Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 139 of 218

2758Sunan Ibne-Majah

راہِ اللہ میں لڑنے والے کو سامان فراہم کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَسْتَقِلَّ، كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يَرْجِعَ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص اللہ کی راہ کے کسی مجاہد کو ساز و سامان سے لیس کر دے یہاں تک کہ اسے مزید کسی چیز کی ضرورت نہ رہ جائے تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا مجاہد کو، یہاں تک کہ وہ مرجائے یا اپنے گھر لوٹ آئے ۔

It was narrated that Umar bin Khattab said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever equips a warrior in the cause of Allah until he is fully equipped, he will have a reward like his, until he dies or returns.(Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٠٥، ومصباح الزجاجة: ٩٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠، ٥٣) (ضعیف) (سند میں ولید بن أبو ولید ضعیف ہے، اور عثمان بن عبد اللہ کی عمر ؓ سے رو ایت مرسل و منقطع ہے )
2759Sunan Ibne-Majah

راہِ اللہ میں لڑنے والے کو سامان فراہم کرنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْئًا.

زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مجاہد فی سبیل اللہ کو ساز و سامان سے لیس کر دے، اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس مجاہد کو ملے گا، بغیر اس کے کہ اس کے ثواب میں کچھ کمی کی جائے ۔

It was narrated from Zaid bin Khalid Al-juhani that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever equips a warrior in the cause of Allah, he will have a reward like his, without that detracting from the warrior s reward in the slightest." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٦ (١٦٢٩ ١٦٣٠)، (تحفة الأشراف: ٣٧٦١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ٣٨ (٢٨٤٣)، صحیح مسلم/الإمارة ٣٨ (١٨٩٥)، سنن ابی داود/الجہاد ٢١ (٢٥٠٩)، سنن النسائی/الجہاد ٤٤ (٣١٨٢)، مسند احمد (٤/١١٥، ١١٦، ١١٧، ٥/١٩٢، ١٩٣)، سنن الدارمی/الجہاد ٢٧ (٢٤٦٣) (صحیح )
2760Sunan Ibne-Majah

راہ اللہ میں خرچ کرنے کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہترین دینار جسے آدمی خرچ کرتا ہے وہ دینار ہے جسے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے وہ اپنے جہاد فی سبیل اللہ کے گھوڑے پر خرچ کرتا ہے، نیز وہ دینار ہے جسے وہ اپنے مجاہد ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے ۔

It was narrated from Thawban that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best Dinar " that a man can spend is a Dinar that he spends on his family, a ,Dinar that he spends on a horse in the cause of Allah, and a Dinar that a man spends on his companions in the cause of Allah." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ١٢ (٩٩٤)، سنن الترمذی/البر والصلة ٤٢ (١٩٦٦)، (تحفة الأشراف: ٢١٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد ٥/ (٢٧٩، ٢٨٤) (صحیح )
2761Sunan Ibne-Majah

راہ اللہ میں خرچ کرنے کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الْخَلِيلِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَعِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، كُلُّهُمْ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ أَرْسَلَ بِنَفَقَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَقَامَ فِي بَيْتِهِ فَلَهُ بِكُلِّ دِرْهَمٍ سَبْعُ مِائَةِ دِرْهَمٍ، وَمَنْ غَزَا بِنَفْسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْفَقَ فِي وَجْهِ ذَلِكَ فَلَهُ بِكُلِّ دِرْهَمٍ سَبْعُ مِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ سورة البقرة آية 261.

