Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 140 of 218

2778Sunan Ibne-Majah

بحری جنگ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْجُبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ الشَّامِيُّ، عَنْسُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: شَهِيدُ الْبَحْرِ مِثْلُ شَهِيدَيِ الْبَرِّ، وَالْمَائِدُ فِي الْبَحْرِ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ فِي الْبَرِّ، وَمَا بَيْنَ الْمَوْجَتَيْنِ كَقَاطِعِ الدُّنْيَا فِي طَاعَةِ اللَّهِ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَلَ مَلَكَ الْمَوْتِ بِقَبْضِ الْأَرْوَاحِ إِلَّا شَهِيدَ الْبَحْرِ فَإِنَّهُ يَتَوَلَّى قَبْضَ أَرْوَاحِهِمْ، وَيَغْفِرُ لِشَهِيدِ الْبَرِّ الذُّنُوبَ كُلَّهَا إِلَّا الدَّيْنَ، وَلِشَهِيدِ الْبَحْرِ الذُّنُوبَ وَالدَّيْنَ.

ابواسامہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: سمندر کا شہید خشکی کے دو شہیدوں کے برابر ہے، سمندر میں جس کا سر چکرائے وہ خشکی میں اپنے خون میں لوٹنے والے کی مانند ہے، اور ایک موج سے دوسری موج تک جانے والا اللہ کی اطاعت میں پوری دنیا کا سفر کرنے والے کی طرح ہے، اللہ تعالیٰ نے روح قبض کرنے کے لیے ملک الموت (عزرائیل) کو مقرر کیا ہے، لیکن سمندر کے شہید کی جان اللہ تعالیٰ خود قبض کرتا ہے، خشکی میں شہید ہونے والے کے قرض کے علاوہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں، لیکن سمندر کے شہید کے قرض سمیت سارے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔

It was narrated that Sulaim bin Amir said: I heard Abu Umamah saying: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "The martyr at sea is like two martyrs on land, and the one who suffers seasickness is like one who gets drenched in his own blood on land. The time spent between one wave and the next is like a lifetime spent in obedience to Allah. Allah has appointed the Angel of death to seize souls, except for the martyr at sea, for Allah Himself seizes their souls. He forgives the martyrs on land for all sins except debt, but (He forgIves) the martyr at sea all his sins and his debt." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٧٢، ومصباح الزجاجة: ٩٨٥) (ضعیف جدا) (سند میں عفیر بن معدان شامی سخت ضعیف روای ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١١٥ )
2779Sunan Ibne-Majah

دیلم کا تذکرہ اور قزوین کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ كُلُّهُمْ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ، لَطَوَّلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، يَمْلِكُ جَبَلَ الدَّيْلَمِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر دنیا کی عمر کا صرف ایک دن باقی رہا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ میرے خاندان کے ایک فرد کی حکومت قائم ہو، اور پھر وہ دیلم پہاڑ اور شہر قسطنطنیہ پر قابض ہوجائے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Even if there was only one day left of this world, Allah would make it last until a man from my household took possession of (the mountain of) Dailam and Constantinople."(Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٨٤١، ومصباح الزجاجة: ٩٨٦) (ضعیف) (سند میں قیس بن الربیع ضعیف راوی ہے )
2780Sunan Ibne-Majah

دیلم کا تذکرہ اور قزوین کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، أَنْبَأَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الْآفَاقُ، وَسَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مَدِينَةٌ يُقَالُ لَهَا قَزْوِينُ مَنْ رَابَطَ، فِيهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً كَانَ لَهُ فِي الْجَنَّةِ عَمُودٌ مِنْ ذَهَبٍ عَلَيْهِ زَبَرْجَدَةٌ خَضْرَاءُ، عَلَيْهَا قُبَّةٌ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ مِصْرَاعٍ مِنْ ذَهَبٍ، عَلَى كُلِّ مِصْرَاعٍ زَوْجَةٌ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب تم ملکوں کو فتح کرو گے اور عنقریب تم ایک ایسا شہر فتح کرو گے جسے قزوین کہا جاتا ہے جو اس میں چالیس دن یا چالیس رات سرحد کی نگرانی کرے گا، اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک ستون ہوگا، جس پر سبز زمرد لگا ہوگا، پھر اس ستون پر سرخ یا قوت کا قبہ ہوگا جس کے ستر ہزار سونے کے چوکھٹے (دروازے) ہوں گے، اور ہر چوکھٹے پر بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے ایک بیوی ہوگی ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever goes out in the cause of Allah will have the equivalent of the dust that got on him, in musk, on the Day of Resurrection." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٨٦، ومصباح الزجاجة: ٩٨٧) (موضوع) (سند میں یزید بن ابان، ربیع بن صبیح اور داود بن المحبر ضعیف راوی ہیں، یزید وضع حدیث کرتا تھا، ابن الجوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں ذکر کیا ہے، اور یزید بن ابان کو اس سلسلے میں متہم کیا ہے، اور ابن ماجہ پر اس حدیث کی تخریج پر اظہار تعجب کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣٨١ )
2781Sunan Ibne-Majah

