Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 94 of 218

1860Sunan Ibne-Majah

کنواریوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَبِكْرًا، أَوْ ثَيِّبًا؟، قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا، قُلْتُ: كُنَّ لِي أَخَوَاتٌ، فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ، قَالَ: فَذَاكَ إِذًا.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی، پھر میں رسول اللہ ﷺ سے ملا، تو آپ نے فرمایا: جابر! کیا تم نے شادی کرلی ؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ ﷺ نے پوچھا: کنواری سے یا غیر کنواری سے ؟ میں نے کہا: غیر کنواری سے، آپ ﷺ نے فرمایا: شادی کنواری سے کیوں نہیں کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے کودتے ؟ میں نے کہا: میری کچھ بہنیں ہیں، تو میں ڈرا کہ کہیں کنواری لڑکی آ کر ان میں اور مجھ میں دوری کا سبب نہ بن جائے، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے ۔

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "I married a woman during the time of the Messenger of Allah ﷺ , then I met the Messenger of Allah ﷺ and he said: Have you got married, a jabir? I said: Yes: He said: To a virgin or to a previously-married woman? I said: A previouslymarried woman: He said: Why not a virgin so you could play with her? I said: I have sisters and I did not want her to create trouble between them and me: He said: That is better then:" (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ١٦ (٧١٥)، سنن النسائی/النکاح ٦ (٣٢٢١)، ١٠ (٣٢٣٦)، (تحفة الأشراف: ٢٤٣٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٣٤ (٢٠٩٧)، الوکالة ٨ (٢٤٠٩)، الجہاد ١١٣ (٢٩٦٧)، المغازي ١٨ (٤٠٥٢)، النکاح ١٠ (٥٠٧٩)، ١٢١ (٥٢٤٥)، ١٢٢ (٥٢٤٧)، النفقات ١٢ (٥٣٦٧)، الدعوات ٥٣ (٦٣٨٧)، سنن ابی داود/النکاح ٣ (٢٠٤٨)، سنن الترمذی/النکاح ١٣ (١١٠٠)، مسند احمد (٣/٢٩٤، ٣٠٢، ٣٠٨، ٣١٤، ٣٦٢، ٣٦٩، ٣٧٤، ٣٧٦)، سنن الدارمی/النکاح ٣٢ (٢٢٦٢) (صحیح )
1861Sunan Ibne-Majah

کنواریوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكُمْ بِالْأَبْكَارِ، فَإِنَّهُنَّ أَعْذَبُ أَفْوَاهًا، وَأَنْتَقُ أَرْحَامًا، وَأَرْضَى بِالْيَسِيرِ.

عویم بن ساعدہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کنواری لڑکیوں سے شادی کیا کرو، کیونکہ وہ شیریں دہن ہوتی ہیں اور زیادہ بچے جننے والی ہوتی ہیں، اور تھوڑے پہ راضی رہتی ہیں ۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Salim bin Utbah bin Uwaim bin Saidah Al-Ansari, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ said: You should marry virgins, for their mouths are sweeter, their wombs are more prolific and they are satisfied with less." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٧٥٦)، ومصباح الزجاجة: ٦٦١) (حسن) (سند میں عبد الرحمن بن سالم مجہول ہے، لیکن جابر ؓ کی مرفوع حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے )
1862Sunan Ibne-Majah

آزاد اور زیادہ جننے والی عورتوں سے شادی کرنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ طَاهِرًا مُطَهَّرًا فَلْيَتَزَوَّجِ الْحَرَائِرَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس کو اللہ تعالیٰ سے پاک صاف ہو کر ملنے کا ارادہ ہے تو چاہیے کہ وہ آزاد عورتوں سے شادی کرے ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said. "I heard the Messenger of Allah ﷺ say Whoever wants to meet Allah pure and purified, let him marry free women." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ آزاد عورتیں بہ نسبت لونڈیوں کے زیادہ لطیف اور پاکیزہ ہوتی ہیں، اور ممکن ہے کہ مطلب یہ ہو جو کوئی آزاد عورتوں سے نکاح کرے گا، اس کی نگاہ اجنبی عورتوں کے طرف نہ اٹھے گی، پس وہ اکثر گناہوں سے بچا رہے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٢١، ومصباح الزجاجة: ٦٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٥، ٤٩٣) (ضعیف) (سند میں کثیر بن سلیم اور سلام بن سوار ضعیف ہیں )
1863Sunan Ibne-Majah

