near him. Uthman said to him: Would you like that I marry you to a young virgin who will remind you of how you were in the past? When Abdullah saw that he did not want to say anything to him apart from that, he gestured to me, so I came and he said: As you say that, the Messenger of Allah ﷺ said: "O young men, whoever among you can afford it, let him get married, for it is more effective in lowering the gaze and guarding ones chastity. Whoever cannot afford it, let him fast, for it will diminish his desire." (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نکاح میری سنت اور میرا طریقہ ہے، تو جو میری سنت پہ عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ہے، تم لوگ شادی کرو، اس لیے کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر (قیامت کے دن) فخر کروں گا، اور جو صاحب استطاعت ہوں شادی کریں، اور جس کو شادی کی استطاعت نہ ہو وہ روزے رکھے، اس لیے کہ روزہ اس کی شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Marriage is part of my Sunnah, and whoever does not follow my Sunnah has nothing to do with me. Get married, for I will boast of your great numbers before the nations. Whoever has the means, let him get married, and whoever does not, then he should fast, for it will diminish , his desire." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں نکاح کا لفظ امر کے ساتھ وارد ہوا ہے، اور امر وجوب کے لیے آتا ہے، اسی لیے اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ جس کو نان و نفقہ اور مہر وغیرہ کی قدرت ہو اس کو نکاح کرنا سنت ہے، اور اگر اس کے ساتھ گناہ میں پڑنے کا ڈر ہو تو نکاح کرنا واجب ہے، صحیحین میں انس ؓ سے مروی ہے کہ بعض صحابہ کرام ؓ نے کہا میں نکاح نہیں کروں گا، بعض نے کہا میں ساری رات نماز پڑھوں گا سوؤں گا نہیں، بعض نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، کبھی افطار نہیں کروں گا، یہ خبر نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا حال ہے لوگوں کا ایسا ایسا کہتے ہیں، میں تو روزے بھی رکھتا ہوں، اور افطار بھی کرتا ہوں، سوتا بھی ہوں، عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، پھر جو کوئی میرے طریقے سے نفرت کرے وہ مجھ سے نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٥٤٩، ومصباح الزجاجة: ٦٥٤) (حسن) (سند میں عیسیٰ بن میمون منکر الحدیث ہے، بلکہ بعض لوگوں نے متروک الحدیث بھی کہا ہے، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٣٨٣ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: دو شخص کے درمیان محبت کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: There is nothing like marriage for two who love one another." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اکثر دو قوموں میں یا دو شخص میں عداوت ہوتی ہے، جب نکاح کی وجہ سے باہمی رشتہ ہوجاتا ہے تو وہ عداوت جاتی رہتی ہے، اور کبھی محبت کم ہوتی ہے تو نکاح سے زیادہ ہوجاتی ہے، اور یہی سبب ہے کہ قرابت دو طرح کی ہوگئی ہے، ایک نسبی قرابت، دوسرے سببی قرابت، اور انسان کو اپنی بیوی کے بھائی بہن سے ایسی الفت ہوتی ہے جیسے اپنے سگے بھائی بہن سے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون ؓ کی شادی کے بغیر زندگی گزارنے کی درخواست رد کردی، اگر آپ ﷺ نے انہیں اجازت دی ہوتی تو ہم خصی ہوجاتے ١ ؎۔
It was narrated that Sad said: "The Messenger of Allah ﷺ disapproved of Uthman bin Mazuns desire to remain celibate; if he had given him permission, we would have gotten ourselves castrated." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: تبتل کے معنی عورتوں سے الگ رہنے، نکاح نہ کرنے اور ازدواجی تعلق سے الگ تھلگ رہنے کے ہیں، نصاری کی اصطلاح میں اسے رہبانیت کہتے ہیں، تجرد کی زندگی گزارنا اور شادی کے بغیر رہنا شریعت اسلامیہ میں جائز نہیں ہے۔
سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تجرد والی زندگی (بےشادی شدہ رہنے) سے منع فرمایا۔ زید بن اخزم نے یہ اضافہ کیا ہے: اور قتادہ نے یہ آیت پڑھی، ولقد أرسلنا رسلا من قبلک وجعلنا لهم أزواجا وذرية (سورة الرعد: 38) ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیویاں اور اولاد بنائیں ١ ؎۔
