Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 156 of 218

3097Sunan Ibne-Majah

ہدی کے جانور کا اشعار۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْعَرَ الْهَدْيَ فِي السَّنَامِ الْأَيْمَنِ، وَأَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ، وَقَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ: بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَقَلَّدَ نَعْلَيْنِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہدی کے اونٹ کے داہنے کوہان میں اشعار کیا، اور اس سے خون صاف کیا، علی بن محمد نے اپنی روایت میں کہا کہ اشعار ذو الحلیفہ میں کیا، اور دو جوتیاں اس کے گلے میں لٹکائیں۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet ﷺ marked the sacrificial animal on the right side of the hump and wiped away the blood. In his narration, Ali said:" At Dhul-Hulaifah, and he garlanded it with two sandals."

Notes · وضاحت
ہدی کے اونٹ کے داہنے کوہان کو چیر کر اس سے خون نکالنے اور اسے آس پاس مل دینے کا نام اشعار ہے، یہ بھی ہدی کے جانور کی علامت اور پہچان ہے۔ اشعار مسنون ہے اس کا انکار صرف امام ابوحنیفہ (رح) نے کیا ہے وہ کہتے ہیں: یہ مثلہ ہے جو جائز نہیں لیکن صحیح یہ ہے کہ مثلہ ناک، کان وغیرہ کاٹنے کو کہتے ہیں، اشعار فصد یا حجامت کی طرح ہے جو صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٣٢ (١٢٤٣)، سنن ابی داود/الحج ١٥ (١٧٥٢)، سنن الترمذی/الحج ٦٧ (٩٠٦)، سنن النسائی/الحج ٦٤ (٢٧٧٢)، ٦٧ (٢٧٨١)، ٧٠ (٢٧٩٣)، (تحفة الأشراف: ٦٤٥٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٢٣ (١٥٤٩)، مسند احمد (١/٢١٦، ٢٥٤، ٢٨٠، ٣٣٩، ٣٤٤، ٣٤٧، ٣٧٢)، سنن الدارمی/المناسک ٦٨ (١٩٥٣) (صحیح )
3098Sunan Ibne-Majah

ہدی کے جانور کا اشعار۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَفْلَحَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّدَ، وَأَشْعَرَ، وَأَرْسَلَ بِهَا، وَلَمْ يَجْتَنِبْ مَا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ہدی کو قلادہ پہنایا، اس کا اشعار کیا، اور اسے (مکہ) بھجوایا، اور ان باتوں سے پرہیز نہیں کیا جن سے محرم پرہیز کرتا ہے۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ garlanded, and marked, and sent (the sacrificial animals), but he did not avoid anything that the one in Ihram avoids.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الحج ١٠٦ (١٦٩٦)، ١٠٨ (١٦٩٩)، صحیح مسلم/الحج ٦٤ (١٣٢١)، سنن ابی داود/المناسک ١٧ (١٧٥٧)، سنن النسائی/الحج ٦٢ (٢٧٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٣٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ١٥ (٥١)، مسند احمد (٦/٢٥، ٣٦، ٧٨، ٨٥، ١٩١، ١٠٢، ١٢٧، ١٧٤، ١٨٠، ١٨٥، ١٩١، ٢٠٠) (صحیح )
3099Sunan Ibne-Majah

جو شخص قربانی کے جانوروں پر جھول ڈالے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ أَقْسِمَ جِلَالَهَا، وَجُلُودَهَا، وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا شَيْئًا، وَقَالَ: نَحْنُ نُعْطِيهِ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے ہدی کے اونٹوں کی نگرانی کا حکم دیا، اور کہا کہ میں ان کی جھولیں اور ان کی کھالیں (غریبوں اور محتاجوں میں) بانٹ دوں، اور ان میں سے قصاب کو کچھ نہ دوں، آپ نے فرمایا: ہم اسے اجرت اپنے پاس سے دیں گے ١ ؎۔

It was narrated that Ali bin Abu Talib said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded me to look after his sacrificial camels, to share out their Covers and skins, and not to give the butcher any of it. He said: We will give him (his wages)."