آزاد اور زیادہ جننے والی عورتوں سے شادی کرنا

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْكِحُوا فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم شادی کرو، اس لیے کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کروں گا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said. Marry, for I will boast of your great numbers." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جب نکاح کرو گے تو اولاد ہوگی اور میری امت زیادہ ہوگی، مؤلف نے انس ؓ کی حدیث بیان نہیں کی جس کو احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے کہ شوہر سے محبت کرنے والی عورت سے نکاح کرو، جو بہت جننے والی ہو اس لئے کہ میں دوسرے انبیاء پر قیامت کے دن تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤١٨١، ومصباح الزجاجة: ٦٦٣) (صحیح) (سند میں طلحہ بن عمرو مکی ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٧٨٤ وسلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٩٦٠ ، صحیح أبی داود: ١٧٨٩ )
1864Sunan Ibne-Majah

کسی عورت سے نکاح کا ارادہ ہو تو ایک نظر اسے دیکھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمِّهِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، قَالَ: خَطَبْتُ امْرَأَةً، فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّأُ لَهَا، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَيْهَا فِي نَخْلٍ لَهَا، فَقِيلَ لَهُ: أَتَفْعَلُ هَذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا أَلْقَى اللَّهُ فِي قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَةَ امْرَأَةٍ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا.

محمد بن مسلمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو شادی کا پیغام دیا تو میں اسے دیکھنے کے لیے چھپنے لگا، یہاں تک کہ میں نے اسے اسی کے باغ میں دیکھ لیا، لوگوں نے ان سے کہا: آپ ایسا کرتے ہیں جب کہ آپ صحابی رسول ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جب اللہ کسی مرد کے دل میں کسی عورت کو نکاح کا پیغام دینے کا خیال پیدا کرے، تو اس عورت کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ١ ؎۔

It was narrated that Muhammad bin Salamah said. "I proposed marriage to a woman then I hid and waited to see he; until I saw her among some date palm trees that belonged to her." It was said to him. "Do you do such a thing when you are a companion of the Messenger of Allah ﷺ ? He said. "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying. When Allah causes a man to propose to a woman, there is nothing wrong wi th him looking at her." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ یہ ضرورت کے وقت دیکھنا ہے، اور ضرورت کے وقت ایسا کرنا جائز ہے جیسے قاضی اور گواہ کا عورت کو دیکھنا صحیح اور جائز ہے، اسی طرح طبیب کو علاج کے لئے اس مقام کو دیکھنا درست ہے جہاں دیکھنے کی ضرورت ہو، اہل حدیث، شافعی، ابوحنیفہ، احمد اور اکثر اہل علم کا مذہب یہی ہے کہ جس عورت سے نکاح کرنا مقصود ہو اس کا دیکھنا جائز ہے، اور امام مالک کہتے ہیں کہ یہ عورت کی اجازت سے صحیح ہے، بغیر اس کی اجازت کے صحیح نہیں، اور ایک روایت ان سے یہ ہے کہ صحیح نہیں ہے، اس باب میں ایک یہ حدیث ہے، دوسری مغیرہ ؓ کی حدیث ہے جو آگے آرہی ہے، تیسری ابوہریرہ ؓ کی حدیث جو صحیح مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کا ارادہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے اس کو دیکھا تھا؟ وہ بولا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ جاؤ اس کو دیکھ لو، اس لئے کہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ عیب ہوتا ہے، آپ ﷺ نے جو فرمایا ویسا ہی ہوا، اور اس عورت سے خوب موافقت رہی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٢٢٨، ومصباح الزجاجة: ٦٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٩٣، ٤/٢٢٥) (صحیح) (سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٩٨ )
1865Sunan Ibne-Majah