It was narrated from Samurah that the Messenger of Allah ﷺ forbade celibacy. Zaid bin Akhzam added: "And Qatadah recited: And indeed We sent Messengers before you (O Muhammad ﷺ ). and made for them wives and offspring."·(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتا ہے یا کافروں کے اعتراض رد کرتا ہے کہ اگر آپ نے کئی شادیاں کیں تو اولاً یہ نبوت کے منافی نہیں ہے، اگلے بہت سے انبیاء ایسے گزرے ہیں جنہوں نے کئی کئی شادیاں کیں، ان کی اولاد بھی بہت تھی، بلکہ بنی اسرائیل تو سب یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد ہیں جن کے بارہ بیٹے تھے، اور کئی بیویاں تھیں، اور ابراہیم (علیہ السلام) کی دو بیویاں تھیں، ایک سارہ، دوسری ہاجرہ، اور سلیمان (علیہ السلام) کی ( ٩٩ ) بیویاں تھیں، الروضہ الندیہ میں ہے کہ مانویہ اور نصاری نکاح نہ کرنے کو عبادت سمجھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہمارے دین میں اس کو باطل کیا، فطرت اور عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان نکاح کرے، اور اپنے بنی نوع کی نسل کو قائم رکھے، اور بڑھائے، البتہ جس شخص کو بیوی رکھنے کی قدرت نہ ہو اس کو اکیلے رہنا درست ہے۔
معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: بیوی کا شوہر پر کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب کھائے تو اس کو کھلائے، جب خود پہنے تو اس کو بھی پہنائے، اس کے چہرے پر نہ مارے، اس کو برا بھلا نہ کہے، اور اگر اس سے لاتعلقی اختیار کرے تو بھی اسے گھر ہی میں رکھے ١ ؎۔
It was narrated from Hakim bin Mu awiyah, from his father, that a man asked the Prophet ﷺ "What are the rights of the woman over her husband?" He said: "That he should feed her as he feeds himself and clothe her as he clothes himself; he should not strike her on the face nor disfigtue her, and he should not abandon her except in the house (as a form of discipline)." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کسی بات پر ناراض ہو تو اسے گھر سے دوسری جگہ نہ بھگائے، گھر ہی میں رکھے، بطور تأدیب صرف بستر الگ کر دے، اس لئے کہ اس کو دوسرے گھر میں بھیج دینے سے اس کے پریشان اور آوارہ ہونے کا ڈر ہے، اور تعلقات بننے کی بجائے مزید بگڑنے کی راہ ہموار ہونے کا خطرہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٤٢ (٢١٤٢)، (تحفة الأشراف: ١١٣٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٤٧، ٥/٣) (صحیح )
عمرو بن احوص ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی، پھر فرمایا: عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی میری وصیت قبول کرو، اس لیے کہ عورتیں تمہاری ماتحت ہیں، لہٰذا تم ان سے اس (جماع) کے علاوہ کسی اور چیز کے مالک نہیں ہو، الا یہ کہ وہ کھلی بدکاری کریں، اگر وہ ایسا کریں تو ان کو خواب گاہ سے جدا کر دو، ان کو مارو لیکن سخت مار نہ مارو، اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر ان پر زیادتی کے لیے کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو، تمہارا عورتوں پر حق ہے، اور ان کا حق تم پر ہے، عورتوں پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارا بستر ایسے شخص کو روندنے نہ دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو ١ ؎ اور وہ کسی ایسے شخص کو تمہارے گھروں میں آنے کی اجازت نہ دیں، جسے تم ناپسند کرتے ہو، سنو! اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم اچھی طرح ان کو کھانا اور کپڑا دو ٢ ؎۔
It was narrated that Sulaiman bin Amr bin Ahwas said: "My father told me that he was present on the Farewell pilgrimage with the Messenger of Allah ﷺ . He praised and glorified Allah, and reminded and exhorted (the people). Then he said: I enjoin good treatment of women, for they are prisoners with you, and you have no right to treat them otherwise, unless they commit clear indecency. If they do that, then forsake them in their beds and hit them, but without causing injury or leaving a mark. lf they obey you, then do not seek means of annoyance against them. You have rights over your women and your women have rights over you. Your rights over your women are that they are not to allow anyone whom you dislike to tread on your bedding (furruture), nor allow anyone whom you dislike to enter your houses. And their rights over you are that you should treat them kindly with regard to their clothing and food." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کسی مرد کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ اندر آئے، اور اس کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرے، پہلے عربوں میں یہ چیز معیوب نہیں تھی لیکن جب آیت حجاب نازل ہوئی تو اس سے منع کردیا گیا۔ ٢ ؎: لمن تكرهون میں غیر محرم مرد تو یقینی طور پر داخل ہیں، نیز وہ محرم مرد اور عورتیں بھی اس میں داخل ہیں جن کے آنے جانے کو شوہر پسند نہ کرے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، اور اگر شوہر عورت کو جبل احمر سے جبل اسود تک، اور جبل اسود سے جبل احمر تک پتھر ڈھونے کا حکم دے تو عورت پر حق ہے کہ اس کو بجا لائے ۔
