ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جنبی ہوتے، اور پانی چھوے بغیر سو جاتے، پھر اس کے بعد اٹھتے اور غسل فرماتے۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ would become sexually impure and then sleep without touching water until he got up later on and taken a bath."
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٨٧ (١١٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٢٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٩٠ (٢٢٨)، مسند احمد (٦/٤٣) (صحیح) (اس سند میں ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو اگر اپنی بیوی سے کوئی حاجت ہوتی تو اسے پوری فرماتے، پھر پانی چھوئے بغیر اسی حالت میں سو جاتے ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah, if he needed any of his wives, would satisfy his need, then he would sleep as he was, without touching water."
Notes · وضاحت
١ ؎: جنبی اگر بغیر غسل کے سونے کا ارادہ کرے تو مستحب یہ ہے کہ وہ وضو کرلے، اور اگر نہ کرے تو بھی جائز ہے جیسا کہ اس حدیث اور اس سے پہلے کی حدیث میں مذکور ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جنبی ہوتے، پھر پانی چھوئے بغیر اسی حالت میں سو جاتے۔ سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز یہ حدیث بیان کی تو مجھ سے اسماعیل نے کہا: اے نوجوان! اس حدیث کو کسی دوسری حدیث سے تقویت دی جانی چاہیئے ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ would become sexually impure then sleep as he was, without touching water. Sufyan said: "I mentioned this Hadith one day, and Ismail said to me: O young man, you should support this Hadith with something else. "
Notes · وضاحت
١ ؎: کیوں کہ اس کے راوی ابواسحاق ہیں، اگرچہ وہ ثقہ ہیں، لیکن اخیر عمر میں ان کا حافظہ بگڑ گیا تھا، پس حدیث میں غلطی کا شبہ ہوتا ہے، خصوصاً جب اس کے خلاف دوسری صحیح روایتیں وارد ہوں جو آگے مذکور ہوں گی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٩٠ (٢٢٨)، سنن الترمذی/الطہارة ٨٧ (١١٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ١٠٦) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ کرتے، اور جنبی ہوتے تو نماز جیسا وضو کرتے۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ wanted to sleep and he was sexually impure, he would perform ablution as for prayer."
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا کوئی شخص حالت جنابت میں سو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، جب وضو کرلے ۔
It was narrated from Ibn Omar that Umar bin Khattab said to the Messenger of Allah: "Can anyone of us sleep if he is sexually impure?" He said: "Yes, if he performs ablution."
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ انہیں رات میں جنابت لاحق ہوتی اور سونا چاہتے تو رسول اللہ ﷺ انہیں حکم دیتے کہ وہ وضو کر کے سوئیں۔
It was narrated from Abu Saeed Khudri that he used to become sexually impure at night, then he would want to sleep. The Messenger of Allah ﷺ told him to perform ablution and then go to sleep.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤١٠١، ومصباح الزجاجة: ٢٣٢)، مسند احمد (٢/٧٥، ٣/٥٥) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیوی سے جماع کرے پھر دوبارہ ہمبستری کرنا چاہے، تو وضو کرلے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Saeed said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone of you has intercourse with his wife, then he wants to do it again, let him perform ablution.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں نفاست، نظافت، صفائی اور لذت سب کچھ ہے، علماء نے کہا ہے کہ جنبی جب کھانے یا پینے یا جماع یا سونے کا ارادہ کرے، تو اپنا عضو تناسل دھو ڈالے، اور نماز کا سا وضو کرلے، اور بعضوں نے کہا کہ جنبی جب کھانے یا پینے کا ارادہ کرے تو صرف ہاتھ دھو لینا کافی ہے، اور وضو سے یہی مراد ہے، اور جمہور کا یہی قول ہے واللہ اعلم۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے غسل کا پانی رکھا تو آپ نے رات میں اپنی ساری بیویوں سے صحبت کے بعد (ایک ہی) غسل کیا ١ ؎۔
It was narrated that Anas said: "I put out water for the Messenger of Allah ﷺ for a bath, and he hade a bath after going to all of his wives in one night."