مرد کا جہاد کرنا حالانکہ اس کے والدین زندہ ہوں۔

حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السُّلَمِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَ: وَيْحَكَ، أَحَيَّةٌ أُمُّكَ؟قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ارْجِعْ، فَبَرَّهَا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْجَانِبِ الْآخَرِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَ: وَيْحَكَ، أَحَيَّةٌ أُمُّكَ، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَارْجِعْ إِلَيْهَا فَبَرَّهَا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنْ أَمَامِهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَ: وَيْحَكَ، أَحَيَّةٌ أُمُّكَ، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَيْحَكَ الْزَمْ رِجْلَهَا فَثَمَّ الْجَنَّةُ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السُّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةَ: هَذَا جَاهِمَةُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ السُّلَمِيُّ الَّذِي عَاتَبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ.

معاویہ بن جاہمہ سلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہو کر عرض کیا: میں اللہ کی رضا اور دار آخرت کی بھلائی کے لیے آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: افسوس، کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: واپس جاؤ، اور اپنی ماں کی خدمت کرو پھر میں دوسری جانب سے آیا، اور میں نے عرض کیا: میں اللہ کی رضا جوئی اور دار آخرت کی خاطر آپ کے ساتھ جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تیری ماں زندہ ہے ؟ میں نے پھر کہا: ہاں! اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے پاس واپس چلے جاؤ اور اس کی خدمت کرو ، پھر میں آپ ﷺ کے سامنے سے آیا اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اللہ کی رضا اور دار آخرت کے لیے آپ کے ساتھ جہاد کا ارادہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: افسوس، کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ میں نے جواب دیا: ہاں! اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: افسوس! اس کے پیر کے پاس رہو، وہیں جنت ہے ۔

It was narrated that Muawiyah bin Jahimah As-Sulami said: "I came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, I want to go for Jihad with you, seeking thereby the Face of Allah and the Hereafter: He said: Woe to you! Is your mother still alive? r said: Yes: He said: Go back and honor her: Then I approached him from the other side and said: O Messenger of Allah, I want to go for Jihad with you, seeking thereby the Face of Allah and the Hereafter: He said: Woe to you! Is your mother still alive? I said: Yes. He said: Go back and honor her: Then I approached him from in front and said: O Messenger of Allah, I want to go for Jihad with you, seeking thereby the Face of Allah and the Hereafter: He said: Woe to you! Is your mother still alive? I said: Yes: He said: Go back and serve her, for there is Paradise. (Sahih) Another chain with similar wording. (Sahih) Abu Abdullah Ibn Majah said: "This person Jahimah bin Abbas bin Mirdas As-Sulami is the one who rebuked the Prophet ﷺ on the Day of Hunain.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجہاد ٦ (٣١٠٦)، (تحفة الأشراف: ١١٣٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٩) (حسن صحیح ) اس سند سے بھی معاویہ بن جاھمہ ؓ نے اسی جیسی حدیث ذکر کی ہے۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ جاھمہ بن عباس بن مرداس سلمی ہیں، جو رسول اللہ ﷺ سے جنگ حنین کے موقعہ پر (مال غنیمت کی تقسیم کے وقت) ناراض ہوگئے تھے۔
2782Sunan Ibne-Majah