علی بن ابی طالب، ابوالدرداء، ابوہریرہ، ابوامامہ باہلی، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عمرو بن العاص، جابر بن عبداللہ اور عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص فی سبیل اللہ (اللہ کی راہ میں) خرچ بھیجے، اور اپنے گھر بیٹھا رہے تو اس کے لیے ہر درہم کے بدلے سات سو درہم ہیں، اور جو شخص فی سبیل اللہ (اللہ کے راستے میں) بذات خود جہاد کرنے نکلے، اور خرچ کرے، تو اسے ہر درہم کے بدلے سات لاکھ درہم کا ثواب ملے گا، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: والله يضاعف لمن يشاء اور اللہ تعالیٰ جیسے چاہے دو گنا کر دے (سورۃ البقرہ: ٢٦١ ) ۔

It was narrated from Ali bin Abu Talib, Abu Darda, Abu Hurairah (RA) h, Abu Umamah AIBahili, Abdullah bin Umar, Abdullah bin Amr, Jabir bin Abdullah and Imran bin Husain, all of them narrating that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever sends financial support in the cause of Allah and stays at home, for every Dirham he will have (the reward of) seven hundred Dirham. Whoever fights himself in the cause of Allah, and spends on that, for every Dirham he will have (the reward of) seven hundred thousand Dirham." Then he recited this Verse: "Allah gives manifold increase to whom He wills." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٢٧، ٨٦١٧، ١٠٠٦٨، ١٠٧٩٤، ١٠٩٢٩، ١٢٢٦١، ومصباح الزجاجة: ٩٧٥) (ضعیف) (سند میں خلیل بن عبداللہ مجہول راوی ہے )
2762Sunan Ibne-Majah

جہاد چھوڑنے کی سخت وعید۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ لَمْ يَغْزُ أَوْ يُجَهِّزْ غَازِيًا أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ أَصَابَهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ بِقَارِعَةٍ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص نہ غزوہ کرے، نہ کسی غازی کے لیے سامان جہاد کا انتظام کرے، اور نہ ہی کسی غازی کی غیر موجودگی میں اس کے گھربار کی بھلائی کے ساتھ نگہبانی کرے، تو اللہ تعالیٰ قیامت آنے سے قبل اسے کسی مصیبت میں مبتلا کر دے گا ۔

It was narrated from Abu Umamah that the Prophet ﷺ said: "Whoever does not fight, or equip a fighter, or stay behind to look after a fighters family, Allah will strike him with a calamity before the Day of Resurrection." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ١٨ (٢٥٠٣)، (تحفة الأشراف: ٤٨٩٧)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الجہاد ٢٦ (٢٤٦٢) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: ٣٨٠ )
2763Sunan Ibne-Majah

جہاد چھوڑنے کی سخت وعید۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ هُوَ إِسْمَاعِيل بْنُ رَافِعٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَقِيَ اللَّهَ وَلَيْسَ لَهُ أَثَرٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَقِيَ اللَّهَ وَفِيهِ ثُلْمَةٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اس پر جہاد فی سبیل اللہ کا کوئی نشان نہ ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس میں نقصان ہوگا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever meets Allah with no mark on him (as a result of fighting) in His cause, he will meet Him with a deficiency." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٢٦ (١٦٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦٠، ٢١٤) (ضعیف) (سند میں ابو رافع ضعیف راوی ہیں )
2764Sunan Ibne-Majah

جو (معقول) عذر کی وجہ سے جہاد نہ کرسکا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ: إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَقَوْمًا مَا سِرْتُمْ مِنْ مَسِيرٍ وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ فِيهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ؟ قَالَ: وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے لوٹے، اور مدینہ کے نزدیک پہنچے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جس راہ پر تم چلے اور جس وادی سے بھی تم گزرے وہ تمہارے ہمراہ رہے ، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: مدینہ میں رہ کر بھی وہ ہمارے ساتھ رہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، مدینہ میں رہ کر بھی، عذر نے انہیں روک رکھا تھا ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ was returning from the campaign of Tabuk, and had drawn close to Al-Madinah, he said: In AIMadinah there are people who, as you traveled and crossed valleys, were with you. They said: 0 Messenger of Allah, even though they were in AI-Madinah? He said: Even though they were in Al-Madinah. They were kept behind by (legitimate) excuses. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً بیماری وغیرہ تو ایسے شخص کو جہاد کا ثواب ملے گا جب اس کی نیت جہاد کی ہو، لیکن عذر کی وجہ سے مجبور ہو کر رک جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٥٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ٣٥ (٢٨٣٩)، صحیح مسلم/الإمارة ٤٨ (١٩١١)، سنن ابی داود/الجہاد ٢٠ (٢٥٠٨) (صحیح )
2765Sunan Ibne-Majah

