Sunan Ibne-Majah 4132

زہد کا بیان

4132Sunan Ibne-Majah

جو بہت مالدار ہیں انکا بیان

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا عِنْدِي ذَهَبًا، فَتَأْتِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ، وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ، إِلَّا شَيْءٌ أَرْصُدُهُ فِي قَضَاءِ دَيْنٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسرا دن آئے تو میرے پاس اس میں سے کچھ باقی رہے، سوائے اس کے جو میں قرض ادا کرنے کے لیے رکھ چھوڑوں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: I would not like to have (the equivalent of Uhud in gold, then a third night comes to me and I have anything of it left, except something that I set aside to pay off a debt" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: باقی سب فقراء اور مساکین میں تقسیم کر دوں، مال کا جوڑ رکھنا آپ ﷺ کو نہایت ناپسند تھا چناچہ دوسری روایت میں ہے کہ ایک دن آپ ﷺ عصر پڑھتے ہی لوگوں کی گردنوں پر سے پھاندتے ہوئے اپنی کسی بیوی کے پاس تشریف لے گئے، جب آپ سے اس کا سبب پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کچھ مال میرے پاس بھول کر رہ گیا تھا، وہ یاد آیا تو میں نے اس کے تقسیم کردینے کے لیے اس قدر جلدی کی، نبی اکرم ﷺ کی نبوت پر سخاوت بھی عمدہ دلیل ہے کیونکہ غیر نبی میں ایسے سارے عمدہ اخلاق ہرگز جمع نہیں ہوسکتے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٣٤٣، ومصباح الزجاجة: ١٤٦٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاستقراض ٣ (٢٣٨٩)، صحیح مسلم/الزکاة ٨ (٩٩١)، مسند احمد (٢/٤١٩، ٤٥٤، ٥٠٦) (حسن صحیح )