Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 88 of 218

1740Sunan Ibne-Majah

سوموار اور جمعرات کا روزہ

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ، وَالْخَمِيسَ ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تَصُومُ الِاثْنَيْنِ، وَالْخَمِيسَ، فَقَالَ: إِنَّ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَالْخَمِيسَ يَغْفِرُ اللَّهُ فِيهِمَا لِكُلِّ مُسْلِمٍ، إِلَّا مُهْتَجِرَيْنِ، يَقُولُ: دَعْهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا .

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ دوشنبہ اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے، تو پوچھا گیا: اللہ کے رسول! آپ دوشنبہ اور جمعرات کو روزہ رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دو شنبہ اور جمعرات کو اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو بخش دیتا ہے سوائے دو ایسے لوگوں کے جنہوں نے ایک دوسرے سے قطع تعلق کر رکھا ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان دونوں کو چھوڑو یہاں تک کہ باہم صلح کرلیں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ used to fast on Mondays and Thursdays. It was said: "O Messenger of Allah ﷺ , why do you fast on Mondays and Thursdays?" He said: "On Mondays and Thursdays Allah forgives every Muslim except two who have forsaken one another. He says: Leave these two until they reconcile. (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٧٤٦، و مصباح الزجاجة: ٦٢٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم ٤٤ (٧٤٧)، مسند احمد (٢/٣٢٩)، سنن الدارمی/الصوم ٤١ (١٧٩٢) (صحیح )
1741Sunan Ibne-Majah

اشہر حرم کے روزے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ أَبِي مُجِيبَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَنَا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتُكَ عَامَ الْأَوَّلِ، قَالَ: فَمَا لِي أَرَى جِسْمَكَ نَاحِلًا ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَكَلْتُ طَعَامًا بِالنَّهَارِ مَا أَكَلْتُهُ إِلَّا بِاللَّيْلِ، قَالَ: مَنْ أَمَرَكَ أَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَكَ؟ ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَقْوَى، قَالَ: صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ، وَيَوْمًا بَعْدَهُ ، قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى، قَالَ: صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ، وَيَوْمَيْنِ بَعْدَهُ ، قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى، قَالَ: صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ بَعْدَهُ، وَصُمْ أَشْهُرَ الْحُرُمِ .

ابومجیبہ باہلی اپنے والد یا چچا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے نبی! میں وہی شخص ہوں جو آپ کے پاس پچھلے سال آیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا سبب ہے کہ میں تم کو دبلا دیکھتا ہوں ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں دن کو کھانا نہیں کھایا کرتا ہوں صرف رات کو کھاتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کس نے حکم دیا کہ اپنی جان کو عذاب دو ؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں طاقتور ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم صبر کے مہینے ١ ؎ کے روزے رکھو، اور ہر ماہ ایک روزہ رکھا کرو میں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم صبر کے مہینے کے روزے رکھو، اور ہر ماہ میں دو روزے رکھا کرو میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: صبر کے مہینہ میں روزے رکھو، اور ہر ماہ میں تین روزے اور رکھو، اور حرمت والے مہینوں میں روزے رکھو ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Mujibah Al-Bahil that his father or, his paternal uncle, said: "I came to the Prophet ﷺ and said: O Prophet ﷺ of Allah, I am the man who came to you last year. He said: Why do I see your body so thin (and weak)? He said: O Messenger of Allah ﷺ I do not eat during the day; I only eat at night. He said: Who commanded you to punish yourself? I said: O Messenger of Allah ﷺ I am strong enough. He said: Fast the month of patience"! and one day after it. I said: I am strong enough (to do more). He said: Fast the month of patience and two days after it. I said: I am strong enough (to do more). He said: Fast the month of patience and three days after it, and fast the sacred months. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: صبر کے مہینے سے مراد صیام کا مہینہ (رمضان) ہے، صبر کے اصل معنی روکنے کے ہوتے ہیں، چونکہ اس مہینہ میں روزہ دار اپنے آپ کو دن میں کھانے پینے اور جماع سے روکے رکھتا ہے اس لیے اسے شہر الصبر (صبر کا مہینہ) کہا گیا ہے۔ ٢ ؎: حرمت والے مہینوں سے مراد یہاں ذی الحجہ اور محرم کے مہینے ہیں، ویسے حرمت والے مہینے چار ہیں: رجب، ذو العقدہ، ذوالحجۃ و محرم۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٥٤ (٢٤٢٨)، (تحفة الأشراف: ٥٢٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٨) (ضعیف) (ابومجیبہ مجہول ہے، نیز بعض روایات میں مجیبہ الباہلیہ ہے، نام میں اختلاف کے ساتھ جہالت بھی ہے، اس لئے یہ ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: ٤١٩ )
1742Sunan Ibne-Majah