مرد کا جہاد کرنا حالانکہ اس کے والدین زندہ ہوں۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي جِئْتُ أُرِيدُ الْجِهَادَ مَعَكَ أَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَقَدْ أَتَيْتُ وَإِنَّ وَالِدَيَّ لَيَبْكِيَانِ، قَالَ: فَارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا، اور اس نے عرض کیا: میں آپ کے ساتھ جہاد کے ارادے سے آیا ہوں، جس سے میرا مقصد رضائے الٰہی اور آخرت کا ثواب ہے، لیکن میں اپنے والدین کو روتے ہوئے چھوڑ کر آیا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا: ان کے پاس واپس لوٹ جاؤ اور جس طرح تم نے انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنساؤ ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Amr said: "A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, I have come seeking to go out in Jihad with you, seeking thereby the Face of Allah and the Hereafter. I have come even though my parents are weeping. He said: Go back to them and make: them smile as you have made them weep. (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: ماں کا حق اس حدیث سے معلوم کرنا چاہیے کہ اس کے پاؤں کے پاس جنت ہے، ماں کی خدمت کو آپ ﷺ نے جہاد پر مقدم رکھا، ماں باپ جہاد کی اجازت دیں تو آدمی جہاد کرسکتا ہے ورنہ جب تک وہ زندہ ہیں ان کی خدمت کو جہاد پر مقدم رکھے، ان کے مرنے کے بعد پھر اختیار ہے، ماں کا حق اتنا بڑا ہے کہ جہاد جیسا فریضہ اور اسلام کا رکن بغیر اس کی اجازت کے ناجائز ہے۔ جلیل القدر محترم بزرگ اویس قرنی (رح) اپنی بوڑھی ماں کی خدمت میں مصروف رہے اور نبی کریم ﷺ کی زیارت کے لئے نہ آسکے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے وفات پائی۔ جو لوگ اپنے ماں باپ کو ستاتے، ان کو ناراض کرتے ہیں وہ ان حدیثوں پر غور کریں، اگر ماں باپ ناراض رہیں گے تو جنت کا ملنا دشوار ہے، جو اپنے ماں باپ کو ناراض کرتا ہے، ایسے شخص کی دنیاوی زندگی بھی بڑی خراب گزرتی ہے، یہ امر تجربہ اور مشاہدہ سے معلوم ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٣٣ (٢٥٢٨)، سنن النسائی/الجہاد ٥ (٣١٠٥)، (تحفة الأشراف: ٨٦٤٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ١٣٨ (٣٠٠٤)، صحیح مسلم/البر ١ (٢٥٤٩)، سنن الترمذی/الجہاد ٢ (١٦٧١)، مسند احمد (٢/١٦٥، ١٩٤، ١٩٨، ٢٠٤) (صحیح )
2783Sunan Ibne-Majah

قتال کی نیت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَيُقَاتِلُ رِيَاءً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بہادری کی شہرت کے لیے لڑتا ہے، اور جو خاندانی عزت کی خاطر لڑتا ہے، اور جس کا مقصد ریا و نمود ہوتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے کلمے کی بلندی کے مقصد سے جو لڑتا ہے وہی مجاہد فی سبیل اللہ ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Musa said: "The Prophet ﷺ l was asked about a man who fights to prove his courage, or out of pride and honor for his close relatives, or to show off. The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever fights so that the Word of Allah may be supreme is the one who (is fighting) in the cause of Allah. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: بہادری کے اظہار کے لیے اور خاندانی شہرت و جاہ کے لیے یا ریاکاری اور دکھاوے کے لیے یا دنیا اور مال و ملک کے لئے جس میں کوئی دینی مصلحت نہ ہو لڑنا جہاد نہیں ہے، اسلام کے بول بالا کے لیے اللہ کے دین کے غلبہ کے لیے اللہ کو راضی کرنے کے لیے جو جہاد ہوگا وہ اسلامی جہاد ہوگا، اور وہی اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ہوگا، اگلے لوگوں میں اگر کبھی جہاد کے دوران اللہ کے سوا کسی اور کا خیال بھی آجاتا تو لڑائی چھوڑ دیتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٤٥ (١٢٣)، الجہاد ١٥ (٢٨١٠)، الخمس ١٠ (٣١٢٦)، التوحید ٢٨ (٧٤٥٨)، صحیح مسلم/الإمارة ٤٢ (١٩٠٤)، سنن ابی داود/الجہاد ٢٦ (٢٥١٧، ٢٥١٨)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١٦ (١٦٤٦)، سنن النسائی/الجہاد ٢١ (٣١٣٨)، (تحفة الأشراف: ٨٩٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٢، ٣٩٧، ٤٠٥، ٤١٧) (صحیح )
2784Sunan Ibne-Majah

قتال کی نیت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي عُقْبَةَ وَكَانَ مَوْلًى لِأَهْلِ فَارِسَ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقُلْتُ: خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِيُّ فَبَلَغَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَلَا قُلْتَ: خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِيُّ.

