Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 103 of 218

2039Sunan Ibne-Majah

ہنسی (مذاق) میں طلاق دینا نکاح کرنا یا رجوع کرنا۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَرْدَكَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین کام ہیں جو سنجیدگی سے کرنا بھی حقیقت ہے، اور مذاق کے طور پر کرنا بھی حقیقت ہے، ایک نکاح، دوسرے طلاق، تیسرے (طلاق سے) رجعت ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There are three matters in which seriousness is serious and joking is serious: marriage, divorce and taking back (ones wife)." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہنسی مذاق اور ٹھٹھے کے طور پر اور اس کے مقابل جِد ہے یعنی درحقیقت ایک کام کا کرنا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٩ (٢١٩٤)، سنن الترمذی/الطلاق ٩ (١١٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٥٤) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حسن کے درجہ کو ہے، عبد الرحمن بن حبیب میں ضعف ہے )
2040Sunan Ibne-Majah

زیر لب طلاق دینا اور زبان سے کچھ ادا نہ کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَاخَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ جَمِيعًا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے معاف کردیا ہے جو وہ دل میں سوچتے ہیں جب تک کہ اس پہ عمل نہ کریں، یا اسے زبان سے نہ کہیں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah has forgiven my nation for what they think of to themselves, so long as they do not act upon it or speak of it." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: دل میں اگر طلاق کا خیال گزرے لیکن زبان سے کچھ نہ کہے تو طلاق واقع نہ ہوگی، سب امور میں یہی حکم ہے جیسے عتاق، رجوع، بیع وشراء وغیرہ میں، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہ کا اگر کوئی ارادہ کرے لیکن ہاتھ پاؤں یا زبان سے اس کو نہ کرے تو لکھا نہ جائے گا، یعنی اس پر اس کی پکڑ نہ ہوگی، یہ اللہ تعالیٰ کی اس امت پر عنایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العتق ٦ (٢٥٢٨)، الطلاق ١١ (٥٢٦٩)، الأیمان والنذور ١٥ (٦٦٦٤)، صحیح مسلم/الإیمان ٥٨ (١٢٧)، سنن ابی داود/الطلاق ١٥ (٢٢٠٩)، سنن الترمذی/الطلاق ٨ (١١٨٣)، سنن النسائی/الطلاق ٢٢ (٣٤٦٤، ٣٤٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٩٨، ٤٢٥، ٤٧٤، ٤٨١، ٤٩١) (صحیح )
2041Sunan Ibne-Majah

دیوانے نابالغ اور سونے والے کی طلاق کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبَرَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ، أَوْ يُفِيقَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ: وَعَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَبْرَأَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے، تیسرے پاگل اور دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آجائے ۔ ابوبکر کی روایت میں وعن المجنون حتى يعقل کے بجائے وعن المبتلى حتى يبرأ دیوانگی میں مبتلا شخص سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہوجائے ہے ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Pen has been lifted from three: from the sleeping person until he awakens, from the minor until he grows up, and from the insane person until he comes to his senses." (Hasan) In his narration, (one of the narrators) Abu Bakr (RA) (Ibn Abu Shaibah) said: "And from the afflicted person, until he recovers." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: ان میں سے کسی کی طلاق نہ پڑے گی، لیکن پاگل اور دیوانے میں اختلاف ہے اور اکثر کے نزدیک اس کی طلاق پڑجائے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ١٦ (٤٣٩٨)، سنن النسائی/الطلاق ٢١ (٣٤٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٠٠، ١٠١، ١٤٤)، سنن الدارمی/الحدود ١ (٢٣٤٢) (صحیح )
2042Sunan Ibne-Majah

دیوانے نابالغ اور سونے والے کی طلاق کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنْبَأَنَا الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُرْفَعُ الْقَلَمُ عَنِ الصَّغِيرِ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ، وَعَنِ النَّائِمِ.

علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بچے، دیوانے اور سوئے ہوئے شخص سے قلم اٹھا لیا جاتا ہے ۔

It was narrated from Ali bin Abu Talib that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Pen is lifted from the minor, the insane person and the sleeper." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٢٥٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحدود ١ (١٤٢٣) (صحیح) (دوسرے شواہد کے بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند میں القاسم بن یزید مجہول ہیں، اور ان کی ملاقات علی ؓ سے نہیں ہے )
2043Sunan Ibne-Majah

جبر سے یا بھول کر طلاق دینے کا بیان۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ.

ابوذرغفاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے بھول چوک، اور جس کام پہ تم مجبور کردیئے جاؤ معاف کردیا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Dharr (RA) AI-Ghifari that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah has forgiven for me my nation their mistakes and forgetfulness, and what they are forced to do." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جب اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کیا، اور دنیا کے احکام میں معافی ہوگئی، تو جب اس نے بھولے سے طلاق دی یا مجبوری کی حالت میں تو طلاق نہ پڑے گی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٩٢٢) (صحیح) (سند میں ابو بکرالہذلی ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے )
2044Sunan Ibne-Majah

جبر سے یا بھول کر طلاق دینے کا بیان۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا تُوَسْوِسُ بِهِ صُدُورُهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ، أَوْ تَتَكَلَّمْ بِهِ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے جو ان کے دلوں میں وسوسے آتے ہیں معاف کردیا ہے جب تک کہ اس پہ عمل نہ کریں، یا نہ بولیں، اور اسی طرح ان کاموں سے بھی انہیں معاف کردیا ہے جس پر وہ مجبور کردیئے جائیں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah has forgiven my nation for the evil suggestions of their hearts, so long as they do not act upon it or speak of it, and for what they are forced to do."(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: شیخ عبدالحق محدث (رح) لمعات التنقیح میں فرماتے ہیں کہ ائمہ ثلاثہ نے اسی حدیث کی رو سے یہ حکم دیا ہے کہ جس پر زبردستی کی جائے اس کی طلاق اور عتاق (آزادی) نہ پڑے گی اور ہمارے مذہب (حنفی) میں قیاس کی رو سے ہزل پر طلاق اور عتاق دونوں پڑجائے گی تو جو عقد ہزل میں نافذ ہوجاتا ہے۔ وہ اکراہ (زبردستی) میں بھی نافذ ہوجائے گا، مولانا وحید الزمان صاحب اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ افسوس ہے کہ حنفیہ نے قیاس کو حدیث پر مقدم رکھا، اور نہ صرف اس حدیث پر بلکہ ابوذر، ابوہریرہ اور ابن عباس ؓ کی احادیث پر بھی جو اوپر گزریں، اور یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حنفیہ نے جو اصول بنائے ہیں کہ خبر واحد، مرسل حدیث اور ضعیف حدیث بلکہ صحابی کا قول بھی قیاس پر مقدم ہے، یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں، سیکڑوں مسائل میں انہوں نے قیاس کو احادیث صحیحہ پر مقدم رکھا ہے، اور یقیناً یہ متاخرین حنفیہ کا فعل ہے، امام ابوحنیفہ (رح) اس سے بالکل بری تھے، جیسے انہوں نے نبیذ سے وضو اور نماز میں قہقہہ سے وضو ٹوٹ جانے میں ضعیف حدیث کی وجہ سے قیاس جلی کو ترک کردیا ہے، تو بھلا صحیح حدیث کے خلاف وہ کیونکر اپنا قیاس قائم رکھتے، اور محدثین نے باسناد مسلسل امام ابوحنیفہ سے نقل کیا ہے کہ سب سے پہلے حدیث پر عمل لازم ہے، اور میرا قول حدیث کی وجہ سے چھوڑ دینا، امام ابوحنیفہ سے منقول ہے کہ جب تک لوگ علم حدیث حاصل کرتے رہیں گے اچھے رہیں گے، اور جب حدیث چھوڑ دیں گے تو بگڑ جائیں گے، لیکن افسوس ہے کہ حنفیہ نے اس باب میں اپنے امام کی وصیت پر عمل نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
انظرحدیث رقم: ٢٠٤٠ (صحیح) (حدیث میں وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ کا لفظ شاذ ہے، لیکن اگلی حدیث ابن عباس ؓ میں یہ لفظ ثابت ہے )
2045Sunan Ibne-Majah

جبر سے یا بھول کر طلاق دینے کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ، وَالنِّسْيَانَ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ نے میری امت سے بھول چوک اور زبردستی کرائے گئے کام معاف کردیئے ہیں ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "Allah has forgiven my nation for mistakes and forgetfulness, and what they are forced to do." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٩٠٥، ومصباح الزجاجة: ٧٢٢) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: ٨٢ )
2046Sunan Ibne-Majah