کسی عورت سے نکاح کا ارادہ ہو تو ایک نظر اسے دیکھنا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَافَفَعَلَ، فَتَزَوَّجَهَا، فَذَكَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ مغیرہ بن شعبہ ؓ نے ایک عورت سے نکاح کرنا چاہا، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: جاؤ اور اس کو دیکھ لو ایسا کرنے سے زیادہ امید ہے کہ تم دونوں کے درمیان الفت و محبت ہو ، مغیرہ ؓ نے ایسا ہی کیا، اور پھر شادی کی، پھر انہوں نے اس سے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا ذکر کیا۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that Mughirah bin Shubah wanted to marry a woman. The Prophet ﷺ said to him: "Go and look at her, for that is more likely to create love between you." So he did that, and he married her, and mentioned how well he got along with her. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٠، ومصباح الزجاجة: ٦٦٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح ٥ (١٠٨٧)، سنن النسائی/النکاح ١٧ (٣٢٣٧)، مسند احمد (٤/٢٤٥، ٢٤٦)، سنن الدارمی/النکاح ٥ (٢٢١٨) (صحیح )
1866Sunan Ibne-Majah

کسی عورت سے نکاح کا ارادہ ہو تو ایک نظر اسے دیکھنا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ امْرَأَةً أَخْطُبُهَا، فَقَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا، فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، فَخَطَبْتُهَا إِلَى أَبَوَيْهَا، وَأَخْبَرْتُهُمَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَأَنَّهُمَا كَرِهَا ذَلِكَ، قَالَ: فَسَمِعَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ وَهِيَ فِي خِدْرِهَا، فَقَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تَنْظُرَ فَانْظُرْ، وَإِلَّا فَإِنِّي أَنْشُدُكَ كَأَنَّهَا أَعْظَمَتْ ذَلِكَ، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا، فَتَزَوَّجْتُهَا، فَذَكَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ سے ذکر کیا کہ میں ایک عورت کو پیغام دے رہا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اسے دیکھ لو، اس سے تم دونوں میں محبت زیادہ ہونے کی امید ہے ، چناچہ میں ایک انصاری عورت کے پاس آیا، اور اس کے ماں باپ کے ذریعہ سے اسے پیغام دیا، اور نبی اکرم ﷺ کا فرمان سنایا، لیکن ایسا معلوم ہوا کہ ان کو یہ بات پسند نہیں آئی، اس عورت نے پردہ سے یہ بات سنی تو کہا: اگر رسول اللہ ﷺ نے دیکھنے کا حکم دیا ہے، تو تم دیکھ لو، ورنہ میں تم کو اللہ کا واسطہ دلاتی ہوں، گویا کہ اس نے اس چیز کو بہت بڑا سمجھا، مغیرہ ؓ کہتے ہیں: میں نے اس عورت کو دیکھا، اور اس سے شادی کرلی، پھر انہوں نے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا حال بتایا۔

It was narrated that Mughirah bin Shubah said: "I came to the Prophet ﷺ and told him of a woman to whom I had to propose marriage. He said: Go and look at her, for that is more likely to create love between you: So I went to a woman among the Ansar and proposed marriage through her parents. I told them what the Prophet ﷺ had said, and it was as if they did not like that. Then I heard that woman, behind her curtain, say: If the Messenger of Allah ﷺ has told you to do that, then do it, otherwise I adjure you by Allah (not to do so). And it was as if she regarded that as a serious matter. So I looked at her and married her." And he mentioned how well he got along with her. (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٥ (١٠٨٧)، سنن النسائی/النکاح ١٧ (٣٢٣٧)، (تحفة الأشراف: ١١٤٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤٤، سنن الدارمی/النکاح ٥ (٢٢١٨) (صحیح )
1867Sunan Ibne-Majah

