انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ ، عرض کیا گیا: مردوں میں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان کے والد (ابوبکر) ١ ؎۔
It was narrated that Anas said: “It was said: ‘O Messenger of Allah ﷺ , which of the people is most beloved to you?’ He said: “ Aisha (RA) .’ It was asked, ‘And among men?’ He said: ‘Her father.’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے بڑے چہیتے اور محبوب تھے، اور جو آپ ﷺ کا چہیتا اور محبوب ہو وہ اللہ تعالیٰ کا چہیتا اور محبوب ہے۔
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا: رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں آپ کو سب سے زیادہ کون محبوب تھا؟ کہا: ابوبکر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ کہا: عمر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ کہا: ابوعبیدہ ١ ؎۔
It was narrated that ‘Abdullâh bin Shaqiq said: “I said to ‘ Aisha (RA) : ‘Which of the (Prophet’s) Companions was most beloved to him?’ She said: ‘Abu Bakr.’ I said: ‘Then which of them?’ She said: “Umar.’ I said: ‘Then which of them?’ She said: ‘Abu ‘Ubaidah.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: خلاصہ یہ ہے کہ محبت کے مختلف وجوہ و اسباب ہوتے ہیں، چناچہ نبی ﷺ کی فاطمہ ؓ سے محبت بیٹی ہونے کے اعتبار سے اور ان کے زہد و عبادت کی وجہ سے تھی، اور عائشہ ؓ سے محبت زوجیت، دینی بصیرت، اور فہم و فراست کے سبب تھی، اور ابوبکر و عمر ؓ سے محبت اسلام میں سبقت، دین کی بلندی، علم کی زیادتی، شریعت کی حفاظت اور اسلام کی تائید کے سبب تھی، شیخین کے یہ کمالات و مناقب کسی پر پوشیدہ نہیں، اور ابوعبیدہ ؓ سے محبت اس لئے تھی کہ ان کے ہاتھ پر متعدد فتوحات اسلام ہوئیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المنا قب ١٤، (٣٦٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٢١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢١٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب عمر ؓ نے اسلام قبول کیا تو جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور کہا: اے محمد! عمر کے قبول اسلام سے آسمان والے بہت ہی خوش ہوئے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: “When ‘Umar became Muslim, Jibril came down and said: ‘O Muhammad ﷺ ! The people of heaven are rejoicing because of ‘Umar’s Islam.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٤١٧، ومصباح الزجاجة: ٣٩) (ضعیف جدًا) (سند میں عبداللہ بن خراش منکر الحدیث بلکہ بعضوں کے نزدیک کذاب ہیں )
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حق تعالیٰ سب سے پہلے قیامت کے دن عمر سے مصافحہ کریں گے، اور سب سے پہلے انہیں سے سلام کریں گے، اور سب سے پہلے ان کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کریں گے ۔
It was narrated that Ubayy bin Ka’b said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The first person with whom Allah will shake hands will be ‘Umar, (and he is) the first person to be greeted with the Salam, and the first person who will be taken by the hand and admitted into paradise.’” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٤، ومصباح الزجاجة: ٤٠) (منکر جدًا) (داود بن عطاء المدینی ضعیف ہیں، اور منکر الحدیث ہیں اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! اسلام کو خاص طور سے عمر بن خطاب کے ذریعہ عزت و طاقت عطا فرما ۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘O Allah! Strengthen Islam with ‘Umar bin Khattâb in particular.’” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٢٤٤، ومصباح الزجاجة: ٤٢) (صحیح) (اس حدیث کی سند میں زنجی بن خالد منکر الحدیث صاحب أوھام راوی ہیں، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، حدیث میں خاصة کا لفظ متابعت یا شاہد کے نہ ملنے سے ثابت نہیں ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: ٦٠٣٦ ، و صحیح السیرة النبویة)۔
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ کو کہتے سنا: رسول اللہ ﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر ابوبکر ہیں، اور ان کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر عمر ہیں ۔