جبر سے یا بھول کر طلاق دینے کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا طَلَاقَ وَلَا عَتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زبردستی کی صورت میں نہ طلاق واقع ہوتی ہے اور نہ عتاق (غلامی سے آزادی) ۔

It was narrated that Safiyyah bint Shaibah said: " Aisha (RA) told me that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no divorce and no manumission at the time of coercion:" (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٨ (٢١٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٧٦) (حسن) (سند میں عبید بن صالح ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١ /٢٠٤٧ و صحیح أبی داود: ١٩٠٣ )
2047Sunan Ibne-Majah

نکاح سے پہلے طلاق لغو (بات) ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ جَمِيعًا، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا طَلَاقَ فِيمَا لَا تَمْلِكُ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی جس عورت کا بطور نکاح مالک نہیں اس کی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں ہے ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no divorce regarding that which one does not possess."(Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اب اگر کوئی طلاق دے تو اس کا فعل لغو ہے، مثلاً یوں کہے: جس عورت سے میں نکاح کروں اس کو طلاق ہے، اور اس کے بعد نکاح کرے تو اس کہنے سے طلاق نہ پڑے گی۔
Takhrij · تخریج
حدیث ھشیم أخرجہ: سنن الترمذی/الطلاق ٦ (١١٨١)، تحفة الأشراف: ٨٧٢١)، وحدیث حاتم بن اسماعیل أخرجہ: سنن ابی داود/لطلاق ٧ (٢١٩١، ٢١٩٢)، تحفة الأشراف: ٨٧٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ١٨٥) (حسن صحیح )
2048Sunan Ibne-Majah

نکاح سے پہلے طلاق لغو (بات) ہے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا طَلَاقَ قَبْلَ نِكَاحٍ وَلَا عِتْقَ قَبْلَ مِلْكٍ.

مسور بن مخرمہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نکاح سے پہلے طلاق نہیں، اور ملکیت سے پہلے آزادی نہیں ۔

It was narrated from Miswar bin Makhramah that the Prophet ﷺ said: "There is no divorce before marriage and no manumission before taking possession: (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٢٧٧، ومصباح الزجاجة: ٧٢٣) (حسن صحیح) (سند میں ہشام بن سعد ضعیف راوی ہیں، اور علی بن الحسین مختلف فیہ، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٧ / ١٥٢ )
2049Sunan Ibne-Majah

نکاح سے پہلے طلاق لغو (بات) ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ، عَنْ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نکاح سے پہلے طلاق نہیں ۔

It was narrated from Ali bin Abu Talib that the Prophet ﷺ said: "There is no divorce before marriage." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٢٩٤، ومصباح الزجاجة: ٧٢٤) (صحیح) (سند میں جویبر ضعیف راوی ہے، لیکن سابقہ شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے )
2050Sunan Ibne-Majah

کن کلمات سے طلاق ہوجاتی ہے ؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ: أَيُّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ ابْنَةَ الْجَوْنِ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَنَا مِنْهَا، قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِي بِأَهْلِكِ.

اوزاعی کہتے ہیں میں نے زہری سے پوچھا کہ نبی اکرم ﷺ کی کون سی بیوی نے آپ سے اللہ کی پناہ مانگی تو انہوں نے کہا: مجھے عروہ نے خبر دی کی عائشہ ؓ نے فرمایا: جَون کی بیٹی جب نبی اکرم ﷺ کی خلوت میں آئی اور آپ ﷺ اس کے قریب گئے تو بولی: میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے ایک بڑی ہستی کی پناہ مانگی ہے تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ١ ؎۔