جو (معقول) عذر کی وجہ سے جہاد نہ کرسکا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ بِالْمَدِينَةِ رِجَالًا مَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا وَلَا سَلَكْتُمْ طَرِيقًا إِلَّا شَرِكُوكُمْ فِي الْأَجْرِ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: أَوْ كَمَا قَالَ: كَتَبْتُهُ لَفْظًا.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ تم جس وادی سے بھی گزرے، یا جس راہ پر چلے ثواب میں ہر جگہ وہ تمہارے شریک رہے، انہیں عذر نے روک رکھا تھا ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: ایسا ہی کچھ احمد بن سنان نے کہا میں نے اسے لفظ بلفظ لکھ لیا۔

It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: "In Al-Madinah there are men who, every time you crossed a valley or traveled a road. They shared with you in the reward They were kept behind by (legitimate) excuses." (Sahih) Abu Abdullah bin Majah said: "Or as he said: I have written it with the (exact) wording."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤٨ (١٩١١)، (تحفة الأشراف: ٢٣٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٠) (صحیح )
2766Sunan Ibne-Majah

راہِ اللہ میں مورچہ میں رہنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: خَطَبَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ النَّاسَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي سَمِعْتُ حَدِيثًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِهِ إِلَّا الضِّنُّ بِكَمْ وَبِصَحَابَتِكُمْ فَلْيَخْتَرْ مُخْتَارٌ لِنَفْسِهِ أَوْ لِيَدَعْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ رَابَطَ لَيْلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ كَانَتْ كَأَلْفِ لَيْلَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا.

عبداللہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان ؓ نے لوگوں میں خطبہ دیا اور فرمایا: لوگو! میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث سنی ہے جو میں نے تم سے صرف اس لیے نہیں بیان کی کہ میں تمہارا اور تمہارے ساتھ رہنے کا بہت حریص ہوں ١ ؎، اب اس پر عمل کرنے اور نہ کرنے کا اختیار ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جس نے اللہ کے راستے میں ایک رات بھی سرحد پر پڑاؤ ڈالا، تو اسے ہزار راتوں کے صیام و قیام کے مثل ثواب ملے گا ۔

It was narrated that Abdullah bin Zubair said: "Uthman bin "Affan addressed the people and said: O people! I heard a Hadith from the Messenger of Allah ﷺ and nothing kept me from narrating it to you except for the fact that I did not want to lose you and your companionship. So it is up to you. I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: "Whoever spends a night guarding the frontier in the cause of Allah, it will be lIke a thousand nights spent in fasting and prayer." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ حدیث سنتے ہی تم جہاد کے لئے نکل جاؤ اور میں اکیلا رہ جاؤں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٨١٦، ومصباح الزجاجة: ٩٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٦١، ٦٤) (ضعیف جدا) (عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں، ترمذی اور نسائی کے یہاں یہ روایت صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا کے بغیر موجود ہے )
2767Sunan Ibne-Majah

راہِ اللہ میں مورچہ میں رہنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَجْرَى عَلَيْهِ أَجْرَ عَمَلِهِ الصَّالِحِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ، وَأَجْرَى عَلَيْهِ رِزْقَهُ، وَأَمِنَ مِنَ الْفَتَّانِ، وَبَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ آمِنًا مِنَ الْفَزَعِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ کے راستے میں رباط (سرحد پر پڑاؤ ڈالے ہوئے) مرجائے، تو جو وہ نیک عمل کرتا تھا اس کا ثواب اس کے لیے جاری رہے گا، جنت میں سے اس کا رزق مقرر ہوگا، قبر کے فتنہ سے محفوظ رہے گا، اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ہر ڈر اور گھبراہٹ سے محفوظ اٹھائے گا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever dies being prepared in the cause of Allah will be given continuously the reward for the good deeds that he used to do, and he will be reward with provision, and he will be kept safe from Fattan, and Allah will raise him on the Day of Resurrection free of fright.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٦١٧، ومصباح الزجاجة: ٩٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٠٤) (صحیح )
2768Sunan Ibne-Majah