ابوعقبہ ؓ جو کہ اہل فارس کے غلام تھے کہتے ہیں کہ میں جنگ احد میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حاضر تھا، میں نے ایک مشرک پر یہ کہتے ہوئے حملہ کیا کہ لے میرا یہ وار، میں فارسی جوان ہوں، اس کی خبر جب نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ لے میرا یہ وار اور میں انصاری نوجوان ہوں ۔

It was narrated that Abu Uqbah, who was the freed slave of Some Persian people, said: "I was present with the Prophet ﷺ on the Day of Uhud. I struck a rnan from among the idolators and said: Take that! And I am a Persian slave! News of that reached the Prophet ﷺ and he said: Why did you not say: "Take that! And I am an Ansari slave!?" (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١٢١ (٥١٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٩٥) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن بن أبی عقبہ ضعیف اور محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے )
2785Sunan Ibne-Majah

قتال کی نیت۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُصِيبُوا غَنِيمَةً إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ، فَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوے سنا: لشکر کی جو ٹکڑی اللہ کی راہ میں جہاد کرے اور مال غنیمت پالے، تو سمجھو اس نے ثواب کا دو تہائی حصہ تو دنیا ہی میں حاصل کرلیا، لیکن اگر مال غنیمت نہیں ملتا تو ان کے لیے پورا ثواب ہوگا ۔

‘Abdullâh bin ‘Aim said: “I heard the Prophet ﷺ say: ‘There is no band of warriors that fights in the cause of Allah and acquires war spoils, but they have been given two thirds of their reward, but if they do not get any spoils of war, then they will have their reward in full (in the Hereafter).’” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤٤ (١٩٠٦)، سنن ابی داود/الجہاد ١٣ (٢٤٩٧)، سنن النسائی/الجہاد ١٥ (٣١٢٧)، (تحفة الأشراف: ٨٨٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٩) (صحیح )
2786Sunan Ibne-Majah

راہِ اللہ میں (قتال کیلئے) گھوڑے پالنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخَيْرُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

عروہ بارقی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانی پر قیامت تک خیر و برکت بندھی ہوئی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Urwah Al-Bariqi that the Messenger of Allah ﷺ said: "Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ جو گھوڑا جہاد کی نیت سے رکھا جائے، اس کا کھلانا پلانا چرانا سب اجر ہی اجر ہے، اور ہر ایک میں گھوڑے کے مالک کو ثواب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٤٣ (٢٨٥٠)، ٤٤ (٢٨٥٢)، الخمس ٨ (٣١١٩)، المناقب ٢٨ (٣٦٤٢)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٦ (١٨٧٣)، سنن الترمذی/الجہاد ١٩ (١٦٩٤)، سنن النسائی/الخیل ٦ (٣٦٠٤)، (تحفة الأشراف: ٩٨٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٧٥)، سنن الدارمی/الجہاد ٣٤ (٢٤٧٠) (صحیح )
2787Sunan Ibne-Majah

راہِ اللہ میں (قتال کیلئے) گھوڑے پالنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک خیر و برکت بندھی ہوئی ہے ۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: “There is goodness in the forelocks of horses until the Day of Resurrection.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٢٦ (١٨٧١)، سنن النسائی/الخیل ٦ (٣٦٠٣)، (تحفة الأشراف: ٨٢٨٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ٤٣ (٢٨٤٩)، المناقب ٢٨ (٣٦٤٤)، موطا امام مالک/الجہاد ١٩ (٤٤)، مسند احمد (٢/٤٩، ٥٧، ١٠١، ١١٢) (صحیح )
2788Sunan Ibne-Majah

