گھروں میں مساجد
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي، وَتُصَلِّيَ فِيهِ، قَالَ: فَأَتَاهُ وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ هَذِهِ الْفُحُولِ، فَأَمَرَ بِنَاحِيَةٍ مِنْهُ، فَكُنِسَ وَرُشَّ، فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةَ: الْفَحْلُ هُوَ: الْحَصِيرُ الَّذِي قَدِ اسْوَدَّ.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میرے ایک چچا نے نبی اکرم ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا، اور انہوں نے آپ ﷺ سے کہا کہ میری خواہش ہے کہ آپ آج میرے گھر کھانا کھائیں، اور اس میں نماز بھی پڑھیں، تو آپ ﷺ تشریف لائے گھر میں ایک پرانی کالی چٹائی پڑی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے گھر کے ایک گوشہ کو صاف کرنے کا حکم دیا، وہ صاف کیا گیا، اور اس پر پانی چھڑک دیا گیا، تو آپ ﷺ نے نماز پڑھی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی ١ ؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ فحل اس چٹائی کو کہتے ہیں جو پرانی ہونے کی وجہ سے کالی ہوگئی ہو۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "One of my paternal uncles made some food for the Prophet ﷺ and said to the Prophet ﷺ I would like you to eat and perform prayer in my house. So he went to him, and in his house there was one of these Fah!. He ordered that a comer be swept and water sprinkled in it, then he performed prayer and we prayed with him." (Sahih) Abu Abdullah bin Majah said: A Fahl is a mat that has become black (through use).