Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 138 of 218

2738Sunan Ibne-Majah

ذوی الارحام۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، حَدَّثَنِي بُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنِالْمِقْدَامِ أَبِي كَرِيمَةَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا، وَرُبَّمَا قَالَ: فَإِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ أَعْقِلُ عَنْهُ وَأَرِثُهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهُ.

مقدام ابوکریمہ ؓ (جو اہل شام میں سے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے مال چھوڑا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو شخص بوجھ (قرض یا محتاج اہل و عیال) چھوڑ جائے تو وہ ہمارے ذمہ ہے ، اور کبھی آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ ہے، جس کا کوئی وارث نہ ہو، اس کا وارث میں ہوں، میں ہی اس کی دیت دوں گا، اور میں ہی میراث لوں گا، اور ماموں اس شخص کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہی اس کی طرف سے دیت دے گا، اور وہی اس کا وارث بھی ہوگا ۔

It was narrated from Miqdam Abu Karimah, a man from Sham who was one of the Companions of the Messenger of AlIah, that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever leaves behind Wealth, it is for his heirs. Whoever leaves behind poor dependents and a debt, it is for us to take care of _ or he said It is for Allah, and His Messenger (to take care of) - I am the heir of the one who has no heir, I will pay blockd money on his behalf and inherit from him. And the maternal uncle is the heir of the one who has no heir, he pays blood money on his behalf and inherits rom him." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الفرائض ٨ (٢٨٩٩، ٢٩٠٠)، (تحفة الأشراف: ١١٥٦٩) (حسن صحیح )
2739Sunan Ibne-Majah

عصبات کامیراث۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ يَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ إِخْوَتِهِ لِأَبِيهِ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سگے بھائی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، علاتی کے نہیں، آدمی اپنے سگے بھائی کا وارث ہوگا علاتی بھائیوں کا نہیں ۔

It was narrated that Ali "The Messenger of Allah ﷺ ruled that the sons from the same mother inherit from one another, but not sons from different mothers. A man inherhits from his full brother from the same father and mother, but not his brothers from his father." (Daif)

Notes · وضاحت
حقیقی (سگے) بھائی یعنی وہ جن کے ماں اور باپ دونوں ایک ہوں، اور علاتی سے مراد وہ بھائی ہیں جن کے باپ ایک ہو، اور ماں الگ الگ ہو، اور جن کی ماں ایک ہو باپ الگ الگ ہوں، انہیں اخیافی بھائی کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفرائض ٥ (٢٠٩٤، ٢٠٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٤٣)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الفرائض ٢٨ (٣٠٢٧)، وقد مضی برقم: ٢٧١٥ (حسن) (سند میں ابو بحرالبکراوی اور الحارث الاعور دونوں ضعیف ہیں، لیکن سعد بن الاطول ؓ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے )
2740Sunan Ibne-Majah

عصبات کامیراث۔

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مال کو اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق ذوی الفروض (میراث کے حصہ داروں) میں تقسیم کرو، پھر جو ان کے حصوں سے بچ رہے وہ اس مرد کا ہوگا جو میت کا زیادہ قریبی ہو ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Distribute wealth among those who are entitled to shares of inheritance, according to the Book of Allah, then whatever is left over goes to the nearest male relative. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جیسے بھائی چچا کے بہ نسبت اور چچا زاد بھائی کی بہ نسبت اور بیٹا پوتے کی بہ نسبت میت سے زیادہ قریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفرائض ٥ (٦٧٣٢)، صحیح مسلم/الفرائض ١ (١٦١٥)، سنن ابی داود/الفرائض ٧ (٢٨٩٨)، سنن الترمذی/الفرائض ٨ (٢٠٩٨)، (تحفة الأشراف: ٥٧٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٩٢، ٣١٣، ٣٢٥)، سنن الدارمی/الفرائض ٢٨ (٣٠٣٠) (صحیح )
2741Sunan Ibne-Majah