راہِ اللہ میں (قتال کیلئے) گھوڑے پالنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُأَوْ قَالَ: الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ، قَالَ سُهَيْلٌ: أَنَا أَشُكُّ الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: فَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَيُعِدُّهَا فَلَا تُغَيِّبُ شَيْئًا فِي بُطُونِهَا إِلَّا كُتِبَ لَهُ أَجْرٌ، وَلَوْ رَعَاهَا فِي مَرْجٍ مَا أَكَلَتْ شَيْئًا إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِهَا أَجْرٌ، وَلَوْ سَقَاهَا مِنْ نَهَرٍ جَارٍ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ تُغَيِّبُهَا فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ، حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَبْوَالِهَا وَأَرْوَاثِهَا، وَلَوِ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا أَجْرٌ، وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا تَكَرُّمًا وَتَجَمُّلًا وَلَا يَنْسَى حَقَّ ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا، وَأَمَّا الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَبَذَخًا وَرِيَاءً لِلنَّاسِ فَذَلِكَ الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانی میں بھلائی ہے یا فرمایا: گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر اور بھلائی بندھی ہوئی ہے، گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں، ایک شخص کے لیے وہ اجر و ثواب ہیں، ایک کے لیے ستر (پردہ) ہیں، اور ایک کے واسطے عذاب ہیں، (پھر آپ نے تفصیل بیان کی) اس شخص کے لیے تو باعث اجر و ثواب ہیں جو انہیں اللہ کی راہ میں جہاد کی غرض سے رکھے، اور انہیں تیار کرے، چناچہ ان کے پیٹ میں جو چیز بھی جائے گی وہ اس شخص کے لیے نیکی شمار ہوگی، اگر وہ انہیں گھاس والی زمین میں بھی چرائے گا تو جو وہ کھائیں گے اس کا ثواب اسے ملے گا، اگر وہ انہیں بہتی نہر سے پانی پلائے گا تو پیٹ میں جانے والے ہر قطرے کے بدلے اسے ثواب ملے گا، حتیٰ کہ آپ نے ان کے پیشاب اور لید (گوبر) میں بھی ثواب بتایا، اگر وہ ایک یا دو میل دوڑیں تو بھی ہر قدم کے بدلے جسے وہ اٹھائیں گے ثواب ملے گا، اور جس شخص کے لیے گھوڑے ستر (پردہ) ہیں وہ ہے جو انہیں عزت اور زینت کی غرض سے رکھتا ہے، لیکن ان کی پیٹھ اور پیٹ کے حق سے تنگی اور آسانی کسی حال میں غافل نہیں رہتا، لیکن جس شخص کے حق میں یہ گھوڑے گناہ ہیں وہ شخص ہے جو غرور، تکبر، فخر اور ریا و نمود کی خاطر انہیں رکھتا ہے، تو یہی وہ گھوڑے ہیں جو اس کے حق میں گناہ ہیں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is goodness in the forelocks of horses" - or he said: "There is goodness tied in the forelocks of horses." Suhail (one of the narrators) said: "I am not certain of - "until the Day of Resurrection. And horses are of three types: those that bring reward to a man, those that are a means of protection for a man, and those that are a burden (of sin) for a man. As for those that bring reward, a man keeps them in the cause of Allah and keeps them constantly ready (for lihiitf), so they do not take any fodder into their stomachs but a reward will be written for him, and if he puts them out to pasture, they do not eat anything but reward will be written for him. If he gives them to drink from a flowing river, for every drop that enters their stomachs there will be reward," (continuing) until he mentioned reward in conjunction with their ruine and droppings, and even when they run here and there by themselves, for each step they take reward will be written for him - As for those that are a means of protection, a man keeps them because they are a source of dignity and adornment, but he does not forget the rights of their backs and stomachs (i.e., their right not to be overworked and their right to be fed) whether at times of their difficulty or ease. As for those that bring a burden (of sin), the one who keeps them for purposes of wrongdoing or for pomp and show before people, is the one for whom they bring a burden of sin." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: سواری کا حق یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان اس کو ضرورت کی وجہ سے مانگے تو اسے دے یا کوئی پریشان مسلمان راہ میں ملے تو اس کو سوار کرلے، اور بعضوں نے کہا: ان کی زکاۃ ادا کرے، لیکن جمہور علماء کے نزدیک گھوڑوں میں زکاۃ نہیں ہے اور پیٹ کا حق یہ ہے کہ ان کے پانی چارے کی خبر اچھی طرح رکھے اگر ہمیشہ ممکن نہ ہو تو کبھی کبھی خود اس کی دیکھ بھال کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٦ (٩٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٧٨٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشرب المساقاة ١٢ (٢٣٧١)، الجہاد ٤٨ (٢٨٦٠)، المناقب ٢٨ (٣٦٤٦)، تفسیر سورة الزلزلة ١ (٤٩٦٢)، الاعتصام ٢٤ (٧٣٥٦)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١٠ (١٦٣٦)، سنن النسائی/الخیل (٣٥٩٢)، موطا امام مالک/الجہاد ١ (٣)، مسند احمد (٢/٢٦٢، ٢٨٣) (صحیح )
2789Sunan Ibne-Majah