راہِ اللہ میں مورچہ میں رہنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ صُبْحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَرِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ وَرَاءِ عَوْرَةِ الْمُسْلِمِينَ مُحْتَسِبًا مِنْ غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ عِبَادَةِ مِائَةِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا، وَرِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ وَرَاءِ عَوْرَةِ الْمُسْلِمِينَ مُحْتَسِبًا مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ وَأَعْظَمُ أَجْرًا، أُرَاهُ قَالَ: مِنْ عِبَادَةِ أَلْفِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا، فَإِنْ رَدَّهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِهِ سَالِمًا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ سَيِّئَةٌ أَلْفَ سَنَةٍ، وَتُكْتَبُ لَهُ الْحَسَنَاتُ، وَيُجْرَى لَهُ أَجْرُ الرِّبَاطِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ثواب کی نیت سے مسلمانوں کے ناکے پر (جہاں سے دشمن کے حملہ آور ہونے کا ڈر ہو) اللہ کی راہ میں سرحد پر ایک دن پڑاؤ کی حفاظت کا ثواب غیر رمضان میں سو سال کے روزوں، اور ان کے قیام اللیل صیام سے بڑھ کر ہے، اور اللہ کے راستے میں مسلمانوں کے ناکے پر ثواب کی نیت سے رمضان میں ایک دن کی سرحد کی نگرانی کا ثواب ہزار سال کے نماز سے بڑھ کر ہے، پھر اگر اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح سالم گھر لوٹا دیا تو ایک ہزار سال تک اس کی برائیاں نہیں لکھی جائیں گی، نیکیاں لکھی جائیں گی، اور قیامت تک رباط کا ثواب جاری رہے گا ۔

It was narrated that Ubayy bin Kab said: "The Messenger of Allah ﷺ said: For guarding the frontier for a day in the cause of Allah, defending the Muslims, seeking reward, apart from in the month of Ramadan, there is a reward granted greater than worshipping for a hundred years, fasting and praying. Guarding the frontier for a day in the cause of Allah, defending the Muslims. seeking reward, in the month of Ramadan, is better before Allah and brings a greater reward" - I think he said _ U than worshipping for a thousand years, fasting and praying. If Allah returns him to his family safe and sound, no bad deed will be recorded for him for a thousand years, but his good deeds will be recorded, and the reward for guarding the frontier will come to him until the Day of Resurrection." (Maudu)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٥، ومصباح الزجاجة: ٩٧٩) (موضوع) (سند میں عمر بن صبح ہے، جو وضع حدیث کرتا تھا، نیز محمد بن یعلی ضعیف راوی ہے، اور مکحول کی أبی بن کعب ؓ سے ملاقات نہیں ہے )
2769Sunan Ibne-Majah

راہِ اللہ میں چوکیدار اور اللہ اکبر کہنے کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللَّهُ حَارِسَ الْحَرَسِ.

عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ لشکر کے پہرہ دار پر رحم فرمائے ١ ؎۔

It was narrated from Uqbah bin Amir AI-Juhani that the Messenger of Allah ﷺ said: "May Allah have mercy on the one who keeps watch over the troops." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٩٤٥، ومصباح الزجاجة: ٩٨٠)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الجہاد ١١ (٢٤٤٥) (ضعیف) (سند میں صالح بن محمد بن زائدہ ضعیف راوی ہے )
2770Sunan Ibne-Majah

راہِ اللہ میں چوکیدار اور اللہ اکبر کہنے کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَبِي الطَّوِيلِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: حَرَسُ لَيْلَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ صِيَامِ رَجُلٍ وَقِيَامِهِ فِي أَهْلِهِ أَلْفَ سَنَةٍ، السَّنَةُ ثَلاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ يَوْمًا وَالْيَوْمُ كَأَلْفِ سَنَةٍ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوے سنا: اللہ کی راہ میں ایک رات پہرہ دینا، کسی آدمی کے اپنے گھر میں رہ کر ایک ہزار سال کے صوم و صلاۃ سے بڑھ کر ہے، سال تین سو ساٹھ دن کا ہوتا ہے، جس کا ہر دن ہزار سال کے برابر ہے ۔

It was narrated that Saeed bin Khalid bin Abu Tuwail said: I heard Anas bin Malik (RA) saying: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Standing guard one night in the cause of Allah is better than a man fasting and praying, among his family, for a thousand years. The year is three hundred and sixty days and a day is like a thousand years." (Maudu)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٦٠، ومصباح الزجاجة: ٩٨١) (موضوع) (سند میں سعید بن خالد الطویل ہے، جو وضع حدیث کرتا تھا، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٢٣٤ ، اس موضوع پر صحیح حدیث کے لئے ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٨٦٦ )
2771Sunan Ibne-Majah

راہِ اللہ میں چوکیدار اور اللہ اکبر کہنے کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے، اور ہر اونچی زمین پر اللہ اکبر کہنے کی وصیت کرتا ہوں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said to a man: “I advise you to fear Allah and to say the Takbir (Allahu Akbar) in every high place.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٤٦ (٣٤٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٤٦)، وقد أخرجہ: ٢/٣٢٥، ٣٣١، ٤٤٣، ٤٧٦) (حسن )
2772Sunan Ibne-Majah

جب لڑائی کا عام حکم ہو تو لڑنے کیلئے جانا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: ذُكِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَ أَحْسَنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً فَانْطَلَقُوا قِبَلَ الصَّوْتِ فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ سَبَقَهُمْ إِلَى الصَّوْتِ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَنْ تُرَاعُوايَرُدُّهُمْ، ثُمَّ قَالَ لِلْفَرَسِ: وَجَدْنَاهُ بَحْرًا، أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ. قَالَ حَمَّادٌ، وَحَدَّثَنِي ثَابِتٌ، أَوْ غَيْرُهُ قَالَ: كَانَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ يُبَطَّأُ فَمَا سُبِقَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: آپ سب سے زیادہ خوبصورت، سخی اور بہادر تھے، ایک رات مدینہ والے گھبرا اٹھے، اور سب لوگ آواز کی جانب نکل پڑے تو راستے ہی میں رسول اللہ ﷺ سے ملاقات ہوگئی، آپ ان سے پہلے اکیلے ہی آواز کی طرف چل پڑے تھے ١ ؎، اور ابوطلحہ ؓ کے ننگی پیٹھ اور بغیر زین والے گھوڑے پر سوار تھے، اور اپنی گردن میں تلوار ٹکائے ہوئے تھے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: لوگو! ڈر کی کوئی بات نہیں ہے ، یہ کہہ کر آپ لوگوں کو واپس لوٹا رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے گھوڑے کے متعلق فرمایا: ہم نے اسے سمندر پایا، یا واقعی یہ تو سمندر ہے ۔ حماد کہتے ہیں: مجھ سے ثابت نے یا کسی اور نے بیان کیا کہ وہ گھوڑا ابوطلحہ ؓ کا تھا، جو سست رفتار تھا لیکن اس دن کے بعد سے وہ کبھی کسی گھوڑے سے پیچھے نہیں رہا ٢ ؎۔