جس کا کوئی وارث نہ ہو۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَدَعْ لَهُ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ إِلَيْهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص مرگیا، اور اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑا سوائے ایک غلام کے، جس کو اس نے آزاد کردیا تھا تو آپ نے اس کی میراث اسی غلام کو دلا دی۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "A man died at the time of the Messenger of Allah ﷺ , and he left no heir except for a slave whom he had set free. The Messenger of Allah ﷺ gave the legacy to him." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الفرائض ٨ (٢٩٠٥)، سنن الترمذی/الفرائض ١٤ (٢١٠٦)، (تحفة الأشراف: ٦٣٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢١، ٣٥٨) (ضعیف) (سند میں عوسجہ کی وجہ سے ضعف ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٦٦٩ )
2742Sunan Ibne-Majah

عورت کو تین شخصوں کی میراث ملتی ہے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ عَتِيقِهَا وَلَقِيطِهَا وَوَلَدِهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَلَيْهِقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ: مَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ هِشَامٍ.

واثلہ بن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عورت تین میراث حاصل کرتی ہے، ایک تو اپنے اس غلام یا لونڈی کی میراث جس کو وہ آزاد کرے، دوسرے اس بچے کی میراث جس کو راستہ میں لاوارث پا کر پرورش کرے، تیسرے اس بچے کی میراث جس پر اپنے شوہر سے لعان کرے ۔ محمد بن یزید کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہشام کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی۔

It was narrated from Wathilah bin Asqa that the Prophet ﷺ said: "A woman may get three types of inheritance: From her freed slave woman, a foundling whom she raised, and her child concerning whom she swore in Lian that he was legitimate." (Daif) Muhamamd bin Yazid (one of the narrators) said: "This Haditli was not reported by anyone other than Hisham."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الفرائض ٩ (٢٩٠٦)، سنن الترمذی/الفرائض ٢٣ (٢١١٥)، (تحفة الأشراف: ١١٧٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٩٠، ٤/١٠٦، ١٠٧) (ضعیف) (سند میں عمر بن رؤبہ التغلبی کی وجہ سے ضعف ہے )
2743Sunan Ibne-Majah

جو انکار کردے کہ یہ میرا بچہ نہیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَاب، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَلْحَقَتْ بِقَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ وَلَنْ يُدْخِلَهَا جَنَّتَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَنْكَرَ وَلَدَهُ وَقَدْ عَرَفَهُ احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس عورت نے کسی قوم میں ایسے (بچہ) کو ملا دیا جو ان میں سے نہیں تھا، تو اس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں، اور وہ اس کی جنت میں ہرگز داخل نہ ہوگی، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کو پہچان لینے کے باوجود انکار کردیا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کرے گا، اور سب کے سامنے اس کو ذلیل و رسوا کرے گا ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "When the Verse of Lian was revealed, the Messenger of Allah ﷺ said: Any woman who attributes her child to people to whom he does not belong, then she has no reiation to (the religion of) Allah, and she will never enter Paradise, and any man who rejects his child, while he recognises him, Allah will screen Himself from him on the Day of Resurrection and disgrace him before the witnesses. (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٠٧٥، ومصباح الزجاجة: ٩٦٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق ٢٩ (٢٢٦٣)، سنن النسائی/الطلاق ٤٧ (٣٥١١)، سنن الدارمی/النکاح ٤٢ (٢٢٨٤) (ضعیف) (سند میں یحییٰ بن حرب مجہول، اور موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہیں )
2744Sunan Ibne-Majah

جو انکار کردے کہ یہ میرا بچہ نہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُفْرٌ بِامْرِئٍ ادِّعَاءُ نَسَبٍ لَا يَعْرِفُهُ أَوْ جَحْدُهُ وَإِنْ دَقَّ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی شخص کا ایسے نسب کا دعویٰ کرنا جس کو وہ پہچانتا نہیں کفر ہے یا اپنے نسب کا انکار کردینا گرچہ اس کا سبب باریک (دقیق) ہو یہ بھی کفر ہے ۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that the Prophet ﷺ said: "It is disbelief for a man to attribute himself to someone other than his father knowingly, or to deny his connection to his father, even subtly." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں پر کفر سے مراد نسب کی ناشکری ہے، کیونکہ وہ اپنے باپ کو چھوڑ کر جو کہ اس کے وجود کا سبب ہے، دوسرے کا بیٹا بنا چاہتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: ٨٨١٧ ألف، ومصباح الزجاجة: ٩٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢١٥) (حسن صحیح )
2745Sunan Ibne-Majah