مسلمان بھائی پیغام نکاح دے تو دوسرا بھی اسی کو پیغام نہ دے

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "A man should not propose ﷺ marriage to a woman to whom his brother has already proposed." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک مسلمان کی جب کسی جگہ نسبت طے ہونے لگے اور دونوں طرف سے رغبت کا اظہار ہونے لگ جائے تو کسی اور کے لیے شادی کا پیغام دینا جائز نہیں کیونکہ اس سے دوسرے مسلمان کی حق تلفی ہوتی ہے، اور اگر ابھی دونوں طرف سے رغبت کا اظہار نہیں ہوا ہے تو پیغام دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥٨ (٢١٤٠)، الشروط ٨ (٢٧٢٣)، النکاح ٤٥ (٥١٤٢)، صحیح مسلم/النکاح ٦ (١٤١٣)، سنن ابی داود/النکاح ١٨ (٢٠٨٠)، سنن الترمذی/النکاح ٣٨ (١١٣٤)، سنن النسائی/النکاح ٢٠ (٣٢٤١)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ١ (١)، حم (٢/٢٣٨، ٢٧٤، ٣١١، ٣١٨، ٣٩٤، ٤١١، ٤٢٧، ٤٥٧، ٤٦٢، ٤٦٣، ٤٨٧، ٤٨٩، ٥٥٨، سنن الدارمی/النکاح ٧ (٢٢٢١) (صحیح )
1868Sunan Ibne-Majah

مسلمان بھائی پیغام نکاح دے تو دوسرا بھی اسی کو پیغام نہ دے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "A man should not propose marriage to a woman to whom his brother has already proposed." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٦ (١٤١٢)، البیوع ٨ (١٤١٢)، (تحفة الأشراف: ٨١٨٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح ٤٥ (٥١٤٢)، سنن ابی داود/النکاح ١٨ (٢٠٨١)، سنن الترمذی/البیوع ٥٧ (١١٣٤)، سنن النسائی/النکاح ٢٠ (٣٢٣٨)، موطا امام مالک/النکاح ١ (٢)، البیوع ٤٥ (٤٥)، مسند احمد (٢/١٢٢، ١٢٤، ١٢٦، ١٣٠، ١٤٢، ١٥٣)، سنن الدارمی/النکاح ٧ (٢٢٢٢)، البیوع ٣٣ (٢٦٠٩) (صحیح )
1869Sunan Ibne-Majah

مسلمان بھائی پیغام نکاح دے تو دوسرا بھی اسی کو پیغام نہ دے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، تَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي، فَآذَنَتْهُ فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ، وَأَبُو الْجَهْمِ بْنُ صُخَيْرٍ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ، وَلَكِنْ أُسَامَةُ، فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا: أُسَامَةُ، أُسَامَةُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَاعَةُ اللَّهِ، وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَكِ، قَالَتْ: فَتَزَوَّجْتُهُ فَاغْتَبَطْتُ بِهِ.

فاطمہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے خبر دینا ، آخر انہوں نے آپ ﷺ کو خبر دی، تو انہیں معاویہ ابولجہم بن صخیر اور اسامہ بن زید ؓ نے شادی کا پیغام دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رہے معاویہ تو وہ مفلس آدمی ہیں ان کے پاس مال نہیں ہے، اور رہے ابوجہم تو وہ عورتوں کو بہت مارتے پیٹتے ہیں، لیکن اسامہ بہتر ہیں یہ سن کر فاطمہ ؓ نے ہاتھ سے اشارہ کیا: اور کہا: اسامہ اسامہ (یعنی اپنی بےرغبتی ظاہر کی) آپ ﷺ نے فاطمہ ؓ سے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی بات ماننا تمہارے لیے بہتر ہے ، فاطمہ ؓ کہتی ہیں: آخر میں نے اسامہ سے شادی کرلی، تو دوسری عورتیں مجھ پر رشک کرنے لگیں ١ ؎۔

