Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 31 of 218

601Sunan Ibne-Majah

عورت خواب میں وہ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى، عَنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَتْ فَعَلَيْهَا الْغُسْلُ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَكُونُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ أَوْ عَلَا أَشْبَهَهُ الْوَلَدُ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ ام سلیم ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا کہ عورت اپنے خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب وہ ایسا دیکھے اور اسے انزال ہو، تو اس پر غسل ہے ، ام سلمہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ایسا بھی ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، مرد کا پانی سفید اور گاڑھا ہوتا ہے، اور عورت کا پانی زرد اور پتلا ہوتا ہے، ان دونوں میں سے جس کا پانی پہلے ماں کے رحم (بچہ دانی) میں پہنچ جائے یا غالب رہے، بچہ اسی کے ہم شکل ہوتا ہے ۔

It was narrated from Anas that Umm Sulaim asked the Messenger of Allah ﷺ about a woman who sees in her dream something like that which a man sees. The Messenger of Allah ﷺ said: "If she sees that and has a discharge then let her perform a bath.” Umm Salamah said: “O Messenger of Allah, does that really happen?" He said: "Yes, the water of a man is thick and white and the water of a woman is thin and yellow. Whichever of them comes first or predominates, the child will resemble (that parent)."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٧ (٣١١)، سنن النسائی/الطہارة ١٣١ (١٩٥)، (تحفة الأشراف: ١١٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢١، ١٩٩، ٢٨٢)، سنن الدارمی/الطہارة ٧٦ (٧٩١) (صحیح )
602Sunan Ibne-Majah

عورت خواب میں وہ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ، أَنَّهَاسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: لَيْسَ عَلَيْهَا غُسْلٌ حَتَّى تُنْزِلَ، كَمَا أَنَّهُ لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ غُسْلٌ حَتَّى يُنْزِلَ.

خولہ بنت حکیم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عورت کے اپنے خواب میں اس چیز کے دیکھنے سے متعلق سوال کیا جو مرد دیکھتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تک انزال نہ ہو اس پر غسل نہیں، جیسے مرد پر بغیر انزال کے غسل نہیں ١ ؎۔

It was narrated from Khawlah bin Hakim that she asked the Messenger of Allah ﷺ about a woman that sees in her dream that which a man sees. He said: “She does not have to take a bath unless she has an orgasm, just as man does not have to take a bath unless he has an orgasm.”

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مرد کو اگر صرف خواب دکھائی دے لیکن منی نہ نکلے تو غسل لازم نہیں ہے، اسی طرح عورت اگر خواب دیکھے اور منی نہ نکلے تو غسل لازم نہیں، اور تری یا پانی سے دوسری حدیث میں منی ہی مراد ہے، اگر منی کے سوا کسی اور چیز کی تری ہے تب غسل لازم نہ ہوگا، اکثر علماء کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٨٢٧، ومصباح الزجاجة: ٢٣٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة ١٣١ (١٩٨)، مسند احمد (٦/٤٠٩)، سنن الدارمی/الطہارة ٧٦ (٧٨٩) (حسن) (سند میں علی بن زید ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢١٨٧ )
603Sunan Ibne-Majah

عورتوں کا غسل جنابت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ تُفِيضِي عَلَيْكِ مِنَ الْمَاءِ فَتَطْهُرِينَأَوْ قَالَ: فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَهُرْتِ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں چوٹی کو مضبوطی سے باندھنے والی عورت ہوں، کیا اسے غسل جنابت کے لیے کھولوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں یہی کافی ہے کہ تین چلو پانی لے کر اپنے سر پر بہا لو پھر پورے بدن پر پانی ڈالو، پاک ہوجاؤ گی ، یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ: اس وقت تم پاک ہوگئیں ١ ؎۔

