اشہر حرم کے روزے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ أَبِي مُجِيبَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَنَا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتُكَ عَامَ الْأَوَّلِ، قَالَ: فَمَا لِي أَرَى جِسْمَكَ نَاحِلًا ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَكَلْتُ طَعَامًا بِالنَّهَارِ مَا أَكَلْتُهُ إِلَّا بِاللَّيْلِ، قَالَ: مَنْ أَمَرَكَ أَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَكَ؟ ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَقْوَى، قَالَ: صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ، وَيَوْمًا بَعْدَهُ ، قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى، قَالَ: صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ، وَيَوْمَيْنِ بَعْدَهُ ، قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى، قَالَ: صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ بَعْدَهُ، وَصُمْ أَشْهُرَ الْحُرُمِ .
ابومجیبہ باہلی اپنے والد یا چچا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے نبی! میں وہی شخص ہوں جو آپ کے پاس پچھلے سال آیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا سبب ہے کہ میں تم کو دبلا دیکھتا ہوں ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں دن کو کھانا نہیں کھایا کرتا ہوں صرف رات کو کھاتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کس نے حکم دیا کہ اپنی جان کو عذاب دو ؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں طاقتور ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم صبر کے مہینے ١ ؎ کے روزے رکھو، اور ہر ماہ ایک روزہ رکھا کرو میں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم صبر کے مہینے کے روزے رکھو، اور ہر ماہ میں دو روزے رکھا کرو میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: صبر کے مہینہ میں روزے رکھو، اور ہر ماہ میں تین روزے اور رکھو، اور حرمت والے مہینوں میں روزے رکھو ٢ ؎۔
It was narrated from Abu Mujibah Al-Bahil that his father or, his paternal uncle, said: "I came to the Prophet ﷺ and said: O Prophet ﷺ of Allah, I am the man who came to you last year. He said: Why do I see your body so thin (and weak)? He said: O Messenger of Allah ﷺ I do not eat during the day; I only eat at night. He said: Who commanded you to punish yourself? I said: O Messenger of Allah ﷺ I am strong enough. He said: Fast the month of patience"! and one day after it. I said: I am strong enough (to do more). He said: Fast the month of patience and two days after it. I said: I am strong enough (to do more). He said: Fast the month of patience and three days after it, and fast the sacred months. (Daif)