It was narrated that Abu Bakr (RA) bin Abu [ahm bin Sukhair AI-Adawi said: "I heard Fatimah bint Qais say: The Messenger of Allah ﷺ said to me: "When you become lawful,I tell me." So I told him. Then Muawiyah, Abu Jahm bin Sukhair and Usamah bin Zaid proposed marriage to her. The Messenger of Allah ﷺ said: As for Muawiyah, he is a poor man who has no money. As for Abu Jahm, he is a man who habitually beats woman. But Usamah (is good). She gestured with her hand, saying: Usamah, Usamahl? The Messenger of Allah ﷺ said to her: Obedience to Allah and obedience to His Messenger is better for you. She said: So I married him and I was pleased with him. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت سے معلوم ہوا کہ جسے پیغام دیا گیا اگر اس کی طرف سے ابھی موافقت کا اظہار نہیں ہوا ہے تو دوسرے کے لیے پیغام دینا جائز ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صلاح و مشورہ دینے میں کسی کا حقیقی اور واقعی عیب بیان کرنا جائز ہے تاکہ مشورہ لینے والا دھوکہ نہ کھائے، یہ غیبت میں داخل نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطلاق ٦ (١٤٨٠)، سنن الترمذی/النکاح ٣٧ (١١٣٥) سنن النسائی/النکاح ٨ (٣٢٢٤)، الطلاق ٧٣ (٣٥٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٣٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق ٣٩ (٢٨٨٤)، موطا امام مالک/الطلاق ٢٣ (٦٧)، مسند احمد (٦/٤١٤، ٤١٥)، سنن الدارمی/النکاح ٧ (٢٢٢٣) (صحیح )
1870Sunan Ibne-Majah

کنواری یا ثیبہ دونوں سے نکاح کی اجازت لینا

حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَن ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي أَنْ تَتَكَلَّمَ، قَالَ: إِذْنُهَا سُكُوتُهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غیر کنواری عورت اپنے آپ پر اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری عورت سے نکاح کے سلسلے میں اجازت طلب کی جائے گی ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کنواری بولنے سے شرم کرے گی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے ۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "A widow has more right (to decide) concerning herself than her guardian, and a virgin should be consulted." It was said: "O Messenger of Allah, a virgin may be too shy to speak." He said: "Her consent is her silence." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٩ (١٤٢١)، سنن ابی داود/النکاح ٢٦ (٢٠٩٨)، سنن الترمذی/النکاح ١٧ (١١٠٨)، سنن النسائی/النکاح ٣١ (٣٢٦٢)، (تحفة الأشراف: ٦٥١٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ٢ (٣)، مسند احمد (١/٢١٩، ٢٤٢، ٢٧٤، ٣٥٤، ٣٦٢)، سنن الدارمی/النکاح ١٣ (٢٢٣٤) (صحیح )
1871Sunan Ibne-Majah

کنواری یا ثیبہ دونوں سے نکاح کی اجازت لینا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، وَإِذْنُهَا الصُّمُوتُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: غیر کنواری عورت کا نکاح اس کی واضح اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح بھی اس سے اجازت لے کر کیا جائے، اور کنواری کی اجازت اس کی خاموشی ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: A previously-married woman should not be married until she is consulted, and a virgin should not be married until her consent is sought, and her consent is her silence." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٩ (١٤١٩)، سنن الترمذی/النکاح ١٧ (١١٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٣٨٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح ٤٢ (٥١٣٦)، الحیل ١١ (٦٩٦٨، ٦٩٧٠)، سنن النسائی/النکاح ٣٣ (٣٢٦٧)، مسند احمد (٢/٢٢١، ٢٥٠، ٤٢٥، ٤٣٤، سنن الدارمی/النکاح ١٣ (٢٢٣٢) (صحیح )
1872Sunan Ibne-Majah

کنواری یا ثیبہ دونوں سے نکاح کی اجازت لینا

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الثَّيِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِهَا، وَالْبِكْرُ رِضَاهَا صَمْتُهَا.

عدی کندی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غیر کنواری عورت اپنی رضا مندی صراحۃً ظاہر کرے، اور کنواری کی رضا مندی اس کی خاموشی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Adi bin Adi Al-Kindi that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: A previously-married woman can speak for herself, and the consent of a virgin is her silence.