that the Messenger of Allah ﷺ said: "If I were to command anyone to prostrate to anyone else, I would have commanded women to prostrate to their husbands. If a man were to command his wife to move (something) from a red mountain to a black mountain, and from a black mountain to a red mountain, her duty is to obey him." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦١٢٠، ومصباح الزجاجة: ٦٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٧، ٧٦، ٩٧، ١١٢، ١٣٥) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، صرف حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے، الإرواء: ١٩٩٨ ، ٧ /٥٨، صحیح أبی داود: ١٨٧٧ )
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ جب معاذ ؓ شام سے واپس آئے، تو نبی اکرم ﷺ کو سجدہ (سجدہ تحیہ) کیا، آپ ﷺ نے پوچھا: اے معاذ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں شام گیا تو دیکھا کہ وہ لوگ اپنے پادریوں اور سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں، تو میری دلی تمنا ہوئی کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ایسا ہی کریں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں، ایسا نہ کرنا، اس لیے کہ اگر میں اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، عورت اپنے رب کا حق ادا نہیں کرسکتی جب تک کہ اپنے شوہر کا حق ادا نہ کرلے، اور اگر شوہر عورت سے جماع کی خواہش کرے، اور وہ کجاوے پر سوار ہو تو بھی وہ شوہر کو منع نہ کرے ١ ؎۔
It was narrated that ‘Abdullâh bin Abu Awf a said: “When Mu’idh bin Jabal came from Sham, he prostrated to the Prophet ﷺ who said: ‘What is this, O Mu’âdh?’ He said: ‘I went to Sham and saw them prostrating to their bishops and patricians (i.e. aristocrats), and I wanted to do that for you.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Do not do that. If I were to command anyone to prostrate to anyone other than Allah, I would have commanded women to prostrate to their husbands. By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad ﷺ ! No woman can fulfill her duty towards Allah until she fulfills her duty towards her husband. if he asks her (for intimacy) even if she is on her camel saddle, she should not refuse.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ نیک اور دیندار عورت دنیاوی عیش و عشرت کا عنوان ہوتی ہے، اس کی صحبت سے آدمی کو خوشی ہوتی ہے، باہر سے کتنے ہی رنج میں آئے جب اپنی پاک سیرت عورت کے پاس بیٹھتا ہے تو سارا رنج و غم بھول جاتا ہے برخلاف اس کے اگر عورت خراب اور بدخلق ہو تو دنیا کی زندگی جہنم بن جاتی ہے، کتنا ہی مال اور دولت ہو سب بیکار اور لغو ہوجاتا ہے، کچھ مزا نہیں آتا، علی ؓ نے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً (سورة البقرة: 201) سے دنیا کی نیکی سے نیک اور دیندار عورت اور آخرت کی نیکی سے جنت کی حور، اور آگ کے عذاب سے خراب اور بدزبان عورت مراد لی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١٨٠، ومصباح الزجاجة: ٦٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (/٣٨١٤) (حسن صحیح )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو عورت اس حال میں مرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگی ۔
It was narrated from Musawir Al-Himyari from his mother that she heard Umm Salamah say: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Any woman who dies when her husband is pleased with her, will enter Paradise.": (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الرضاع ١٠ (١١٦١)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٩٤) (ضعیف) (مساور الحمیری اور ان کی ماں دونوں مبہم راوی ہیں )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا متاع (سامان) ہے، اور دنیا کے سامانوں میں سے کوئی بھی چیز نیک اور صالح عورت سے بہتر نہیں ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin "Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: "This world is bu t provisions, and there is no provision in this world better than a righteous wife." (Sahih)