Awza said: "I asked Zuhri: Which of the wives of the Prophet ﷺ sought refuge with Allah from him? He said: "Urwah told me, (narrating) from Aisha (RA) , that when the daughter of Jawn entered upon the Messenger of Allah ﷺ and he came close to her, she said: "I seek refuge with Allah from you." The Messenger of Allah ﷺ said: "You have sought refuge in the Almighty; go to your family." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس لفظ الحقي بأهلك یعنی اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ میں طلاق سے کنایہ ہے، ایک تو صاف طلاق کا لفظ ہے، دوسرے وہ الفاظ ہیں جن کو کنایات کہتے ہیں، ان میں بعض الفاظ سے طلاق پڑتی ہے، بعض سے نہیں پڑتی، اور جن سے پڑتی ہے ان میں یہ شرط ہے کہ طلاق کی نیت سے کہے، اہل حدیث کے نزدیک یوں کہنے سے کہ تو مجھ پر حرام ہے، طلاق نہیں پڑتی، بخاری ومسلم نے ابن عباس ؓ سے ایسا ہی روایت کیا ہے اور نسائی نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا، اور کہنے لگا: میں نے اپنی عورت کو حرام کرلیا، انہوں نے کہا: تم نے جھوٹ اور غلط کہا، وہ تم پر حرام نہیں ہے، پھر یہ آیت پڑھی: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ (سورة التحريم: 1) اور سب سے سخت کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٣ (٥٢٥٤)، سنن النسائی/الطلاق ١٤ (٣٤٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٥١٢) (صحیح) (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: حدیث: ٢٠٣٧ )
2051Sunan Ibne-Majah

طلاق بتہ (بائن) کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ؟، فَقَالَ: مَا أَرَدْتَ بِهَا؟، قَالَ: وَاحِدَةً، قَالَ: آللَّهِ مَا أَرَدْتَ بِهَا إِلَّا وَاحِدَةً، قَالَ: آللَّهِ مَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا وَاحِدَةً، قَالَ: فَرَدَّهَا عَلَيْهِ، قَالَ مُحَمَّد بْن مَاجَةَ: سَمِعْت أَبَا الْحَسَنِ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيَّ يَقُولُ: مَا أَشْرَفَ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ ابْن مَاجَةَ: أَبُو عُبَيْدٍ تَرَكَهُ نَاجِيَةُ وَأَحْمَدُ جَبُنَ عَنْهُ.

رکانہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ (قطعی طلاق) دے دی، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: تم نے اس سے کیا مراد لی ہے ؟ انہوں نے کہا: ایک ہی مراد لی ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: قسم اللہ کی کیا تم نے اس سے ایک ہی مراد لی ہے ؟، انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں نے اس سے صرف ایک ہی مراد لی ہے، تب نبی اکرم ﷺ نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی ١ ؎۔ محمد بن ماجہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن حسن بن علی طنافسی کو کہتے سنا: یہ حدیث کتنی عمدہ ہے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: ابوعبیدہ نے یہ حدیث ایک گوشے میں ڈال دی ہے، اور احمد اسے روایت کرنے کی ہمت نہیں کرسکے ہیں۔

It was narrated from Abdullah bin Ali bin Yazid bin Rukanah, from his father, from his grandfather, that he divorced his wife irrevocably, then he came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him. He said: "What did you mean by that?" He said: "One (divorce)." He said: "By Allah, did you only mean one (divorce) thereby?" He said: "By Allah, I meant one." Then he sent her back to him. (Daif) Muhammad bin Majah said: I heard Abul-Hasan Ali bin Muhammad Te nafisi saying: "How noble is this Hadith: Ibn Maiah said: Abu Ubaid left it (i.e., did not accept its narration) and Ahmad was fearful of it (i.e., of narrating it)."

Notes · وضاحت
١ ؎: بتہ: تین طلاق کو بتہ کہتے ہیں، کیونکہ بت کے معنی ہیں قطع کرنا، اور تین طلاقوں سے عورت شوہر سے بالکل الگ ہوجاتی ہے، پھر اس سے رجعت نہیں ہوسکتی، اور عدت گزر جانے کے بعد ایک طلاق بھی بتہ یعنی بائن ہوجاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ١٤ (٢٢٠٦، ٢٢٠٧، ٢٢٠٨)، سنن الترمذی/الطلاق ٢ (١١٧٧)، (تحفة الأشراف: ٣٦١٣)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطلاق ٨ (٢٣١٨) (ضعیف) (اس کے تین رواة زبیری سعید، عبداللہ بن علی، اور علی بن یزید ضعیف ہیں، دیکھئے: إرواء الغلیل: ٢٠٦٣ )
2052Sunan Ibne-Majah