It was narrated that Abdullâh bin Salimah said: “I heard ‘Ali say: ‘The best of people after the Messenger of Allah ﷺ is Abu Bakr, and the best of people after Abu Bakr (RA) is ‘Umar.’”(Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے، آپ نے فرمایا: اس اثنا میں کہ میں سویا ہوا تھا، میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا، پھر اچانک میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ ایک محل کے کنارے وضو کر رہی ہے، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ اس عورت نے کہا: عمر کا (مجھے عمر کی غیرت یاد آگئی تو میں پیٹھ پھیر کر واپس ہوگیا) ۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: یہ سن کر عمر ؓ رونے لگے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا میں آپ سے غیرت کروں گا؟ ١ ؎۔
Abu Hurairah (RA) said: “We were sitting with the Prophet ﷺ and he said: ‘While I was sleeping I saw myself in Paradise (in a dream), and I saw a woman performing ablution beside a palace. I asked: “Whose palace is this?” She said: “Umar’s.” I remembered his protective jealousy, so I tinned away and left.” Abu Hurairah (RA) said: “Umar wept and said: ‘May my father and mother be sacrificed for you, O Messenger of Allah! ﷺ Would I feel any protective jealousy against you?” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: وضو نظافت اور لطافت کے لئے تھا، نہ کہ رفع حدث اور طہارت کے لئے کیونکہ جنت شرعی امور و اعمال کے ادا کرنے کی جگہ نہیں ہے، اور اس حدیث سے عمر ؓ کا جنتی ہونا ثابت ہوا، اور انبیاء کا خواب وحی ہے، خواب و خیال نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٨ (٣٢٤٢)، فضائل أصحاب النبي ﷺ ٦ (٣٦٨٠)، التعبیر ٣٢ (٧٠٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٢١٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢ (٢٣٩٥)، مسند احمد (٢/٣٣٩) (صحیح )
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان پر حق رکھ دیا ہے، وہ حق ہی بولتے ہیں ۔
It was narrated that Abu Dharr (RA) said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Allah has placed the truth on the tongue of ‘Umar, and he speaks with that (truth).” (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الخراج والإمارة ١٨ (٢٩٦٢)، (تحفة الأشراف: ١١٩٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٥، ١٦٥، ١٧٧) (صحیح) (تراجع الا ٔلبانی، رقم: ٥٠٧ )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق (ساتھی) ہے، اور میرے رفیق (ساتھی) اس میں عثمان بن عفان ہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Every Prophet ﷺ will have a friend in Paradise, and my friend there will be ‘Uthmân bin ‘Affân.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٧٩٠، ومصباح الزجاجة: ٤٣) (ضعیف) (عثمان بن خالد ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ا لضعیفہ: ٢٢٩١ )
ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عثمان ؓ سے مسجد کے دروازے پر ملے، اور فرمایا: عثمان! یہ جبرائیل ہیں انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی شادی ام کلثوم سے رقیہ کے مہر مثل پر کردی ہے، اس شرط پر کہ تم ان کو بھی اسی خوبی سے رکھو جس طرح اسے (رقیہ کو) رکھتے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ met ‘Uthman at the door of the Masjid and said: “O ‘Uthman Jibril has told me that Allah married you to Umm Kulthum for a dowry like that of Ruqayyah, provided that you treat her as you treated Ruqayyah” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: ام کلثوم اور رقیہ ؓ دونوں نبی کریم ﷺ کی صاحبزادیاں تھیں، اور پہلے دونوں ابولہب کے دونوں بیٹے عتبہ اور ربیعہ کے نکاح میں تھیں، دخول سے پہلے ہی ابولہب نے اپنے دونوں لڑکوں کو کہا کہ محمد ﷺ کی لڑکیوں کو طلاق دے دو، تو انہوں نے طلاق دے دی، اور نبی اکرم ﷺ نے پہلے ایک کی شادی عثمان ؓ سے کی، پھر ان کے انتقال کے بعد دوسری کی شادی بھی انہی سے کردی، اس لئے ان کا لقب ذوالنورین ہوا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٧٨٩، ومصباح الزجاجة: ٤٤) (ضعیف) (اس کی سند میں بھی عثمان بن خالد ضعیف راوی ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، جیسا کہ گذشتہ حدیث ( ١٠٩ ) میں گزرا )
کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک فتنہ کا ذکر کیا کہ وہ جلد ظاہر ہوگا، اسی درمیان ایک شخص اپنا سر منہ چھپائے ہوئے گزرا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ شخص ان دنوں ہدایت پر ہوگا ، کعب ؓ کہتے ہیں: میں تیزی سے اٹھا، اور عثمان ؓ کے دونوں کندھے پکڑ لیے، پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کی جانب رخ کر کے کہا: کیا یہی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں یہی ہیں (جو ہدایت پر ہوں گے) ١ ؎۔
It was narrated that Ka’b bin Ujrah said: “The Messenger of Allah ﷺ mentioned a Fitnah (tribulation) that had drawn nigh.Then a man passed by with his head covered. The Messenger of Allah ﷺ s.a.w.w said: ‘On that day, this man will be following right guidance.’ I leapt up and took hold of ‘Uthmán’s arms, then I turned to face the Messenger of Allah ﷺ and said: ‘This man?’ He said: ‘This man.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عثمان ؓ کے خلاف بغاوت کرنے والے، اور فتنہ کھڑا کرنے والے حق پر نہ تھے، اور عثمان ؓ حق پر تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١١١٧، ومصباح الزجاجة: ٤٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المنا قب ١٩ (٣٧٠٤)، مسند احمد (٤/ ٢٣٥، ٢٣٦، ٢٤٢، ٢٤٣) (صحیح) (ابن سیرین اور کعب بن عجرہ ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن مرة بن کعب کی ترمذی کی حدیث نمبر ( ٣٧٠٤ ) کے شاہد سے یہ صحیح ہے، جس کی تصحیح امام ترمذی نے کی ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے عثمان! اگر اللہ تعالیٰ کبھی تمہیں اس امر یعنی خلافت کا والی بنائے، اور منافقین تمہاری وہ قمیص اتارنا چاہیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں پہنائی ہے، تو اسے مت اتارنا ، آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی۔ نعمان ؓ کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا: پھر آپ نے یہ بات لوگوں کو بتائی کیوں نہیں؟ تو وہ بولیں: میں اسے بھلا دی گئی تھی ١ ؎۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ said: “O ‘Uthmân, if Allah places you in authority over this maker (as the caliph) some day and the hypocrites want to rid you of the garment with which Allah has clothed you (i.e., the position of caliph), do not take it off.” He said that three times. (One of the narrators) Nu’mân said: “I said to ‘ Aisha (RA) : ‘What kept you from telling the people that?’ She said: ‘I was made to forget it.’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: قمیص سے مراد خلافت ہے، ظاہر ہے عثمان ؓ کی خلافت صحیح تھی، مخالفین ظلم، نفاق اور ہٹ دھرمی کا شکار تھے، ام المؤمنین عائشہ ؓ بھی یہ حدیث بمنشا الہٰی بھول گئی تھیں، بعد میں آپ کو رسول اللہ ﷺ کی بات یاد آگئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٦٧٥، ومصباح الزجاجة: ٤٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب ١٩ (٣٧٠٥)، مسند احمد (٦/١٤٩) (صحیح) (امام ترمذی نے ربیعہ بن یزید اور نعمان بن بشیر ؓ کے درمیان عبد اللہ بن عامر الیحصبی کا ذکر کیا ہے، ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں اسی کو صحیح قرار دیا ہے، ملاحظہ ہو: ٣/٢٦٤ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: میری خواہش یہ ہے کہ میرے پاس میرے صحابہ میں سے کوئی ہوتا ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ابوبکر کو نہ بلا دیں؟ آپ ﷺ خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عمر کو نہ بلا دیں؟ آپ ﷺ خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عثمان کو نہ بلا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، تو وہ آئے، آپ ﷺ ان سے تنہائی میں باتیں کرنے لگے، اور عثمان ؓ کا چہرہ بدلتا رہا۔ قیس کہتے ہیں: مجھ سے عثمان ؓ کے غلام ابوسہلۃ نے بیان کیا کہ عثمان بن عفان ؓ نے جس دن ان پر حملہ کیا گیا کہا: بیشک رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے جو عہد لیا تھا میں اسی کی طرف جا رہا ہوں۔ علی بن محمد نے اپنی حدیث میں: وأنا صابر عليه کہا ہے، یعنی: میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔ قیس بن ابی حازم کہتے ہیں: اس کے بعد سب لوگوں کا خیال تھا کہ اس گفتگو سے یہی دن مراد تھا ١ ؎۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “When he was ill, the Messenger of Allah ﷺ s.a.w.w said: ‘I would like to have some of my Compamons with me. We said:‘O Messenger of Allah! ﷺ Shall wecall Abu Bakr (RA) for you?’ But here mained silent. We said: ‘Shall we call ‘Umar for you?’ But he remained silent. We said: ‘Shall we call Uthman for you? He said: ‘Yes: So ‘Uthman came and he spoke to him in private. The Prophet ﷺ s.a.w.w. started to speak to him and ‘Uthman’s expression changed.” Qais said: “Abu Sahlah, the freed slave of Uthman narrated to me that the Day of the House, Uthirian bin ‘Affân said: ‘The Messenger of Allah ﷺ s.a.w.w told me what would come to pass and now I am coming that day.” In his narration of the Hadith, Ali (one of the narrators) said that he said): “And I am going to ‘bear it with patience.” Qais said: “They used to think that that was the Day of the House.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: صحابہ کرام ؓ نے شہادت عثمان ؓ کے دن کو یوم الدار سے یاد رکھا، ظالموں نے کئی دن محاصرہ کے بعد آپ کو بھوکا پیاسا شہید کیا، نبی اکرم ﷺ نے آپ کو اس کی پیش گوئی فرما دی تھی، اور تنہائی کی گفتگو کا حال کسی کو معلوم نہ تھا، آپ کی شہادت کے بعد معلوم ہوا، ؓ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٥٦٩، ومصباح الزجاجة: ٤٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب ١٩ (٣٧١١)، مسند احمد (١/٥٨، ٦٩، ٥/٢٩٠، ٦/ ٢١٤)، مقتصراً علی ما رواہ قیس عن أبي سہلة فقط (صحیح) (نیز ملاحظہ ہو: تعلیق الشہری علی الحدیث فی مصباح الزجاجة: ٤٦ )
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی امّی ﷺ نے مجھ سے فرمایا: مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا، مجھ سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا ۔
It was narrated that ‘Ali said: “The unlettered Prophet ﷺ informed me (saying) that none but a believer would love me and none but a hypocrite would hate me.” (Sahih)
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ تم میری طرف سے ایسے ہی رہو جیسے ہارون موسیٰ کی طرف سے ١ ؎۔
Sa’d bin Abu Waqqâs narrated from his father that the Prophet ﷺ said to ‘Ali (RA) : “Would it not please you to be to me as Hârun was to Musa?” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ایک بڑی حدیث کا ٹکڑا ہے (غزوۂ تبوک کی تفصیلات دیکھئے)، بعض منافقوں نے علی ؓ کو بزدلی کا طعنہ دیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ تم کو بزدلی کے سبب مدینہ میں چھوڑ گئے، ان کو تکلیف ہوئی، رسول اللہ ﷺ سے شکوہ کیا، تب آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی، یہ روایت بخاری اور مسلم میں بھی ہے، اور اس میں یہ لفظ زیادہ ہے: إلا أنه لا نبي بعدي یعنی اتنی بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، یعنی جیسے ہارون (علیہ السلام) نبی تھے، اس حدیث سے نبی اکرم ﷺ کے بعد علی ؓ کی خلافت پر استدلال صحیح نہیں کیونکہ ہارون موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد موسیٰ کے خلیفہ نہیں تھے بلکہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی ہی میں انتقال کر گئے تھے۔
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر آئے، آپ نے راستے میں ایک جگہ نزول فرمایا اور عرض کیا:الصلاة جامعة، یعنی سب کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا، پھر علی ؓ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: کیا میں مومنوں کی جانوں کا مومنوں سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟ ، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں ہر مومن کا اس کی جان سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟ ، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ (علی) دوست ہیں اس کے جس کا میں دوست ہوں، اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ، جو علی سے عداوت رکھے تو اس سے عداوت رکھ ١ ؎۔