Notes · وضاحت
١ ؎: قربانی کی کھال اور جھول اللہ کی راہ میں بانٹ دینا چاہیے، اور بعضوں نے کہا کہ اگر قربانی کرنے والا کھال کو اپنے گھر کے کام میں استعمال کرے جیسے بچھانے یا ڈول وغیرہ کے لیے تو بھی جائز ہے، لیکن قصاب کی اجرت میں کھال دینا کسی طرح جائز نہیں، مقصد یہ ہے کہ قربانی کے جانور کا ہر ایک جزء اللہ ہی کے واسطے رہے، اجرت میں دینا گویا اس کو بیچنا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١١٣ (١٧٠٧)، ١٢٠ (١٧١٦)، ١٢١ (١٧١٧)، صحیح مسلم/الحج ٦١ (١٣١٧)، سنن ابی داود/الحج ٢٠ (١٧٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٢١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٩، ١٢٣، ١٣٢، ١٤٣، ١٥٤، ١٥٩)، سنن الدارمی/المناسک ٨٩ (١٩٨٣) (صحیح )
3100Sunan Ibne-Majah

ہدی میں نر اور مادہ دونوں درست ہیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى فِي بُدْنِهِ جَمَلًا لِأَبِي جَهْلٍ بُرَتُهُ مِنْ فِضَّةٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے ہدی کے جانوروں میں ابوجہل کا ایک اونٹ بھیجا جو (جنگ میں بطور غنیمت آپ کو ملا تھا) جس کی ناک میں چاندی کا ایک چھلا تھا ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that among the sacrificial animals the Prophet ﷺ included a (male) camel belonging to Abu Jahl, which had a silver nose ring.

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں جمل (اونٹ) کا لفظ ہے جو نر اونٹ کو کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٤٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٤، ٢٦٩) (صحیح )
3101Sunan Ibne-Majah

ہدی میں نر اور مادہ دونوں درست ہیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْأَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بُدْنِهِ جَمَلٌ.

سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے ہدی کے اونٹوں میں ایک نر اونٹ بھی تھا ١ ؎۔

It was narrated from Iyas bin Salamah, from his father, that the Prophet ﷺ had a (male) camel among his sacrificial animals.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ قربانی میں اکثر اونٹیناں بھیجتے تھے اس لیے کہ اونٹنی کی قدر عربوں میں زیادہ ہے اور اس کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ کے واسطے قربانی میں اسی کو زیادہ ثواب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٣٠، ومصباح الزجاجة: ١٠٧٤) (صحیح) (سند میں موسیٰ بن عبیدہ الربذی ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
3102Sunan Ibne-Majah

ہدی میقات میں لے جانا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى هَدْيَهُ مِنْ قُدَيْدٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی ہدی قدید سے خریدی ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Prophet ﷺ bought his sacrificial animal from Qudaid.

Notes · وضاحت
١ ؎: قدید: مکہ اور مدینہ کے درمیان ذوالحلیفہ سے آگے ایک مقام کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٦٨ (٩٠٧)، (تحفة الأشراف: ٧٨٩٧) (ضعیف) (اس کی سند ضعیف ہے، اور ابن عمر ؓ کے قول سے محفوظ و ثابت ہے، اور صحیح وثابت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اپنی ہدی کا جانور ذوالحلیفہ سے ساتھ لیا تھا )
3103Sunan Ibne-Majah

ہدی پر سوار کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ: ارْكَبْهَا، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَا وَيْحَكَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہدی کا اونٹ ہانک کرلے جا رہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ، اس نے کہا: یہ ہدی کا اونٹ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: سوار ہوجاؤ، تمہارا برا ہو ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ saw a man driving a camel and said: "Ride it." He said: "It is a sacrificial animal." He said: "Ride it, woe to you!"