اشہر حرم کے روزے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ؟، قَالَ: شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل روزہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے مہینے کا جسے تم لوگ محرم کہتے ہو ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "A man came to the Prophet ﷺ and said: Which fasting is best after the month of Ramadan? He said: The month of Allah which is called Muharram. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٣٨ (١١٦٣)، سنن ابی داود/الصوم ٥٥ (٢٤٢٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٧ (٤٣٨)، الصوم ٤٠ (٧٤٠)، سنن النسائی/قیام اللیل ٦ (١٦١٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٣، ٣٢٩، ٣٤٢، ٣٤٤)، سنن الدارمی/الصوم ٤٥ (١٧٩٨) (صحیح )
1743Sunan Ibne-Majah

اشہر حرم کے روزے

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ صِيَامِ رَجَبٍ .

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے رجب کے مہینے میں روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Prophet ﷺ forbade fasting Rajab. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٢٩٣، ومصباح الزجاجة: ٦٢٤) (ضعیف جدا) (اس کی سند میں داود بن عطاء ضعیف ہیں، اس حدیث کو ابن الجوزی نے العلل المتناھیة میں ذکر کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٠٤ )
1744Sunan Ibne-Majah

اشہر حرم کے روزے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ كَانَ يَصُومُ أَشْهُرَ الْحُرُمِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُمْ شَوَّالًا فَتَرَكَ أَشْهُرَ الْحُرُمِ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَصُومُ شَوَّالًا حَتَّى مَاتَ .

محمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ اسامہ بن زید ؓ حرمت والے مہینوں میں روزے رکھتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: شوال میں روزے رکھو ، تو انہوں نے حرمت والے مہینوں میں روزے رکھنا چھوڑ دیا، پھر برابر شوال میں روزے رکھتے رہے، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا۔

It was narrated from Muhammad bin Ibrahim that Usamah bin Zaid used to fast the sacred months. The Messenger of Allah ﷺ said to him: "Fast Shawwal." So he forsook the " sacred months and he continued to fast Shawwal until he died. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢١، ومصباح الزجاجة: ٦٢٥) (ضعیف) (محمد بن ابراہیم اور اسامہ بن زید کے مابین انقطاع ہے، نیز ملاحظہ ہو: التعلیق الرغیب: ٢ / ٨١ )
1745Sunan Ibne-Majah

روزہ بدن کی زکوة ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ . ح وحَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍجَمِيعًا، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ جُمْهَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِكُلِّ شَيْءٍ زَكَاةٌ، وَزَكَاةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ ، زَادَ مُحْرِزٌ فِي حَدِيثِهِ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصِّيَامُ نِصْفُ الصَّبْرِ .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر چیز کی زکاۃ ہے، اور بدن کی زکاۃ روزہ ہے محرز کی روایت میں اتنا اضافہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روزہ آدھا صبر ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said:For everything there is Zakat and the Zakat of the body is fasting." (Daif) (A narrator in one of the chains) Muhriz added in his narration: And the Messenger of Allah ﷺ said: Fasting is half of patience.;

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢٣٦، ومصباح الزجاجة: ٦٢٦) (ضعیف) (موسیٰ بن عبیدہ الر بذی ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٣٢٩ )
1746Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کو روزہ افطار کرانے کا ثواب

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَخَالِي يَعْلَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجٍكُلُّهُمْ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا .

زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی کسی روزہ دار کو افطار کرا دے تو اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا، اور روزہ دار کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں ہوگی ١ ؎۔

It was narrated from Zaid bin Khalid Al-juhani that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever gives food for a fasting person to break his fast, he will have a reward like theirs, without that detracting from their reward in the slightest." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: سبحان اللہ، روزہ دار کا روزہ افطار کرانا، اس میں بھی روزے کے برابر ثواب ہے، دوسری روایت میں ہے، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہر شخص میں اتنی استعداد کہاں ہوتی ہے کہ روزہ دار کا روزہ افطار کرائے، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ثواب اس کو بھی ملے گا جو روزہ دار کا روزہ دودھ ملے ہوئے ایک گھونٹ پانی سے کھلوا دے، یا ایک کھجور، یا ایک گھونٹ پانی سے کھلوا دے، اور جو کوئی روزہ دار کو پیٹ بھر کے کھلا دے اس کو تو اللہ تعالیٰ میرے حوض سے ایک گھونٹ پلائے گا، اس کے بعد وہ پیاسا نہ ہوگا یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوگا (سنن بیہقی)۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٨٢ (٨٠٧)، (تحفة الأشراف: ٣٧٦٠)، (٤/١١٤، ١١٦، ٥/١٩٢) (صحیح )
1747Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کو روزہ افطار کرانے کا ثواب

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَقَالَ: أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ .

عبداللہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سعد بن معاذ ؓ کے پاس افطار کیا اور فرمایا: تمہارے پاس روزہ رکھنے والوں نے افطار کیا، اور تمہارا کھانا، نیک لوگوں نے کھایا اور تمہارے لیے فرشتوں نے دعا کی ۔

It was narrated that Abdullah bin Zubair said : The Messenger of Allah ﷺ broke his fast with Saad bin Muadh and said: Aftara indakamus-saimun wa akala ta amakumul-abrar , wa-sallat alaikumul malaikah (May fasting people break their fast with you, may be the rightoeous eat your food and may be the Angels send blessing upon you) (sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٨٧، ومصباح الزجاجة: ٦٢٧) (صحیح) (سند میں مصعب بن ثابت ضعیف ہیں، بالخصوص عبد اللہ بن زبیر سے روایت میں، لیکن قول رسول صحیح ہے، فعل رسول ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: آداب الزفاف: ٨٥ -٨٦ )
1748Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کے سامنے کھانا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسَهْلٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: لَيْلَى، عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا، فَكَانَ بَعْضُ مَنْ عِنْدَهُ صَائِمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّائِمُ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ الطَّعَامُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ .

ام عمارہ بنت کعب ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے آپ کو کھانا پیش کیا، آپ کے ساتھیوں میں سے کچھ روزے سے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روزہ دار کے سامنے جب کھانا کھایا جائے (اور وہ صبر کرے) تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں ۔

It was narrated that Umm "Umarah said: "The Messenger of Allah ﷺ came to us and we brought food for him. Some of those who were with him were fasting, and the Messenger of Allah ﷺ said: If food is eaten in the presence of one who is fasting, the angels send blessing upon him:" (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٦٧ (٧٨٤، ٧٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦٥، ٤٣٩)، سنن الدارمی/الصوم ٣٢ (١٧٧٩) (ضعیف) (لیلیٰ مولاة ام عمارة لین الحدیث ہیں، اور ان کا کوئی متابع نہیں ہے )
1749Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کے سامنے کھانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ: الْغَدَاءُ يَا بِلَالُ ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَأْكُلُ أَرْزَاقَنَا، وَفَضْلُ رِزْقِ بِلَالٍ فِي الْجَنَّةِ، أَشَعَرْتَ يَا بِلَالُ أَنَّ الصَّائِمَ تُسَبِّحُ عِظَامُهُ، وَتَسْتَغْفِرُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ مَا أُكِلَ عِنْدَهُ .

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال ؓ سے فرمایا: اے بلال! دوپہر کا کھانا حاضر ہے، انہوں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ہم تو اپنی روزی کھا رہے ہیں، اور بلال کی بچی ہوئی روزی جنت میں ہے، تم کو معلوم ہے، اے بلال! روزہ دار کی ہڈیاں تسبیح بیان کرتی ہیں، اور فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں، جب تک اس کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے ۔

It was narrated from Sulaiman bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said to Bilal (RA) : Come and eat, a Bilal (RA) . He said: I am fasting. The Messenger of Allah ﷺ said: We are eating our provision, but most of Bilal (RA) s provision is in Paradise. Do you realize, a Bilal (RA) , that the bones of the fasting person glorify Allah and the angels pray for forgiveness for him so long as food is eaten in front of him?" (Maudu)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٩٤٤، ومصباح الزجاجة: ٦٢٩) (موضوع) (محمد بن عبد الرحمن کی ناقدین نے تکذیب کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٣٣٢ )
1750Sunan Ibne-Majah