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ باری کے خلاف نہیں ہے کیونکہ باری میں ایک عورت کے پاس رات کو صرف رہنا کافی ہے صحبت کرنا ضروری نہیں، دوسرے یہ کہ جب عورتوں سے صحبت کی تو یہ بھی باری کی طرح ہوگیا، اور بعضوں نے کہا کہ آپ ﷺ پر باری واجب نہ تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٤) (صحیح) (اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں صالح بن أبی الأخضر ضعیف ہیں )
ابورافع ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس ہو آئے ١ ؎، اور ہر ایک کے پاس غسل کرتے رہے، آپ سے پوچھا گیا: اللہ کے رسول! آپ آخر میں ایک ہی غسل کیوں نہیں کرلیتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: یہ طریقہ زیادہ پاکیزہ، عمدہ اور بہترین ہے ٢ ؎۔
It was narrated from Abu Rafi that the Prophet ﷺ went around to all of his wives in one night, and he had a bath after each one of them. It was said to him: "O Messenger of Allah, why not make it one bath?" He said: "This is purer, better and cleaner."
Notes · وضاحت
١ ؎: سبحان اللہ ہمارے نبی ﷺ نہایت نفیس مزاج اور صفائی پسند تھے، اور اسی وجہ سے آپ کو خوشبو بہت پسند تھی، اور بدبو سے بڑی نفرت تھی، آپ کو اپنے لباس، گھر، بدن اور ہر چیز کی طہارت اور پاکیزگی کا بڑا خیال رہتا تھا جیسے دوسری حدیثوں سے ثابت ہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ ان چیزوں کے کھانے سے بھی پرہیز کرتے تھے جن کی بو ناگوار ہوتی، جیسے: کچے پیاز یا لہسن وغیرہ۔ ٢ ؎: ممکن ہے ایسا نبی اکرم ﷺ نے سفر سے آنے پر یا ایک باری پوری ہوجانے، اور دوسری باری کے شروع کرنے سے پہلے کیا ہو، یا تمام بیویوں کی رضا مندی سے ایسا کیا ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٨٦ (٢١٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨، ١٠، ٣٩١) (حسن) (سند میں سلمی غیر معروف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے)۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے جنبی کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ (بحالت جنابت) سو سکتا ہے، یا کھا پی سکتا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، جب وہ نماز جیسا وضو کرلے ۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Prophet ﷺ was asked about whether a person who is sexually impure can sleep, or eat, or drink. He said: Yes, if he does ablution as for the prayer.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٨٠) (صحیح) (سند میں شرحبیل ہیں، جن کو آخری عمر میں اختلاط ہوگیا تھا، لیکن سابقہ حدیث ام المومنین عائشہ ؓ سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب کھانے کا ارادہ کرتے اور آپ جنبی ہوتے، تو اپنے ہاتھ دھو لیتے ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that if the Prophet ﷺ wanted to eat when he was sexually impure, he would wash his hands.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس سے پہلے والے باب کی حدیث سے بظاہر متعارض ہے، مگر تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ کبھی بیان جواز کے لئے صرف دونوں ہاتھ دھونے پر اکتفا کرتے، اور کبھی مکمل وضو کرتے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٥٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٦٩) (صحیح )
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب ؓ کے پاس گیا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ بیت الخلاء جاتے اور اپنی حاجت پوری فرماتے، پھر واپس آ کر ہمارے ساتھ روٹی اور گوشت کھاتے، قرآن پڑھتے، آپ کو قرآن پڑھنے سے جنابت کے سوا کوئی چیز نہ روکتی تھی ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Salamah said: "I entered upon Ali bin Abu Talib and he said: The Messenger of Allah ﷺ used to go to the lavatory and relieve himself, then come out, and he would eat bread and meat with us and recite Quran, nothing stopped him or perhaps he said: prevented him from doing so except sexual impurity.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ صرف جنابت کی حالت میں قرآن نہیں پڑھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٩١ (٢٢٩)، سنن الترمذی/الطہارة ١١١ (١٤٦)، سنن النسائی/الطہارة ١٧١ (٢٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٠١٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٤، ١٢٤) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن سلمہ ضعیف ہیں، امام بخاری نے ان کے بارے میں کہا: لا يتابع على حديثه ان حدیث کی متابعت نہیں ہوگی )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنبی اور حائضہ قرآن نہ پڑھیں ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: No one who is sexually impure and no woman who is menstruating should recite Quran."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نہ کم نہ زیادہ، امام شافعی کا یہی قول ہے، لیکن ذکر و دعا کے مقصد سے بسم اللہ یا الحمد للہ کہنا درست اور جائز ہے، تلاوت کے مقصد سے نہیں اور امام مالک نے حائضہ عورت کے لئے قرآن کی تلاوت کو جائز کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٩٨ (١٣١)، (تحفة الأشراف: ٨٤٧٤) (منکر) (سند میں اسماعیل بن عیاش کی روایت اہل حجاز سے ضعیف ہے، اور موسیٰ بن عقبہ حجازی ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٩٢ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنبی اور حائضہ کچھ بھی قرآن نہ پڑھیں ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: No one who is sexually impure and no woman who is menstruating should recite anything of the Quran."