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مخاطب کرنے کا ایک اسلوب ہے، بددعا مقصود نہیں اور سواری کا حکم اس لیے دیا کہ سوار ہونے میں اونٹ کو تکلیف نہیں ہوتی، امام احمد اور اصحاب حدیث کا یہی قول ہے کہ بلا عذر بھی ہدی کے اونٹ پر سوار ہونا جائز ہے، اور شافعی کے نزدیک ضرورت کے وقت جائز ہے، اس سے مقصد یہ تھا کہ مشرکوں کے اعتقاد کا رد کیا جائے جو ہدی کے جانوروں پر سواری کو برا جانتے تھے، اور بحیرہ اور سائبہ کی تعظیم کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٦٦٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ١٠٣ (١٦٨٩)، ١١٢ (١٧٠٦)، الوصایا ١٢ (٢٧٥٥)، الأدب ٩٥ (٦١٦٠)، صحیح مسلم/الحج ٦٥ (١٣٢٢)، سنن ابی داود/الحج ١٨ (١٧٦٠)، سنن النسائی/الحج ٧٤ (٢٨٠١)، موطا امام مالک/الحج ٤٥ (١٣٩)، مسند احمد (٢/٢٥٤، ٢٧٨، ٣١٢، ٤٦٤، ٤٧٤، ٤٧٨، ٤٨١) (صحیح )
3104Sunan Ibne-Majah

ہدی پر سوار کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِبَدَنَةٍ، فَقَالَ: ارْكَبْهَا، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَا، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ رَاكِبَهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُنُقِهَا نَعْلٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے سے کوئی شخص ایک اونٹ لے کر گزرا تو آپ نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ، اس نے کہا: یہ ہدی کا اونٹ ہے، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ۔ انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اسے دیکھا وہ اس پر نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ سوار تھا، اس کی گردن میں ایک جوتی لٹک رہی تھی۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ was brought a sacrificial animal and he said (to the man driving the animal): "Ride it." He said: "It is a sacrificial animal." He said: "Ride it." He said: "I saw him riding it with the Prophet, and there was a sandal (tied) around its neck."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٠٣ (١٦٩٠)، الوصایا ١٢ (٢٧٥٥)، الأدب ٩٥ (٦١٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٦٥ (١٣٢٢)، سنن ابی داود/الحج ١٨ (١٧٦٠)، سنن النسائی/الحج ٧٤ (٢٨٠١)، مسند احمد (٣/٩٩، ١٧٠، ١٧٣، ٢٢٠)، سنن الدارمی/المناسک ٦٩ (١٩٥٤) (صحیح )
3105Sunan Ibne-Majah

اگر ہدی کا جانور ہلاک ہونے لگے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ذُؤَيْبًا الْخُزَاعِيَّ، حَدَّثَ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ مَعَهُ بِالْبُدْنِ، ثُمَّ يَقُولُ: إِذَا عَطِبَ مِنْهَا شَيْءٌ فَخَشِيتَ عَلَيْهِ مَوْتًا، فَانْحَرْهَا، ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اضْرِبْ صَفْحَتَهَا، وَلَا تَطْعَمْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ذویب خزاعی ؓ کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے ساتھ ہدی کے اونٹ بھیجتے تو فرماتے: اگر ان میں سے کوئی تھک کر مرنے کے قریب پہنچ جائے، اور تمہیں اس کے مرجانے کا ڈر ہو، تو اس کو نحر (ذبح) کر ڈالو، پھر اس کے گلے کی جوتی اس کے خون میں ڈبو کر اس کے پٹھے پر مار لگا دو، اور اس میں سے نہ تم کچھ کھاؤ، اور نہ تمہارے ساتھ والے کچھ کھائیں ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that Dhuaib Al-Khuzai narrated that the Prophet ﷺ used to send the sacrificial animals with him, then he would say: "If any of them becomes unfit and you are afraid that it will die, then slaughter it, dip the sandal (tied around its neck) in its blood and place it on its side, but neither you nor any of your companions should eat anything from it."