بچہ کا دعوی کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَاهَرَ أَمَةً أَوْ حُرَّةً فَوَلَدُهُ وَلَدُ زِنًا، لَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کسی لونڈی یا آزاد عورت سے زنا کیا، پھر اس سے بچہ پیدا ہوا تو وہ ولدالزنا ہے، نہ وہ مرد اس بچے کا وارث ہوگا، نہ وہ بچہ اس مرد کا ۔

It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, from his grandfather that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever commits adultery with a slave woman or a free woman, his child is illegitimate, and he cannot inherit from him or be inherited from (i.e., this child cannot inherit from him)." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٧٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفرائض ٢١ (٢١١٣) (حسن) (سند میں مثنی بن الصباح ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد سے تقو یت پاکر یہ حسن ہے )
2746Sunan Ibne-Majah

بچہ کا دعوی کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ الدِّمَشْقِيُّ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُلُّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ مِنْ بَعْدِهِ، فَقَضَى أَنَّ مَنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ أَصَابَهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنِ اسْتَلْحَقَهُ وَلَيْسَ لَهُ فِيمَا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ وَلَا يَلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَا يَمْلِكُهَا أَوْ مِنْ حُرَّةٍ عَاهَرَ بِهَا فَإِنَّهُ لَا يَلْحَقُ وَلَا يُورَثُ وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ فَهُوَ وَلَدُ زِنًا لِأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا حُرَّةً أَوْ أَمَةً. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ: يَعْنِي بِذَلِكَ مَا قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَبْلَ الْإِسْلَامِ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس بچے کا نسب اس کے والد کے مرنے کے بعد اس سے ملایا جائے مثلاً اس کے بعد اس کے وارث دعویٰ کریں (کہ یہ ہمارے مورث کا بچہ ہے) تو آپ ﷺ نے اس میں یہ فیصلہ فرمایا: اگر وہ بچہ لونڈی کے پیٹ سے ہو لیکن وہ لونڈی اس کے والد کی ملکیت رہی ہو جس دن اس نے اس سے جماع کیا تھا تو ایسا بچہ یقیناً اپنے والد سے مل جائے گا، لیکن اس کو اس میراث میں سے حصہ نہ ملے گا جو اسلام کے زمانے سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں اس کے والد کے دوسرے وارثوں نے تقسیم کرلی ہو، البتہ اگر ایسی میراث ہو جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو تو اس میں سے وہ بھی حصہ پائے گا، لیکن اگر اس کے والد نے جس سے وہ اب ملایا جاتا ہے، اپنی زندگی میں اس سے انکار کیا ہو یعنی یوں کہا ہو کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے، تو وارثوں کے ملانے سے وہ اب اس کا بچہ نہ ہوگا، اگر وہ بچہ ایسی لونڈی سے ہو جو اس مرد کی ملکیت نہ تھی، یا آزاد عورت سے ہو جس سے اس نے زنا کیا تھا تو اس کا نسب کبھی اس مرد سے ثابت نہ ہوگا، گو اس مرد کے وارث اس بچے کو اس مرد سے ملا دیں، اور وہ بچہ اس مرد کا وارث بھی نہ ہوگا، (اس لیے کہ وہ ولدالزنا ہے) گو کہ اس مرد نے خود اپنی زندگی میں بھی یہ کہا ہو کہ یہ میرا بچہ ہے، جب بھی وہ ولدالزنا ہی ہوگا، اور عورت کے کنبے والوں کے پاس رہے گا، خواہ وہ آزاد ہو یا لونڈی ۔ محمد بن راشد کہتے ہیں: اس سے مراد وہ میراث ہے جو اسلام سے پہلے جاہلیت میں تقسیم کردی گئی ہو۔

