خلع والی عورت عدت کیسے گزارے؟
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، أَخْبَرَنِيعُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: حَدِّثِينِي حَدِيثَكِ، قَالَتْ: اخْتَلَعْتُ مِنْ زَوْجِي، ثُمَّ جِئْتُ عُثْمَانَ، فَسَأَلْتُ مَاذَا عَلَيَّ مِنَ الْعِدَّةِ؟، فَقَالَ: لَا عِدَّةَ عَلَيْكِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِكِ، فَتَمْكُثِينَ عِنْدَهُ حَتَّى تَحِيضِينَ حَيْضَةً، قَالَتْ: وَإِنَّمَا تَبِعَ فِي ذَلِكَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْيَمَ الْمَغَالِيَّةِ، وَكَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، فَاخْتَلَعَتْ مِنْهُ.
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بنت معوذ بن عفراء ؓ سے کہا: تم مجھ سے اپنا واقعہ بیان کرو، انہوں نے کہا: میں نے اپنے شوہر سے خلع کرا لیا، پھر میں نے عثمان ؓ کے پاس آ کر پوچھا: مجھ پر کتنی عدت ہے؟ انہوں نے کہا: تم پر کوئی عدت نہیں مگر یہ کہ تمہارے شوہر نے حال ہی میں تم سے صحبت کی ہو، تو تم اس کے پاس رکی رہو یہاں تک کہ تمہیں ایک حیض آجائے، ربیع ؓ نے کہا: عثمان ؓ نے اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کی پیروی کی، جو آپ نے بنی مغالہ کی خاتون مریم ؓ کے سلسلے میں کیا تھا، جو ثابت بن قیس ؓ کی زوجیت میں تھیں اور ان سے خلع کرلیا تھا ١ ؎۔
It was narrated from ‘Ubâdah bin Sflmit from Rubai’ bint Mu’awwidh bin ‘Afrâ’. He said: “I said to her: ‘Tell me your Hadith.’ She said: ‘I got Kiwi’ from my husband, then I came to ‘Uthmân and asked him: “What waiting period do I have to observe?” He said: “You do not have to observe any waiting period, unless you had intercourse with him recently, in which case you should stay with him until you have menstruated.” In that he was following the ruling of the Messenger of Allah ﷺ concerning Maryam Maghdliyyah, who was married to Thâbit bin Qais and she got Kiwi’ from hint” (Hasan)