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ جب سونے اور چاندی کے بارے میں آیت اتری تو لوگ کہنے لگے کہ اب کون سا مال ہم اپنے لیے رکھیں؟ عمر ؓ نے کہا: میں اسے تمہارے لیے معلوم کر کے کر آتا ہوں، اور اپنے اونٹ پر سوار ہو کر اسے تیز دوڑایا اور نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے، میں بھی آپ کے پیچھے تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کون سا مال رکھیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں ہر کوئی شکر کرنے والا دل، ذکر کرنے والی زبان، اور ایمان والی بیوی رکھے جو اس کی آخرت کے کاموں میں مدد کرے ١ ؎۔
It was narrated that Thawbân said: “When the Verse concerning silver and gold was revealed, they said: What kind of wealth should we acquire? Umar said: I will tell you about that. So he rode on his camel and caught up with the Prophet ﷺ , and I followed him. He said: O Messenger of Allah, what kind of wealth should we acquire? He said: Let one of you acquire a thankful heart, a tongue that remembers Allah and a believing wife who will help him with regard to the Hereafter." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: عورت کی مدد آخرت کے کام میں یہ ہے کی آدمی اس کی وجہ سے گناہوں اور بدنظری سے بچتا ہے، اور گھر کے تمام کام عورت کرلیتی ہے مرد کو عبادت کی فرصت ملتی ہے، اگر عورت نہ ہو اور یہ کام خود کرے تو عبادت کی فرصت مشکل سے ملے گی، بعض عورتیں خود نیک اور دیندار ہوتی ہیں، ان کی صحبت کے اثر سے مرد بھی زاہد اور عابد ہوجاتا ہے، بعض عورتیں اپنے شوہر کو تہجد کی نماز کے لئے جگاتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٨٤، ومصباح الزجاجة: ٦٥٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیرالقرآن ١٠ (٣٠٩٤)، مسند احمد (٥/٢٧٨، ٢٨٢) (صحیح )
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے: تقویٰ کے بعد مومن نے جو سب سے اچھی چیز حاصل کی وہ ایسی نیک بیوی ہے کہ اگر شوہر اسے حکم دے تو اسے مانے، اور اگر اس کی جانب دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے، اور اگر وہ اس (کے بھروسے) پر قسم کھالے تو اسے سچا کر دکھائے، اور اگر وہ موجود نہ ہو تو عورت اپنی ذات اور اس کے مال میں اس کی خیر خواہی کرے ۔
It was narrated from Abu Umamah that the Prophet ﷺ used to say: "Nothing is of more benefit to the believer after Taqwa of Allah than a righteous wife whom, if he commands her she obeys him, if he looks at her he is pleased, if he swears an oath concerning her she fulfills it, and when he is awa y from her she is sincere towards him with regard to herself and his wealth." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩١٩، ومصباح الزجاجة: ٦٥٩) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورتوں سے چار چیزوں کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے، ان کے مال و دولت کی وجہ سے، ان کے حسب و نسب کی وجہ سے، ان کے حسن و جمال اور خوبصورتی کی وجہ سے، اور ان کی دین داری کی وجہ سے، لہٰذا تم دیندار عورت کا انتخاب کر کے کامیاب بنو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “A woman may be married for four things: Her wealth, her lineage, her beauty or for her religion. Choose the religious, may your hands be rubbed with dust (i.e., may you prosper).” (Sahih)
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورتوں سے صرف ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر شادی نہ کرو، ہوسکتا ہے حسن و جمال ہی ان کو تباہ و برباد کر دے، اور عورتوں سے ان کے مال و دولت کو دیکھ کر شادی نہ کرو، ہوسکتا ہے ان کے مال ان کو سرکش بنادیں، بلکہ ان کی دین داری کی وجہ سے ان سے شادی کرو، ایک کان کٹی کالی لونڈی جو دیندار ہو زیادہ بہتر ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: Do not marry women for their beauty, for it may lead to their doom Do not marry them for their wealth, for it may lead them to fall into sin. Rather, marry them for their religion. A black slave woman with piercings who is religious is better." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٨٦٨، ومصباح الزجاجة: ٦٦٠) (ضعیف جدا) (سند میں عبد الرحمن بن زیاد بن انعم افریقی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٠٦٠ )