It was narrated that Barâ’ bin ‘ Azib (RA) said: “We returned with the Messenger of Allah ﷺ a from his Hajj that he had performed and we stopped at some point on the road. He commanded that prayer should be performed in congregation, then he took the hand of ‘Ali and said: ‘Am I not dearer to the believers than their own selves?’ They said: ‘Yes indeed.’ He said: ‘Am I not dearer to every believer than his own sell?’ They said: ‘Yes indeed.’ He said: ‘This man is the friend of those whose master I am.’ O Allah, take as friends those who take him as a friend, and take as enemies those who take him as an enemy.’” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع سے لوٹتے وقت غدیرخم میں بیان فرمائی، یہ مکہ اور مدینہ کے بیچ جحفہ میں ایک مقام کا نام ہے، اس حدیث سے علی ؓ کی خلافت بلافصل پر استدلال درست نہیں: ١ ۔ کیونکہ اس کے لئے شیعہ مذہب میں حدیث متواتر چاہیے، اور یہ متواتر نہیں ہے ٢ ۔ ولی اور مولیٰ مشترک المعنی لفظ ہیں، اس لئے کوئی خاص معنی متعین ہو یہ ممنوع ہے، ٣ ۔ امام معہود و معلوم کے لئے مولیٰ کا اطلاق اہل زبان کے یہاں مسلم نہیں، ٤ ۔ خلفاء ثلاثہ (ابوبکر، عمر، عثمان ؓ عنہم) کی تقدیم اجماعی مسئلہ ہے، اور اس اجماع میں خود علی ؓ شامل ہیں، ٥ ۔ اگر اس سے خلافت بلافصل مراد ہوتی تو صحابہ کرام ؓ ہرگز اس سے عدول نہ کرتے، وہ اہل زبان اور منشاء نبوی کو ہم سے بہتر جاننے والے تھے، ٦ ۔ اس حدیث میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ علی ؓ سے محبت کی جائے اور ان کے بغض سے اجتناب کیا جائے، اور یہ اہل سنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ سارے صحابہ کرام ؓ بالخصوص امہات المومنین اور آل رسول سے محبت کی جائے، اور ان سے بغض و عداوت کا معاملہ نہ رکھا جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٩٧، ومصباح الزجاجة: ٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٨١) (صحیح) (لیکن یہ سند ضعیف ہے، اس میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، اور عدی بن ثابت ثقہ ہیں، لیکن تشیع سے مطعون ہیں، لیکن اصل حدیث شواہد کی وجہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٧٥٠ )
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: ابولیلیٰ رات میں علی ؓ کے ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے، اور علی ؓ گرمی کے کپڑے جاڑے میں اور جاڑے کے کپڑے گرمی میں پہنا کرتے تھے، ہم نے ابولیلیٰ سے کہا: کاش آپ ان سے اس کا سبب پوچھتے تو بہتر ہوتا، پوچھنے پر علی ؓ نے (جواباً ) کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے غزوہ خیبر کے موقع پر اپنے پاس بلا بھیجا، اس وقت میری آنکھ دکھ رہی تھی، اور (حاضر خدمت ہو کر) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری آنکھیں آئی ہوئی ہیں، میں مبتلا ہوں، آپ نے میری آنکھوں میں لعاب دہن لگایا، پھر دعا فرمائی: اے اللہ اس سے سردی اور گرمی کو دور رکھ ۔ علی ؓ کہتے ہیں: اس دن کے بعد سے آج تک میں نے سردی اور گرمی کو محسوس ہی نہیں کیا، اور آپ ﷺ نے فرمایا: میں ایسے آدمی کو (جہاد کا قائد بنا کر) بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں، اور وہ میدان جنگ سے بھاگنے والا نہیں ہے ۔ لوگ ایسے شخص کو دیکھنے کے لیے گردنیں اونچی کرنے لگے، آپ ﷺ نے علی ؓ کو بلایا، اور جنگ کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں دے دیا ١ ؎۔
It is narrated Abdur Rehman bin Abu Laila said : Abu Laila used to traveled with Ali and he used to wear summer clothes in winter and winter clothes in summer. We said: ‘Why don’t you ask him (about that)?’ He said: “The Messenger of Allah ﷺ sent for me and my eyes were sore, on the Day of Khaibar. I said: ‘O Messenger of Allah, my eyes are sore.’ He put some spittle into my eyes, then he said: ‘O Allah, take heat and cold away from him.’ I never felt hot or cold again after that day. He [the Prophet ﷺ } said: ‘I will send a man who loves Allah and His Messenger, and whom Allah and His Messenger love, and he is not one who flees from the battlefield.’ The people craned their necks to see, and he sent for ‘All and gave it (the banner) to him.” (Da’if) It was narrated that ‘AbdurRahmlin bin Abu Laila said: “Abu Laila used to travel with ‘Ali, and it (the banner) to him.