Notes · وضاحت
١ ؎: ثیّبہ کا چپ ہوجانا کافی نہیں بلکہ زبان سے ہوں یا ہاں کہنا چاہیے، مراد یہاں کنواری اور ثیبہ سے وہ لڑکی ہے جو جوان اور بالغ ہوگئی ہو، لیکن جو نابالغ ہو اس سے اجازت لینا ضروری نہیں بلکہ ولی کی اجازت کافی ہے، جیسے ابوبکر صدیق ؓ نے اپنی بیٹی ام المومنین عائشہ ؓ کا نبی اکرم ﷺ سے نکاح کردیا تھا، اس وقت ام المومنین عائشہ ؓ کی عمر صرف چھ برس کی تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٨٨٢، ومصباح الزجاجة: ٦٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٩٢) (صحیح) (عدی کندی کا اپنے والد عدی بن عمرہ سے سماع نہیں ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے )
1873Sunan Ibne-Majah

بیٹی کی مرضی کے بغیر اس کی شادی کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، وَمُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّيْنِ، أَخْبَرَاهُ: أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ يُدْعَى خِذَامًا أَنْكَحَ ابْنَةً لَهُ، فَكَرِهَتْ نِكَاحَ أَبِيهَا، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ، فَرَدَّ عَلَيْهَا نِكَاحَ أَبِيهَا، فَنَكَحَتْ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، وَذَكَرَ يَحْيَى أَنَّهَا كَانَتْ ثَيِّبًا.

عبدالرحمٰن بن یزید انصاری اور مجمع بن یزید انصاری ؓ خبر دیتے ہیں کہ خذام نامی ایک شخص نے اپنی بیٹی (خنساء) کا نکاح کردیا، اس نے اپنے باپ کا کیا ہوا نکاح ناپسند کیا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، اور آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے اس کے والد کا کیا ہوا نکاح فسخ کردیا، پھر اس نے ابولبابہ بن عبدالمنذر ؓ سے شادی کی۔ یحییٰ بن سعید نے ذکر کیا کہ وہ ثیبہ (غیر کنواری) تھی۔

Abdur-Rahrnan bin Yazid Al-Ansari and Mujamma bin Yazid Al-Ansari said that a man among them who was called Khidam arranged a marriage for his daughter, and she did not like the marriage arranged by her father. She went to the Messenger of Allah ﷺ and told him about that, and he annulled the marriage arranged by her father. Then she married Abu Lubabah bin Abdul-Mundhir. (Sahih) (One of the narrators) Yahya mentioned that she was a previously-married woman.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٤٢ (٥١٣٨، ٥١٣٩)، الإکراہ ٣ (١٩٤٥)، الحیل ١١ (٦٩٦٩)، سنن ابی داود/النکاح ٢٦ (٢١٠١)، سنن النسائی/النکاح ٣٥ (٣٢٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٢٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ١٤ (٢٥)، مسند احمد (٦/٣٢٨)، سنن الدارمی/النکاح ٤ ١ (٣٢٣٧) (صحیح )
1874Sunan Ibne-Majah

بیٹی کی مرضی کے بغیر اس کی شادی کرنا

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ لِيَرْفَعَ بِي خَسِيسَتَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ الْأَمْرَ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ: قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ، أَنْ لَيْسَ إِلَى الْآبَاءِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک نوجوان عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی عرض کیا: میرے والد نے میرا نکاح اپنے بھتیجے سے کردیا ہے، تاکہ میری وجہ سے اس کی ذلت ختم ہوجائے، نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کو اختیار دے دیا، تو اس نے کہا: میرے والد نے جو کیا میں نے اسے مان لیا، لیکن میرا مقصد یہ تھا کہ عورتوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان کے باپوں کو ان پر (جبراً نکاح کردینے کا) اختیار نہیں پہنچتا۔

It was narrated from Ibn Buraidah that his father said: "A girl came to the Prophet ﷺ and said: My father married me to his brothers son so that he might raise his status thereby: The Prophet ﷺ gave her the choice, and she said: I approve of what my father did, but I wanted women to know that their fathers have no right to do that:" (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٩٩٧، ومصباح الزجاجة: ٦٦٨) (ضعیف شاذ) (غایة المرام: ٢١٧ )
1875Sunan Ibne-Majah

بیٹی کی مرضی کے بغیر اس کی شادی کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو السَّقْرِ يَحْيَى بْنُ يَزْدَادَ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَذِيُّ، حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْأَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی، اور اس نے عرض کیا: اس کے والد نے اس کا نکاح کردیا حالانکہ وہ راضی نہیں ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے اختیار دیا۔

It was narrated from Ibn Abbas that a virgin girl came to the Prophet ﷺ and told him that her father had arranged a marriage that she did not like, and the Prophet ﷺ gave her the choice. (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٢٥ (٢٠٩٦، ٢٠٩٧)، (تحفة الأشراف: ٦٠٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٧٣) (صحیح )
1876Sunan Ibne-Majah

بیٹی کی مرضی کے بغیر اس کی شادی کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حِبَّانَ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔

Another chain of narrators with similar wording.