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر بال کے نیچے جنابت ہے، لہٰذا تم بالوں کو دھویا کرو، اور بدن کی جلد کو صاف کیا کرو ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Under every hair there is the state of sexual impurity, so wash the hair and cleanse the skin."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٩٨ (٢٤٨)، سنن الترمذی/الطہا رة ٧٨ (١٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٥٠٢) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں حارث بن وجیہ ضعیف ہیں )
ابوایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: روزانہ پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک، اور امانت کی ادائیگی ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں ، میں نے پوچھا: امانت کی ادائیگی سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: غسل جنابت، کیونکہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے ۔
Abu Ayyub Al-Anari narrated that the Prophet ﷺ said: "The five daily prayers, from one Friday to the next, and fulfilling the trust are all expiation for whatever (sins) come between them." I said: "What is fulfilling the trust?" He said: Having a bath to cleanse oneself from sexual impurity, for under every hair there is the state of sexual impurity."
Notes · وضاحت
١ ؎: (فواد عبدالباقی کے نسخہ میں بينها ہے )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٤٦١، ومصباح الزجاجة: ٢٣٣) (ضعیف) (طلحہ بن نافع کا سماع ابو ایوب ؓ سے ثابت نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣٨٠١ ، و ضعیف ابی داود: ٣٧ )
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے غسل جنابت کے وقت اپنے جسم سے ایک بال کی مقدار بھی چھوڑ دیا اور اسے نہ دھویا، تو اس کے ساتھ آگ سے ایسا اور ایسا کیا جائے گا ۔ علی ؓ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کرلی، وہ اپنے بال خوب کاٹ ڈالتے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Ali bin Abu Talib that the Prophet ﷺ said: "Whoever leaves an area the size of a hair on his body and does not cleanse it from sexual impurity, such and such will be done to him in the Fire." Ali said: Because of that I am hostile toards my hair," and he used to shave his head.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جب بال بڑے ہوں تو اکثر احتمال رہ جاتا ہے کہ شاید سارا سر نہ بھیگا ہو، کوئی مقام سوکھا رہ گیا ہو، علی ؓ بالوں کو کترتے تھے، بال کاٹنا سارے سر کے منڈانے سے افضل ہے، مگر حج میں پورے بال منڈانا افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٩٨ (٢٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٤، ١٠١، ١٣٣)، سنن الدارمی/الطہارة ٦٩ (٧٧٨) (ضعیف) (سند میں عطاء بن سائب ضعیف ہیں )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ ام سلیم ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، اور آپ سے پوچھا کہ اگر عورت خواب میں ویسا ہی دیکھے جیسا مرد دیکھتا ہے تو کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، جب پانی (منی) دیکھے تو غسل کرے ، میں نے ام سلیم ؓ سے کہا: تم نے تو عورتوں کو رسوا کیا یعنی ان کی جگ ہ نسائی کا سامان مہیا کرا دیا، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارا بھلا ہو، اگر ایسا نہیں ہوتا تو کس وجہ سے بچہ اس کے مشابہ ہوتا ہے؟ ١ ؎۔
It was narrated from Zainab, the daughter of Umm Salamah, that her mother Umm Salamah said: "Umm Sulaim came to the Prophet ﷺ and asked him about a woman who sees in her dream something like a man sees. He said: Yes, if she sees water (discharge), let her take a bath. I said: You have embarrassed the women. Do women experience wet dreams? The Prophet ﷺ said: May your hands be rubbed with dust, how else does her child resemble her?"
Notes · وضاحت
١ ؎: تو معلوم ہوا کہ بچہ کی پیدائش میں مرد اور عورت دونوں کا نطفہ شریک ہوتا ہے، اور جب عورت کی منی بھی ثابت ہوئی تو خواب میں اس کی منی کا نکلنا کیا بعید ہے، جیسے مرد کی منی نکلتی ہے۔