It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ said: "Every child who is attributed to if. his father after his father to whom he is attributed has died, and his heirs attributed him to him after .he died, he ruled that! whoever was born to a slave woman whom he owned at the time when he had intercourse with her, he should be named after the one to whom he was attributed, but he has no share of any inheritance that was distributed previously. Whatever inheritance he finds has not yet been distributed, he will : have a share of it. But he cannot be named after his father if the man whom he claimed as his father did not acknowledge him. If he was born to a slave woman whom his father did not own, or to a free woman with whom he committed adultery, then he cannot be named after him and he does not inherit from him, even if the one whom he claims as his father acknowledges him. So he is an illegitimate child who belongs to his mothers people, whoever they are, whether she is a free woman or a slave." (Hasan) (One of the narrators) Muhammad bin Rashid said: "What is meant by that is what was distributed out during the Ignorance period, before Islam."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧١٢ ألف، ومصباح الزجاجة: ٩٧١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق ٣٠ (٢٢٦٥)، مسند احمد (٢/١٨١، ٢١٩)، سنن الدارمی/الفرائض ٤٥ (٣١٥٤) (حسن) (بوصیری نے کہا کہ ابوداود اور ترمذی نے بعض حدیث ذکر کی ہے )
2747Sunan Ibne-Majah

حق ولاء فروخت کرنے اور ہبہ کرنے سے ممانعت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حق ولاء (میراث) کو بیچنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn "Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade selling the right of inheritance or giving it away." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ولاء (میراث) ایک طرح کی رشتہ داری ہے اس کا بیچنا اور ہبہ کرنا کیونکر جائز ہوگا، جمہور علماء اور اہل حدیث کا یہی مذہب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العتق ١٠ (٢٥٣٥)، الفرائض ٢١ (٦٧٥٦)، صحیح مسلم/العتق ٣ (١٥٠٦)، سنن ابی داود/الفرائض ١٤ (٢٩١٩)، سنن الترمذی/البیوع ٢٠، (١٢٣٦)، سنن النسائی/البیوع ٨٥ (٤٦٦٣)، (تحفة الأشراف: ٧١٥، ٧١٨٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العتق والولاء ١٠ (٢٠)، مسند احمد (٣/٩، ٧٩، ١٠٧)، سنن الدارمی/البیوع ٣٦ (٢٦١٤) (صحیح )
2748Sunan Ibne-Majah

حق ولاء فروخت کرنے اور ہبہ کرنے سے ممانعت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حق ولاء (میراث) کو بیچنے اور اس کو ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated that Ibn Umar said: The Messenger of Allah ﷺ forbade selling the right of inheritance, or giving it as a gift. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأ شراف: ٨٢٢٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ٢٠ (١٢٣٦)، ٥٤ (١٢٨٧)، (صحیح) (سند میں محمد بن عبدالملک صدوق ہیں، اس لئے یہ اسناد حسن ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
2749Sunan Ibne-Majah

ترکوں کی تقسیم۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ نَافِعًا يُخْبِرُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا كَانَ مِنْ مِيرَاثٍ قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ عَلَى قِسْمَةِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَا كَانَ مِنْ مِيرَاثٍ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ فَهُوَ عَلَى قِسْمَةِ الْإِسْلَامِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو میراث زمانہ جاہلیت میں تقسیم ہوچکی، وہ بدستور اس تقسیم پر رہے گی، اور جو میراث زمانہ اسلام آنے تک تقسیم نہیں ہوئی اسے اسلامی دستور کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whatever division of inheritance was made during the Ignorance period, stands according to the division of the Ignorance period, and whatever division of inheritance was made during Islam, it stands according to the division of Islam." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کیسا عمدہ مسئلہ حل ہوا کہ ہر قانون کا عمل اس کے نفاذ کے بعد سے جو مقدمات پیدا ہوں ان پر ہوتا ہے اور جن مقدمات کے فیصلے قانون کے نفاذ سے پہلے ہوچکے ہوں ان میں اس قانون کے نفاذ سے کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٢٣٢، ومصباح الزجاجة: ٩٧٢) (صحیح) (سند میں ابن لہیعہ ضعیف الحفظ راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٧١٧، تراجع الألبانی: رقم: ٤٨٦ )
2750Sunan Ibne-Majah

جب نومولود میں آثار حیات مثلاً روناچلّاناوغیرہ معلوم ہوں تو وہ بھی وارث ہوگا۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ صُلِّيَ عَلَيْهِ وَوَرِثَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بچہ پیدائش کے وقت رو دے تو اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور وہ وارث بھی ہوگا ۔