It was narrated from Hammad bin Zaid from Thabit, that the Prophet ﷺ was mentioned before Anas bin Malik (RA) and he said: "He was the best of people, the most generous of people, the most courageous of people. The people of Al-Madinah became alarmed one night, and he was the first of them to investigate the noise and din. He was riding a horse belonging to Abu Talhah, bareback, with saddle. His sword was hanging from his neck and he was saying: people, do not be afraid sending them back to their houses. Then he said of the horse , We found it like a sea, or, It is a sea. (Sahih) Hammad said . Thabit or someone else narrated to saying. Abu Talhah s horse was, slow, but it was never left behind after that day."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب امام یا حاکم جہاد کے لئے نکلنے کا اعلان عام کر دے تو ہر ایک مسلمان جس کو کوئی عذر نہ ہو، کا جہاد کے لیے نکلنا واجب ہے۔ ٢ ؎: یہ برکت تھی آپ ﷺ کے فرمانے کی، آپ ﷺ کی زبان سے جو نکلا حق تعالیٰ ویسا ہی کردیا ایک سست رفتار اور خراب گھوڑا دم بھر میں عمدہ گھوڑوں سے زیادہ تیز اور چالاک ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الجہاد ٤٢ (٢٨٢٠)، ٥٤ (٢٨٦٦)، ٨٢ (٢٩٠٨)، الأدب ٣٩ (٦٠٣٣)، صحیح مسلم/الفضائل ١١ (٢٣٠٧)، سنن الترمذی/الجہاد ١٤ (١٦٨٧)، (تحفة الأشراف: ٢٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد ٣/١٤٧، ١٦٣، ١٨٥، ٢٧١) (صحیح )
2773Sunan Ibne-Majah

جب لڑائی کا عام حکم ہو تو لڑنے کیلئے جانا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ بُسْرِ بْنِ أَبِي أَرْطَاةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنِيشَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا جائے تو فوراً نکل کھڑے ہو ۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Prophet ﷺ said:If you are called to arms ilien go forth." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٤١٨، ومصباح الزجاجة: ٩٨٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/جزاء الصید ٤ (١٨٣٤)، الجہاد ١ (٢٧٨٣)، ٢٧ (٢٨٢٥)، ١٩٤ (٣٠٧٧)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٠ (١٣٥٣)، سنن الترمذی/السیر ٣٣ (١٥٩٠)، سنن النسائی/البیعة ١٥ (٤١٧٥)، مسند احمد (١/٢٢٦، ٢٦٦، ٣١٦، ٣٥٥)، سنن الدارمی/السیر ٦٩ (٢٥٥٤) (صحیح )
2774Sunan Ibne-Majah

جب لڑائی کا عام حکم ہو تو لڑنے کیلئے جانا۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْعِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ مُسْلِمٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ کا غبار، اور جہنم کا دھواں، دونوں کسی مسلمان کے پیٹ میں اکٹھا نہ ہوں گے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the prophet said: "The dust (of Jihad) in the cause of Allah and the smoke of Hell will never be combined in the interior of a Muslim." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جس نے جہاد میں گرد و غبار کھایا ہے وہ ضرور جہنم کی آگ سے محفوظ رہے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٨ (١٦٣٣)، الزہد ٨ (٢٣١١)، سنن النسائی/الجہاد ٨ (٣١٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٠٥) (صحیح )
2775Sunan Ibne-Majah

جب لڑائی کا عام حکم ہو تو لڑنے کیلئے جانا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ شَبِيبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ رَاحَ رَوْحَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ لَهُ بِمِثْلِ مَا أَصَابَهُ مِنَ الْغُبَارِ مِسْكًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ایک شام بھی اللہ کی راہ میں چلا، تو جتنا غبار اس پر پڑا قیامت کے دن اس کے لیے اتنی ہی مشک ہوگی ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever goes out in the cause of Allah will have the equivalent of the dust that got on him, in musk, on the Day of Resurrection." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٠٣، ومصباح الزجاجة: ٩٨٣) (حسن )
2776Sunan Ibne-Majah