Notes · وضاحت
١ ؎: بلکہ یہ نشان لگا کر اس جانور کو راستہ ہی میں چھوڑ دیا جائے تاکہ لوگ پہچان لیں کہ یہ ہدی کا جانور ہے، اور جو محتاج ہو وہ اس میں سے کھائے، آپ ﷺ نے ذویب اور اس کے ساتھیوں کو اس خیال سے کھانے سے منع فرمایا کہ لوگ تہمت نہ لگائیں کہ اپنے کھانے کی غرض سے اچھے تندرست جانور کو ذبح کر ڈالا، نیز اس سے معلوم ہوا کہ جو ہدی راستہ میں لاچار اور عاجز ہوجائے اس کو اسی طرح ذبح کر کے یہی نشان لگا کر چھوڑ دینا چاہیے، اور صاحب ہدی اور مالداروں کے لیے اس میں سے کھانا جائز نہیں، اور جو ہدی حرم تک پہنچ جائے وہاں نحر کی جائے اس میں سے صاحب ہدی اور مالدار بھی کھا سکتے ہیں، جیسے اوپر حدیث میں گزرا، اور رسول اکرم ﷺ اور علی ؓ نے ہدی کے جانوروں کا گوشت کھایا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٦٦ (١٣٢٦)، (تحفة الأشراف: ٣٥٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٥) (صحیح )
3106Sunan Ibne-Majah

اگر ہدی کا جانور ہلاک ہونے لگے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ: وَكَانَ صَاحِبَ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ؟، قَالَ: انْحَرْهُ وَاغْمِسْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ، ثُمَّ اضْرِبْ صَفْحَتَهُ، وَخَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ فَلْيَأْكُلُوهُ.

ناجیہ خزاعی ؓ (جو نبی اکرم ﷺ کے ہدی کے اونٹ لے جایا کرتے تھے) کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہدی کا جو اونٹ تھک کر مرنے کے قریب ہوجائے اسے میں کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو نحر (ذبح) کر ڈالو، اور اس کی جوتی اسی کے خون میں ڈبو کر اس کے پٹھے میں مار لگا دو، پھر اس کو چھوڑ دو کہ لوگ اسے کھائیں ۔

It was narrated that Najiyah Al-Khuzai - in his narration, ‘Amr (one of the narrators) said that he was the one who looked after the sacrificial animals of the Prophet ﷺ said: "I said: O Messenger of Allah, what should I do with those sacrificial animals that become unfit? He said: Slaughter them, dip its sandal in its blood, then place it on its side, and leave them for the people to eat."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ١٩ (١٧٦٢)، سنن الترمذی/الحج ٧١ (٩١٠)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٤٧ (١٤٨)، مسند احمد (٤/٣٣٣)، سنن الدارمی/المناسک ٦٦ (١٩٥٠) (صحیح )
3107Sunan Ibne-Majah

مکہ کے گھروں کے کرایہ کا حکم۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَضْلَةَ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَمَا تُدْعَى رِبَاعُ مَكَّةَ إِلَّا السَّوَائِبَ مَنِ احْتَاجَ سَكَنَ، وَمَنِ اسْتَغْنَى أَسْكَنَ.

علقمہ بن نضلہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ عنہم کے انتقال کے وقت تک مکہ کے گھروں کو صرف سوائب کہا جاتا تھا ١ ؎ جو ضرورت مند ہوتا ان میں رہتا، اور جس کو حاجت نہ ہوتی، وہ دوسروں کو اس میں رہنے کے لیے دے دیتا۔

It was narrated that Alqamah bin Nadlah said: "The Messenger of Allah, Abu Bakr (RA) and Umar died, and the houses in Makkah were still called free. Whoever needed to, lived there, and whoever had no need of them allowed others to live there (without asking for rent)."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بےکرایہ والے گھر اور وقف شدہ مکان۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٨، ومصباح الزجاجة: ١٠٧٥) (ضعیف) (علقمہ بن نضلہ کا صحابی ہونا ثابت نہیں ہے )
3108Sunan Ibne-Majah

مکہ کی فضیلت

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْحَمْرَاءِ، قَالَ لَهُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ وَاقِفٌ بِالْحَزْوَرَةِ، يَقُولُ: وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَيَّ، وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ.