It was narrated that Umm Salamah said: "I said, O Messenger of Allah! ﷺ I am a woman with tight braids. Should Iundo them when I take a bath to cleanse myself from the state of sexual impurity?" He said: "Rather it is sufficient for you to pour three handfuls of water over them, then pour water over yourself, and you will be purified," or he said: "In that case you would have become purified."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب ایسا کیا تو پاک ہوگئی کیونکہ مقصود سارے سر کا بھیگ جانا ہے، اور تین لپوں میں یہ سارا کام پورا ہوجاتا ہے، اگر پورا نہ ہو تو اس سے زیادہ بھی ڈال سکتی ہے، مگر بندھی ہوئی چوٹی کا کھولنا ضروری نہیں، اکثر علماء کے نزدیک رفع تکلیف کا یہ حکم عورتوں کے لئے خاص ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٢ (٣٣٠)، سنن ابی داود/الطہارة ٩٩ (٢٥١)، سنن الترمذی/الطہارة ٧٧ (١٠٥)، سنن النسائی/الطہارة ١٥٠ (٢٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٨١٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٢٨٩، ٣١٥)، سنن الدارمی/الطہارة ١١٥ (١١٩٦) (صحیح )
604Sunan Ibne-Majah

عورتوں کا غسل جنابت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَأْمُرُ نِسَاءَهُ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ، فَقَالَتْ: يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو هَذَا، أَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُءُوسَهُنَّ، لَقَدْكُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، فَلَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ.

عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کو یہ خبر پہنچی کہ عبداللہ بن عمرو ؓ اپنی بیویوں کو غسل کے وقت چوٹی کھولنے کا حکم دیتے ہیں، تو فرمایا: عبداللہ بن عمرو پر تعجب ہے، وہ عورتوں کو سر منڈانے کا حکم کیوں نہیں دے دیتے، بیشک میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے، میں اپنے سر پر تین چلو سے زیادہ پانی نہیں ڈالتی تھی۔

It was narrated that Ubaid bin Umair said: " Aisha (RA) heard that Abdullah bin Amr was telling his wives to undo their braids (when they bathed). She said: How odd that Ibn Amr would do that! Why does he not tell them to shave their heads? The Messenger of Allah ﷺ and I used to bathe from a single vessel, and I never did more than pour three handfuls of water over my head."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٢ (٣٣١)، سنن النسائی/الغسل ١٢ (٤١٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤)، سنن الدارمی/الطہارة ٦٨ (٧٧٦) (صحیح )
605Sunan Ibne-Majah

جنبی ٹھہرے ہوئے پانی میں غو طہ لگائے تو اس کے لئے یہ کافی ہے ؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ، فَقَالَ: كَيْفَ يَفْعَلُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: يَتَنَاوَلُهُ تَنَاوُلًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل جنابت نہ کرے ، پھر کسی نے کہا: ابوہریرہ! تب وہ کیا کرے؟ کہا: اس میں سے پانی لے لے کر غسل کرے ١ ؎۔

It was narrated from Bukair bin Abdullah bin Ashajj that Abu Saib, the freed slave of Hisham bin Zuhrah told him that he heard Abu Hurairah (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ said: No one of you should bathe in standing water when he is sexually impure." He (Abu Saib) said: "What should he do, O Abu Hurairahh?" He said: "Let him take some out (and pour it over himself)."

Notes · وضاحت
١ ؎: ٹھہرے ہوئے پانی میں غوطہ لگانا منع ہے کیونکہ اس سے دوسرے لوگوں کو کراہت ہوگی، اس کا یہ مطلب نہیں کہ پانی ناپاک ہوجائے گا، اس لئے منع ہے کیونکہ پانی اگر دو قلہ سے زیادہ ہو تو وہ اس طرح کی نجاست سے ناپاک نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٢٩ (٢٨٣)، سنن النسائی/الطہارة ١٣٩ (٢٢١)، المیاہ ٣ (٣٣٢)، الغسل ١ (٣٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٣٦) (صحیح )
606Sunan Ibne-Majah

جنبی ٹھہرے ہوئے پانی میں غو طہ لگائے تو اس کے لئے یہ کافی ہے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَخَرَجَ رَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ: لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ، قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِذَا أُعْجِلْتَ، أَوْ أُقْحِطْتَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ.

ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر قبیلہ انصار کے ایک شخص کے پاس ہوا، آپ نے اسے بلوایا، وہ آیا تو اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: شاید ہم نے تم کو جلد بازی میں ڈال دیا ، اس نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم جلد بازی میں ڈال دئیے جاؤ، یا جماع انزال ہونے سے قبل موقوف کرنا پڑے تو تم پر غسل واجب نہیں بلکہ وضو کافی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ passed by (the house of) one of the Ansar and sent word for him to come out. He came out with his head dripping and (the Prophet) said: "Perhaps we made you hurry?" He said: "Yes, O Messenger of Allah." He said, "If you are hurried (by someone) or obstructed (from orgasm) and do not ejaculate, then you do not have to take a bath, but you "should perform ablution."

Notes · وضاحت
١ ؎: آگے آنے والی احادیث سے یہ حدیث منسوخ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٤ (١٨٠)، صحیح مسلم/الحیض ٢١ (٣٤٥)، (تحفة الأشراف: ٣٩٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢١، ٢٦، ٩٤) (صحیح )
607Sunan Ibne-Majah

جنبی ٹھہرے ہوئے پانی میں غو طہ لگائے تو اس کے لئے یہ کافی ہے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُعَادَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ.

ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانی (غسل) پانی (منی نکلنے) سے ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Ayyub said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Water (of bath) is for water (of seminal discharge)."

Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے دو معنی بیان کئے گئے ہیں: ایک یہ کہ انزال کے بغیر غسل واجب نہیں اس صورت میں إذا التقى الختانان والی روایت سے یہ روایت منسوخ ہوگی، دوسرے یہ کہ حدیث خواب کے متعلق ہے، بیدار ہونے کے بعد جب تک تری نہ دیکھے تو صرف خواب میں کچھ دیکھنے سے غسل واجب نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ١٣٢ (١٩٩)، (تحفة الأشراف: ٣٤٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤١٦، ٤٢١)، سنن الدارمی/الطہارة ٧٤ (٧٨٥) (صحیح )
608Sunan Ibne-Majah

جب دو جتنے مل جائیں تو غسل واجب ہے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَاالْأَوْزَاعِيُّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہے، ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اور رسول اللہ ﷺ نے ایسا کیا، تو ہم نے غسل کیا۔

It was narrated that Aisha (RA) the wife of the Prophet ﷺ said: "When the two circumcised parts meet, then bath is obligatory. The Messenger of Allah ﷺ and I did that, and we bathed."

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٨٠ (١٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٩٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ١٨ (٧٢)، مسند احمد (٦/ ١٦١، ١٦١، ٢٣٩) (صحیح )
609Sunan Ibne-Majah

جب دو جتنے مل جائیں تو غسل واجب ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ، قَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنْبَأَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، قَال: إِنَّمَا كَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ أُمِرْنَا بِالْغُسْلِ بَعْدُ.

ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ یہ اجازت ابتداء اسلام میں تھی، پھر ہمیں بعد میں غسل کا حکم دیا گیا ١ ؎۔

Ubayy bin Kab said: "That was a concession that was granted in the early days of Islam, then we were commanded to have a bathe after that.

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ کہ اب چاہے انزال ہو یا نہ ہو غسل واجب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٨٤ (٢١٤، ٢١٥)، سنن الترمذی/الطہارة ٨١ (١١١)، (تحفة الأشراف: ٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/ ١١٥، ١١٦)، سنن الدارمی/الطہارة ٧٤ (٧٨٧) (صحیح )
610Sunan Ibne-Majah

جب دو جتنے مل جائیں تو غسل واجب ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ، ثُمَّ جَهَدَهَا، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: جب مرد عورت کے چار زانوؤں کے درمیان بیٹھے، پھر مجامعت کرے، تو غسل واجب ہوگیا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When a man sits between the four parts (arms and legs of his wife) and has intercourse with her, then bath is obligatory."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ٢٨ (٢٩١)، صحیح مسلم/الحیض ٢٢ (٣٤٨)، سنن ابی داود/الطہارة ٨٤ (٢١٦)، سنن النسائی/الطہارة ١٢٩ (١٩١)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣٤، ٣٤٧، ٣٩٣، ٤٧١، ٥٢٠)، سنن الدارمی/الطہارة ٧٥ (٧٨٨) (صحیح )
611Sunan Ibne-Majah

خواب دیکھے اور تری نہ دیکھے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ وَتَوَارَتِ الْحَشَفَةُ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں اور حشفہ (سپاری) چھپ جائے، تو غسل واجب ہوگیا ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When the two circumcised parts meet, and (the tip of the penis) disappears, then bath is obligatory."

