ہدی پر سوار کرنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ: ارْكَبْهَا، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَا وَيْحَكَ.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہدی کا اونٹ ہانک کرلے جا رہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ، اس نے کہا: یہ ہدی کا اونٹ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: سوار ہوجاؤ، تمہارا برا ہو ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ saw a man driving a camel and said: "Ride it." He said: "It is a sacrificial animal." He said: "Ride it, woe to you!"
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مخاطب کرنے کا ایک اسلوب ہے، بددعا مقصود نہیں اور سواری کا حکم اس لیے دیا کہ سوار ہونے میں اونٹ کو تکلیف نہیں ہوتی، امام احمد اور اصحاب حدیث کا یہی قول ہے کہ بلا عذر بھی ہدی کے اونٹ پر سوار ہونا جائز ہے، اور شافعی کے نزدیک ضرورت کے وقت جائز ہے، اس سے مقصد یہ تھا کہ مشرکوں کے اعتقاد کا رد کیا جائے جو ہدی کے جانوروں پر سواری کو برا جانتے تھے، اور بحیرہ اور سائبہ کی تعظیم کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٦٦٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ١٠٣ (١٦٨٩)، ١١٢ (١٧٠٦)، الوصایا ١٢ (٢٧٥٥)، الأدب ٩٥ (٦١٦٠)، صحیح مسلم/الحج ٦٥ (١٣٢٢)، سنن ابی داود/الحج ١٨ (١٧٦٠)، سنن النسائی/الحج ٧٤ (٢٨٠١)، موطا امام مالک/الحج ٤٥ (١٣٩)، مسند احمد (٢/٢٥٤، ٢٧٨، ٣١٢، ٤٦٤، ٤٧٤، ٤٧٨، ٤٨١) (صحیح )