عوزہ دار کو کھانے کی دعوت دی جائے تو کیا کرے؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کسی کو کھانا کھانے کے لیے بلایا جائے، اور وہ روزے سے ہو، تو کہے کہ میں روزے سے ہوں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "If anyone of you is invited to eat when he is fasting, let him say: I am fasting. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: میں صوم سے ہوں کہنے کا حکم دعوت قبول نہ کرنے کی معذرت کے طور پر ہے اگرچہ نوافل کا چھپانا بہتر ہے لیکن یہاں اس کے ظاہر کرنے کا حکم اس لیے ہے کہ تاکہ داعی کے دل میں مدعو کے خلاف کوئی غلط فہمی یا کدورت راہ نہ پائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٢٨ (١١٥٠)، سنن ابی داود/الصوم ٧٦ (٢٤٦١)، سنن الترمذی/الصوم ٦٤ (٧٨١)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ٢٤٢، سنن الدارمی/الصیام ٣١ (١٧٧٨) (صحیح )
1751Sunan Ibne-Majah

عوزہ دار کو کھانے کی دعوت دی جائے تو کیا کرے؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ دُعِيَ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيُجِبْ فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ .

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کسی کو کھانے کے لیے دعوت دی جائے، اور وہ روزے سے ہو تو وہ دعوت قبول کرے، پھر اگر چاہے تو کھائے اور اگر چاہے تو نہ کھائے ۔

It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever is invited to eat when he is fasting, let him accept the invitation; and if he wants let him eat, and if he wants let him not eat." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ١٦ (١٤٣٠)، (تحفة الأشراف: ٢٨٣٠)، سنن ابی داود/الأطعمة ١ (٣٧٤٠)، مسند احمد (٣/٣٩٢) (صحیح )
1752Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کی دعا رد نہیں ہوتی

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعْدَانَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ سَعْدٍ أَبِي مُجَاهِدٍ الطَّائِيِّ وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ أَبِي مُدِلَّةَ وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُهَا اللَّهُ دُونَ الْغَمَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَيَقُولُ: بِعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین آدمیوں کی دعا رد نہیں کی جاتی: ایک تو عادل امام کی، دوسرے روزہ دار کی یہاں تک کہ روزہ کھولے، تیسرے مظلوم کی، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قیامت کے دن بادل سے اوپر اٹھائے گا، اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جائیں گے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میری عزت کی قسم! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا گرچہ کچھ زمانہ کے بعد ہو ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There are three whose supplications are not turned back: A just ruler, and a fasting person until he breaks his fast. And, the supplication of one who has been wronged is raised by Allah up to the clouds on the Day of Resurrection, and the gates of heaven are opened for it, and Allah says, By My might I will help you (against the wrongdoer) even if it is after a while. (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: مظلوم کی آہ خالی جانے والی نہیں، ظالم اگر چند روز بچا رہے، تو اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہے، بلکہ یہ استدراج اور ڈھیل ہے کہ ایک نہ ایک دن دنیا ہی میں اللہ تعالیٰ اس سے بدلہ لے لے گا، حدیث میں مظلوم کو مطلق رکھا مسلمان کی قید نہیں کی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر پر بھی ظلم ناجائز ہے، کیونکہ سب اللہ کے بندے ہیں، اور کافر اگر مظلوم ہو تو اس کی دعا اثر کرے گی، غرض ظلم سے انسان کو ہمیشہ بچتے رہنا چاہیے، اس کے برابر کوئی گناہ نہیں، اور ظلم کا اطلاق ہر زیادتی اور نقصان پر جو ناحق کسی کے ساتھ کیا جائے، خواہ مال کا نقصان ہو یا عزت کا یا جان کا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٢٩ (٣٥٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٤، ٣٠٥، ٤٤٥، ٤٤٧) (ضعیف) (پہلا فقرہ الإِمَامُ الْعَادِلُ کے بجائے المسافر کے لفظ کے ساتھ صحیح ہے، نیز الصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ کا فقرہ بھی صحیح ہے، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٥٩٦ - ١٧٩٧ ور صحیح ابن خزیمہ: ١٩٠١ )
1753Sunan Ibne-Majah