عبداللہ بن عدی بن حمراء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنی اونٹنی پر حزورہ (مکہ میں ایک مقام) میں کھڑے فرما رہے تھے: قسم اللہ کی! بلاشبہ تو اللہ کی ساری زمین سے بہتر ہے، اور اللہ کی زمین میں مجھے سب سے زیادہ پسند ہے، قسم اللہ کی! اگر میں تجھ سے نکالا نہ جاتا تو میں نہ نکلتا ۔

Abu Salamah bin Abdur- Rahman bin Awf narrated that Abdullah bin Adiy bin Hamra said to him: "I saw the Messenger of Allah, when he was on his she-camel, standing in Al-Hazwarah saying: By Allah, you are the best land of Allah, and the dearest of the land of Allah to me. By Allah, had I not been expelled from you I would never have left."

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ٦٩ (٣٩٢٥)، (تحفة الأشراف: ٦٦٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٠٥)، سنن الدارمی/السیر ٦٧ (٢٥٥٢) (صحیح )
3109Sunan Ibne-Majah

مکہ کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَامَ الْفَتْحِ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهِيَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا يَأْخُذُ لُقْطَتَهَا إِلَّا مُنْشِدٌ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَإِنَّهُ لِلْبُيُوتِ وَالْقُبُورِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلَّا الْإِذْخِرَ.

صفیہ بنت شیبہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فتح مکہ کے سال خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: لوگو! اللہ نے مکہ کو اسی دن حرام قرار دے دیا جس دن اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا، اور وہ قیامت تک حرام رہے گا، نہ وہاں کا درخت کاٹا جائے گا، نہ وہاں کا شکار بدکایا جائے گا، اور نہ وہاں کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے گی، البتہ اعلان کرنے والا اٹھا سکتا ہے ، اس پر عباس ؓ نے کہا: اذخر (نامی گھاس) کا اکھیڑنا جائز فرما دیجئیے کیونکہ وہ گھروں اور قبروں کے کام آتی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا اذخر اکھاڑنا جائز ہے ۔

It was narrated that Safiyyah bint Shaibah said: "I heard the Prophet ﷺ delivering a sermon in the Year of the Conquest (of Makkah), and he said: O people, Allah made Makkah sacred the day He created the heavens and the earth, and it is sacred until the Day of Resurrection. Its trees are not to be cut, its game is not to be disturbed, and its lost property is not to be taken except by one who will announce it. Abbas said: Except for Idhkhir (a kind of fragrant grass), for it is used) for houses and graves. The Messenger of Allah ﷺ said: Except for Idhkhir.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٩٠٨، ومصباح الزجاجة: ١٠٧٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ٧٦ (١٣٤٩ تعلیقاً ) (حسن) (ابان بن صالح ضعیف ہیں، لیکن شاہد کی تقویت سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤ /٢٤٩ )
3110Sunan Ibne-Majah

مکہ کی فضیلت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَزَالُ هَذِهِ الْأُمَّةُ بِخَيْرٍ مَا عَظَّمُوا هَذِهِ الْحُرْمَةَ حَقَّ تَعْظِيمِهَا، فَإِذَا ضَيَّعُوا ذَلِكَ هَلَكُوا.

عیاش بن ابی ربیعہ مخزومی ؓ کہتے ہیں کہ یہ امت برابر خیر اور بھلائی میں رہے گی جب تک وہ اس حرمت والے شہر کی اس طرح تعظیم کرتی رہے گی جیسا کہ اس کی تعظیم کا حق ہے، پھر جب لوگ اس کی تعظیم کو چھوڑ دیں گے تو ہلاک ہوجائیں گے۔

It was narrated from ‘Ayyash bin Abu Rabiah (Makhzumi) that the Messenger of Allah ﷺ said: The goodness of this nation will not cease as long as they revere this sanctuary as it is due. But when they lose that reverence, they will be doomed."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠١٢، ومصباح الزجاجة: ١٠٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤٧) (ضعیف) (یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں اختلاط کا شکار ہوگئے تھے )
3111Sunan Ibne-Majah

مدینہ منورہ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایمان مدینہ میں اسی طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنی بل میں سما جاتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Faith will retreat to Al-Madinah as a snake retreats to its hole."

Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح آخری زمانہ میں اسلام بھی سب ملکوں سے ہوتا ہوا مدینہ میں آ کر دم لے گا، سابق میں مدینہ ہی سے اسلام ساری دنیا میں پھیلا اخیر زمانہ میں سمٹ کر پھر مدینہ ہی میں آجائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٦ (١٨٧٦)، صحیح مسلم/الإیمان ٦٥ (١٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٨٦، ٤٢٢، ٤٩٦) (صحیح )
3112Sunan Ibne-Majah

مدینہ منورہ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَفْعَلْ، فَإِنِّي أَشْهَدُ لِمَنْ مَاتَ بِهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو مدینہ میں مر سکے تو وہ ایسا ہی کرے، کیونکہ جو وہاں مرے گا میں اس کے لیے گواہی دوں گا ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever among you can die in Al-Madinah, let him do so, for I will bear witness in favor of those who die there."

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ٦٨ (٣٩١٧)، (تحفة الأشراف: ٧٥٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٧٤، ١٠٤) (صحیح )
3113Sunan Ibne-Majah

مدینہ منورہ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنَّكَ حَرَّمْتَ مَكَّةَ عَلَى لِسَانِ إِبْرَاهِيمَ، اللَّهُمَّ وَأَنَا عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، قَالَ أَبُو مَرْوَانَ: لَابَتَيْهَا حَرَّتَيْ الْمَدِينَةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! ابراہیم تیرے خلیل (گہرے دوست) اور تیرے نبی ہیں، اور تو نے مکہ کو بزبان ابراہیم حرام ٹھہرایا ہے، اے اللہ! میں تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں، اور میں مدینہ کو اس کی دونوں کالی پتھریلی زمینوں کے درمیان کی جگہ کو حرام ٹھہراتا ہوں ١ ؎۔ ابومروان کہتے ہیں: لابتيها کے معنی مدینہ کے دونوں طرف کی کالی پتھریلی زمینیں ہیں۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "O Allah! Ibrahim was Your Close Friend and Prophet, and You declared Makkah to be sacred through Ibrahim. O Allah! I am Your slave and Prophet, and I declare what is between its two lava fields to be sacred." Abu Marwan said: "Its two lava fields are the two Harrah of Al-Madinah."

Notes · وضاحت
١ ؎: جو دونوں طرف مدینہ کے کناروں پر ہیں، اور اس وقت حرہ شرقیہ اور حرہ غربیہ کے نام سے دو بڑے آباد محلے ہیں، ایک جماعت علماء اور اہل حدیث کا یہ مذہب ہے کہ مدینہ کا حرم بھی حرمت میں مکہ کے حرم کی طرح ہے، اور وہاں کا درخت بھی اکھیڑنا منع ہے، اسی طرح وہاں کے شکار کا ستانا اور حنفیہ اور جمہور علماء یہ کہتے ہیں کہ مدینہ کا حرم احکام میں مکہ کے حرم کی طرح نہیں ہے، اور اس حدیث سے صرف اس کی تعظیم مراد ہے، یعنی وہ ہلاک اور تباہ ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٠٤٠، ومصباح الزجاجة: ١٠٧٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٨٥ (١٣٧٢)، سنن الترمذی/الدعوات ٥٤ (٣٤٥٤)، موطا امام مالک/الجامع ١ (٢) (صحیح )
3114Sunan Ibne-Majah

مدینہ منورہ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ، أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مدینہ والوں کو جو کوئی تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح گھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever wishes bad upon the people of Al-Madinah, Allah will cause him to melt as salt melts in water."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٦٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٨٩ (١٣٨٦)، مسند احمد (٢/٢٧٩، ٣٠٩، ٣٥٧) (صحیح )
3115Sunan Ibne-Majah

مدینہ منورہ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِكْنَفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أُحُدًا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، وَهُوَ عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ، وَ عَيْرٌ عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ النَّارِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے، اور ہم اس سے، اور وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ پر قائم ہے، اور عیر (یہ بھی ایک پہاڑ ہے) جہنم کے باغات میں سے ایک باغ پر قائم ہے ۔