راہِ اللہ میں (قتال کیلئے) گھوڑے پالنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُ الْخَيْلِ الْأَدْهَمُ الْأَقْرَحُ الْمُحَجَّلُ الْأَرْثَمُ طَلْقُ الْيَدِ الْيُمْنَى، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَدْهَمَ فَكُمَيْتٌ عَلَى هَذِهِ الشِّيَةِ.

ابوقتادہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کالا گھوڑا جس کی پیشانی، ہاتھ، پیر، ناک اور اوپر کا ہونٹ سفید ہوں، اور دایاں ہاتھ باقی جسم کی طرح ہو، سب سے عمدہ ہے، اگر وہ کالا نہ ہو تو انہیں صفات والا سرخ سیاہی مائل گھوڑا عمدہ ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Qatadah Al-Ansari that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best of horses are those that are deep black, with a blaze on the forehead, white marks on the legs and white nose and upper lip, and with no whiteness on the right foreleg. If not deep-black, then reddish- brown, with these markings." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کمیت ہو سفید پیشانی یا کمیت سفید ہاتھ پاؤں یا کمیت سفید لب اور بینی یا کمیت صرف جس کا دایاں ہاتھ سفید ہو، یہ سب عمدہ قسمیں ہیں، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مشکی رنگ گھوڑوں کے سب رنگوں میں عمدہ ہے، اور حقیقت میں اس رنگ والا گھوڑا نہایت مضبوط اور محنتی ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجہاد ٢٠ (١٦٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٢١٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٠٠)، سنن الدارمی/الجہاد ٣٥ (٢٤٧٢) (صحیح )
2790Sunan Ibne-Majah

راہِ اللہ میں (قتال کیلئے) گھوڑے پالنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایسے گھوڑے کو ناپسند فرماتے تھے جس کے تین پیر سفید اور ایک پیر کا رنگ باقی جسم کا ہو ١ ؎۔

It was narrated that Abu Huairah said: "The Prophet ﷺ used to dislike horses that had three legs with white markings on them, and one leg the same color as the rest of the body." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: شکال: وہ یہ ہے کہ تین پاؤں سفید ہوں ایک سارے بدن کے رنگ پر ہو، اس کو ارجل بھی کہتے ہیں، اب تک گھوڑے والے ایسے رنگ کو مکروہ اور نامبارک سمجھتے ہیں، مگر عوام میں یہ مشہور ہے کہ اگر پیشانی پر بھی سفیدی ہو تو شکال ضرر نہیں کرتا، لیکن حدیث مطلق ہے اور بعضوں نے کہا کہ شکال یہ ہے کہ داہنا ہاتھ سفید ہو تو بایاں پاؤں سفید ہو یا بایاں ہاتھ سفید نہ ہو تو داہنا پاؤں سفید ہو واللہ اعلم
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٢٧ (١٨٧٥)، سنن ابی داود/الجہاد ٤٦ (٢٥٤٧)، سنن الترمذی/الجہاد ٢١ (١٦٩٨)، سنن النسائی/الخیل ٤ (٣٥٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٠، ٤٣٦، ٤٦١، ٤٧٦) (صحیح )
2791Sunan Ibne-Majah

راہِ اللہ میں (قتال کیلئے) گھوڑے پالنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رَوْحٍ الدَّارِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الْقَاضِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنِ ارْتَبَطَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ عَالَجَ عَلَفَهُ بِيَدِهِ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ حَبَّةٍ حَسَنَةٌ.

تمیم داری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کی غرض سے گھوڑا باندھا، پھر دانہ چارہ اپنے ہاتھ سے کھلایا، تو اس کے لیے ہر دانے کے بدلے ایک نیکی ہوگی ۔

It was narrated that Tamim Ad-Dari said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever ties a horse in the cause of Allah, then feeds it with his OWnhand, he will have one merit for every grain. (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٥٩، ومصباح الزجاجة: ٩٨٨) (صحیح) (سند میں محمد بن عقبہ بیٹے، باپ اور دادا سب مجہول ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے )
2792Sunan Ibne-Majah

اللہ سبحانہ وتعالی کی راہ میں قتال کرنا۔

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ يُخَامِرَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ.

معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوے سنا: جو مسلمان شخص اللہ کے راستے میں اونٹنی کا دودھ دوھنے کے درمیانی وقفہ کے برابر لڑا، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ١ ؎۔

Muadh bin Jabal narrated that he heard the Prophet ﷺ say: "Any Muslim who fights in the cause of Allah for the time between two milkings of a shecamel, he will be guaranteed Paradise." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اونٹنی کا دددھ دوھنے کے درمیانی وقفہ سے مراد یا تو وہ ٹھہرنا ہے جو ایک وقت سے دوسرے وقت تک ہوتا ہے مثلاً صبح کو دودھ دوہ کر پھر شام کو دوہتے ہیں تو صبح سے شام تک لڑے یہ مطلب ہے اور صحیح یہ ہے کہ وہ ٹھہرنا مراد ہے جو دودھ دوہنے میں تھوڑی دیر ٹھہر جاتے ہیں تاکہ اور دودھ تھن میں اتر آئے، پھر دوہتے ہیں یہ چار پانچ منٹ ہوتے ہیں، تو مطلب یہ ہوگا کہ جو کوئی اتنی دیر تک بھی اللہ کی راہ میں کافروں سے لڑا تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ سبحان اللہ جہاد کی فضیلت کا کیا کہنا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٤٢ (٢٥٤١)، سنن النسائی/الجہاد ٢٥ (٣١٤٣)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١٩ (١٦٥٤)، ٢١ (١٩٥٦)، (تحفة الأشراف: ١١٣٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٣٠، ٢٣٥، ٢٤٣، ٢٤٤، سنن الدارمی/الجہاد ٥ (٢٤٣٩) (صحیح )
2793Sunan Ibne-Majah

اللہ سبحانہ وتعالی کی راہ میں قتال کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا دَيْلَمُ بْنُ غَزْوَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: حَضَرْتُ حَرْبًا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ: يَا نَفْسِ أَلَا أَرَاكِ تَكْرَهِينَ الْجَنَّهْ أَحْلِفُ بِاللَّهِ لَتَنْزِلِنَّهْ طَائِعَةً أَوْ لَتُكْرَهِنَّهْ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک لڑائی میں حاضر ہوا، تو عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا: اے میرے نفس! میرا خیال ہے کہ تجھے جنت میں جانا ناپسند ہے، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تجھے جنت میں خوشی یا ناخوشی سے جانا ہی پڑے گا ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Mâlik said: “I was present in war, and ‘Abdullâh bin Rawâhah said: ‘O soul of mine! I see that you do not want to go to Paradise. I swear by Allah that you surely will enter it, willingly or unwillingly.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کی راہ میں شہید ہوگا اور شہادت جنت میں جانے کا سبب بنے گی، مگر نفس کو ناپسند ہے اس لئے کہ دنیا کی لذتوں کو چھوڑنا پڑتا ہے، عبداللہ بن رواحہ ؓ نے جیسے قسم کھائی تھی ویسا ہی ہوا وہ جنگ موتہ میں شہید ہوئے جہاں جعفر بن ابی طالب اور زید بن حارثہ ؓ بھی شہید ہوئے اور اوپر ایک حدیث میں گزرا کہ اللہ کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر اللہ کے بھروسہ پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کو سچا کرے، عبد اللہ بن رواحہ بھی ایسے ہی بندوں میں تھے، ؓ وارضاہ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٥٦، ومصباح الزجاجة: ٩٨٩) (صحیح )
2794Sunan Ibne-Majah

اللہ سبحانہ وتعالی کی راہ میں قتال کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: مَنْ أُهَرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ.

