Sunan Ibne-Majah 4068

فتنوں کا بیان

4068Sunan Ibne-Majah

آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا، فَذَلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اس وقت تک قیامت قائم نہ ہوگی جب تک سورج پچھم سے نہ نکلے گا، جب سورج کو پچھم سے نکلتے دیکھیں گے تو روئے زمین کے سب لوگ ایمان لے آئیں گے، لیکن یہ ایسا وقت ہوگا کہ اس وقت جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتے تھے، ان کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہ دے گا ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "I heard the Messengerof Allah ﷺ say: The Hour will not begin until the sun rises from the west (i.e. the place of its setting). When it rises, the people will see it, and everyone on (earth) will believe, but that will be at at a time when faith will not benefit anyone who did not believe before:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اللہ کی قدرت کی کھلی کھلی نشانی ظاہر ہوجائے گی اور ایسی حالت میں تو سب مومن ہوجاتے ہیں، جیسے قیامت میں جنت، جہنم اور حشر کو دیکھ کر سب ایمان لائیں گے، ایمان جو قبول ہے وہ یہی ہے کہ غیب پر ایمان لائے، بہر حال پچھم سے جب تک سورج نہ نکلے اس وقت تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے، پھر بند ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر القرآن ٧ (٤٦٣٥)، الرقاق ٤٠ (٦٥٠٦)، الفتن ٢٥ (٧١٢١)، صحیح مسلم/الإیمان ٧٢ (١٥٧)، سنن ابی داود/الملاحم ١٢ (٤٣١٢)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٩٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/التفسیر ٧ (٣٠٧٢)، مسند احمد (٢/٢٣١، ٣١٣، ٣٥٠، ٣٧٢، ٥٣٠) (صحیح )