1876Sunan Ibne-Majah

نابالغ لڑکیوں کے نکاح ان کے باپ کرسکتے ہیں

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، فَوُعِكْتُ فَتَمَرَّقَ شَعَرِي حَتَّى وَفَى لَهُ جُمَيْمَةٌ، فَأَتَتْنِي أُمِّي أُمُّ رُومَانَ وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبَاتٌ لِي، فَصَرَخَتْ بِي، فَأَتَيْتُهَا وَمَا أَدْرِي مَا تُرِيدُ، فَأَخَذَتْ بِيَدِي، فَأَوْقَفَتْنِي عَلَى بَابِ الدَّارِ، وَإِنِّي لَأَنْهَجُ حَتَّى سَكَنَ بَعْضُ نَفَسِي، ثُمَّ أَخَذَتْ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ فَمَسَحَتْ بِهِ عَلَى وَجْهِي وَرَأْسِي، ثُمَّ أَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ، فَقُلْنَ: عَلَى الْخَيْرِ، وَالْبَرَكَةِ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِي، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ضُحًى فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شادی کی تو اس وقت میری عمر چھ سال کی تھی، پھر ہم مدینہ آئے تو بنو حارث بن خزرج کے محلہ میں اترے، مجھے بخار آگیا اور میرے بال جھڑ گئے، پھر بال بڑھ کر مونڈھوں تک پہنچ گئے، تو میری ماں ام رومان میرے پاس آئیں، میں ایک جھولے میں تھی، میرے ساتھ میری کئی سہیلیاں تھیں، ماں نے مجھے آواز دی، میں ان کے پاس گئی، مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا چاہتی ہیں؟ آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر کے دروازہ پر لا کھڑا کیا، اس وقت میرا سانس پھول رہا تھا، یہاں تک کہ میں کچھ پرسکون ہوگئی، پھر میری ماں نے تھوڑا سا پانی لے کر اس سے میرا منہ دھویا اور سر پونچھا، پھر مجھے گھر میں لے گئیں، وہاں ایک کمرہ میں انصار کی کچھ عورتیں تھیں، انہوں نے دعا دیتے ہوئے کہا: تم خیر و برکت اور بہتر نصیب کے ساتھ جیو ، میری ماں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کردیا، انہوں نے مجھے آراستہ کیا، میں کسی بات سے خوف زدہ نہیں ہوئی مگر اس وقت جب رسول اللہ ﷺ چاشت کے وقت اچانک تشریف لائے، اور ان عورتوں نے مجھے آپ کے حوالہ کردیا، اس وقت میری عمر نو سال تھی۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ married me when I was six years old. Then we came to AI-Madinah and settled among Banu Hari th bin Khazraj. I became ill and my hair fell out,then it grew back and became abundant. My mother Umm Ruman came to me while I was on an Urjuhah with some of my friends, and called for me. I went to her, and I did not know what she wanted. She took me by the hand and made me stand at the door of the house, and I was panting. When I got my breath back, she took some water and wiped my face and head, and led me into the house. There were some woman of the Ansar inside the house, and they said: With the blessings and good fortune (from Allah). (My mother) handed me over to them and they tidied me up. And suddenly I saw the Messenger of Allah ﷺ in the mornlng. And she handed me over to him and I was at that time, nine years old." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٣٨ (٥١٣٣)، ٣٩ (٥١٣٤)، ٥٩ (٥١٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٧١٠٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح ١٠ (١٤٢٢)، سنن ابی داود/النکاح ٣٤ (٢١٢١)، سنن النسائی/النکاح ٢٩ (٣٢٥٧)، مسند احمد (٦/١١٨)، سنن الدارمی/النکاح ٥٦ (٢٣٠٧) (صحیح )
1877Sunan Ibne-Majah

