عوزہ دار کو کھانے کی دعوت دی جائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ دُعِيَ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيُجِبْ فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ .
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کسی کو کھانے کے لیے دعوت دی جائے، اور وہ روزے سے ہو تو وہ دعوت قبول کرے، پھر اگر چاہے تو کھائے اور اگر چاہے تو نہ کھائے ۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever is invited to eat when he is fasting, let him accept the invitation; and if he wants let him eat, and if he wants let him not eat." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ١٦ (١٤٣٠)، (تحفة الأشراف: ٢٨٣٠)، سنن ابی داود/الأطعمة ١ (٣٧٤٠)، مسند احمد (٣/٣٩٢) (صحیح )