آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کی زندگی کیسے گزری ؟۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ، نَحْمِلُ أَزْوَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا، فَفَنِيَ أَزْوَادُنَا حَتَّى كَانَ يَكُونُ لِلرَّجُلِ مِنَّا تَمْرَةٌ، فَقِيلَ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، وَأَيْنَ تَقَعُ التَّمْرَةُ مِنَ الرَّجُلِ؟ فَقَالَ: لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَقَدْنَاهَا، وَأَتَيْنَا الْبَحْرَ، فَإِذَا نَحْنُ بِحُوتٍ قَدْ قَذَفَهُ الْبَحْرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا.
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم تین سو آدمیوں کو روانہ کیا، ہم نے اپنے توشے اپنی گردنوں پر لاد رکھے تھے، ہمارا توشہ ختم ہوگیا، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص کو ایک کھجور ملتی، کسی نے پوچھا: ابوعبداللہ! ایک کھجور سے آدمی کا کیا ہوتا ہوگا؟ جواب دیا: جب وہ بھی ختم ہوگئی تو ہمیں اس کی قدر معلوم ہوئی، ہم سمندر تک آئے، آخر ہمیں ایک مچھلی ملی جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا، ہم اس میں سے اٹھارہ دن تک کھاتے رہے ١ ؎۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ sent us, three hundred men, carrying our provisions on our necks. Our provisions ran out until there would be for (every) man among us one date (a day)." Then it was said: "O Abu Abdullah, how can one date satisfy a man?" He said: "When we no longer had it, we realized how much it was worth. Then we came to the sea and found a whale that had been thrown up by the sea, and we ate from it for eighteen days." (Sahih)