نابالغ لڑکیوں کے نکاح ان کے باپ کرسکتے ہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ وَهِيَ بِنْتُ سَبْعٍ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ، وَتُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِي عَشْرَةَ سَنَةً.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے نکاح کیا، اس وقت ان کی عمر سات برس تھی، اور ان کے ساتھ خلوت کی تو ان کی عمر نو سال تھی، اور آپ ﷺ کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah .said: "The Prophet ﷺ married Aisha (RA) when she was seven years old, and consummated the marriage with her when she was nine, and he passed away when she was eighteen." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: ام المومنین عائشہ ؓ کے فضائل و مناقب بیشمار ہیں، اور وہ آپ ﷺ کی تمام بیویوں میں خدیجہ الکبری ؓ کے بعد سب سے افضل ہیں، اور بعضوں نے خدیجہ الکبری سے بھی ان کو افضل کہا ہے، غرض وہ آپ ﷺ کی خاص چہیتی تھیں اور آپ کی بیویوں میں صرف وہی کنواری تھیں، اور اس کم سنی میں آپ ؓ کا یہ حال تھا کہ علم و فضل، قوت حافظہ اور عقل و دانش میں بڑی بوڑھی عورتوں سے سبقت لے گئی تھیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٦٢٠، ومصباح الزجاجة: ٦٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٣٠) (صحیح) (سند میں ابو عبیدہ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦ /٢٣٠ )
1878Sunan Ibne-Majah

نابالغ لڑکی کا نکاح والد کے علاوہ کوئی اور کردے تو؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ حِينَ هَلَكَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ تَرَكَ ابْنَةً لَهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَزَوَّجَنِيهَا خَالِي قُدَامَةُ وَهُوَ عَمُّهَا، وَلَمْ يُشَاوِرْهَا وَذَلِكَ بَعْدَ مَا هَلَكَ أَبُوهَا، فَكَرِهَتْ نِكَاحَهُ، وَأَحَبَّتِ الْجَارِيَةُ أَنْ يُزَوِّجَهَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب عثمان بن مظعون ؓ کا انتقال ہوا، تو انہوں نے ایک بیٹی چھوڑی، عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میری شادی اس لڑکی سے میرے ماموں قدامہ ؓ نے کرا دی جو اس لڑکی کے چچا تھے، اور اس سے مشورہ نہیں لیا، یہ اس وقت کا ذکر ہے جب اس کے والد کا انتقال ہوچکا تھا، اس لڑکی نے یہ نکاح ناپسند کیا، اور اس نے چاہا کہ اس کا نکاح مغیرہ بن شعبہ ؓ سے کردیا جائے، آخر قدامہ ؓ نے اس کا نکاح مغیرہ ہی سے کردیا ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that when Uthman bin Maz`un died, he left behind a daughter. Ibn Umar said: "My maternal uncle Qudamah, who was her paternal uncle, married me to her, but he did not consult her. That was after her father had died. She did not like this marriage, and the girl wanted to marry Mughirah bin Shubah, so she married him." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: شاید عثمان ؓ کی بیٹی جوان ہوگی، اور جوان لڑکی کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے نافذ نہیں ہوتا، حنفیہ کا یہ مذہب ہے کہ نابالغ لڑکی کا نکاح اگر باپ دادا کے سوا اور کوئی ولی کر دے تو وہ درست اور جائز ہوگا، لیکن لڑکی کو بلوغت کے بعد فسخ نکاح کا اختیار ہے، اگر وہ اس نکاح سے ناراض ہو تو وہ فسخ نکاح کرسکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٥٢، ومصباح الزجاجة: ٦٧٠)، ورواہ أحمد (٢/١٣٠، والدار قطنی فيسننہ و البیہقی في سننہ ٧/١١٣، من طریق عمربن حسین، عن نافع عن ابن عمر، وأخرجہ: الحاکم ٢/١٦ و البیہقی ٧/١٢١) (حسن) (اس کی سند میں عبد اللہ بن نافع ضعیف ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث حسن ہے، کما فی التخریج )