Notes · وضاحت
١ ؎: غزوہ خیبر ٧ ھ میں ہوا، اور خیبر مدینہ سے شمال میں شام کی طرف واقع ہے، یہ حدیث بھی مؤید ہے کہ اوپر والی حدیث میں مولیٰ سے دوستی اور محبت مراد ہے، اس میں بھی آپ ﷺ نے محبت کی تصریح فرمائی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٢١٣، ومصباح الزجاجة: ٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٩، ١٣٣) (حسن) (اس کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ شدید سيء الحفظ ہیں، لیکن حدیث طبرانی میں موجود شواہد کی بناء پر حسن ہے، بعض ٹکڑے صحیحین میں بھی ہیں، ملاحظہ ہو: ا لا ٔوسط للطبرانی: ١ /١٢٧/١، ٢٢٢ /٢ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان کے والد ان سے بہتر ہیں ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Hasan and Husain will be the leaders of the youth of Paradise, and their father is better than them.” (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٤٣٤، ومصباح الزجاجة: ٥٠) (صحیح) (اس کی سند میں معلی بن عبدالرحمن ضعیف اور ذاھب الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، جیسا کہ ترمذی اور نسائی نے حذیفہ ؓ سے روایت کی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٧٩٧ )
حبشی بن جنادہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: علی مجھ سے ہیں، اور میں ان سے ہوں، اور میری طرف سے اس پیغام کو سوائے علی کے کوئی اور پہنچا نہیں سکتا ١ ؎۔
It was narrated that Hubshi bin Junâdah said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: “Ali is part of me and I am part of him, and no one will represent me except .’” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اللہ ﷺ نے یہ الفاظ ابوبکر ؓ کے لئے بطور عذر، اور علی ؓ کی تکریم کے لئے اس وقت فرمائے جب ابوبکر ؓ امیر حج تھے، اور سورة براءت میں مشرکین سے کئے گئے معاہدہ کے توڑنے کے اعلان کی ضرورت پڑی، چونکہ دستور عرب کے مطابق سردار یا سردار کا قریبی رشتہ دار ہی یہ اعلان کرسکتا تھا، لہذا علی ؓ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی، ؓ۔
عباد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ علی ؓ نے کہا: میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول ﷺ کا بھائی ہوں، اور میں صدیق اکبر ہوں، میرے بعد اس فضیلت کا دعویٰ جھوٹا شخص ہی کرے گا، میں نے سب لوگوں سے سات برس پہلے نماز پڑھی۔
It was narrated that ‘Abbád bin ‘Abdullah said; “Ali said: ‘I am the slave of Allah and the brother of His Messenger ﷺ . .I am the greatest teller of the truth (Siddiq Akbar), arid no one will say this after me but a liar. I prayed seven years before the people.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١٥٧، ومصباح الزجاجة: ٥١) (باطل) (سند میں عباد بن عبداللہ ضعیف اور متروک ر ١ وی ہے، اور اس کے بارے میں امام بخاری نے فرمایا: فيه نظر اور وہی حدیث کے بطلان کا سبب ہے، امام ذہبی نے فرمایا: یہ حدیث علی ؓ پر جھوٹ ہے، ملاحظہ ہو: الموضوعات لابن الجوزی: ١ /٣٤١، وتلخیص المستدرک للذہبی، وتنزیہ الشریعة: ١ /٣٨٦، وشیخ الاسلام ابن تیمیہ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ: ٣١٠ ، للدکتور عبد الرحمن الفریوائی )