It was narrated that Abdullah bin Miknaf said: "I heard Anas bin Malik (RA) say: The Messenger of Allah ﷺ said: "Uhud is a mountain which loves us and we love it, and it stands at one of the gates of Paradise. And Aer stands at one of the gates of Hell.’”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٧٧، ومصباح الزجاجة: ١٠٧٩) (ضعیف) (سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور ان کے شیخ عبداللہ بن مکنف مجہول ہیں، لیکن حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے، جب کہ صحیح بخاری میں دوسری سند سے انس ؓ سے مروی ہے، ( ٢٨٨٩ - ٣٣٦٧)، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٨٢٠ )
3116Sunan Ibne-Majah

کعبہ میں مدفون مال۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: بَعَثَ رَجُلٌ مَعِيَ بِدَرَاهِمَ هَدِيَّةً إِلَى الْبَيْتِ، قَالَ: فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ وَشَيْبَةُ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ، فَنَاوَلْتُهُ إِيَّاهَا، فَقَالَ لَهُ: أَلَكَ هَذِهِ؟، قُلْتُ: لَا، وَلَوْ كَانَتْ لِي، لَمْ آتِكَ بِهَا، قَالَ: أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ، لَقَدْ جَلَسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَجْلِسَكَ الَّذِي جَلَسْتَ فِيهِ، فَقَالَ: لَا أَخْرُجُ حَتَّى أَقْسِمَ مَالَ الْكَعْبَةِ بَيْنَ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ، قُلْتُ: مَا أَنْتَ فَاعِلٌ؟، قَالَ: لَأَفْعَلَنَّ، قَالَ: وَلِمَ ذَاكَ؟، قُلْتُ: لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَأَى مَكَانَهُ وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا أَحْوَجُ مِنْكَ إِلَى الْمَالِ فَلَمْ يُحَرِّكَاهُ، فَقَامَ كَمَا هُوَ فَخَرَجَ.

ابو وائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے میرے ساتھ کچھ درہم خانہ کعبہ کے لیے ہدیہ بھیجے، میں خانہ کعبہ کے اندر آیا، اور شیبہ (خانہ کعبہ کے کلید بردار) کو جو ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے، میں نے انہیں وہ درہم دے دئیے، انہوں نے پوچھا: کیا یہ تمہارے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، اگر میرے ہوتے تو میں انہیں آپ کے پاس نہ لاتا، (فقیروں اور مسکینوں کو دے دیتا) انہوں نے کہا: اگر تم ایسا کہتے ہو تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ عمر ؓ اسی جگہ بیٹھے جہاں تم بیٹھے ہو، پھر انہوں نے فرمایا: میں باہر نہیں نکلوں گا جب تک کہ کعبہ کا مال مسلمان محتاجوں میں تقسیم نہ کر دوں، میں نے ان سے کہا: آپ ایسا نہیں کرسکتے، انہوں نے کہا: میں ضرور کروں گا، پھر آپ نے پوچھا: تم نے کیوں کہا کہ میں ایسا نہیں کرسکتا؟، میں نے کہا: اس وجہ سے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس مال کی جگہ دیکھی ہے اور ابوبکر ؓ نے بھی، اور وہ دونوں آپ سے زیادہ اس کے ضرورت مند تھے، اس کے باوجود انہوں نے اس کو نہیں سرکایا، یہ سن کر وہ جیسے تھے اسی حالت میں اٹھے اور باہر نکل گئے۔

It was narrated that Shaqiq said: “A man sent some Dirham through me to the House." He said: "I entered the House and Shaibah was sitting on a chair. I handed it (the money) to him and he said: Is this yours? I said: No, if it were mine I would not have given it to you. He said: Since you say that, Umar was sitting in the place where you are sitting now and said: "I will not go out until I distribute the wealth of the Ka’bahh among the poor Muslims." I said: "You will not do that." He said: "I will certainly do that." He said: "Why is that?" I said: "Because, the Prophet ﷺ and Abu Bakr (RA) saw where it was, and they had more need of the money than you do. But, they did not move it. Then, he stood up just as he was and went out."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٤٨ (١٥٩٤)، الاعتصام ٢ (٧٢٧٥)، سنن ابی داود/المناسک ٩٦ (٢٠٣١)، (تحفة الأشراف: ٤٨٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٠) (صحیح )