آدمی اپنی عورت کو اختیار دے دے تو؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ نَرَهُ شَيْئًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو اختیار دیا تو ہم نے آپ ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اس کو کچھ نہیں سمجھا ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ gave us the choice, and We chose him, and he did not consider it as something (i.e., an effective divorce)." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: چاہے طلاق دے لے اور چاہے شوہر کو پسند کرے، پس اگر عورت نے شوہر کو اختیار کیا تو طلاق نہ پڑے گی، یہی قول اہل حدیث کا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٥ (٥٢٦٢)، صحیح مسلم/الطلاق ٤ (١٤٧٧)، سنن ابی داود/الطلاق ١٢ (٢٢٠٣)، سنن الترمذی/الطلاق ٤ (١١٧٩)، سنن النسائی/النکاح ٢ (٣٢٠٤)، الطلاق ٢٧ (٣٤٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٥، ١٧١، ١٧٣، ١٨٥، ٢٠٢، ٢٠٥)، سنن الدارمی/الطلاق ٥ (٢٣١٥) (صحیح )
2053Sunan Ibne-Majah

آدمی اپنی عورت کو اختیار دے دے تو؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة الأحزاب آية 29 دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ، أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، قَالَتْ: قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، قَالَتْ: فَقَرَأَ عَلَيَّ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا سورة الأحزاب آية 28 الْآيَاتِ، فَقُلْتُ: فِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ قَدِ اخْتَرْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب آیت: وإن کنتن تردن الله ورسوله اتری تو رسول اللہ ﷺ نے میرے پاس آ کر فرمایا: عائشہ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تم اس میں جب تک اپنے ماں باپ سے مشورہ نہ کرلینا جلد بازی نہ کرنا ، عائشہ ؓ کہتی ہیں: اللہ کی قسم! آپ خوب جانتے تھے کہ میرے ماں باپ کبھی بھی آپ کو چھوڑ دینے کے لیے نہیں کہیں گے، پھر آپ ﷺ نے مجھ پر یہ آیت پڑھی: يا أيها النبي قل لأزواجک إن کنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها (سورة الأحزاب: 28) اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش و زیبائش پسند کرتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ دے کر اچھی طرح رخصت کر دوں، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور یوم آخرت کو چاہتی ہو تو تم میں سے جو نیک ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ... (یہ سن کر) میں بولی: کیا میں اس میں اپنے ماں باپ سے مشورہ لینے جاؤں گی! میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرچکی ہوں ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "When the following was revealed: But if you desire Allah and His Messenger: the Messenger of Allah ﷺ entered upon me and said: O Aisha (RA) I want to say something to you, and you do not have to hasten (in making a decision) until you have consulted your parents. She said: "He knew, by Allah, that my parents would never tell me to leave him." She said: "Then he recited to me: O Prophet ﷺ (Muhammad)! Say to your wives: "If you desire the life of this world, and its glitter., I said: Do I need to consult my parents about this? I choose Allah and His Messenger. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: پھر آپ ﷺ نے سب بیویوں سے اسی طرح کہا، لیکن سب نے اللہ و رسول کو اختیار کیا، اور دنیا پر خاک ڈالی، اللہ تعالیٰ کی لعنت دنیا کی چار دن کی بہار پر ہے، پھر آخر اللہ کے پاس جانا ہے، پس آخرت کی بھلائی سب پر مقدم ہے، دنیا تو بری یا بھلی کسی بھی طرح گزر جاتی ہے، لیکن آخرت ہمیشہ رہنا ہے، اللہ آخرت سنوارے۔ آمین۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر الأحزاب ٤ (٤٧٨٥)، ٥ (٤٧٨٦ تعلیقاً )، سنن النسائی/النکاح ٢ (٣٢٠٣)، الطلاق ٢٦ (٣٤٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطلاق ٤ (١٤٧٥)، سنن الترمذی/تفسیر الأحزاب (٣٢٠٤)، مسند احمد (٦/٧٨، ١٠٣، ١٥٣، ١٦٣، ١٨٥، ٢٤٨، ٢٦٤) (صحیح )
2054Sunan Ibne-Majah

