آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کی زندگی کیسے گزری ؟۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، سَمِعَهُ مِنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ، عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا لَنَا طَعَامٌ نَأْكُلُهُ إِلَّا وَرَقُ الشَّجَرِ، حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا.
خالد بن عمیر کہتے ہیں کہ عتبہ بن غزوان ؓ نے ہمیں منبر پر خطبہ سنایا اور کہا: میں نے وہ وقت دیکھا ہے جب میں ان سات آدمیوں میں سے ایک تھا جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا کھانے کو کچھ نہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ (اس کے پتے کھانے سے) ہمارے مسوڑھے زخمی ہوجاتے۔
It was narrated that Ibn Umair said: "Utbah bin Ghazwan delivered a sermon on the pulpit and said: I saw myself the seventh of seven with the Messenger of Allah ﷺ , and we did not have any food to eat except the leaves of frees, until our gums hurt. (sahih)