It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: "If the child has cried, the (funeral) prayer should be offered for him (if he dies) and he is an heir." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٧٠٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز ٤٣ (١٠٣٢)، سنن الدارمی/الفرائض ٤٧ (٣١٦٨)، وقد مضی برقم: (١٥٠٨) (صحیح )
2751Sunan Ibne-Majah

جب نومولود میں آثار حیات مثلاً روناچلّاناوغیرہ معلوم ہوں تو وہ بھی وارث ہوگا۔

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَرِثُ الصَّبِيُّ حَتَّى يَسْتَهِلَّ صَارِخًا، قَالَ: وَاسْتِهْلَالُهُ أَنْ يَبْكِيَ وَيَصِيحَ أَوْ يَعْطِسَ.

جابر بن عبداللہ اور مسور بن مخرمہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (ولادت کے وقت) بچہ وارث نہیں ہوگا جب تک کہ وہ زور سے استہلال نہ کرے ١ ؎۔ راوی کہتے ہیں: بچے کے استہلال کا مطلب یہ ہے کہ وہ روے یا چیخے یا چھینکے۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah and Miswar bin Makhramah that the Messenger of Allah ﷺ said: "No child inherits until he raises his voice or cries. " (Hasan) He said: "Raising his voice means crying, yelling or sneezing."

Notes · وضاحت
١ ؎: غرض کوئی کام ایسا کرے جس سے اس کی زندگی ثابت ہو تو وہ وارث ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٥٧، (الف) ١٢٦٦ (الف) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ٥٨٤ )
2752Sunan Ibne-Majah

ایک مرددوسرے کے ہاتھوں اسلام قبول کرے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُتَمِيمًا الدَّارِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ، قَالَ: هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ.

عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ میں نے تمیم داری ؓ کو کہتے سنا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اہل کتاب کا کوئی آدمی اگر کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے تو اس میں شرعی حکم کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: زندگی اور موت دونوں حالتوں میں وہ اس کا زیادہ قریبی ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Mawhab said: "I heard Tamim Ad-Dan say: said: o Messenger of Allah, what is the Sunnali concerning a man from among the People of the Book who becomes Muslim at the hands of another man? He said: He is the closest of all people to him in life and in death. (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: ظاہر حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر نو مسلم کا کوئی وارث نہ تو اس کی میراث کا حق دار وہ شخص ہے جس نے اس کو مسلمان کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الفرائض ١٣ (٢٩١٨)، سنن الترمذی/الفرائض ٢٠ (٢١١٢)، (تحفة الأشراف: ٢٠٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٠٤، ١٠٣)، سنن الدارمی/الفرائض ٣٤ (٣٠٧٦) (حسن صحیح )
2753Sunan Ibne-Majah

اللہ کے راستے میں لڑنے کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعَدَّ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا جِهَادٌ فِي سَبِيلِي، وَإِيمَانٌ بِي، وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي، فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي، وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ فَيَتَخَلَّفُونَ بَعْدِي، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے جو اس کی راہ میں نکلے، اور اسے اس کی راہ میں صرف جہاد اور اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق ہی نے نکالا ہو، (تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) میں اس کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں، یا اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس منزل تک لوٹا دوں جہاں سے وہ گیا تھا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر مجھے مسلمانوں کے مشقت میں پڑجانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں کسی بھی سریہ (لشکر) کا جو اللہ کے راستے میں نکلتا ہے ساتھ نہ چھوڑتا، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ سب کی سواری کا انتظام کرسکوں، نہ لوگوں کے پاس اتنی فراخی ہے کہ وہ ہر جہاد میں میرے ساتھ رہیں، اور نہ ہی انہیں یہ پسند ہے کہ میں چلا جاؤں، اور وہ نہ جاسکیں، پیچھے رہ جائیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں، اور قتل کردیا جاؤں، پھر جہاد کروں، اور قتل کردیا جاؤں، پھر جہاد کروں، اور قتل کردیا جاؤں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: " Allah has prepared (reward) for those who go out (to fight) in His cause: And do not go out except (to fight) lor Jihad in My cause, out of faith in Me and beliel in My Messengers, but he has a guarantee from Me that I will admit him to Paradise, or I will return him to his dwelling from which he set out, with the reward that he attained, or the spoils that he acquired. Then he said: By the One in Whose Hand is my soul, were it not that it would be too difficult for the Muslims, I would never have stayed behind from any expedition that went out in the cause of Allah. But I could not find the resources to give them mounts and they could not find the resources to follow me, nor would they be pleased to stay behind if I went. By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, I wish I could fight in the cause of Allah and be killed, then fight and be killed, then fight and be killed." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٢٦ (٣٦ مطولاً )، الجہاد ٢ ٢٧٨٧)، فرض الخمس ٨ (٣١٢٣)، التوحید ٢٨ (٧٤٥٧)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٨ (١٨٧٦)، سنن النسائی/الجہاد ١٤ (٣١٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٠١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد ١ (٢)، مسند احمد (٢/٢٣١، ٣٨٤، ٣٩٩، ٤٢٤، ٤٩٤)، سنن الدارمی/الجہاد ٢ (٢٤٣٦) (صحیح )
2754Sunan Ibne-Majah