عورت کیلئے خلع لینے کی کراہت۔

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَمِّهِ عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا الطَّلَاقَ فِي غَيْرِ كُنْهِهِ، فَتَجِدَ رِيحَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عورت بغیر کسی حقیقی وجہ اور واقعی سبب کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ وہ جنت کی خوشبو پا سکے، جب کہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے پائی جاتی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ " said: "No woman asks for divorce when it is not absolutely necessary, but she will never smell the fragrance of Paradise, although its fragrance can be detected from a distance of forty years travel." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: خلع: عورت کچھ مال شوہر کو دے کر اس سے الگ ہوجائے اس کو خلع کہتے ہیں، خلع کا بدل کم ہو یا زیادہ جس پر اتفاق ہوجائے سب صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٩٣٨، ومصباح الزجاجة: ٧٢٥) (ضعیف) (سند میں ثوبان مجہول الحال راوی ہیں )
2055Sunan Ibne-Majah

عورت کیلئے خلع لینے کی کراہت۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلَاقَ فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کسی عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا، تو اس پہ جنت کی خوشبو حرام ہے ۔

It was narrated from Thawban that the essenger of Allah said: “Any woman who asks her husband for a divorce when it is not absolutely necessary, the fragrance of Paradise will be forbidden to her.’” (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ١٨ (٢٢٢٦)، سنن الترمذی/الطلاق ١١ (١١٨٧)، (تحفة الأشراف: ٢١٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧٧، ٢٨٣)، سنن الدارمی/الطلاق ٦ (٢٣١٦) (صحیح )
2056Sunan Ibne-Majah

خلع کے بدلے خاوند دیا گیا مال واپس لے سکتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ جَمِيلَةَ بِنْتَ سَلُولَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ مَا أَعْتِبُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ، وَلَا خُلُقٍ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ لَا أُطِيقُهُ بُغْضًا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا حَدِيقَتَهُ وَلَا يَزْدَادَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جمیلہ بنت سلول ؓ نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کی قسم میں (اپنے شوہر) ثابت پر کسی دینی و اخلاقی خرابی سے غصہ نہیں کر رہی ہوں، لیکن میں مسلمان ہو کر کفر (شوہر کی ناشکری) کو ناپسند کرتی ہوں، میں ان کے ساتھ نہیں رہ پاؤں گی کیونکہ شکل و صورت سے وہ مجھے ناپسند ہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا ان کا دیا ہوا باغ واپس لوٹا دو گی ؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے ثابت کو حکم دیا کہ اپنی بیوی جمیلہ سے اپنا باغ لے لیں، اور زیادہ نہ لیں ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that jamilah bint Salul came to the Prophet ﷺ and said: "By Allah, I do not find any fault with Thabit regarding his religion nor his behavior, but I hate disbelief after becoming Muslim and I cannot stand him." The Prophet ﷺ said to her: "Will you give him back his garden?" She said: "Yes." So the Messenger of Allah ﷺ told him to take back his garden from her and no more than that. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح سند سے دارقطنی کی روایت میں ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ ثابت نے مہر میں اس کو ایک باغ دیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اس کا باغ واپس کردیتی ہو جو اس نے تم کو دیا ہے؟ تو انہوں کہا: ہاں، باغ بھی دیتی ہوں اور کچھ زیادہ بھی دیتی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: زیادہ نہیں، صرف باغ لوٹا دو، اس نے کہا: بہت اچھا۔ معلوم ہوا کہ شوہر نے جو بیوی کو دیا خلع کے بدلے اس سے زیادہ لینا جائز نہیں، علی، طاؤس، عطاء، زہری، ابوحنیفہ، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے۔ اور جمہور کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ بھی لینا جائز ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فلا جناح عليهما فيما افتدت به، اور یہ عام ہے، قلیل اور کثیر دونوں کو شامل ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں سے اس کی تخصیص ہوجاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٢٠٥، ومصباح الزجاجة: ٦٢٠٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطلاق ١٢ (٥٢٧٣، ٥٢٧٤)، سنن ابی داود/الطلاق ١٨ (٢٢٢٨٩)، سنن الترمذی/الطلاق ١٠ (١١٨٥)، سنن النسائی/الطلاق ٣٤ (٣٤٩٢) (صحیح )
2057Sunan Ibne-Majah

خلع کے بدلے خاوند دیا گیا مال واپس لے سکتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَتْ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَكَانَ رَجُلًا دَمِيمًا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَوْلَا مَخَافَةُ اللَّهِ إِذَا دَخَلَ عَلَيَّ لَبَصَقْتُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ، قَالَ: فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ حبیبہ بنت سہل ؓ ثابت بن قیس بن شماس ؓ کے نکاح میں تھیں، وہ ناٹے اور بدصورت آدمی تھے، حبیبہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! اگر اللہ کا ڈر نہ ہوتا تو ثابت جب میرے پاس آئے تو میں ان کے منہ پر تھوک دیتی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم ان کا باغ واپس لوٹا دو گی ؟ کہا: ہاں، اور ان کا باغ انہیں واپس دے دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی۔