Notes · وضاحت
١ ؎: ابتداء اسلام میں انزال کے بغیر غسل واجب نہ تھا، اس کے بعد محض التقى الختانان یعنی شرمگاہوں کے ملنے سے غسل واجب کردیا گیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٦٧٦، ومصباح الزجاجة: 235)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٨) (صحیح) (سند میں حجاج بن أرطاة ضعیف ہیں، لیکن حدیث صحیح مسلم وغیرہ میں متعدد طرق سے وارد ہے، اس لئے یہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی ٣ /٢٦٠ )
612Sunan Ibne-Majah

خواب دیکھے اور تری نہ دیکھے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْعُمَرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَرَأَى بَلَلًا، وَلَمْ يَرَ أَنَّهُ احْتَلَمَ اغْتَسَلَ، وَإِذَا رَأَى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ، وَلَمْ يَرَ بَلَلًا فَلَا غُسْلَ عَلَيْهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو، اور تری دیکھے، لیکن احتلام یاد نہ ہو تو غسل کرلے، اور اگر احتلام یاد ہو لیکن تری نہ دیکھے تو اس پر غسل نہیں ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ said: "If anyone of you wakes up and sees some wetness, but he does not think that he had an erotic dream, let him have a bath. But if he thinks that he had an erotic dream but he does not see any wetness, then he does not have to take a bath."

Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن تری سے مراد منی ہے، اگر تری محسوس نہ ہو تو اکثر اہل علم کے نزدیک غسل واجب نہ ہوگا، اگر گرمی یا دیری کے سبب منی خشک ہوجائے، تو غسل ضروری ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٩٥ (٢٣٦)، سنن الترمذی/الطہارة ٨٢ (١١٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٥٦)، سنن الدارمی/الطہارة ٧٧ (٧٩٢) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: ٥١٦ )
613Sunan Ibne-Majah

نہاتے وقت پردہ کرنا

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قَالُوا: حَدَّثَنَاعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ، قَالَ: كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ، قَالَ: وَلِّنِي، فَأُوَلِّيهِ قَفَايَ، وَأَنْشُرُ الثَّوْبَ فَأَسْتُرُهُ بِهِ.

ابوالسمح ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، جب آپ غسل کا ارادہ کرتے تو فرماتے: میری طرف پیٹھ کرلو تو میں پیٹھ آپ کی طرف کرلیتا، اور کپڑا پھیلا کر پردہ کردیتا۔

Abu Samh said: "I used to serve the Prophet, and when he wanted to take a bath he would say: Turn your back to me. So I would turn my back and hung up a cloth, and concealed him with it."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٣٧ (٣٧٦)، سنن النسائی/الطہارة ١٤٣ (٢٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٥١) (صحیح )
614Sunan Ibne-Majah

نہاتے وقت پردہ کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ فِي سَفَرٍ، حَتَّى أَخْبَرَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ قَدِمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَأَمَرَ بِسِتْرٍ فَسُتِرَ عَلَيْهِ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ سَبَّحَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ.