روزہ دار کی دعا رد نہیں ہوتی

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِهِ لَدَعْوَةً مَا تُرَدُّ ، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: إِذَا أَفْطَرَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ، أَنْ تَغْفِرَ لِي.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روزہ دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی ۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کو سنا کہ جب وہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے: اللهم إني أسألک برحمتک التي وسعت کل شيء أن تغفر لي اے اللہ! میں تیری رحمت کے ذریعہ سوال کرتا ہوں جو ہر چیز کو وسیع ہے کہ مجھے بخش دے ۔

It was narrated from Abdullah bin Amr bin As that the Messenger of Allah ﷺ said: "When the fasting person breaks his fast, his supplication is not turned back." (Hasan) (One of the narrators) Ibn Abi Mulaikah said: "When he broke his fast, I heard Abdullah bin ,Amr say: O Allah! I ask You by Your mercy, which encompasses all things, to forgive me.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٨٤٢، ومصباح الزجاجة: ٦٣٠) (ضعیف) (اسحاق بن عبید اللہ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٩٢١ )
1754Sunan Ibne-Majah

عید الفطر کے روز گھر سے نکلنے سے قبل کچھ کھانا

حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ تَمَرَاتٍ .

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن چند کھجوریں کھائے بغیر عید کے لیے نہیں نکلتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Prophet ﷺ would not go out on the Day of Fitr until he had eaten some dates." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: عید الفطر کے دن نماز سے پہلے کچھ کھا لینا سنت ہے، اگر کھجوریں ہوں تو بہتر ہے، ورنہ جو میسر ہو کھائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ٤ (٩٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٣ (٥٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٦، ٢٣٢) (صحیح) (سند میں جبارہ بن مغلس ضعیف راوی ہے، لیکن سعید بن سلیمان نے صحیح بخاری میں ان کی متابعت کی ہے )
1755Sunan Ibne-Majah

عید الفطر کے روز گھر سے نکلنے سے قبل کچھ کھانا

حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ صَهْبَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يُغَذِّيَ أَصْحَابَهُ مِنْ صَدَقَةِ الْفِطْرِ .

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید الفطر میں عید گاہ اس وقت تک نہیں جاتے تھے جب تک کہ اپنے (مساکین) صحابہ کو اس صدقہ فطر میں سے کھلا نہ دیتے (جو آپ کے پاس جمع ہوتا) ۔

It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "The Prophet ﷺ would not go out on the Day of Fitr until he had given his Companions same of the charity of Fitr to eat." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٢٣٤، ومصباح الزجاجة: ٦٣١) (ضعیف) (جبارہ، مندل اور عمر بن صہبان ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٢٤٨ )
1756Sunan Ibne-Majah

عید الفطر کے روز گھر سے نکلنے سے قبل کچھ کھانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ثَوَابُ بْنُ عُتْبَةَ الْمَهْرِيُّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ، وَكَانَ لَا يَأْكُلُ يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى يَرْجِعَ .

بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن جب تک کہ کچھ کھا نہ لیتے نہیں نکلتے اور عید الاضحی کے دن نہیں کھاتے جب تک کہ (عید گاہ سے) واپس نہ آجاتے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Buraidah from his father, that the Messenger of Allah ﷺ would not go out on the Day of Fitr until he had eaten, and he would not eat on the Day of Nahr (the day of sacrifice) until he came back.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ عیدالفطر کے دن نماز عید سے پہلے کچھ کھانا، اور عیدالاضحی کے دن بغیر کچھ کھائے نماز ادا کرنا سنت ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کھانے میں کسی خاص چیز کی ہدایت نہیں ہے، البتہ کھجور یا چھوہارے کھا کر جانا مسنون ہے، اس لیے رسول اللہ ﷺ عیدالفطر کے دن طاق کھجوریں کھا کر عیدگاہ جایا کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٣ (٥٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٩٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٥٢، ٣٦٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٧ (١٦٤١) (صحیح )
1757Sunan Ibne-Majah

جو شخص مر جائے اور اس کے ذمہ ررمضان کے روزے ہوں جن کو کوتاہی کی وجہ سے نہ رکھا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرٍ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ .

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مرجائے، اور اس پہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی جانب سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever dies owing the fasts of a month, one poor person should be fed on his behalf for each day." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٢٣ (٧١٨)، (تحفة الأشراف: ٨٤٢٣) (صحیح) (اس کی سند میں محمد بن سیرین کا ذکر وہم ہے، سنن ترمذی میں صرف محمد کا ذکر بغیر کسی نسبت کے ہے، امام ترمذی کہتے ہیں کہ محمد سے میرے نزدیک ابن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ہیں، اور اس حدیث کو ہم مرفوعاً اسی طریق سے جانتے ہیں، اور صحیح ابن عمر ؓ سے موقوفاً ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابن خزیمہ ٢٠٥٦ ، و کامل ابن عدی ١؍٣٦٥ ، اور محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ سوء حفظ کی وجہ سے ضعیف ہیں، حافظ ابن حجر کہتے ہیں: صدوق سئی الحفظ جداً، صدوق ہیں، اور حافظہ بہت برا ہے )
1758Sunan Ibne-Majah

جس کے ذمے نذر کے روزے ہوں اور وہ فوت ہو جائے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، وَالْحَكَمِ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَطَاءٍ، وَمُجاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، قَالَ: أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ؟ ، قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَحَقُّ اللَّهِ أَحَقُّ .

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی، اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری بہن کا انتقال ہوگیا، اور اس پہ مسلسل دو ماہ کے روزے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بتاؤ اگر تمہاری بہن پہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں ؟ اس نے کہا: ہاں، ضرور ادا کرتی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنا زیادہ اہم ہے ۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: A woman came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, my sister has died and she owed a fast of two consecutive months. He said: Do you not think that if your sister owed a debt, you would pay it off for her? She said: Of course. He said: The right of Allah is greater. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٤٢ (١٩٥٣)، صحیح مسلم/الصیام ٢٧ (١١٤٨)، سنن ابی داود/الأیمان ٢٦ (٣٣١٠)، سنن الترمذی/الصوم ٢٢ (٧١٦)، (تحفة الأشراف: ٥٦١٢، ٥٣٩٥، ٥٥١٣، ٩٨٥٢، ٥٨٩٥، ٩٥٦١، ٦٣٨٥، ٦٣٩٦، ٦٣٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٤، ٢٢٧، ٢٥٨، ٣٦٢)، سنن الدارمی/الصوم ٤٩ (١٨٠٩) لکن عندھم: أن أمي ماتت (صحیح )
1759Sunan Ibne-Majah

جس کے ذمے نذر کے روزے ہوں اور وہ فوت ہو جائے

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمٌ، أَفَأَصُومُ عَنْهَا؟، قَالَ: نَعَمْ .

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی، اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہوگیا، اور اس پر روزے تھے، کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Buraidah that his father said: "A woman came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, my mother has died and she owed a fast. Should I fast on her behalf? He said: Yes. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: علامہ ابن القیم فرماتے ہیں کہ میت کی طرف سے نذر کا روزہ رکھنا جائز ہے، اور فرض اصلی یعنی رمضان کا جائز نہیں، عبداللہ بن عباس اور ان کے اصحاب اور امام احمد کا یہی قول ہے اور یہ صحیح ہے کیونکہ فرض روزہ مثل نماز کے ہے، اور نماز کوئی دوسرے کی طرف سے نہیں پڑھ سکتا، اور نذر مثل قرض کے ہے تو میت کی طرف سے وارث کا ادا کرنا کافی ہوگا، جیسے اس کی طرف سے قرض ادا کرنا، الروضہ الندیہ میں ہے کہ میت کی طرف سے ولی کا روزہ رکھنا اس وقت کافی ہوگا جب اس نے عذر سے صیام رمضان نہ رکھے ہوں، لیکن اگر بلا عذر کسی نے صیام رمضان نہ رکھے تو اس کی طرف سے ولی کا روزے رکھنا کافی نہ ہوگا جیسے میت کی طرف سے توبہ کرنا، یا اسلام لانا یا نماز ادا کرنا کافی نہیں ہے، اور ظاہر مضمون حدیث کا یہ ہے کہ ولی پر میت کی طرف سے روزہ رکھنا یا کھانا کھلانا واجب ہے خواہ میت نے وصیت کی ہو اس کی یا نہ کی ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٢٧ (١١٤٩)، سنن ابی داود/الزکاة ٣١ (١٦٥٦)، الوصایا ١٢ (٢٨٧٧)، الإیمان ٢٥ (٣٣٠٩)، سنن الترمذی/ الزکاة ٣١ (٦٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٩٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥١، ٣٦١) (صحیح )