It was narrated from Amr bin Shuaib. from his father, that his grandfather said: "Habibah bint Sahl was married to Thabit bin Qais bin shamas. who was an ugly man. She said: O Messenger of Allah, by Allah, were it not for fear of Allah, when he enters upon me I would spit in his face. The Messenger of Allah ﷺ said: Will you give him back his garden? She said: Yes. So she gave him back his garden and the Messenger of Allah ﷺ separated them." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٦٧٧، ومصباح الزجاجة: ٧٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣) (ضعیف) (سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن صحیح احادیث اس سے مستغنی کردیتی ہے )
2058Sunan Ibne-Majah

خلع والی عورت عدت کیسے گزارے؟

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، أَخْبَرَنِيعُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: حَدِّثِينِي حَدِيثَكِ، قَالَتْ: اخْتَلَعْتُ مِنْ زَوْجِي، ثُمَّ جِئْتُ عُثْمَانَ، فَسَأَلْتُ مَاذَا عَلَيَّ مِنَ الْعِدَّةِ؟، فَقَالَ: لَا عِدَّةَ عَلَيْكِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِكِ، فَتَمْكُثِينَ عِنْدَهُ حَتَّى تَحِيضِينَ حَيْضَةً، قَالَتْ: وَإِنَّمَا تَبِعَ فِي ذَلِكَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْيَمَ الْمَغَالِيَّةِ، وَكَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، فَاخْتَلَعَتْ مِنْهُ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بنت معوذ بن عفراء ؓ سے کہا: تم مجھ سے اپنا واقعہ بیان کرو، انہوں نے کہا: میں نے اپنے شوہر سے خلع کرا لیا، پھر میں نے عثمان ؓ کے پاس آ کر پوچھا: مجھ پر کتنی عدت ہے؟ انہوں نے کہا: تم پر کوئی عدت نہیں مگر یہ کہ تمہارے شوہر نے حال ہی میں تم سے صحبت کی ہو، تو تم اس کے پاس رکی رہو یہاں تک کہ تمہیں ایک حیض آجائے، ربیع ؓ نے کہا: عثمان ؓ نے اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کی پیروی کی، جو آپ نے بنی مغالہ کی خاتون مریم ؓ کے سلسلے میں کیا تھا، جو ثابت بن قیس ؓ کی زوجیت میں تھیں اور ان سے خلع کرلیا تھا ١ ؎۔

It was narrated from ‘Ubâdah bin Sflmit from Rubai’ bint Mu’awwidh bin ‘Afrâ’. He said: “I said to her: ‘Tell me your Hadith.’ She said: ‘I got Kiwi’ from my husband, then I came to ‘Uthmân and asked him: “What waiting period do I have to observe?” He said: “You do not have to observe any waiting period, unless you had intercourse with him recently, in which case you should stay with him until you have menstruated.” In that he was following the ruling of the Messenger of Allah ﷺ concerning Maryam Maghdliyyah, who was married to Thâbit bin Qais and she got Kiwi’ from hint” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: نسائی میں ربیع بنت معوذ سے روایت ہے کہ ثابت کی عورت کے قصے میں نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: جو تمہارا اس کے پاس ہے وہ لے لو اور اس کو چھوڑ دو ثابت نے کہا: اچھا، پھر نبی کریم ﷺ نے اس کو ایک حیض کی عدت گزارنے کا حکم دیا۔ اور یہ کئی طریق سے مروی ہے، ان حدیثوں سے یہ نکلتا ہے کہ خلع کرانے والی کی عدت ایک حیض ہے اور خلع نکاح کا فسخ ہے، اہل حدیث کا یہی مذہب ہے، اگر خلع طلاق ہوتا تو اس کی عدت تین حیض ہوتی، ابوجعفر النحاس نے الناسخ والمنسوخ میں اس پر صحابہ کا اجماع نقل کیا ہے، اور یہی دلائل کی روشنی میں زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٥٣ (٣٥٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٣٦) (حسن صحیح )