عبداللہ بن عبداللہ بن نوفل کہتے ہیں: میں نے پوچھا رسول اللہ ﷺ نے سفر میں نفل نماز پڑھی ہے؟ تو مجھے کوئی بتانے والا نہیں ملا، یہاں تک کہ مجھے ام ہانی بنت ابی طالب ؓ نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے سال آئے، پھر آپ نے ایک پردہ لگانے کا حکم دیا، پردہ کردیا گیا، تو آپ نے غسل کیا، پھر نفل کی آٹھ رکعتیں پڑھیں ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Harith bin Nawfal said: “I asked whether the Messenger of Allah ﷺ prayed voluntary prayer when travelling, but I could not find anyone to tell me until Umm Hani’ bint Abu Talib told me that he had come in the year of the conquest (of Makkah). He ordered that a screen be held up, and that was done, and he took a bath; then he prayed eight Rak’ah (units) of voluntary prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی احادیث سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ غسل کرتے وقت پردہ کرلینا چاہیے، لیکن اگر کوئی کپڑے پہنے ہوئے ہے، تو بلا پردہ غسل کرنے کی اجازت ہے، نیز اس حدیث سے تو سفر میں نفل پڑھنا ثابت ہوا بعضوں نے کہا یہ نماز الضحیٰ نہیں تھی بلکہ یہ مکہ فتح ہونے پر نماز شکر تھی، اور سعید بن ابی وقاص نے جب کسریٰ کا خزانہ فتح کیا تو ایسا ہی کیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٦ (٣٣٦)، المسافرین ١٣ (٣٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٠٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل ٢١ (٢٨٠)، الصلاة ٤ (٣٥٧)، الأدب ٩٤ (٦١٥٨)، سنن الترمذی/الاستئذان ٣٤ (٢٧٣٤)، سنن النسائی/الطہارة ١٤٣ (٢٢٥)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٨ (٢٨)، مسند احمد (٦/٣٤٢، ٤٢٥) سنن الدارمی/الصلاة ١٥١ (١٤٩٤) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ١٣٧٩) (صحیح )
615Sunan Ibne-Majah

نہاتے وقت پردہ کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنِالْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَغْتَسِلَنَّ أَحَدُكُمْ بِأَرْضِ فَلَاةٍ، وَلَا فَوْقَ سَطْحٍ لَا يُوَارِيهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ يَرَى فَإِنَّهُ يُرَى.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھلے میدان میں یا چھت پر بغیر پردہ کے کوئی شخص ہرگز غسل نہ کرے، اگر وہ کسی کو نہ دیکھتا ہو تو اسے تو کوئی دیکھ سکتا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Masud said: "The Messenger of Allah ﷺ said: No one of you should bathe in open land or on a roof where he is not concealed; even if he does not see anyone, he can still be seen."

Notes · وضاحت
١ ؎: اگر ایسے مقام میں غسل کی ضرورت پڑے تو کسی چیز کی آڑ کرلے تاکہ ستر پر لوگوں کی نگاہیں نہ پڑیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٦٣٢، ومصباح الزجاجة: ٢٣٦) (ضعیف جدًا) (حسن بن عمارة متروک الحدیث ہے، بلکہ حدیث گھڑا کرتا تھا، اور عبد الحمید ضعیف الحدیث ہیں، نیز أبو عبیدہ کا سماع ابن مسعود سے ؓ سے نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٨١٨ )
616Sunan Ibne-Majah

پیشاب پاخانہ روک کر نماز پڑھنا منع ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلْيَبْدَأْ بِهِ.

عبداللہ بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص قضائے حاجت کا ارادہ کرے، اور نماز کے لیے اقامت کہی جائے، تو پہلے قضائے حاجت سے فارغ ہو لے ۔

It was narrated that ‘Abdullah bin Arqam said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone of you needs to defecate and the immediate call to prayer (Iqamah) is given, let him start with it (relieving himself)."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٤٣ (٨٨)، سنن الترمذی/الطہا رة ١٠٨ (١٤٢)، سنن النسائی/ الإ مامة ٥١ (٨٥٣)، (تحفة الأشراف: ٥١٤١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصرالصلاة ١٧ (٤٩)، مسند احمد (٤/٣٥)، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٧ (١٤٦٧) (صحیح )
617Sunan Ibne-Majah

پیشاب پاخانہ روک کر نماز پڑھنا منع ہے۔

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ السَّفْرِ بْنِ نُسَيْر، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوَ حَاقِنٌ.

ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ آدمی نماز پڑھے اور وہ پیشاب یا پاخانہ روکے ہوئے ہو۔

It was narrated from Abu Umamah that the Messenger of Allah ﷺ forbade a man to perform prayer when he was suppressing (the urge to urinate or defecate).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٣٢، ومصباح الزجاجة: ٢٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٥٠، ٢٦٠، ٢٦١) (صحیح) (سند میں بشر بن آدم، سفر بن نسیر ضعیف ہیں، لیکن حدیث دوسرے طرق سے صحیح ہے، دیکھئے اوپر کی حدیث ( ٦١٦ ) نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: ١١ ، ١٢ )
618Sunan Ibne-Majah

پیشاب پاخانہ روک کر نماز پڑھنا منع ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَبِهِ أَذًى.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی پیشاب یا پاخانہ کی اذیت و تکلیف کی حالت میں نماز کے لیے نہ کھڑا ہو ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said, No one of you should stand to pray when he feels some discomfort (because of needing to urinate or defecate)."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٨٥٠، ومصباح الزجاجة: ٢٣٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٤٣ (٨٩)، مسند احمد (٢/٤٤٢، ٤٧١) (صحیح )
619Sunan Ibne-Majah

پیشاب پاخانہ روک کر نماز پڑھنا منع ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: لَا يَقُومُ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ حَاقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی مسلمان پیشاب یا پاخانہ روکے ہوئے نماز کے لیے نہ کھڑا ہو جب تک کہ وہ قضائے حاجت کر کے ہلکا نہ ہوجائے ۔

It was narrated from Thawban that the Messenger of Allah ﷺ said: "No one among the Muslims should stand to pray when he is suppressing (the need to urinate or defecate), until he has relieved himself."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٤٣ (٩٠)، سنن الترمذی/الصلا ة ١٤٨ (٣٥٧)، (تحفة الأشراف: ٢٠٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٨٠) (صحیح) (اس سند میں بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز اور بھی کلام ہے لیکن دوسرے طرق سے یہ ثابت ہے)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٩٢٣ )
620Sunan Ibne-Majah

اس مستحاضہ کا حکم جس کی مدت بیماری سے قبل متعین تھی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتْ إِلَيْهِ الدَّمَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَانْظُرِي إِذَا أَتَى قَرْؤُكِ فَلَا تُصَلِّي، فَإِذَا مَرَّ الْقَرْءُ فَتَطَهَّرِي، ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقَرْءِ إِلَى الْقَرْءِ.

فاطمہ بنت ابی حبیش ؓ کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، اور آپ سے (کثرت) خون کی شکایت کی، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ رگ کا خون ہے، تم دیکھتی رہو جب مدت حیض آئے تو نماز نہ پڑھو، اور جب حیض گزر جائے تو غسل کرو، پھر دوسرے حیض کے آنے تک نماز پڑھتی رہو ١ ؎۔

It was narrated from Urwah bin Zubair that Fatimah bint Abi Hubaish narrated to him that she went to the Messenger of Allah ﷺ and complained to him about bleeding. The Messenger of Allah ﷺ said: "Rather that is a vein, so look and see when your period comes, then do not perform the prayer. When the period is over, then purify yourself and perform the prayer between one period to the next."

Notes · وضاحت
١ ؎: استحاضہ ایک بیماری ہے جس میں عورت کا خون ہمیشہ جاری رہتا ہے، جس عورت کو یہ بیماری ہو اس کو مستحاضہ کہتے ہیں، اس کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ مستحاضہ: جس کے حیض کی مدت اس بیماری کے شروع ہونے سے پہلے متعین اور معلوم ہو، دوسرے وہ جس کو شروع ہی سے یہ بیماری ہوجائے، اور حیض کی مدت متعین نہ ہوئی ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٠٨ (٢٨٠)، ١١٠ (٢٨٦)، سنن النسائی/الطہارة ١٣٤ (٢٠١)، الحیض ٢ (٣٥٠)، ٤ (٣٥٨)، ٦ (٣٦٢)، الطلاق ٧٤ (٣٥٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٠١٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ٢٩ (١٠٤)، مسند احمد (٦/٤٢٠، ٤٦٣)، سنن الدارمی/الطہارة ٨٤ (٨٠١) (صحیح )