عمرو بن عبسہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور میں نے آپ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس میں مجاہد کا خون بہا دیا جائے، اور جس کے گھوڑے کو بھی زخمی کردیا جائے ١ ؎۔

It was narrated that Amr bin Abasah said: "I came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, which Jihad is best? He said: (That of a man) whose blood is shed and his horse is wounded. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پوری شہادت ہو خود بھی مارا جائے، اور گھوڑا بھی، یا اللہ تو ہمیں بھی راہ حق، اور خدمت دین میں شہادت نصیب فرما، اور موت کی تکالیف سے اور ہر ایک بیماری اور درد کے صدمہ سے بچا۔ آمین۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٧٥٧، ومصباح الزجاجة: ٩٩٠)، وقد أخرحہ: مسند احمد (٤/١١٤) (صحیح) (سند میں محمد بن ذکوان اور شہر بن حوشب ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے )
2795Sunan Ibne-Majah

اللہ سبحانہ وتعالی کی راہ میں قتال کرنا۔

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنِالْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مَجْرُوحٍ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِهِ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ جُرِحَ اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہونے والا شخص (اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہو رہا ہے) قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا زخم بالکل اسی دن کی طرح تازہ ہوگا جس دن وہ زخمی ہوا تھا، رنگ تو خون ہی کا ہوگا، لیکن خوشبو مشک کی سی ہوگی۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no one who is wounded in the cause of Allah - and Allah knows best who is wounded in His cause - but he will come on the Day of Resurrection with his wounds looking as they did on the day he was wounded; their color will be the color of blood but their smell will be the fragrance of musk." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٨٧٤، ومصباح الزجاجة: ٩٩١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ١٠ (٢٨٠٣)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٨ (١٨٧٦)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٢١ (١٦٥٦)، موطا امام مالک/الجہاد ١٤ (٢٩)، مسند احمد (٢/٣٩١، ٣٩٨، ٣٩٩، ٤٠٠، ٥١٢، ٥٢، ٥٣١، ٥٣٧)، سنن الدارمی/الجہاد ١٥ (٢٤٥٠) (حسن صحیح )
2796Sunan Ibne-Majah

اللہ سبحانہ وتعالی کی راہ میں قتال کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمْ الْأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ.

عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (کفار کے) گروہوں پر بد دعا کی، اور یوں فرمایا: اے اللہ! کتاب کے نازل فرمانے والے، جلد حساب لینے والے، گروہوں کو شکست دے، اے اللہ! انہیں شکست دے، اور جھنجوڑ کر رکھ دے (کہ وہ پریشان و بےقرار ہو کر بھاگ کھڑے ہوں) ١ ؎۔

Ismail bin Abu Khalid said: "I heard Abdullah bin Abu Awfa say: The Messenger of Allah ﷺ supplicated to Allah against the Confederates (AI-Ahzab) and said: O Allah, Who has sent down the Book and is Swift in bringing to account, destroy the Confederates. O Allah, destroy them and shake them. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جب جنگ میں کافروں کی فوجیں بہت ہوں تو یہی دعا پڑھنی چاہیے، نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا جنگ احزاب میں کی تھی، یعنی غزوہ خندق میں جب کفار و مشرکین کے گروہ دس ہزار کی تعداد میں مدینہ منورہ پر چڑھ آئے تھے اور مسلمانوں کو گھیرے میں لے لیا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٩٨ (٢٩٣٣)، صحیح مسلم/الجہاد ٧ (١٧٤٢)، سنن الترمذی/الجہاد ٨ (١٦٧٨)، (تحفة الأشراف: ٥١٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٣، ٣٥٥، ٣٨١) (صحیح )
2797Sunan Ibne-Majah

اللہ سبحانہ وتعالی کی راہ میں قتال کرنا۔

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ مِنْ قَلْبِهِ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ.

سہل بن حنیف ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت کا طالب ہو، اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مرتبے پر پہنچا دے گا، گرچہ وہ اپنے بستر ہی پر فوت ہوا ہو ١ ؎۔

Sahl bin Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif narrated from his father, from his grandfather that the Prophet ﷺ said: "Whoever asks Allah for martyrdom, sincerely from his heart, Allah will cause him to reach the status of the martyrs even if he dies in his bed." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس کی نیت شہادت کی تھی اور نی ۃ المومن خیر من عملہ مشہور ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤٦ (١٩٠٩)، سنن ابی داود/الصلا ة ٣٦١ (١٥٢٠)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١٩ (١٦٥٣)، سنن النسائی/الجہاد ٣٦ (٣١٦٤)، (تحفة الأشراف: ٤٦٥٥)، سنن الدارمی/الجہاد ١٦ (٢٤٥١) (صحیح )