اللہ کے راستے میں لڑنے کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْعَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَضْمُونٌ عَلَى اللَّهِ إِمَّا أَنْ يَكْفِتَهُ إِلَى مَغْفِرَتِهِ وَرَحْمَتِهِ، وَإِمَّا أَنْ يَرْجِعَهُ بِأَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ، وَمَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الَّذِي لَا يَفْتُرُ حَتَّى يَرْجِعَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے شخص کا اللہ تعالیٰ ضامن ہے، یا تو اسے اپنی رحمت و مغفرت میں ڈھانپ لے، یا ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اسے (گھر) واپس کرے، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال نہ تھکنے والے صائم تہجد گزار کی ہے یہاں تک کہ وہ مجاہد گھر لوٹ آئے ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Prophet ﷺ said: "The one who fights in the ca use of Allah has a guarantee from Allah. Either He will raise him to His forgiveness and mercy, or He will send him back with reward and spoils of war. The likeness of the one who fights in the cause of Allah is that of one who fasts and prays at night without ceasing, until he returns." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢٢٤، ومصباح الزجاجة: ٩٧٣) (صحیح) (سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہے، لیکن اصل حدیث ابوہریرہ ؓ سے متفق علیہ وارد ہے، ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب: ١٣٠٤ و ١٣٢٠ )
2755Sunan Ibne-Majah

راہِ اللہ میں ایک صبح اور ایک شام کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام (کا وقت گزارنا) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Going out in the morning in the cause of Allah, or . the evening, is more virtuous than the world and what is in it." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١٧ (١٦٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٢٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ٥ (٢٧٩٢)، مسند احمد (٢/٥٣٢، ٥٣٣) (صحیح )
2756Sunan Ibne-Majah

راہِ اللہ میں ایک صبح اور ایک شام کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا.

سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام (کا وقت گزارنا) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۔

It was narrated from SahI bin Sa’d As-Sâ’idi that the Messenger of Allah ﷺ said: “Going out in the morning in the cause of Allah, or in the evening, is better than the world and what is in it.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٦٧٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ٥ (٢٧٩٤)، ٧٣ (٢٨٩٢)، الرقاق ٢ (٦٤١٥)، صحیح مسلم/الإمارة ٣٠ (١٨٨١)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١٧ (١٦٤٨)، ٢٦ (١٦٦٤)، سنن النسائی/الجہاد ١١ (٣١٢٠)، مسند احمد (٣/٤٣٣، ٥/٣٣٥، ٣٣٧، ٣٣٩)، سنن الدارمی/الجہاد ٩ (٢٤٤٣) (صحیح )
2757Sunan Ibne-Majah

راہِ اللہ میں ایک صبح اور ایک شام کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام (کا وقت گزارنا) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۔

It was narrated from Anas bin Mâlik that the Messenger of Allah ﷺ said: “Going out in the morning in the cause of Allah, or in the evening, is better than the World and what is in it.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٢٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ٥ (٢٧٩٢)، صحیح مسلم/الإمارة ٣٠ (١٨٨٠)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١٧ (١٦٥١) (صحیح )