بحری جنگ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ حَبَّانَ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، أَنَّهَا قَالَتْ: نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَبْتَسِمُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، قَالَتْ: فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: فَدَعَا لَهَا، ثُمَّ نَامَ الثَّانِيَةَ فَفَعَلَ مِثْلَهَا، ثُمَّ قَالَتْ مِثْلَ قَوْلِهَا، فَأَجَابَهَا مِثْلَ جَوَابِهِ الْأَوَّلِ، قَالَتْ: فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ، قَالَ: فَخَرَجَتْ مَعَ زَوْجِهَا عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ غَازِيَةً أَوَّلَ مَا رَكِبَ الْمُسْلِمُونَ الْبَحْرَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا مِنْ غَزَاتِهِمْ قَافِلِينَ فَنَزَلُوا الشَّامَ، فَقُرِّبَتْ إِلَيْهَا دَابَّةٌ لِتَرْكَبَ، فَصَرَعَتْهَا فَمَاتَتْ.

انس بن مالک ؓ اپنی خالہ ام حرام بنت ملحان ؓ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز میرے قریب سوئے، پھر آپ ﷺ مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے لائے گئے جو اس سمندر کے اوپر اس طرح سوار ہو رہے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں ، ام حرام ؓ نے کہا: اللہ سے آپ دعا کر دیجئیے کہ وہ مجھے بھی ان ہی لوگوں میں سے کر دے، انس ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرما دی، پھر آپ ﷺ دوبارہ سو گئے، پھر ویسے ہی ہوا، آپ اٹھے تو ہنستے ہوئے، اور ام حرام ؓ نے وہی پوچھا جو پہلی بار پوچھا تھا، اور آپ ﷺ نے انہیں وہی جواب دیا جو پہلی بار دیا تھا، اس بار بھی انہوں نے عرض کیا: آپ اللہ سے دعا کر دیجئیے کہ وہ مجھے بھی انہی لوگوں میں سے کر دے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم پہلے لوگوں میں سے ہو ۔ انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے شوہر عبادہ بن صامت ؓ کے ہمراہ جہاد کے لیے نکلیں، یہ پہلا موقع تھا کہ معاویہ بن ابی سفیان ؓ کے ساتھ مسلمان بحری جہاد پر گئے تھے چناچہ جب لوگ جہاد سے لوٹ رہے تھے تو شام میں رکے، ام حرام ؓ کی سواری کے لیے ایک جانور لایا گیا، جس نے انہیں گرا دیا، اور وہ فوت ہوگئیں ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that his maternal aunt Umm Haram bint Milhan said: "The Messenger of Allah ﷺ slept near me one day, then he woke up smiling. I said: O Messenger of Allah, what has made you smile? He said: People of my nation who were shown to me (in my dream) riding across this sea like kings on thrones. I said: Supplicate to Allah to make me one of them." So he prayed for her. Then he slept again, and did likewise, and she said the same as she said before, and he replied in the same manner. She said: "Pray to Allah to make me one of them," and he said: "You will be one of the first ones." He said: "Then she went au t with her husband, "Ubadahh bin Samit, as a fighter, the first time that the Muslims crossed the sea with Muawiyah bin Abu Sufyan (RA) . On their way back, after they had finished fighting, they stopped in Sham. An animal was brought near for her to ride it, but it threw her off, and she died." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں نبی کریم ﷺ کے کئی معجزے مذکور ہیں: ایک تو اس بات کی پیش گوئی کہ اسلام کی ترقی ہوگی، دوسرے مسلمان سمندر میں جا کر جہاد کریں گے، تیسرے ام حرام ؓ بھی ان مسلمانوں کے ساتھ ہوں گی اور اس وقت تک زندہ رہیں گی، چوتھے پھر ام حرام ؓ کا انتقال ہوجائے گا اور دوسرے لشکر میں شریک نہیں ہو سکیں گی، یہ سب باتیں جو آپ ﷺ نے فرمائی تھیں پوری ہوئیں، اور یہ آپ ﷺ کی نبوت کی کھلی دلیلیں ہیں جو شخص نبی نہ ہو وہ ایسی صحیح پیشین گوئیاں نہیں کرسکتا، سب قوموں سے پہلے عرب کے مسلمانوں نے ہی سمندر میں بڑے بڑے سفر شروع کئے اور علم جہاز رانی میں وہ ساری قوموں کے استاد بن گئے، مگر افسوس ہے کہ گردش زمانہ سے اب یہ حال ہوگیا کہ عرب تمام علوم میں دوسری قوموں سے پیچھے رہ گئے ہیں، اور جو لوگ جاہل اور کم علم تھے یعنی یورپ کے لوگ وہ تمام جہاں کے لوگوں سے دنیاوی علوم و فنون میں سبقت لے گئے ہیں: وتلک الأيام نداولها بين الناس (سورة آل عمران: 140) اب بھی اگر مسلمانوں کی ترقی منظور ہے تو عربوں میں علوم اور فنون پھیلانے کی کوشش کرنی چاہیے، اور ان کو تمام جنگی علوم و فنون کی تعلیم دینا چاہیے، جب عرب پھر علوم میں ماہر ہوجائیں گے تو دنیا کی تمام اقوام کو ہلاکر رکھ دیں گے، یہ شرف اللہ تعالیٰ نے صرف عربوں ہی کو دیا ہے۔ واضح رہے کہ ام حرام بنت ملحان انصاریہ ؓ انس بن مالک کی خالہ ہیں، ان کی شادی عبادہ بن صامت ؓ سے ہوئی تھی جن کے ساتھ وہ اس جہاد میں شریک ہوئیں اور سمندر کا سفر کیا بعد میں ایک جانور کی سواری سے گر کر انتقال ہوا اور قبرص میں دفن ہوئیں، یہ جنگ عثمان ؓ کے عہد میں معاویہ ؓ کی قیادت میں سن ٢٧ ہجری میں واقع ہوئی، ابوذر اور ابوالدرداء وغیرہ صحابہ کرام ؓ اس جنگ میں شریک تھے، معاویہ ؓ کی اہلیہ فاختہ بنت قرظہ ؓ بھی اس جنگ میں شریک تھیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٣ (٢٧٨٨)، ٨ (٢٧٩٩)، ٦٣ (٢٨٧٧)، ٧٥ (٢٨٩٤)، ٩٣ (٢٩٢٤)، الاستئذان ٤١ (٦٢٨٢)، التعبیر ١٢ (٧٠٠١)، صحیح مسلم/الإمارة ٤٩ (١٩١٢)، سنن ابی داود/الجہاد ١٠ (٢٤٩٠، ٢٤٩٢)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١٥ (١٦٤٥)، سنن النسائی/الجہاد ٤٠ (٣١٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٠٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد ١٨ (٣٩)، مسند احمد (٣/٢٦٤، ٦/٣٦١، ٤٢٣، ٤٣٥)، سنن الدارمی/الجہاد ٢٩ (٢٤٦٥) (صحیح )
2777Sunan Ibne-Majah

بحری جنگ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: غَزْوَةٌ فِي الْبَحْرِ مِثْلُ عَشْرِ غَزَوَاتٍ فِي الْبَرِّ، وَالَّذِي يَسْدَرُ فِي الْبَحْرِ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ.

ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک بحری (سمندری) جہاد دس بری جہادوں کے برابر ہے، اور سمندر میں جس کا سر چکرائے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے خون میں لوٹ رہا ہو ۔

It was narrated from Abu Darda that the Messenger of Allah ﷺ said: "A military expedition by sea is like ten expeditions by land. The one who suffers from seasickness is like one who gets drenched in his own blood in the cause of Allah." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٠١، ومصباح الزجاجة: ٩٨٤) (ضعیف) (سند میں معاویہ بن یحییٰ اور ان کے شیخ لیث بن ابی سلیم دونوں ضعیف راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٢٣٠ )